ستارہ ء سحری

نور وجدان

لائبریرین
صبح کا ستارا

یہ دولت ہے علمُ البَیاں کی*
قَلم نعمتِ رب ہے، آیت بہ آیت چلا سلسلہ ہے
حِرا میں ہُوئی ابتَدا، اور سدرہ پہ معراجِ بشری
شُروعات "اقرا " کی سوغات سے کی گئی ہے

خدا کے محبوب، عالم کی.رحمت
حرا میں مراقب ہوئے جب
فَریضہ نبوت کا سونپا گیا تھا
فَرشتہ وَحی لے کے آیا،
" نَہیں جانَتا میں " کی تکرار کرتے رہے تھے
وہ دو قلب یوں پھر ملائے گئے تھے
کہ نورانی مصحف اُتارے گَئے تھے
خَشیت سے جسمِ مبارک تھا کانپا
خدیجہ نے کملی سے اپنی تھا ڈھانپا
یہ پہلی وَحی کا اَثر تھا کہ اتنا
نَزولِ وَحی بعد میں رک گیا تھا
سکوں پھر دِلو جاں کا رخصت ہُوا تھا
یَکایک اَبر رحمَتوں کے تھے چھائے
کہ روحُ الاَمیں پھر وحی کو آئے *


کہا رب نے پھر " قُمْ فَأَنذِرْ"
طَریقِ عِبادت بَتایا گیا تھا
تو قرأت کے اِسرار کھولے گئے تھے
یہ بارِ نبوت بَڑی شان سے پھر اُٹھایا
نبوت سے ظلمت جَہاں کی مٹائی
ہدایت کا رستہ سبھی کو بَتایا
اُُجالے دلوں میں جو ہونے لگے تھے
صَحابہ محمد پہ مرنے لگے تھے
کسی کی تھی نسبت جناب ِاویسی،
تو روحِ بلالی کسی نے تھی پائی
کہیں جستجو کو جو سلمان فارس سے نکلے
جو آوازہ "حیّ علی خیر " کا پھر اُٹھا تھا
تو "اللہ اکبر" کی گونجیں صَدائیں،
تَیقُّن سے سینے منور ہوئے تھے*
گرفتار اندیشوں میں سارے دشمن
مظالم تبھی مسلمانوں پہ ہونے لگے بے تحاشا
تو مکّہ سے ہجرت بھی کرنی پڑی تھی
خطرناک کفّار کے جب ارادے ہوئے تھے
گَھروں سے تَہّییہ یہ کرکے وہ نکلے
کہ اس شمعِ ایمان کو وہ بجھا دیں
یَقیں کی جو طاقت سے انجان تھے وُہ
رَمّی وہ محمد کی تھی، وہ رَمّی تھی خدا کی
تو قدرت خدا کی کہ اندھے ہُوئے سب،
مدینہ کی جانب روانہ ہوئے تھے



*چراغِ اَلوہی بجھایا نہ جائے گا، یہ فیصلہ تو ازل سے رقم تھا
کہ قندیلِ طاہر سے سارے جہانوں، زمانوں نے روشن ہے ہونا

یَہودو نَصارٰی مقابل ہوئے جب
تو کُفّار کو چین پھر کیسے آتا
مُقابل لَشاکر یہ سارے ہوئے تھے
.بَدر میں، احد میں شجاعت، دلیری،
فَتوحات کے جھنڈے گاڑے گئے تھے
وہ فتحِ مبیں اور کعبے سے بت سب اکھاڑے گئے تھے
رسالت، نبوت، نیابت کی تکمیل ہوئی تھی
مقامات درجہ بہ درجہ یہ طے جو ہوئے تھے
تو طٰہ، وہ یٰسین، حم کہہ کے پُکارے گئے تھے *
مقاماتِ بشری کے یہ استَعارے،
یہی راز ہیں معرفت کےتو سارے

