سعودی ایران کشیدگی؛ وزیر اعظم ثالثی کیلیے ایران کا دورہ کریں گے

جاسم محمد نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 12, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,284
    سعودی ایران کشیدگی؛ وزیر اعظم ثالثی کیلیے ایران کا دورہ کریں گے
    ویب ڈیسک جمع۔ء 11 اکتوبر 2019
    [​IMG]
    وزیراعظم ایرانی صدر سے ملاقات کے فوری بعد سعودی عرب جائیں گے جہاں سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے ۔ فوٹو : فائل

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سعودی ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے بطور ثالث اتوار کو ایران کا دورہ کریں گے۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کررہے ہیں جس کے لیے وہ اتوار کو ایران کا دورہ کریں گے جہاں ان کی ایرانی صدرحسن روحانی سےملاقات ہوگی۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کے فوری بعد سعودی عرب جائیں گے جہاں ان کی سعودی قیادت سے ایرانی صدر سے ملاقات پر بات چیت ہوگی۔

    واضح رہے کہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے مابین کشید گی میں کمی لانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,284
    ایران سعودیہ مصالحت: وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر تہران روانہ
    [​IMG]
    وزیراعظم ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران خلیج میں امن و سلامتی سے متعلق امور کے علاوہ اہم علاقائی پیشرفتوں اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے: دفتر خارجہ — فوٹو:فائل

    وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر ایران روانہ ہوگئے ہیں۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا دورہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے اقدامات کا حصہ ہے۔

    دورے میں وزیراعظم عمران خان ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور صدر حسن روحانی سمیت اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

    ہفتے کو دفترخارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران خلیج میں امن و سلامتی سے متعلق امور کے علاوہ اہم علاقائی پیشرفتوں اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

    یہ وزیراعظم عمران خان کا رواں سال کے دوران ایران کا دوسرا دورہ ہوگا۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے نیویارک میں ستمبر 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر بھی ایران کے صدر کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

    دورہ ایران سے واپسی کے بعد وزیراعظم عمران خان منگل کو سعودی عرب بھی جائیں گے۔

    دوسری جانب وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارا پہلا مقصد ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایران کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا پیغام پہنچایا ہے۔

    ترجمان ایرانی حکومت نے کہا کہ وزیراعظم نے یہ پیغام دورے سے ایک روز پہلے تہران بھجوایا، پیغام میں سعودی ولی عہد نےایران کو بات چیت کی پیشکش کی ہے۔

    ترجمان ایرانی حکومت نے مزید کہا کہ یمنی عوام کی شمولیت کے بغیر سعودی عرب سے بات چیت کو ضروری نہیں سمجھتے۔

    اس کے بعد اب ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایران اور سعودیہ کے درمیان ثالثی کیلئے کوشش کا خیر مقدم کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے پاس ایک دوسرے سے بات چیت کے علاوہ دوسرا چارہ نہیں ہے، بات چیت براہ راست ہو یا کسی ثالث کے ذریعے، ایران اس کیلئے تیار ہے۔

    جواد ظریف نے کہا کہ ہم نےکبھی ثالث کار کو انکار نہیں کیا، ہم ہمیشہ پڑوسی ملک سعودی عرب سے ثالثی یا براہ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ایران سے بات چیت کا کہا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سے نیویارک میں ملاقات کی تھی تاہم اس حوالے سے مزید معلومات سامنے نہیں آئیں اور عمران خان نے بھی کچھ بتانے سے گریز کیا۔

    بعد ازاں جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے واضح طور پر کیا تھا کہ ’وہ تمام ممالک جو ایران کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ سن لیں کہ مذاکرات کا ایک ہی طریقہ ہے، جیسا کہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا، جوہری معاہدے کے بدلے کیے جانے والے وعدے پورے کیے جائیں‘۔

    انہوں نے خلیجی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ ’امریکا ہمارا اور آپ کا پڑوسی نہیں ہے بلکہ ایران پڑوسی ہے، مشکل حالات میں پڑوسی ہی ساتھ ہوں گے امریکا نہیں‘۔
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,284
    پاکستان اور ایران کا خطے کے مسائل مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق
    ویب ڈیسک اتوار 13 اکتوبر 2019
    [​IMG]
    ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی - فوٹو: پی ٹی آئی


    تہران: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

    ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران پڑوسی دوست ممالک ہیں اور دونوں ممالک مل کر خطے کے استحکام کے لئے کوششیں کر سکتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ حالیہ واقعات خصوصاً خلیج فارس اور دیگر معاملات پر بات کی، ایران کے خلاف امریکا کے جابرانہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    حسن روحانی نے کہا کہ خیرسگالی جذبے کے جواب میں خیرسگالی کا مظاہرہ کیا جائے گا، اگر کوئی ملک سمجھتا ہے خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہوگی تووہ غلطی پر ہے، یمن میں فورا جنگ بندی اور عوام کی مدد کی جائے، امریکا کو چاہیے کہ ایران پرعائد پابندیاں اٹھائے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایرانی صدر سے ملاقات میں باہمی تعلقات، تجارت اور ایک دوسرے سے تعاون کے طریقہ کار پر بات کی، ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ایران کی حمایت پرشکر گزار ہیں جب کہ سعودی عرب نے ہرضرورت پر ہماری مدد کی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرے دورے کا اہم مقصد ہے، ایران سعودی عرب کے درمیان سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں، ثالثی کیلئے کسی نے نہیں کہا یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے، ایران سعودی عرب تنازع کا حل مذاکرات ہیں، ہم خطے میں ایک اورتنازع نہیں چاہتے، مغربی طاقتیں ایران اور سعودی عرب میں جنگ چاہتیں ہیں، ایران اور سعودی عرب میں جنگ سے دنیا میں غربت بڑھے گی جب کہ ہم چاہتے ہیں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ نیوکلیئر معاہدہ طے پاجائے۔

    بعدازاں وزیراعظم عمران خان کی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق خودارادیت کی حمایت پر ایرانی سپریم لیڈر کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امت مسلمہ کو بے شمار اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے جب کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کا پیغام عام کرنا وقت کی اہم ضروت ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر