سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کردیا

جاسم محمد

محفلین
یہ نونی حضرات بڑھ چڑھ کر تجزیہ جات پیش کیے جا رہے ہیں، ذرا اپنے لیڈر کی بھی خبر دیں کہ کہاں ہے، کیوں باہر گیا اور ہسپتال میں کیوں داخل نہیں ہے ؟؟؟
کل تک نونی چیف جسٹس کھوسہ کو ہیرو بنا رہے تھے۔ آج پھر زیرو کر دیا ہے :)
 

فرقان احمد

محفلین
فوج کوئی آزادادارہ نہیں جس کا ان عدالتی فیصلوں سے "وقار" مجروح ہو گیا۔ فوج آئینی طور پر حکومت کا ماتحت محکمہ جیسے محکمہ پولیس۔ اور حکومت اپنی صوابدید کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت خود طے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اسی لئے چیف جسٹس نے آج اس حوالہ سے قانون سازی کرنے کا آرڈر جاری کیا ہے۔ :)
آپ کی بات درست ہے، تاہم یاد رکھیں، فوج صرف آزاد ادارہ نہیں ہے، پاکستان کے تناظر میں، یہ مادر پدر آزاد ادارہ ہے۔ چلیے، یہ ادارہ اپنی سفارشات تو حکومت کے سامنے رکھ سکتا ہے۔ادارے کا وقار مجروح ہو رہا ہو تو اس ادارے کے بڑے بیٹھک سجاتے ہیں اور اس سبکی سے بچنے کے نسخے تلاش کر کے حکومتِ وقت کے سامنے رکھتے ہیں اور پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی کہیں نہ کہیں ان پٹ دے سکتے ہیں۔ عجب معاملہ ہے کہ ایک طرف پورا ملک اس ادارے نے غلام بنا رکھا ہے اور پھر، یہ طعنے بھی مفت میں سنو۔ :) عجب طرفہ تماشا ہے! :)
 

آورکزئی

محفلین
تحریک عدم اعتماد فلاپ
مولانا کا دھرنا فلاپ
آرمی چیف کا ایکسٹینشن روکنے کی کوشش فلاپ
اب نونیوں نے اپنی امی جی کو پکارنا شروع کر دیا ہے :)

مولانا کا دھرنا فلاپ ۔۔۔۔۔۔؟؟ ہہاہاہ۔۔۔ ویسے دل ہی اپ خود جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

جاسم محمد

محفلین
آپ کی بات درست ہے، تاہم یاد رکھیں، فوج صرف آزاد ادارہ نہیں ہے، پاکستان کے تناظر میں، یہ مادر پدر آزاد ادارہ ہے۔ چلیے، یہ ادارہ اپنی سفارشات تو حکومت کے سامنے رکھ سکتا ہے۔ادارے کا وقار مجروح ہو رہا ہو تو اس ادارے کے بڑے بیٹھک سجاتے ہیں اور اس سبکی سے بچنے کے نسخے تلاش کر کے حکومتِ وقت کے سامنے رکھتے ہیں اور پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی کہیں نہ کہیں ان پٹ دے سکتے ہیں۔ عجب معاملہ ہے کہ ایک طرف پورا ملک اس ادارے نے غلام بنا رکھا ہے اور پھر، یہ طعنے بھی مفت میں سنو۔ :) عجب طرفہ تماشا ہے! :)
اگر یہ ادارہ اتنا طاقتور ہے تو سپریم کورٹ میں آرمی چیف کا ایکسٹینشن زیر بحث نہ آسکتا۔ پوری کوشش کی گئی تھی کہ آرمی چیف اور حکومتی ٹیم کو اتنا بدنام کر دیا جائے کہ جنرل باجوہ خود ہی ایکسٹینشن لینے سے انکار کر دیں یا حکومت نیا آرمی چیف لے آئے۔ لیکن تمام کوششیں الٹی پڑ گئیں ۔ اب اگر جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن ملا تو غیر معینہ مدت کیلئے ہوگا :)
 

فرقان احمد

محفلین
اگر یہ ادارہ اتنا طاقتور ہے تو سپریم کورٹ میں آرمی چیف کا ایکسٹینشن زیر بحث نہ آسکتا۔ پوری کوشش کی گئی تھی کہ آرمی چیف اور حکومتی ٹیم کو اتنا بدنام کر دیا جائے کہ جنرل باجوہ خود ہی ایکسٹینشن لینے سے انکار کر دیں یا حکومت نیا آرمی چیف لے آئے۔ لیکن تمام کوششیں الٹی پڑ گئیں ۔ اب اگر جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن ملا تو غیر معینہ مدت کیلئے ہوگا :)
اگر ایسا ہی ہے تو سول بالادستی زندہ باد ۔ چلیے توسیع لینے کے بہانے ہی سہی، مسٹر باجوہ اینڈ کمپنی کو کئی اقسام کے سیاسیوں کی قدم بوسی کا شرف ہی حاصل ہو جائے گا۔ ذرا ہم بلڈی سویلینز کی انا کو بھی تو کسی حد تک تسکین پہنچے!
 