وہ شب قدر میں اوجِ بشری
سرِ لا مکاں سے طَلب جب ہُوئی تھی
سوئے منتَہی کو چلے سرورِ انبیاء تھے
ستارے حَیا سے حجاباتِ شب میں
منور، مطہر محمد کی سیرت
تصور میں کیسے سمائے وہ صورت
فَرشتے تبِ و تاب اس حسن کی لا نہ پائے
جو جس حال میں تھا، اُسی حال میں مر مٹا تھا
تحیر کی ساعت سے کیسے نکلتا کوئی پھر
حبیبِ خُدا پھر اَکیلے روانہ ہوئے تھے
وہ دن تھا بھی کتنا سُہانا
یہ" ثُمَّّ دَنَا" سے کہیں آگے سفر تھا*
خطِ حد سے کم فاصَلہ تھا
ہیں "ما زاغ" چشمِ کرم ،یہ شَہادت خُدا کی
نِگاہیں مطہر تھیں، دل بھی نَمازی
وہ معراج، "صلّ عَلی "کی صدائیں *
وہ اسرٰی کی شب اور اقصٰی کی مسجد
رَموزِ حَقیقت عَیاں سب ہوئے تھے
محبت میں سب انبیاء ہی کَھڑے تھے
امامت کو شاہِ رُسل جو کھَڑے تھے
صَبیحو منور یہی وہ ستارہ
رُخِ زیبا جسطرف اسکا ہو جائے
وُہ پاکیزہ، طاہر ہو جائے
مرا دل اسی تارے سے جگمگا دے
سبھی تارے اسمِ محمد سے چمکے
 

الف عین

لائبریرین
آج اس کی یاد آ گئی! جو مصرعے مجھے غلط محسوس ہوتے ہیں، صرف ان کا ذکر کروں گا، باقی کو درست سمجھو

یہ دولت ہے علمُ البَیاں کی*
قَلم نعمتِ رب ہے، آیت بہ آیت چلا سلسلہ ہے
حِرا میں ہُوئی ابتَدا، اور سدرہ پہ معراجِ بشری
... بَشَری، شین پر بھی فتحہ درست تلفظ ہے، یہاں سکن بندھا ہے

شُروعات "اقرا " کی سوغات سے کی گئی ہے

خدا کے محبوب، عالم کی.رحمت
... بحر سے خارج ہو گیا ہے، خدا کے وہ محبوب.....

حرا میں مراقب ہوئے جب
فَریضہ نبوت کا سونپا گیا تھا
فَرشتہ وَحی لے کے آیا،
.. وحی کا تلفظ درست نہیں، ی ساکن ہے

" نَہیں جانَتا میں " کی تکرار کرتے رہے تھے
... مفہوم کے اعتبار سے غلط ہے، آپ ص کہہ رہے تھے کہ 'میں پڑھا لکھا نہیں'

وہ دو قلب یوں پھر ملائے گئے تھے
کہ نورانی مصحف اُتارے گَئے تھے
خَشیت سے جسمِ مبارک تھا کانپا
خدیجہ نے کملی سے اپنی تھا ڈھانپا
یہ پہلی وَحی کا اَثر تھا کہ اتنا
... وہی وحی کا تلفظ!

نَزولِ وَحی بعد میں رک گیا تھا
... ایضاً

سکوں پھر دِلو جاں کا رخصت ہُوا تھا
.. دل و جاں؟ دلو اگر ہے تو اس لفظ سے میں واقف نہیں

یَکایک اَبر رحمَتوں کے تھے چھائے
.. ابر کا تلفظ، درست میں با ساکن ہے

کہ روحُ الاَمیں پھر وحی کو آئے *
... وحی!

کہا رب نے پھر " قُمْ فَأَنذِرْ"
طَریقِ عِبادت بَتایا گیا تھا
.. بیان اور صیغہ میچ نہیں کر رہا۔ پچھلے مصرع میں 'رب نے کہا' کا راست بیان، دوسرے میں passive voice ہو گیا!

تو قرأت کے اِسرار کھولے گئے تھے
... قرات کے اسرار سمجھ نہیں سکا

یہ بارِ نبوت بَڑی شان سے پھر اُٹھایا
... فاعل کا نام تو لو!

