سرِ جادہ وہی منزل کا نشاں ہے کہ جو تھا

محمد ریحان قریشی نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 16, 2018

  1. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,797
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    نیستی عالمِ کیفِ دل و جاں ہے کہ جو تھا
    ہست سودائے سر و خوابِ گراں ہے کہ جو تھا

    غازۂ راہ شناسی ہے کہ اترا جائے
    سرِ جادہ وہی منزل کا نشاں ہے کہ جو تھا

    پھر تخیل کسی طوفاں کی ہے موجوں پہ سوار
    وردِ لب ریگِ رواں ریگِ رواں ہے کہ جو تھا

    بارہا دہر نے اوقات دکھائی ہے مجھے
    بارے اپنے مگر اک حسنِ گماں ہے کہ جو تھا

    مشتری کی ہے خطا یا ہے فروشندہ کا سہو
    جنسِ ہستی وہی سودائے زیاں ہے کہ جو تھا

    کب سر و برگِ گل و برگ و شجر ہے مجھ کو؟
    سایۂ شعر میں سب حال نہاں ہے کہ جو تھا

    اپنے حالات کی مجھ کو ہی نہیں کوئی خبر
    سارے عالم پہ مرا حال عیاں ہے کہ جو تھا

    آب کہتے ہیں جسے ہے وہ گدازِ آتش
    خاک میں شعلۂ آتش نفساں ہے کہ جو تھا

    دو ہی موسم ہیں فقط گلشنِ عالم کا نصیب
    خوفِ پاییز پئے فصلِ خزاں ہے کہ جو تھا
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 16, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    21,593
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب ریحان بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,473
    بہت خوب ریحان بھائی!! :)

    تابش بھائی، ہمیں بھی پوری غزل میں سے یہی دو اشعار آسانی سے سمجھ میں آ سکے ہیں۔ :)

    ریحان بھائی، اتنے مشکل کام ابھی سر انجام دیں گے تو بڑے ہو کر کیا کریں گے؟؟ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,136
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ریحان بھائی ، بہت اچھی کاوش ہے ۔ ایک دو اچھے شعر ہیں لیکن غزل مجموعی طور پر مؤثر نہیں لگی ۔ جابجا ابلاغ کا مسئلہ ہے ۔
    پہلی بات تو یہ کہ ردیف ہر شعر میں بامعنی طور پر فِٹ نہیں ہورہی ۔ دوسری اور سب سے نمایاں بات یہ کہ اکثر اشعار میں رعایات کا کوئی التزام نہیں جس کی وجہ سے نہ صرف تشبیہات اور استعارے عجیب و غریب محسوس ہورہے ہیں بلکہ ابلاغ کو مشکل بنار ہے ہیں ۔

    غازۂ راہ شناسی؟!! یہاں غازہ کا کوئی سیاق و سباق ، کوئی تلازمہ کوئی اشارہ کنایہ سرے سے موجود نہیں ۔

    یہ شعر صاف ہے ۔ پہلے مصرع میں اگر مجھے کے بجائے مری ہو تو زیادہ بہتر ہے ۔ ’’بارے اپنے ‘‘ محلِ نظر ہے ۔ شاید اپنے بارے میں کہنا چاہ رہے ہیں ۔

    ریگِ رواں وردِ لب ہے ؟! تھا کا صیغہ وردِ لب کے لئے ہی ہوسکتا ہے کیونکہ ریگِ رواں تو مونث ہے ۔ پھر دونوں مصرعوں کا ربط شعر میں واضح نہیں کیا گیا ۔

    ایک تو فروشندہ اردو میں مستعمل نہیں ۔ دوسرے مشتری بھی نسبتاً غیر معروف ہے ۔ ریحان بھائی ، غزل کی زبان نفاست اور نزاکت چاہتی ہے ۔ الفاظ کا چناؤ شعر کو ڈبو بھی سکتا ہے اور نکھار بھی سکتا ہے ۔ الفاظ ہی قاری کے ذہن میں تصویر بناتے ہیں اور شاعر کے تخیل کا ابلاغ کرتے ہیں ۔ مثلاً یہ مصرع دیکھئے:
    شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے
    یہاں شبنم کی جگہ اوس رکھ کر دیکھئے ۔ ذہنی تصویر یکسر بگڑ جائے گی ۔

    پہلا مصرع چیستان بن گیا ہے ۔ یہ سر کے بعد واؤ عطف ہے یا یہ لفظ سرو (درخت) ہے؟!

    خیال اچھا ہے لیکن ایک تو ردیف ساتھ نہیں دے رہی ۔ دوسرے محض گداز کہہ دینے سےبات نہیں بنے گی ۔ کوئی ایسی رعایت تو ہو کہ جو آتش اور آب کو مربوط کرسکے ۔

    کیا پاییز اور خزاں ایک ہی چیز نہیں ؟ تو پھر خوفِ خزاں پئے فصلِ خزاں کیا معنی ؟ دوسرے یہ کہ پاییز اردو کا لفظ نہیں ۔

    امید ہے کہ اس تبصرہ کو مثبت انداز میں لیں گے ۔ ریحان بھائی ، آپ کی شاعری میں بہت امکانات ہیں اور اچھی شاعری کی صلاحیت بھی ہے ۔ لیکن آپ خاص طور پر ابلاغ کے مسئلے پر توجہ دیں ۔ نیز غزل کی زبان و بیان جو سلاست اور نفاست مانگتے ہیں وہ غرابت لفظی اور تعقید کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ اگر کوئی بات بری محسوس ہو تو پیشگی معذرت چاہتا ہوں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,797
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اس حقیر کاوش پر توجہ فرمائی. دراصل مجھے خود بھی اندازہ ہے کہ یہ اشعار بہت اچھے نہیں مگر بہت عرصے بعد کچھ لکھا تو سوچا کہ پوسٹ بھی کر ہی دیتا ہوں.
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 17, 2018
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر