سرورق دیکھ کر کتاب کے بارے میں رائے قائم کریں

محمداحمد

لائبریرین
انگریز کہا کرتے ہیں کہ کبھی بھی سرورق دیکھ کر کتاب کا اندازہ نہ لگایا جائے۔ تاہم اگر انگریزوں کی بات من و عن مان لی جائے تو پھر پوری پوری کتابیں پڑھنا پڑیں گی ۔ سو ہم پاکستانی جو "شارٹ کٹ" کے بہت شوقین ہیں اور پوری پوری کتابیں پڑھنے کو اپنے لئے باعثِ ننگ سمجھتے ہیں انگریزوں کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

؎ لفافہ دیکھ کر ہم خط کا مضموں بھانپ لیتے ہیں
سو اس سلسلے میں ایک محفلین کی طرف سے کسی کتاب کا سرورق پیش کیا جائے گا اور دیگر محفلین اس سرورق کو دیکھ کر کتاب کے بارے میں اندازے لگائیں گے کہ اس کتاب میں کیا ہو سکتا ہے۔ اگر آپ نے مذکورہ کتاب پڑھی ہوئی ہے تو آپ بھی اپنی رائے دیجے اور یہ بھی بتائیے کہ سرِ ورق کا مذکورہ کتاب سے کتنا علاقہ ہے۔

ذرا تلاش کر کے کوئی دلچسپ سرورق پیش کیجے تاکہ لوگ اس معاملے میں دلچسپی برقرار رکھ سکیں۔

کتابوں کے حوالے سے ایک غیر سنجیدہ لڑی کے لئے کتب خواں طبقے سے معذرت ، تاہم اس لڑی کا مقصد بھی کتابوں کا تذکرہ ہی ہے۔ جس سے ہم جیسے غیر سنجیدہ لوگوں کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ :)
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
پہلا سرورق
درو دیوار
احمد ندیم قاسمی

Dar-o-Deewar-Urdu-Book-Download-600x0.jpg


کتاب کے عنوان کو بھی شاملِ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ :)
 

محمد وارث

لائبریرین
مجھے ویسے اس کھیل کی زیادہ سمجھ نہیں آئی، کیونکہ سرورق سے زیادہ کتاب اور مصنف کے نام سے علم ہو جائے گا کہ اس کتاب میں کیا ہے، تو کیا کتاب اور مصنف کا نام چھپا کر سر ورق پیش کرنا ہے؟
 

محمداحمد

لائبریرین
مجھے ویسے اس کھیل کی زیادہ سمجھ نہیں آئی، کیونکہ سرورق سے زیادہ کتاب اور مصنف کے نام سے علم ہو جائے گا کہ اس کتاب میں کیا ہے، تو کیا کتاب اور مصنف کا نام چھپا کر سر ورق پیش کرنا ہے؟

یہ اندازہ تو آپ کو ہو جائے گا نا! :)

آپ ذرا ہماری طرح بن کر سوچیے ۔ اس کے بعد تو خط کا مضموں بھانپنے کے لئے آپ کے پاس صرف لفافہ ہی رہ جائے گا۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
چلیں ایک میری طرف سے بھی!

Case_of_Exploding_Mangoes.jpg

آم کے سر پر تاج کی طرح سجی پھلجڑی اور عنوان سے اندیشہ ہے کہ یہ آم پھٹنے والا ہے اور اس کتاب میں محمد حنیف صاحب نے آتش گیر طبیعت رکھنے والے آموں کی داستان سنائی ہے ۔ یا یہ صرف ایک تمثیلی تصویر ہے اور کتاب میں آم کھانے کے بعد معدہ میں ہونے والے دھماکوں کی بابت ذکر کیا گیا ہے جو کہ نظامِ ہاضمہ کی ناکامی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا کرتے ہیں۔ :noxxx:
 

