سلطان کبھی اور کبھی دربان پڑھیں گے

سلطان کبھی اور کبھی دربان پڑھیں گے
تحریرِ محبت سبھی انسان پڑھیں گے

ہم لاکھ کتابیں، کئی دیوان پڑھیں گے
مقبول وہی ہونگے جو قرآن پڑھیں گے

انکار نہ کر پائیں گے نعمت سے خدا کی
جب آپ کبھی سورۂ رحمٰن پڑھیں گے

گمراہ کبھی مقصدِ ہستی سے نہ ہونگے
جو لوگ خدا وند کا فرمان پڑھیں گے

تعمیر ہے تزئین کی تاریخ ہماری
اس کو کہاں تخریب کے شیطان پڑھیں گے

تسلیم نہیں ہم کو غلامی کی یہ لعنت
آزادی کے نغمے سرِ زندان پڑھیں گے

چہرے پہ غریبوں کے جو فریاد رقم ہے
کب اس کو مرے ملک کے سلطان پڑھیں گے

وہ جن کی نگاہوں کو نہیں تابِ نظارہ
وہ کیا تیرے چہرے کو مری جان پڑھیں گے

تعریف تری زلف کی ہم کرتے ہیں جیسے
آنکھوں کا قصیدہ بھی اسی آن پڑھیں گے

چہرے کو ابھی ٹھیک سے پڑھنا ہے تمہارے
پھر بعد میں ہم سعؔد کا دیوان پڑھیں گے

ارشد سعؔد ردولوی​
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
دونوں مطلع مجھے پسند نہیں آئے، باقی سارے اشعار تکنیکی طور پر درست ہیں۔ مطلع دوبارہ کہیں
 
Top