نبوت سے ظلمت جَہاں کی مٹائی
ہدایت کا رستہ سبھی کو بَتایا
اُُجالے دلوں میں جو ہونے لگے تھے
صَحابہ محمد پہ مرنے لگے تھے
... یہ مصرع غیر متعلق لگتا ہے

کسی کی تھی نسبت جناب ِاویسی،
تو روحِ بلالی کسی نے تھی پائی
کہیں جستجو کو جو سلمان فارس سے نکلے
جو آوازہ "حیّ علی خیر " کا پھر اُٹھا تھا
تو "اللہ اکبر" کی گونجیں صَدائیں،
تَیقُّن سے سینے منور ہوئے تھے*
گرفتار اندیشوں میں سارے دشمن
.. اندیشوں کی وں کا اسقاط اچھا نہیں، 'گرفتار اندیشہ تھے تھے سارے دشمن' کیا جا سکتا ہے

مظالم تبھی مسلمانوں پہ ہونے لگے بے تحاشا
مسلمانوں کا تلفط غلط باندھا گیا ہے
مظالم تبھی مومنوں پر ہوئے بے تحاشا

تو مکّہ سے ہجرت بھی کرنی پڑی تھی
خطرناک کفّار کے جب ارادے ہوئے تھے
گَھروں سے تَہّییہ یہ کرکے وہ نکلے
... تہیہ یہ.. میں تنافر کی کیفیت ہے

کہ اس شمعِ ایمان کو وہ بجھا دیں
یَقیں کی جو طاقت سے انجان تھے وُہ
.. درست گرامر نہیں، 'جو' نکال دو یا 'اس سے' کا اضافہ کر دو

رَمّی وہ محمد کی تھی، وہ رَمّی تھی خدا کی
.... کس واقعے کی طرف اشارہ ہے؟

تو قدرت خدا کی کہ اندھے ہُوئے سب،
مدینہ کی جانب روانہ ہوئے تھے
... کون؟


*چراغِ اَلوہی بجھایا نہ جائے گا، یہ فیصلہ تو ازل سے رقم تھا
... الوہی لام ساکن واو مفتوح، یہاں الٰہی کی طرح باندھا گیا ہے، الٰہی ہی کر دو!

کہ قندیلِ طاہر سے سارے جہانوں، زمانوں نے روشن ہے ہونا
... 'نے روشن ہونا ہے' درست اردو نہیں، 'پنجابی اردو' ہے
طاہر کی طہارت کس سلسلے میں؟ قندیل نبوت وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو بات دوسری ہے.

یَہودو نَصارٰی مقابل ہوئے جب
تو کُفّار کو چین پھر کیسے آتا
...یہ بھی واقعے کے خلاف ہے۔ پہلے تو کفار کی ہی پلاننگ ہوتی تھی!

مُقابل لَشاکر یہ سارے ہوئے تھے

.بَدر میں، احد میں شجاعت، دلیری،
... بدر کا تلفظ؟ یہ مصرع اگلے مصرعے کے بغیر بیکار ہے۔ ان کو ملا دو
فَتوحات کے جھنڈے گاڑے گئے تھے
وہ فتحِ مبیں اور کعبے سے بت سب اکھاڑے گئے تھے
....ان دونوں میں تعلق کے لئے کچھ الفاظ..

رسالت، نبوت، نیابت کی تکمیل ہوئی تھی
... تکمیل کا لام ہوئی کی ہ سے وصال نہیں کر سکتا

مقامات درجہ بہ درجہ یہ طے جو ہوئے تھے
تو طٰہ، وہ یٰسین، حم کہہ کے پُکارے گئے تھے *
... مقطعات کی صرف ایک قسم کی تفسیر، اس پر اتفاق نہیں کہ ان الفاظ سے آپ ص کو ہی پکارا گیا ہے

مقاماتِ بشری کے یہ استَعارے،
... بشری کا تلفظ، جیسا اوپر میں نے غلطی بتائی ہے

یہی راز ہیں معرفت کےتو سارے

وہ شب قدر میں اوجِ بشری
شب قدر بغیر اضافت مہمل ہے، بشری کا تلفظ،؟

سرِ لا مکاں سے طَلب جب ہُوئی تھی
سوئے منتَہی کو چلے سرورِ انبیاء تھے
... یہ تو توارد ہو گیا نا! صابری برادران کی قوالی سے!