جاسمن

مدیر
پہلا سرورق
درو دیوار
احمد ندیم قاسمی

Dar-o-Deewar-Urdu-Book-Download-600x0.jpg


کتاب کے عنوان کو بھی شاملِ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ :)
دیکھیے احمد ندیم قاسمی ویسے تو شاعر ہیں لیکن بطور شاعر وہ اس قدر پیسے نہ کما سکے ہوں گے۔ ویسے بھی رفتہ رفتہ لوگ شاعری اور شاعروں سے پرہیز کرنے لگے ہیں جب سے سوشل میڈیا پہ مصروف ہوئے ہیں۔ فیس بکی شاعری نے احمد ندیم قاسمی جیسے شاعروں کی شاعری کو ویسے ہی فیل کر دیا ہے۔کون اتنے مشکل اشعار پڑھے اور وہ بھی اردو رسم الخط میں جب آرام سے رومن اردو میں آسان شاعری مل جاتی ہے۔
سو احمد ندیم قاسمی نے دیکھا کہ کس شعبہ میں پیسہ زیادہ ہے تو تعمیرات کے شعبہ میں انہیں زیادہ پیسوں کی خوشبو آئی سو انہوں نے ریسرچ کی اور اس شعبہ کے بارے کتاب لکھ ماری۔
درودیوار اصل میں آوازدوست جیسے لوگوں کے لئے لکھی گئی ہے جو مکان بنانے سے پہلے ایک لڑی کھول کے بیلیوں سے پوچھتے ہیں کہ مکان کیسے بنانا چاہیے؟
سو جناب اس کتاب میں مکان بنانے کے لئے اینٹوں کے انتخاب سے لے کر چھت کی تعمیر اور رنگ و روغن تک کے بارے میں تفصیلات ملیں گی آپ کو۔ اور یقین مانیں گوگل کی نسبت یہ کتاب پڑھ کے آپ کو اپنےاب والے گھر میں سینکڑوں نقص نظر آنے لگیں گے اور آپ اسے (خدانخواستہ) گرا کر نیا بنانے کا فی الفور ارادہ باندھ لیں گے بلکہ ارادہ تعمیر کریں گے۔
اس کتاب کو پڑھتے ہی آپ کا ذخیرہ الفاظ اینٹوں اینٹ ہوجائے گا۔ بھٹہ سے لے کر ، ریت ، تگاری ، چونا ، سیمنٹ اور نجانے کون کون سے عالی شان الفاظ آپ کے لبوں پہ جاری رہا کریں گے۔
آپ کے تعلقات ایسے ایسے ماہر لوگوں سے ہوجائیں گے کہ لوگ آپ کے سوشل حلقہ کو رشک و حسد کی نظر سے دیکھا کریں گے۔
بس آپ ایک بار "درو دیوار"پڑھ کے تو دیکھیں۔ آپ کے درو دیوار روشن نہ ہوئے تو نام بدل دیجیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔کتاب کا۔
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
دیکھیے احمد ندیم قاسمی ویسے تو شاعر ہیں لیکن بطور شاعر وہ اس قدر پیسے نہ کما سکے ہوں گے۔ ویسے بھی رفتہ رفتہ لوگ شاعری اور شاعروں سے پرہیز کرنے لگے ہیں جب سے سوشل میڈیا پہ مصروف ہوئے ہیں۔ فیس بکی شاعری نے احمد ندیم قاسمی جیسے شاعروں کی شاعری کو ویسے ہی فیل کر دیا ہے۔کون اتنے مشکل اشعار پڑھے اور وہ بھی اردو رسم سلخط میں جب آرام سے رومن اردو میں آسان شاعری مل جاتی ہے۔
سو احمد ندیم قاسمی نے دیکھا کہ کس شعبہ میں پیسہ زیادہ ہے تو تعمیرات کے شعبہ میں انہیں زیادہ پیسوں کی خوشبو آئی سو انہوں نے ریسرچ کی اور اس شعبہ کے بارے کتاب لکھ ماری۔
درودیوار اصل میں آواز دوست جیسے لوگوں کے لئے لکھی گئی ہے جو مکان بنانے سے پہلے ایک لڑی کھول کے بیلیوں سے پوچھتے ہیں کہ مکان کیسے بنانا چاہیے؟
سو جناب اس کتاب میں مکان بنانے کے لئے اینٹوں کے انتخاب سے لے کر چھت کی تعمیر اور رنگ و روغن تک کے بارے میں تفصیلات ملیں گی آپ کو۔ اور یقین مانیں گوگل کی نسبت یہ کتاب آپ پڑھ کے آپ کو اپنےاب والے گھر میں سینکڑوں نقص نظر آنے لگیں گے اور آپ اسے (خدانخواستہ) گرا کر نیا بنانے کا فی الفور ارادہ باندھ لیں گے بلکہ ارادہ تعمیر کریں گے۔
اس کتاب کو پڑھتے ہی آپ کا ذخیرہ الفاظ اینٹوں اینٹ ہوجائے گا۔ بھٹہ سے لے کر ، ریت ، تگاری ، چونا ، سیمنٹ اور نجانے کون کون سے عالی شان الفاظ آپ کے لبوں پہ جاری رہا کریں گے۔
آپ کے تعلقات ایسے ایسے ماہر لوگوں سے ہوجائیں گے کہ لوگ آپ کے سوشل حلقہ کو رشک و حسد کی نظر سے دیکھا کریں گے۔
بس آپ ایک بار "درو دیوار"پڑھ کے تو دیکھیں۔ آپ کے درو دیوار روشن نہ ہوئے تو نام بدل دیجیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔کتاب کا۔

ہاہاہاہاہا۔۔۔!

یہ کام ہم جیسے لوگوں کے لئے تھا کہ سرورق دیکھ کر رائے قائم کی جائے ۔

اوپر کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ تو بنی بنائی فکشن رائٹر ہیں ۔ اپنی کتاب لکھیے اور سرورق ہمارے حوالے کر دیجے۔ :) :) :)
 

جاسمن

مدیر
چلیں ایک میری طرف سے بھی!

Case_of_Exploding_Mangoes.jpg
آج ہم 320 روپے کلو کے حساب سے ایک کلو جامن لائے۔ میں نے حسب معمول ریڑھی والے کو ایک کلو جامن کے بدلہ دو کلو کا لیکچر دیا کہ باہر کی طرف بڑے جامن دکھا کے چھوٹے جامن دیتے ہو۔ اور اگر بقول تمہارے کہ تمہیں بھی ایسے ملے تو پھر اللہ بھی تمہارے ساتھ ایسا ہی کرے اگر جیسا تم میرے ساتھ کر رہے ہو۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ وہ کان لپیٹ کر جامن تولتا رہا۔ جامن لے کے باقی ماندہ لیکچر پورا کیا اور گاڑی میں بیٹھی تو صاحب پوچھنے لگے کہ اسے کیا فرما رہی تھیں۔ بتایا۔۔۔۔
گھر آکر کھانے لگے تو کیڑے نکلے۔۔۔
لوجی بالکل یہی چیز اس کتاب کے مصنف کے لئے یہ کتاب لکھنے کا باعث بنی۔
وکٹوریہ ہسپتال اور قائداعظم میڈیکل کالج کے باہر سائکلوں اور نیچے جو ٹھیلے والے پھل رکھ کے کھڑے بیٹھے ہیں،ان میں سے اکثر پھلوں پہ رنگ کیا ہوا ہے اور ٹیکے لگے ہوئے ہیں۔آپ محفلین نے اب تک وٹزایپ پہ کئی ویڈیوز دیکھ لی ہوں گی کہ لوگ کس کس طریقہ سے پھلوں کو زہر آلود کر رہے ہیں۔
اسی طرح آم کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہوگا۔
صاحب کتاب نے کوئی ایسا آم کھایا ہوگا جس نے ان کے معدہ میں جاکے دھماکہ کیا ہوگا اور اس دھماکہ سے ان پہ کچھ انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہوں گے سو انہوں نے اس آم کو بنیاد بنا کے ایک کتاب لکھ ماری۔
یہ کتاب ضرور پڑھئے۔ لیکن یاد رہے کہ آپ اب جب بھی آم کھائیں گے آپ کے ذہن میں یہ رہے گا کہ کہیں یہ آم دھماکہ آور نہ ثابت ہوجائے۔
اکمل زیدی کو یہ کتاب پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔
اب پچھلے محاورے اور ضرب الامثال کو خیر آباد کہنے کا وقت آگیا ہے۔ آم کے آم گھٹلیوں کے دام والی ضرب المثل کو چھوڑ دیجیے۔
اور نئی ضرب المثل کے لئے یہ کتاب ضرور پڑھیے۔
 
Top