سلامی کٹ گئی کُل عمر اپنی وصفِ حیدر میں - منشی للتا پرشاد 'شاد' میرٹھی

حسان خان

لائبریرین
سلامی کٹ گئی کُل عمر اپنی وصفِ حیدر میں
مرا دعویٰ ہے جنت پر، مرا حصہ ہے کوثر میں
خدا نے جو ضیا بخشی نبی کے قلبِ اطہر میں
وہی تھی ذاتِ حیدر میں، وہی سبطِ پیمبر میں
ازل سے سیرِ باغِ خلد لکھی ہے مقدر میں
ہمیشہ کوئے طیبہ کا رہا سودا مرے سر میں
مجھے جینا بھی دوبھر ہے، مجھے مرنا بھی مشکل ہے
خدا واقف ہے جو حالت ہوئی ہے ہجرِ سرور میں
تمہاری بندگی میں ہوں تمہیں پر جان دیتا ہوں
مرا بھی نام لکھ لو اپنے مداحوں کے دفتر میں
تمہارے گیسوؤں کے عشق میں واللیل پڑھتا ہوں
یہ سر جب تک سلامت ہے یہی سودا رہے سر میں
جسے اِس کی ہوا مل جائے اُس کی بات ہی کیا ہے
مہک ہے رشکِ عنبر آپ کی زلفِ معنبر میں
تمہارے چاہنے والوں کا میں ہوں چاہنے والا
مری فریاد سن لینا ذرا تم شورِ محشر میں
ہمارے ساتھ جائیں گے لحد میں رنج و غم لاکھوں
بھلا گز بھر زمیں کیا کام دے گی ایسے لشکر میں
بری حالت ہوئی تھی تشنگی سے خشک ہونٹوں کی
امنڈتے آ رہے تھے اشک لیکن چشمِ اصغر میں
غضب ہے ایک قطرہ بھی نہیں ملتا تھا پینے کو
مگر پانی بھرا تھا دیدۂ سبطِ پیمبر میں
کئی دن سے تپے تھے بھوکے پیاسے گرم ریتی پر
مگر کیا صبر تھا اللہ اکبر ان بہتّر میں
خدا کی شان کیا جانِ شہیداں بھی مچلتی تھی
جو تھی ہونٹوں پہ دم بھر میں تو تھی آنکھوں میں دم بھر میں
کبھی دشمن کو دیکھا اور کبھی اوپر نظر ڈالی
نہیں معلوم کیا حسرت بھری تھی چشمِ اکبر میں
غمِ دنیا و فکرِ آخرت اے شاد پھر کیوں ہو
کٹے جب زندگی سب الفتِ شبیر و شبر میں
(منشی للتا پرشاد 'شاد' میرٹھی)
 
Top