ستارے حَیا سے حجاباتِ شب میں
منور، مطہر محمد کی سیرت
... نا مکمل مصرعے ہیں اوپر کے دونوں

تصور میں کیسے سمائے وہ صورت
فَرشتے تبِ و تاب اس حسن کی لا نہ پائے
جو جس حال میں تھا، اُسی حال میں مر مٹا تھا
تحیر کی ساعت سے کیسے نکلتا کوئی پھر
حبیبِ خُدا پھر اَکیلے روانہ ہوئے تھے
.... فرشتے حسن نبی کی تاب نہ لا کر سفر معراج پر ساتھ نہ جا پائے! ہ بات واقعے کے خلاف ہے

وہ دن تھا بھی کتنا سُہانا
یہ" ثُمَّّ دَنَا" سے کہیں آگے سفر تھا*
.. مصرع بحر سے خارج ہے

خطِ حد سے کم فاصَلہ تھا
ہیں "ما زاغ" چشمِ کرم ،یہ شَہادت خُدا کی
نِگاہیں مطہر تھیں، دل بھی نَمازی
وہ معراج، "صلّ عَلی "کی صدائیں *
وہ اسرٰی کی شب اور اقصٰی کی مسجد
رَموزِ حَقیقت عَیاں سب ہوئے تھے
محبت میں سب انبیاء ہی کَھڑے تھے
امامت کو شاہِ رُسل جو کھَڑے تھے
صَبیحو منور یہی وہ ستارہ
... صبیح و منور؟

رُخِ زیبا جسطرف اسکا ہو جائے
.. بحر سے خارج

وُہ پاکیزہ، طاہر ہو جائے
... ہُجائے تقطیع غلط ہے

مرا دل اسی تارے سے جگمگا دے
سبھی تارے اسمِ محمد سے چمکے
... سبھی تارے.. ہیں تو چمکے نہیں 'چمکیں' کا محل ہے.۔
 

نور وجدان

لائبریرین
آج اس کی یاد آ گئی! جو مصرعے مجھے غلط محسوس ہوتے ہیں، صرف ان کا ذکر کروں گا، باقی کو درست سمجھو

یہ دولت ہے علمُ البَیاں کی*
قَلم نعمتِ رب ہے، آیت بہ آیت چلا سلسلہ ہے
حِرا میں ہُوئی ابتَدا، اور سدرہ پہ معراجِ بشری
... بَشَری، شین پر بھی فتحہ درست تلفظ ہے، یہاں سکن بندھا ہے

شُروعات "اقرا " کی سوغات سے کی گئی ہے

خدا کے محبوب، عالم کی.رحمت
... بحر سے خارج ہو گیا ہے، خدا کے وہ محبوب.....

حرا میں مراقب ہوئے جب
فَریضہ نبوت کا سونپا گیا تھا
فَرشتہ وَحی لے کے آیا،
.. وحی کا تلفظ درست نہیں، ی ساکن ہے

" نَہیں جانَتا میں " کی تکرار کرتے رہے تھے
... مفہوم کے اعتبار سے غلط ہے، آپ ص کہہ رہے تھے کہ 'میں پڑھا لکھا نہیں'

وہ دو قلب یوں پھر ملائے گئے تھے
کہ نورانی مصحف اُتارے گَئے تھے
خَشیت سے جسمِ مبارک تھا کانپا
خدیجہ نے کملی سے اپنی تھا ڈھانپا
یہ پہلی وَحی کا اَثر تھا کہ اتنا
... وہی وحی کا تلفظ!

نَزولِ وَحی بعد میں رک گیا تھا
... ایضاً

سکوں پھر دِلو جاں کا رخصت ہُوا تھا
.. دل و جاں؟ دلو اگر ہے تو اس لفظ سے میں واقف نہیں

یَکایک اَبر رحمَتوں کے تھے چھائے
.. ابر کا تلفظ، درست میں با ساکن ہے

کہ روحُ الاَمیں پھر وحی کو آئے *
... وحی!

کہا رب نے پھر " قُمْ فَأَنذِرْ"
طَریقِ عِبادت بَتایا گیا تھا
.. بیان اور صیغہ میچ نہیں کر رہا۔ پچھلے مصرع میں 'رب نے کہا' کا راست بیان، دوسرے میں passive voice ہو گیا!

تو قرأت کے اِسرار کھولے گئے تھے
... قرات کے اسرار سمجھ نہیں سکا

یہ بارِ نبوت بَڑی شان سے پھر اُٹھایا
... فاعل کا نام تو لو!