Urdu-Designer-Urdu-Designer-1574762647688-udx-1574938584740.png
 

جاسم محمد

محفلین
اگر ایسا ہی ہے تو سول بالادستی زندہ باد ۔ چلیے توسیع لینے کے بہانے ہی سہی، مسٹر باجوہ اینڈ کمپنی کو کئی اقسام کے سیاسیوں کی قدم بوسی کا شرف ہی حاصل ہو جائے گا۔ ذرا ہم بلڈی سویلینز کی انا کو بھی تو کسی حد تک تسکین پہنچے!
index.jpg
 

جاسم محمد

محفلین
سبکی آمیز ایکسٹینشن سے بہتر عزت کی ریٹائرمنٹ تھی۔ اس میں باجوہ صاحب کا قصور کم ہے۔ ان کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی۔
72 سال سے یہ جرنیل سب کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ اب تھوڑا سا موقع باقی اداروں کو بھی دے دیں :)
 

جاسم محمد

محفلین
آرمی چیف کی مدت ملازمت 6 ماہ بعد ختم نہیں ہوگی، فروغ نسیم
ویب ڈیسک ایک گھنٹہ پہلے
1898329-frogandmansor-1574949208-668-640x480.jpg

جنرل قمرجاوید باجوہ جیسا نڈرسپہ سالار دشمنوں کو کھٹکتا ہے، فروغ نسیم - فوٹو: سوشل میڈیا


اسلام آباد: سابق وزیرقانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت آج رات 12 بجے کے بعد سے جاری رہے گی اور چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت 6 ماہ بعد بھی ختم نہیں ہوگی۔

اسلام آباد میں سابق وزیرقانون فروغ نسیم، فردوس عاشق اعوان، شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل انور منصور خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کی سمری بھی گزشتہ طریقہ کار کے مطابق تھی، چونکہ روایت تھی تو آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن بنا دیا گیا۔

آج کا فیصلہ تاریخی ہے جس سے آئندہ کیلیے رہنمائی ملے گی، اٹارنی جنرل
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں کہیں کوئی ذکرنہیں کہ چیف آف آرمی اسٹاف کیسے تعینات ہوگا اوراس کا میرٹ کیا ہوگا لہذا 73 کے بعد جتنے بھی فوجی جنرل کو توسیع دی گئی اسی طریقے سے سمری بنائی گئی تو اس میں کوئی نئی چیز شامل نہیں تھی اور آرمی ایکٹ پہلے کبھی چیلنج نہیں ہوا، آج تک اس ایشوپر کسی عدالت نے فیصلہ نہیں دیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج کا فیصلہ تاریخی ہے جس سے آئندہ کے لیے ہمیں رہنمائی ملے گی، عدالت نے آخری نوٹی فکیشن قبول کرکے فیصلہ سنایا، سپریم کورٹ میں تفصیلی بحث ہوئی، بہت سی نئی باتیں سامنے آئیں جو پہلے نہیں دیکھی گئی تھیں، عدالت نے کہا آئندہ قانون بنا کر نئے آرمی چیف کا تقرر ہوگا، موجودہ حکومت کے لیے آرمی چیف سے متعلق قانون بنانا اعزاز کی بات ہوگی لیکن میڈیا پراس ایشوکو بہت عجیب طریقےسے پیش کیا جارہا ہے، اس سے دشمنوں کو ناجائز فائدہ مل رہا ہے۔

آرمی چیف آئین کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، فروغ نسیم
دوسری جانب فروغ نسیم نے کہا کہ سابق جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توسیع چیلنج ہوئی تھی مگر اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا، سپریم کورٹ کے ججز نے ہماری رہنمائی کی، چیف جسٹس، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم کا شکریہ ادا کرتے ہیں، کیس جب عدالت میں ہواور ہماری ہاتھ اورزبان بندھےہوتے ہیں۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی نئی مدت آج رات 12 بجے کے بعد سے جاری رہے گی اور چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت 6 ماہ بعد ختم نہیں ہوگی، 6 مہینے میں قانون لائیں گے اس میں جو بھی مدت رکھی جائے گی وہ پارلیمنٹ کا صوابدید ہے جب کہ آرمی چیف آئین کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، ہمیں آرمی چیف کا بھرپورساتھ دینا چاہئے، جنرل قمر جاوید باجوہ جیسا نڈرسپہ سالار دشمنوں کو کھٹکتا ہے، فوج اور عدلیہ ملکی ادارے ہیں، ان کا دفاع کرنا چاہیے، ملکی اداروں پرسیاست نہ کی جائے۔

