سوشل میڈیااور کاپی رائٹس۔۔۔عبدالرزاق قادری

شب برات 1434 ہجری بمطابق24جون 2013 عیسوی سوموار رات دس بج کر بارہ منٹ پرکاپی پر لکھنا شروع کیا اور گیارہ بج کر اکیاون منٹ پر مکمل کیا۔
میں نیا نیا دفتر میں بھرتی ہوا تو ایک رات میں اپنے کمرے سے باس کے کمرے میں گیااور ان سے پوچھا کہ کاپی رائٹس کی تفصیل کیا ہے ۔ انہوں نے کیاکہ یہا ں کسی کو ہیومن رائٹس کی فکر نہیں تمہیں کاپی رائٹس کی پڑی ہو ئی ہے۔ انسانی حقوق کی بات بھی کر لیتے ہیں پہلے میری ساتھ ہونے والے کاپی رائٹس معاملے کو دیکھ لیں۔میں نے ابتداء میں اپنے بلاگ پر وکیپیڈیا(اردو)اور اِدھر اُ دھر سے چند تحریریں شایع کیں۔اور باقاعدہ حوالے یا لنک دیتا رہا ۔کسی دوسر ے بلا گ سے کاپی شدہ مو اد کے ساتھ لکھا ری کا نام ضرور لکھتا رہا۔حتیٰ کہ جاپان سے خاور کھوکھرکومیں نے ایک دن وزٹ کی دعوت دی۔ انہو ں نے مجھے اسلام کا دشمن وغیرہ اور چور قرار دیا ۔میں اس سے پہلے بھی لکھتا تھا۔ ماہنامہ نو ائے منزل لاہورمیں اس سے قبل میری تحریر یں شائع ہوتی رہتی تھیں۔میں نے بعد میں تصاویر ی شکل میں اپنے کالم مثلاً’’نصیحت والی توبہ کی ضرورت‘‘اپنے بلاگ پر پیسٹ کرنا شروع کر دیے۔ ارد و محفل فورم میں جاکر میں اردولکھتارہتا اور اسے اپنے بلاگ پر پوسٹ کر تا رہتا۔ بعد ازاں انٹرنیٹ سے ملے ہوئے دوستوں مثلاً انکل اعجاز عبید اور حسیب نذیر گل کی کاوشوں اور سمجھانے سے ’’پاک اردو انسٹالر ‘‘اور http://urdu.ca/ ک جاپہنچا۔تب مجھے ان پیج سے یو نی کو ڈ میں تبدیل کرنا آگیا ۔ میں نے نوائے منزل والوں سے (اپنی) ان پیج تحاریر کولے کر کنورٹ کرکے بے در یغ اردومحفل فورم ،دیگر اردوسوشل ویب سائٹس اور اپنے بلاگ پر پوسٹ کرنا شروع کر دیا ۔اردو محفل فورم پر چونکہ فعال ممبران ہیں ۔اس لیے وہاں خوب بحث مباحثوں میں حصہ لیتارہا اور وہاں اپنے کالم/مضمون تنقید کے لیے پیش کرتا رہا ۔ یو نی کوڈ کاپی/پیسٹ میںآسان ہے۔لہٰذا میرے بلاگ پر آج تک ’’غازی علم دین شہید‘‘وکیپیڈیا سے کاپی کیا ہواہے ۔(اب جو مضامین وکیپیڈیا سے کاپی شدہ ہیں وہ وہاں بھی میں نے ہی لکھے ہیں۔ حوالہ) لیکن کیا مجال ہے کہ میں نے آج تک کسی کا ایک جملہ بھی کاپی کر کے اسے اپنا قرار دیا ہو۔اب دیکھیں معا ملے کا دوسر ارُخ!!! چونکہ میرے پاس انٹرنیٹ استعمال کرنے کا و قت انتہا ئی کم ہوتاہے میں نے اپنی کئی تحریروں کوگو گل سرچ میں تلاش کر کے چیک کیا ۔ مثلاًمیری زندگی کی پہلی باصنابطہ تحریرجونوائے منزل میں چھپی بھی تھی ’’تعلیمی تنزلی آخر کیوں؟‘‘اس کو سنوار نے میں میری رہنمائی صوفی پر وفسیر غلام سرور صاحب نے کی تھی اور اسے یہ مناسب ساعنوان میگزین کے چیف ایڈیٹرجناب محمدکامران اخترؔ نے دیا تھا ۔ آج ابھی گوگل میں سرچ کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ تحریر میر ے نام کے بغیر فیس بک کے دو صفحات ملتی ہے ۔ حتیٰ کہ میرے درخواست کر نے کے باوجود بھی میرانام وہاں نہیں لکھا گیا ۔ مجھے تو فیس بک پر ا حتجاج بھی نہیں کرناآتا۔ محترم محمد بلال محمود(م بلال م)کی ویب سائٹmbilalm.comپر اردو کی خدمت کا ایک سنہرا باب رقم ہو رہاہے۔ان کی تحریریں پڑھ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا ایک بار میرے تاثرات جو ان کی ایک تحریر کے بارے میں تھے انہوں نے پبلش کرنے سے قبل ہی حذف کردیئے۔ میں نے بہت عرصہ بعد ان کی کاپی رائٹس کی حکمت عملی پڑھی پھر معلوم ہواکہ میر ے تاثرات ان کی پالیسی سے ہٹ کر تھے ۔ ان کی جملہ حقوق کی پالیسی بڑی زبردست ہے ۔اب میر ااپنا ذہن بھی یہی ہے کہ تقریباًنہی الفاظ کو اپنی کاپی رائٹس پالیسی قراردے دوں ۔ میں چونکہ جذباتی قسم کاانسان واقع ہوا ہوں۔لہٰذامیں نے افکار مسلم کے نام سے کئی بلاگز بنا ڈالے اور کئی سوشل اردوویب سائٹس کی رکنیت ا ختیار کر لی۔ سر نعیم قیصرکے لیے بھی ایک بلاگ بناڈالا ۔تعلیم وتر بیت اسلامی پاکستان کے لیے کئی بلاگ بنا ڈالے وغیرہ وغیرہ۔ایک بار سر نعیم قیصر کی ایک نعت کو گوگل میں سر چ کیا تو معلو م ہواکہ کسی ویب سائٹ پر شاعر کے نام بغیر موجود ہے ۔ ان کی ویب سائٹ پر رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیاسوشل میڈیا پر یہ سب چلتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مجھے خاور کھو کھر یاد آگیا ۔ جس نے میرے اقد ام کو چوری کے مشابہ قرار دیا تھا ۔پھر انٹرنیٹ کی دنیا میں شاید پہلا بندہ میں تھاجسے اردو دان طبقے کو ہندی سکھانے کا مفت کا خبط سوار ہوا اور میں نے محنت کر کے اس کا آغاز کیا ۔ لیکن اس کے بلاگ ، اردومحفل فورم اور القلم فورم کے باوجود میں اس کو کسی مکمل شکل میں پیش نہ کر سکا ۔ اس میں میری اپنی کوتاہی یاغلطی سمجھ لیں۔ کیو نکہ میں آج تک اپنا انٹرنیٹ کنکشن نہیں لگواپایا۔ اور دفتر کے اوقات میں سے انتہائی کم وقت سوشل میڈیاکو دے پاتا ہوں۔ بعض لوگوں نے اس ہند ی زبان والی محنت کو اپنی میراث سمجھ کربے در یغ میر ے نام کے بغیر اپنی ویب سائٹس اور فیس بک پر ’’اردوسے ہندی سیکھیے‘‘کے عنوان سے شائع کر دیا۔اگر وہ اتنے ہی تحقیقی اور معیاری مقالہ جات کا دم بھر تے ہیں تو ان اسباق سے اگلا سبق لکھ کر کام کو جاری رکھیں ورنہ کاپی /پیسٹ کے ماہر تو میرے دور میں اسلام اور امت کے وارث بنے ہوئے ہیں اور ان کی تصانیف کی فہرست میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ رہی کاپی رائٹس کی کہانی !!! اس کے علاوہ ابھی تک میر ے پاس اتنا وقت نہیں ہوتاکہ اپنی دوسو سے زائد بکھری ہو ئی تحاریر کو چیک کرتا پھروں کہ کس کس نے ان پر اپنا جتانے کی کاوش فرمائی ہے۔ہاں اتنا ہے کہ اس سے مجھے یہ سمجھ ضرورآئی کہ اپنے قیمتی قسم کے خیالات پر ڈاکہ ڈلوانے کے لیے’’آبیل مجھے مار‘‘کامصداق نہ ٹھہروں۔کیونکہ کسی نے کہاتھا کہ علم چوری نہیں ہوتااس پر ڈاکہ پڑ تا ہے۔میں تو مو بائل پر آیا ہو ا میسیج فارورڈکرنا گوارا نہیں کرتا۔خود اپنے خیالات اور تجربے لکھ کر دوستو ں کو بھیجتا ہوں ۔بہر حال میر ی اس تحریر سے تمام کاپی پیسٹ کرنے والوں کو پیغام ہے کہ خدارا کسی کے حقوق پرڈاکہ نہ ڈالیں اخلاقی طور پر اجازت لیں اور اطلاع دے کر لکھاری کو اعزاز کے ساتھ دنیا کے سامنے لائیں۔ورنہ بالآ خرثابت تو ہو ہی جاتا ہے کہ یہ کس کی لکھت ہے۔صدیوں بعد بھی تحقیق ثابت کر دیتی ہے کہ فلاں صاحب نے کتنی کتابیں خود لکھی ہیں اور کتنی لکھی لکھا ئی ان کے نام منسوب کی گئیں۔ اب رہ گئی بات انسانی حقوق یعنی (human rights) کی توان شاء اللہ میر ی اگلی تحریر اسی موضوع پر ہوگی
11:51pm
 

سید ذیشان

محفلین
فیس بک پر تو آپ بآسانی رپورٹ کا بٹن دبائیں اور رپورٹ کر دیں کہ یہ تخلیق آپ کی ملکیت ہے اور اس کو حذف کیا جائے یا پھر آپ کا حوالہ دیا جائے۔
 
شب برات 1434 ہجری بمطابق24جون 2013 عیسوی سوموار رات دس بج کر بارہ منٹ پرکاپی پر لکھنا شروع کیا اور گیارہ بج کر اکیاون منٹ پر مکمل کیا۔
میں نیا نیا دفتر میں بھرتی ہوا تو ایک رات میں اپنے کمرے سے باس کے کمرے میں گیااور ان سے پوچھا کہ کاپی رائٹس کی تفصیل کیا ہے ۔ انہوں نے کیاکہ یہا ں کسی کو ہیومن رائٹس کی فکر نہیں تمہیں کاپی رائٹس کی پڑی ہو ئی ہے۔ انسانی حقوق کی بات بھی کر لیتے ہیں پہلے میری ساتھ ہونے والے کاپی رائٹس معاملے کو دیکھ لیں۔میں نے ابتداء میں اپنے بلاگ پر وکیپیڈیا(اردو)اور اِدھر اُ دھر سے چند تحریریں شایع کیں۔اور باقاعدہ حوالے یا لنک دیتا رہا ۔کسی دوسر ے بلا گ سے کاپی شدہ مو اد کے ساتھ لکھا ری کا نام ضرور لکھتا رہا۔حتیٰ کہ جاپان سے خاور کھوکھرکومیں نے ایک دن وزٹ کی دعوت دی۔ انہو ں نے مجھے اسلام کا دشمن وغیرہ اور چور قرار دیا ۔میں اس سے پہلے بھی لکھتا تھا۔ ماہنامہ نو ائے منزل لاہورمیں اس سے قبل میری تحریر یں شائع ہوتی رہتی تھیں۔میں نے بعد میں تصاویر ی شکل میں اپنے کالم مثلاً’’نصیحت والی توبہ کی ضرورت‘‘اپنے بلاگ پر پیسٹ کرنا شروع کر دیے۔ ارد و محفل فورم میں جاکر میں اردولکھتارہتا اور اسے اپنے بلاگ پر پوسٹ کر تا رہتا۔ بعد ازاں انٹرنیٹ سے ملے ہوئے دوستوں مثلاً انکل اعجاز عبید اور حسیب نذیر گل کی کاوشوں اور سمجھانے سے ’’پاک اردو انسٹالر ‘‘اور http://urdu.ca/ ک جاپہنچا۔تب مجھے ان پیج سے یو نی کو ڈ میں تبدیل کرنا آگیا ۔ میں نے نوائے منزل والوں سے (اپنی) ان پیج تحاریر کولے کر کنورٹ کرکے بے در یغ اردومحفل فورم ،دیگر اردوسوشل ویب سائٹس اور اپنے بلاگ پر پوسٹ کرنا شروع کر دیا ۔اردو محفل فورم پر چونکہ فعال ممبران ہیں ۔اس لیے وہاں خوب بحث مباحثوں میں حصہ لیتارہا اور وہاں اپنے کالم/مضمون تنقید کے لیے پیش کرتا رہا ۔ یو نی کوڈ کاپی/پیسٹ میںآسان ہے۔لہٰذا میرے بلاگ پر آج تک ’’غازی علم دین شہید‘‘وکیپیڈیا سے کاپی کیا ہواہے ۔(اب جو مضامین وکیپیڈیا سے کاپی شدہ ہیں وہ وہاں بھی میں نے ہی لکھے ہیں۔ حوالہ) لیکن کیا مجال ہے کہ میں نے آج تک کسی کا ایک جملہ بھی کاپی کر کے اسے اپنا قرار دیا ہو۔اب دیکھیں معا ملے کا دوسر ارُخ!!! چونکہ میرے پاس انٹرنیٹ استعمال کرنے کا و قت انتہا ئی کم ہوتاہے میں نے اپنی کئی تحریروں کوگو گل سرچ میں تلاش کر کے چیک کیا ۔ مثلاًمیری زندگی کی پہلی باصنابطہ تحریرجونوائے منزل میں چھپی بھی تھی ’’تعلیمی تنزلی آخر کیوں؟‘‘اس کو سنوار نے میں میری رہنمائی صوفی پر وفسیر غلام سرور صاحب نے کی تھی اور اسے یہ مناسب ساعنوان میگزین کے چیف ایڈیٹرجناب محمدکامران اخترؔ نے دیا تھا ۔ آج ابھی گوگل میں سرچ کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ تحریر میر ے نام کے بغیر فیس بک کے دو صفحات ملتی ہے ۔ حتیٰ کہ میرے درخواست کر نے کے باوجود بھی میرانام وہاں نہیں لکھا گیا ۔ مجھے تو فیس بک پر ا حتجاج بھی نہیں کرناآتا۔ محترم محمد بلال محمود(م بلال م)کی ویب سائٹmbilalm.comپر اردو کی خدمت کا ایک سنہرا باب رقم ہو رہاہے۔ان کی تحریریں پڑھ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا ایک بار میرے تاثرات جو ان کی ایک تحریر کے بارے میں تھے انہوں نے پبلش کرنے سے قبل ہی حذف کردیئے۔ میں نے بہت عرصہ بعد ان کی کاپی رائٹس کی حکمت عملی پڑھی پھر معلوم ہواکہ میر ے تاثرات ان کی پالیسی سے ہٹ کر تھے ۔ ان کی جملہ حقوق کی پالیسی بڑی زبردست ہے ۔اب میر ااپنا ذہن بھی یہی ہے کہ تقریباًنہی الفاظ کو اپنی کاپی رائٹس پالیسی قراردے دوں ۔ میں چونکہ جذباتی قسم کاانسان واقع ہوا ہوں۔لہٰذامیں نے افکار مسلم کے نام سے کئی بلاگز بنا ڈالے اور کئی سوشل اردوویب سائٹس کی رکنیت ا ختیار کر لی۔ سر نعیم قیصرکے لیے بھی ایک بلاگ بناڈالا ۔تعلیم وتر بیت اسلامی پاکستان کے لیے کئی بلاگ بنا ڈالے وغیرہ وغیرہ۔ایک بار سر نعیم قیصر کی ایک نعت کو گوگل میں سر چ کیا تو معلو م ہواکہ کسی ویب سائٹ پر شاعر کے نام بغیر موجود ہے ۔ ان کی ویب سائٹ پر رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیاسوشل میڈیا پر یہ سب چلتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مجھے خاور کھو کھر یاد آگیا ۔ جس نے میرے اقد ام کو چوری کے مشابہ قرار دیا تھا ۔پھر انٹرنیٹ کی دنیا میں شاید پہلا بندہ میں تھاجسے اردو دان طبقے کو ہندی سکھانے کا مفت کا خبط سوار ہوا اور میں نے محنت کر کے اس کا آغاز کیا ۔ لیکن اس کے بلاگ ، اردومحفل فورم اور القلم فورم کے باوجود میں اس کو کسی مکمل شکل میں پیش نہ کر سکا ۔ اس میں میری اپنی کوتاہی یاغلطی سمجھ لیں۔ کیو نکہ میں آج تک اپنا انٹرنیٹ کنکشن نہیں لگواپایا۔ اور دفتر کے اوقات میں سے انتہائی کم وقت سوشل میڈیاکو دے پاتا ہوں۔ بعض لوگوں نے اس ہند ی زبان والی محنت کو اپنی میراث سمجھ کربے در یغ میر ے نام کے بغیر اپنی ویب سائٹس اور فیس بک پر ’’اردوسے ہندی سیکھیے‘‘کے عنوان سے شائع کر دیا۔اگر وہ اتنے ہی تحقیقی اور معیاری مقالہ جات کا دم بھر تے ہیں تو ان اسباق سے اگلا سبق لکھ کر کام کو جاری رکھیں ورنہ کاپی /پیسٹ کے ماہر تو میرے دور میں اسلام اور امت کے وارث بنے ہوئے ہیں اور ان کی تصانیف کی فہرست میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ رہی کاپی رائٹس کی کہانی !!! اس کے علاوہ ابھی تک میر ے پاس اتنا وقت نہیں ہوتاکہ اپنی دوسو سے زائد بکھری ہو ئی تحاریر کو چیک کرتا پھروں کہ کس کس نے ان پر اپنا جتانے کی کاوش فرمائی ہے۔ہاں اتنا ہے کہ اس سے مجھے یہ سمجھ ضرورآئی کہ اپنے قیمتی قسم کے خیالات پر ڈاکہ ڈلوانے کے لیے’’آبیل مجھے مار‘‘کامصداق نہ ٹھہروں۔کیونکہ کسی نے کہاتھا کہ علم چوری نہیں ہوتااس پر ڈاکہ پڑ تا ہے۔میں تو مو بائل پر آیا ہو ا میسیج فارورڈکرنا گوارا نہیں کرتا۔خود اپنے خیالات اور تجربے لکھ کر دوستو ں کو بھیجتا ہوں ۔بہر حال میر ی اس تحریر سے تمام کاپی پیسٹ کرنے والوں کو پیغام ہے کہ خدارا کسی کے حقوق پرڈاکہ نہ ڈالیں اخلاقی طور پر اجازت لیں اور اطلاع دے کر لکھاری کو اعزاز کے ساتھ دنیا کے سامنے لائیں۔ورنہ بالآ خرثابت تو ہو ہی جاتا ہے کہ یہ کس کی لکھت ہے۔صدیوں بعد بھی تحقیق ثابت کر دیتی ہے کہ فلاں صاحب نے کتنی کتابیں خود لکھی ہیں اور کتنی لکھی لکھا ئی ان کے نام منسوب کی گئیں۔ اب رہ گئی بات انسانی حقوق یعنی (human rights) کی توان شاء اللہ میر ی اگلی تحریر اسی موضوع پر ہوگی
11:51pm
انٹرنیٹ پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ لائسنسنگ سسٹم موجود ہے جس کی تفصیلات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں
http://creativecommons.org/licenses/