نبوت سے ظلمت جَہاں کی مٹائی
ہدایت کا رستہ سبھی کو بَتایا
اُُجالے دلوں میں جو ہونے لگے تھے
صَحابہ محمد پہ مرنے لگے تھے
... یہ مصرع غیر متعلق لگتا ہے

کسی کی تھی نسبت جناب ِاویسی،
تو روحِ بلالی کسی نے تھی پائی
کہیں جستجو کو جو سلمان فارس سے نکلے
جو آوازہ "حیّ علی خیر " کا پھر اُٹھا تھا
تو "اللہ اکبر" کی گونجیں صَدائیں،
تَیقُّن سے سینے منور ہوئے تھے*
گرفتار اندیشوں میں سارے دشمن
.. اندیشوں کی وں کا اسقاط اچھا نہیں، 'گرفتار اندیشہ تھے تھے سارے دشمن' کیا جا سکتا ہے

مظالم تبھی مسلمانوں پہ ہونے لگے بے تحاشا
مسلمانوں کا تلفط غلط باندھا گیا ہے
مظالم تبھی مومنوں پر ہوئے بے تحاشا

تو مکّہ سے ہجرت بھی کرنی پڑی تھی
خطرناک کفّار کے جب ارادے ہوئے تھے
گَھروں سے تَہّییہ یہ کرکے وہ نکلے
... تہیہ یہ.. میں تنافر کی کیفیت ہے

کہ اس شمعِ ایمان کو وہ بجھا دیں
یَقیں کی جو طاقت سے انجان تھے وُہ
.. درست گرامر نہیں، 'جو' نکال دو یا 'اس سے' کا اضافہ کر دو

رَمّی وہ محمد کی تھی، وہ رَمّی تھی خدا کی
.... کس واقعے کی طرف اشارہ ہے؟

تو قدرت خدا کی کہ اندھے ہُوئے سب،
مدینہ کی جانب روانہ ہوئے تھے
... کون؟


*چراغِ اَلوہی بجھایا نہ جائے گا، یہ فیصلہ تو ازل سے رقم تھا
... الوہی لام ساکن واو مفتوح، یہاں الٰہی کی طرح باندھا گیا ہے، الٰہی ہی کر دو!

کہ قندیلِ طاہر سے سارے جہانوں، زمانوں نے روشن ہے ہونا
... 'نے روشن ہونا ہے' درست اردو نہیں، 'پنجابی اردو' ہے
طاہر کی طہارت کس سلسلے میں؟ قندیل نبوت وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو بات دوسری ہے.

یَہودو نَصارٰی مقابل ہوئے جب
تو کُفّار کو چین پھر کیسے آتا
...یہ بھی واقعے کے خلاف ہے۔ پہلے تو کفار کی ہی پلاننگ ہوتی تھی!

مُقابل لَشاکر یہ سارے ہوئے تھے

.بَدر میں، احد میں شجاعت، دلیری،
... بدر کا تلفظ؟ یہ مصرع اگلے مصرعے کے بغیر بیکار ہے۔ ان کو ملا دو
فَتوحات کے جھنڈے گاڑے گئے تھے
وہ فتحِ مبیں اور کعبے سے بت سب اکھاڑے گئے تھے
....ان دونوں میں تعلق کے لئے کچھ الفاظ..

رسالت، نبوت، نیابت کی تکمیل ہوئی تھی
... تکمیل کا لام ہوئی کی ہ سے وصال نہیں کر سکتا

مقامات درجہ بہ درجہ یہ طے جو ہوئے تھے
تو طٰہ، وہ یٰسین، حم کہہ کے پُکارے گئے تھے *
... مقطعات کی صرف ایک قسم کی تفسیر، اس پر اتفاق نہیں کہ ان الفاظ سے آپ ص کو ہی پکارا گیا ہے

مقاماتِ بشری کے یہ استَعارے،
... بشری کا تلفظ، جیسا اوپر میں نے غلطی بتائی ہے

یہی راز ہیں معرفت کےتو سارے

وہ شب قدر میں اوجِ بشری
شب قدر بغیر اضافت مہمل ہے، بشری کا تلفظ،؟

سرِ لا مکاں سے طَلب جب ہُوئی تھی
سوئے منتَہی کو چلے سرورِ انبیاء تھے
... یہ تو توارد ہو گیا نا! صابری برادران کی قوالی سے!

