سنت نبوی معانقہ (گلے ملنے) کے طبی فوائد

نیویارک (ویب ڈیسک) لوگوں سے گلے ملنے سے نہ صرف ایک دوسرے کو اپنائیت کا احساس ہوتاہے بلکہ ایسا کرنے سے بڑھاپے کی جانب سفر بھی سست ہوجاتاہے۔امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جب ہم کسی سے گلے ملتے ہیں تو ہمارے جسم میں ایک ہارمون اکسیٹوکن خارج ہوتا ہے جو ہمارے پرانے یا عمر رسیدہ پٹھوں کو بالکل نئے عضلات کی طرح کام کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس سے عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی کمزوری پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور ہڈیوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔محقق پروفیسر آئرینا کون بوائے کا کہنا ہے کہ اکسیٹوکن واحد ایسا ہارمون ہے جو ہماری درمیانی عمر کی زندگی پر اثرات مرتب کرتا ہے اور یہ بڑھاپے کی جانب ہمارا سفر سست کردیتاہے۔
http://dailypakistan.com.pk/daily-bites/07-Aug-2014/130225
 

جاسمن

مدیر
اکثر خواتین میں ( میرے سمیت) یہ عادت ہے کہ ہم بس رواجاََََ گلے ملتے ہیں۔ حالانکہ اگر پیارے نبیﷺ کی طرح معانقہ کریں تو اللہ کو بھی راضی کریں اور خود بھی فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔بہر حال سیّد ابو بکر عمار
بھائی ! جزاک اللہ۔ بہت اچھی شئیرنگ۔
 

x boy

محفلین
مسلمانوں کو بعد میں کیوں پتا چلتا ہے کہ سنت اچھی ہوتی ہیں پہلے سے کیوں تربیت نہیں کرتے۔
 

جاسمن

مدیر
بھائی ! آپ یقیناََ بہت صاحبِ علم ہیں۔ ہم تو طالبِ علم ہیں۔ اللہ کا شکر ہے جب سے یہ بات علم میں آئی تھی پیارے نبی ﷺ کے انداز میں معانقہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
 
صحابہ کا طریقہ تھا کہ عام ملاقات میں مصافحے ہی پر اکتفا کرتے تھے البتہ اگر لمبے سفر سے واپسی ہوتی تو معانقہ بھی کر لیاجاتا تھا۔ اس بناء پر امام النوویؒ نے سفر سے آنے والے کے سوا دوسروں کے لیے گلے ملنے کو مکروہ کہا ہے (ہماری ایک طلبہ تنظیم میں یہ رواج بہت عام ہے)۔ سچے شعوری مسلمان کے لیے صحابہ کا طریقہ بہترین اسوہ ہے چاہے ہارمون کا فائدہ حاصل ہو یا نہ ہو۔
قال أنس رضي الله عنه : " كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا تلاقوا ؛ تصافحوا ، فإذا قدموا من سفرٍ ؛ تعانقوا " . رواه الطبراني في الأوسط ،ورجاله رجال الصحيح ، كما قال المنذري (3/270) ،والهيثمي(8/36)
 

جاسمن

مدیر
عبداللہ حیدر بھائی!
منطقی طور پر ایسا ہی درست لگتا ہے۔ کہ روزانہ کی ملاقات میں مصافحہ اور کبھی کبھی کی ملاقات میں معانقہ
لیکن اب رواج بنتا جا رہا ہے کہ باقاعدہ معانقہ کرنے کی بجائے رسماََ ذرا سا گلے لگے اور بس۔
مہربانی فرما کر کوئی پیارے نبی ﷺ کا طریقہ لکھ دے تو صدقۂ جاریہ ہو۔
 
آخری تدوین:

زیک

تکنیکی معاون
صحابہ کا طریقہ تھا کہ عام ملاقات میں مصافحے ہی پر اکتفا کرتے تھے البتہ اگر لمبے سفر سے واپسی ہوتی تو معانقہ بھی کر لیاجاتا تھا۔ اس بناء پر امام النوویؒ نے سفر سے آنے والے کے سوا دوسروں کے لیے گلے ملنے کو مکروہ کہا ہے (ہماری ایک طلبہ تنظیم میں یہ رواج بہت عام ہے)۔ سچے شعوری مسلمان کے لیے صحابہ کا طریقہ بہترین اسوہ ہے چاہے ہارمون کا فائدہ حاصل ہو یا نہ ہو۔
قال أنس رضي الله عنه : " كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا تلاقوا ؛ تصافحوا ، فإذا قدموا من سفرٍ ؛ تعانقوا " . رواه الطبراني في الأوسط ،ورجاله رجال الصحيح ، كما قال المنذري (3/270) ،والهيثمي(8/36)
پہلے مراسلے میں کسی نے سائنسی ریسرچ کو اسلام کی طرف موڑنے کی ناکام کوشش کی اور اس کے جواب میں اسلام میں گلے ملنے کو ہی مکروہ قرار دے دیا گیا۔
 

نایاب

لائبریرین
پہلے مراسلے میں کسی نے سائنسی ریسرچ کو اسلام کی طرف موڑنے کی ناکام کوشش کی اور اس کے جواب میں اسلام میں گلے ملنے کو ہی مکروہ قرار دے دیا گیا۔
لفظ " مسلمان " بذات خود " شش حروف " پر مشتمل ہے ۔ سو " شش جہات " میں ہی سفر کرتے اپنی من پسند مسلمانیت کی منزل کو پا لیتا ہے ۔
ہنسی بھی آتی ہے دکھ بھی ہوتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احادیث مبارکہ جو کہ انسانوں کو انسانیت کے ساتھ رہنے کی راہ دکھاتی ہیں ۔ ہم انہیں " متفق موضوع ضعیف " کی بھٹی چڑھاتے " 72 " فرقوں کی حلیم پکاتے ہیں ۔ فساد و انتشار و تفرقے کے مصالحوں سے سجاتے ہیں ۔ جو سنت کاملہ و واجب ہیں ان سے نگاہ چراتے ہیں ۔
اسلام سلامتی کا دین اور نہیں محتاج اپنی صداقت کے لیئے کسی بھی سائینسی تحقیق کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قران واضح آسان اور سچا پیغام جو چاہے غوروفکر کرتے راہ پا جائے ۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 
میں عمومًا اسلام کے بارے میں اس فورم پر کوئی بات لکھنے سے اب گریز کرتا ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دینی بات یہاں مذاق بن کر رہ جاتی ہے یا فرقہ بازی کی نذر ہو جاتی ہے۔ بہرحال جناب انسان سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ معذرت خواہ ہوں۔
 
صحابہ کا طریقہ تھا کہ عام ملاقات میں مصافحے ہی پر اکتفا کرتے تھے البتہ اگر لمبے سفر سے واپسی ہوتی تو معانقہ بھی کر لیاجاتا تھا۔ اس بناء پر امام النوویؒ نے سفر سے آنے والے کے سوا دوسروں کے لیے گلے ملنے کو مکروہ کہا ہے۔
عبداللہ حیدر بھائی!
منطقی طور پر ایسا ہی درست لگتا ہے۔ کہ روزانہ کی ملاقات میں مصافحہ اور کبھی کبھی کی ملاقات میں معانقہ
لیکن اب رواج بنتا جا رہا ہے کہ باقاعدہ معانقہ کرنے کی بجائے رسماََ ذرا سا گلے لگے اور بس۔
مہربانی فرما کر کوئی پیارے نبی ﷺ کا طریقہ لکھ دے تو صدقۂ جاریہ ہو۔
سفر کے بغیر بھی معانقہ سنت ہے۔ احادیث کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
http://www.islamicrch.org/maqalat/embracing.html
 
Top