سفرِلا حاصل

وہ۔۔۔!
جو خزاں رنگ زندگی میں بہار بن آتے ہیں
ان سے مل بھی لیں تو۔۔۔ پا نہیں سکتے
مذہب نے آزادکیا ہے
پھر بھی۔۔۔ اپنا نہیں سکتے
کہ کچھ لفظ ابھی تک گالی ہیں اورفکریں مردہ ہیں
اور ان پہ حاوی ہیں۔۔۔جو کہ زندہ ہیں !
خود ساختہ معاشرتی اقدار کے ناسور
ہماری جڑیں کھوکھلی کر کے ان میں آگ رکھ چکے ہیں
کتنے ہی رشتے ۔۔۔بننے سے پہلے اجڑ چکے ہیں
ہم زندگی کے اتنے قریب ہو کر بھی، اسے چھو نہیں پاتے
ہم ایسے حساس لوگ ۔۔۔مر بھی نہیں جاتے
ہمارے ابلاغ کے ہر رستے پہ
ایک آمر مقررکیا گیا ہے
اور یہ معاشرہ کسی طور جمہوری نہیں
ابھی انتخاب کی راہوں میں۔۔۔
ماں باپ کی عزت، خاندان کی توقیر اور ذات کی تشہیر حائل ہے
ہماری نیتوں پر اعمال کی تفسیر شامل ہے
ان سے بچ بھی جائیں تو۔۔۔
جانے کس طرف تقدیر مائل ہے
ہم چاہ کر بھی ۔۔۔چاہ نہیں سکتے
کھو کر بھی ۔۔۔پا نہیں سکتے
ہم ۔۔جو پا بہ زنجیر ازل سے۔۔۔
صدیوں،قرنوں سے چلے آرہے ہیں ۔۔۔
جانے کس طرف۔۔۔ چلے جارہے ہیں!
©قرارکرب۔ DrKhurram Yasin
 
Top