ستارے حَیا سے حجاباتِ شب میں
منور، مطہر محمد کی سیرت
... نا مکمل مصرعے ہیں اوپر کے دونوں

تصور میں کیسے سمائے وہ صورت
فَرشتے تبِ و تاب اس حسن کی لا نہ پائے
جو جس حال میں تھا، اُسی حال میں مر مٹا تھا
تحیر کی ساعت سے کیسے نکلتا کوئی پھر
حبیبِ خُدا پھر اَکیلے روانہ ہوئے تھے
.... فرشتے حسن نبی کی تاب نہ لا کر سفر معراج پر ساتھ نہ جا پائے! ہ بات واقعے کے خلاف ہے

وہ دن تھا بھی کتنا سُہانا
یہ" ثُمَّّ دَنَا" سے کہیں آگے سفر تھا*
.. مصرع بحر سے خارج ہے

خطِ حد سے کم فاصَلہ تھا
ہیں "ما زاغ" چشمِ کرم ،یہ شَہادت خُدا کی
نِگاہیں مطہر تھیں، دل بھی نَمازی
وہ معراج، "صلّ عَلی "کی صدائیں *
وہ اسرٰی کی شب اور اقصٰی کی مسجد
رَموزِ حَقیقت عَیاں سب ہوئے تھے
محبت میں سب انبیاء ہی کَھڑے تھے
امامت کو شاہِ رُسل جو کھَڑے تھے
صَبیحو منور یہی وہ ستارہ
... صبیح و منور؟

رُخِ زیبا جسطرف اسکا ہو جائے
.. بحر سے خارج

وُہ پاکیزہ، طاہر ہو جائے
... ہُجائے تقطیع غلط ہے

مرا دل اسی تارے سے جگمگا دے
سبھی تارے اسمِ محمد سے چمکے
... سبھی تارے.. ہیں تو چمکے نہیں 'چمکیں' کا محل ہے.۔
اسکی تو نوٹیفیکشن موصول ہی نہیں ہوئ. بڑی خوشی ہوئ آپ کی اصلاح دیکھ کے. میں اسکو ٹھیک کرتی ہوں. شکریہ محترم استاد
محبت ہے آپ کی
 

نور وجدان

لائبریرین
اک دو سوال محترم


* صبیح و منور میں "و " کو ساتھ ملایا جا سکتا ہے؟ صبح و شام کو لکھتے میں ہم پڑھتے تو اسکو اسطرح ہیں * صبحو شام

*قوالی والے مصارعے بے ساختہ آگئے، اور ان کو استعمال کرسکتے ہیں یا بدل ڈالوں؟


جو لاسٹ والا مصرعہ ہے

*سبھی تارے .... چمکے

اس میں ماضی کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ان کے نام کی بدولت سب تاروں نے چمک پائے ... ماضی میں چمکے نہیں آئے گا؟

*ثما یہ فعلن ہے یا فعل؟ ثم تشدید ہے تو فعلن کے وزن پہ نہیں ہوگا؟


معراج بشری ..بشری کا تلفظ تو غلط ہوگیا ..بُشرٰی بمعنی خوشخبری کے بھی تو لیا جا سکتا؟

* قرات کے اسرار

سورہ المزمل کی جانب اشارہ ہے کہ ترتیل سے پڑھنے کا

ورتل القران ترتیلا

پھر اک جگہ فرمایا
سنقرئک فلا تنسی

(ہم تمھیں) قران پڑھا دیں گے /( ہم تمھیں) قرات سے پڑھا دیں گے او(آپ) نہیں بھولو گے
سورہ الاعلی
پارہ نمبر تیس
سورة القيامة, آیات: ۱۸

فَإِذَا قَرَأْنَٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥ

جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم (اس کو سنا کرو اور) پھر اسی طرح پڑھا کرو



سورة القيامة, آیات: ۱۶

لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ

اور (اے محمدﷺ) وحی کے پڑھنے کے لئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اس کو جلد یاد کرلو




اسطرح پڑھنے سے قران پاک کو حفظ کرنے کی ضرورت نہیں خود حفظ ہو جائے گا ... یہ حوالہ تھا قرات کے اسرار کا
 

نور وجدان

لائبریرین
رَمّی وہ محمد کی تھی، وہ رَمّی تھی خدا کی
.... کس واقعے کی طرف اشارہ ہے؟

