سلسلہ درد کا نہیں آیا عشق جوبن پہ کیا نہیں آیا

میاں وقاص نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 29, 2015

  1. میاں وقاص

    میاں وقاص محفلین

    مراسلے:
    102
    موڈ:
    Relaxed
    سلسلہ درد کا نہیں آیا
    عشق جوبن پہ کیا نہیں آیا

    میری منزل عظیم ہے لوگو
    میں پس_نقش_پا نہیں آیا

    لوگ باہر زمیں پہ کیوں بیٹھے
    جب کوئی زلزلہ نہیں آیا

    اس طرف موت کا جہاں ہو گا
    جو یہاں سے گیا، نہیں آیا

    دشت آنکھیں بچھا کے بیٹھا ہے
    پر، کوئی قافلہ نہیں آیا

    روز غصہ حرام پیتا ہوں
    تم کو خوف_خدا نہیں آیا

    لوگ جنگل میں کیوں چلے آے
    میں کسی کو بتا نہیں آیا

    اس جہاں میں کسے بتاؤں گا
    میں بطور_سزا نہیں آیا

    دیکھنے کو زمیں کی بے حالی
    آسماں یا خلا نہیں آیا

    کیا وہ شدت نہیں رہی شاہین
    درد میں کیوں مزا نہیں آیا

    حافظ اقبال شاہین
     

اس صفحے کی تشہیر