سابق وزیرقانون نے کہا کہ خبر چلائی گئی کہ وزیراعظم نے میری، شہزاد اکبر کی اور اٹارنی جنرل کی کھنچائی کی، ایسا کچھ نہیں ہوا، ہم اس جھوٹی خبر کیخلاف ملک میں یا باہر قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

آج جمہوریت کی جیت ہوئی ہے، فردوس عاشق اعوان
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آج جمہوریت کی جیت ہوئی ہے، ملک سے باہر پاکستان کے دشمن ہیں ان کے خواب چکنا چور ہوگئے، عدالت نے قانونی سقم دور کرنے کیلئے کیس سنا، اس کیس کو کسی شخصیت کیساتھ نہ جوڑا جائے۔

آئین اور نظام کی مضبوطی کے باعث معاملہ جلد نمٹ گیا، شہزاد اکبر
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ آج کا فیصلہ بہت تاریخی فیصلہ ہے، عدالت نے واضع کردیا ہے آرٹیکل243 وزیراعظم اور ایگزیکٹو کا اختیار ہے، عدالت نے لیگل ایشور پر رہنمائی کی، آئین اور نظام کی مضبوطی کے باعث معاملہ جلد نمٹ گیا، موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر اس مسئلہ پر محتاط انداز میں بحث کی جائے۔
 

فرقان احمد

محفلین
یہ گندے انڈے آپ کی جماعت کو کہہ رہا ہے؟ :)
ایکٹ آف پارلیمنٹ سادہ اکثریت سے منظور کروانا کیا مشکل کام ہو گا۔ تاہم، اس حوالے سے جو بحث مباحثے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی تاکہ یہ تاثر ختم کیا جا سکے کہ مقدس ادارے کے حوالے سے کسی قسم کی بحث وطن دشمنی ہے۔ عدلیہ نے ایک راہ کھول دی ہے اور ہمیں اس ادارے کے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے، دیگر کئی امور کے حوالے سے بھی پارلیمان میں صحت مندانہ بحث مباحثہ شروع کرنا چاہیے تاکہ عسکری بنک، فوجی دلیے سے سے لے کر ڈی ایچ اے وغیرہ تک کے حوالے سے پیدا شدہ شکوک کو دور کرنے کی سنجیدہ کاوشیں کی جا سکیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
ایکٹ آف پارلیمنٹ سادہ اکثریت سے منظور کروانا کیا مشکل کام ہو گا۔ تاہم، اس حوالے سے جو بحث مباحثے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی تاکہ یہ تاثر ختم کیا جا سکے کہ مقدس ادارے کے حوالے سے کسی قسم کی بحث وطن دشمنی ہے۔ عدلیہ نے ایک راہ کھول دی ہے اور ہمیں اس ادارے کے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے، دیگر کئی امور کے حوالے سے بھی پارلیمان میں صحت مندانہ بحث مباحثہ شروع کرنا چاہیے تاکہ عسکری بنک، فوجی دلیے سے سے لے کر ڈی ایچ اے وغیرہ تک کے حوالے سے پیدا شدہ شکوک کو دور کرنے کی سنجیدہ کاوشیں کی جا سکیں۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی نئی مدت آج رات 12 بجے کے بعد سے جاری رہے گی اور چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت 6 ماہ بعد ختم نہیں ہوگی، 6 مہینے میں قانون لائیں گے اس میں جو بھی مدت رکھی جائے گی وہ پارلیمنٹ کا صوابدید ہے جب کہ آرمی چیف آئین کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، ہمیں آرمی چیف کا بھرپورساتھ دینا چاہئے، جنرل قمر جاوید باجوہ جیسا نڈرسپہ سالار دشمنوں کو کھٹکتا ہے، فوج اور عدلیہ ملکی ادارے ہیں، ان کا دفاع کرنا چاہیے، ملکی اداروں پرسیاست نہ کی جائے۔
یہ معاملہ تو اب 3 سالہ ایکسٹینشن سے بڑھ کر غیرمعینہ ایکسٹینشن کی طرف جا رہا ہے۔ چیخیں سنائی دے رہی ہوں گی؟ :)
 

جاسم محمد

محفلین
عسکری بنک، فوجی دلیے سے سے لے کر ڈی ایچ اے وغیرہ تک کے حوالے سے پیدا شدہ شکوک کو دور کرنے کی سنجیدہ کاوشیں کی جا سکیں۔
بھٹو کو یہ فوجی فاؤنڈیشن نیشنلائز کرنی تھی۔ غلطی سے 22 امیر ترین صنعتی و تجارتی خاندانوں کی املاک نیشلائز کرکے ملک کی معیشت تباہ کر دی :)
 
Top