اس نظام سے واقف جتنے لوگ بھی ہیں وہ اپنی تخلیقات خواہ وہ تصویری ہوں یا تحریری ان کے انہی میں سے کسی ایک لائسنس کے ساتھ شئیر کرتے ہیں، جس کے بعد آپ کے لائسنس کی خلاف ورزی کرنے والا قابلِ گرفت بھی ہو سکتا ہے۔

انٹرنیٹ پر آرٹسٹوں کی سب سے بڑی کمیونیٹی ڈیوئنٹ آرٹ کے نام سے جانی جاتی ہے اور وہاں پر ہر قسم کی تخلیقات انہی لائسنسوں کے ساتھ شئیر کی جاتی ہیں۔
 
انٹرنیٹ پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ لائسنسنگ سسٹم موجود ہے جس کی تفصیلات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں
http://creativecommons.org/licenses/

اس نظام سے واقف جتنے لوگ بھی ہیں وہ اپنی تخلیقات خواہ وہ تصویری ہوں یا تحریری ان کے انہی میں سے کسی ایک لائسنس کے ساتھ شئیر کرتے ہیں، جس کے بعد آپ کے لائسنس کی خلاف ورزی کرنے والا قابلِ گرفت بھی ہو سکتا ہے۔

انٹرنیٹ پر آرٹسٹوں کی سب سے بڑی کمیونیٹی ڈیوئنٹ آرٹ کے نام سے جانی جاتی ہے اور وہاں پر ہر قسم کی تخلیقات انہی لائسنسوں کے ساتھ شئیر کی جاتی ہیں۔
شکریہ امجد صاحب! میں چیک کرتا ہوں
 

دوست

محفلین
میرا مشورہ ہے کہ تمام تحاریر، یا کم از کم ملتی جلتی تحاریر کو ای بک کی شکل میں شائع کریں۔ آپ کی تصانیف بھی بن جائیں گی اور ایک ٹھوس حوالہ بھی مل جائے گا۔
 
Top