سورہ الانفال
آیتہ نمبر ۱۷

فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاء حَسَناً إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
چنانچہ (مسلمانو ! حقیقت میں ) تم نے ان (کافروں کو) قتل نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں اﷲ نے قتل کیا تھا، اور (اے پیغمبر !) جب تم نے ان پر (مٹی) پھینکی تھی تو وہ تم نے نہیں ، بلکہ اﷲ نے پھینکی تھی، اور (تمہارے ہاتھوں یہ کام اس لئے کرایا تھا) تاکہ اس کے ذریعے اﷲ مومنوں کو بہترین اَجر عطا کرے۔ بیشک اﷲ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے


جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہجرت کو روانہ ہونے لگے تو کفار غلط ارادے سے نکلے تھے محاصرہ کیا ہوا تھا تب اللہ تبارک وتعالی بے فرمایا تھا کہ یہ مٹھی بھر کنکریاں یا مٹی ہے ان پر پھینکو ...
 

الف عین

لائبریرین
* صبیح و منور میں "و " کو ساتھ ملایا جا سکتا ہے؟ صبح و شام کو لکھتے میں ہم پڑھتے تو اسکو اسطرح ہیں * صبحو شام
... صبح و منور تو کوئی ترکیب نہیں، صبحِ منور ہو سکتا ہے مگر یہ ترکیب کہاں ہے؟ میں نے دلو جاں پر اعتراض کیا تھا کہ 'دل و جاں' ہے تو درست لیکن 'دلو جاں' ہے تو اللہ جانے. کیا لفظ ہے؟

*قوالی والے مصارعے بے ساختہ آگئے، اور ان کو استعمال کرسکتے ہیں یا بدل ڈالوں؟
....؟ بات سمجھ نہیں سکا

جو لاسٹ والا مصرعہ ہے

*سبھی تارے .... چمکے
.. تمنائی کا صیغہ لگتا ہے اس لئے مشورہ دیا تھا کہ 'چمکیں' ہونا چاہیے، ماضی ہی ہے تو چمکے درست ہے

معراج بشری ..بشری کا تلفظ تو غلط ہوگیا ..بُشرٰی بمعنی خوشخبری کے بھی تو لیا جا سکتا؟
.... اس صورت میں بھی ش پر تشدید ہونی چاہیے

ثما؟ کہاں تھا؟ مجھے تو نہیں ملا

قرات کے اسرار سے ہر شخص تو یہ نہیں سمجھ سکتا تھا نا، مجھے بھی یہ سب معلوم ہے لیکن میرا دھیان بھی اس طرف نہیں گیا!

رمی حج کے رکن کے طور پر مشہور ہے، اس سے نبی کریم کے مٹی پھینکنے سے مراد لینا درست نہیں
 

نور وجدان

لائبریرین
طویل ترین نظم درست نہ ہو سکی تھی. اب اسکو حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں اور پھر آپ کی اصلاح کو اپلائی کروں گی. زبان و بیان کے سقم کیساتھ اس میں مطلوبہ معلومات کی کمی ہے جس سے ابلاغ میں کمی واقع ہوتی ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کا ستارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصہ اول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دولت ہے علمُ البَیاں کی*
قَلم نعمتِ رب ہے، آیت بہ آیت چلا سلسلہ ہے
حِرا میں ہُوئی ابتَدا، اور سدرہ پہ معراجِ بشری
شُروعات "اقرا " کی سوغات سے کی گئی ہے

خدا کے محبوب، عالم کی.رحمت
حرا میں مراقب ہوئے جب
فَریضہ نبوت کا سونپا گیا تھا
فَرشتہ وَحی لے کے آیا،
" نَہیں جانَتا میں " کی تکرار کرتے رہے تھے
وہ دو قلب یوں پھر ملائے گئے تھے
کہ نورانی مصحف اُتارے گَئے تھے
خَشیت سے جسمِ مبارک تھا کانپا
خدیجہ نے کملی سے اپنی تھا ڈھانپا
یہ پہلی وَحی کا اَثر تھا کہ اتنا
نَزولِ وَحی بعد میں رک گیا تھا
سکوں پھر دِلو جاں کا رخصت ہُوا تھا
یَکایک اَبر رحمَتوں کے تھے چھائے
کہ روحُ الاَمیں پھر وحی کو آئے *
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصہ دوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہا رب نے پھر " قُمْ فَأَنذِرْ"
طَریقِ عِبادت بَتایا گیا تھا
تو قرأت کے اِسرار کھولے گئے تھے
یہ بارِ نبوت بَڑی شان سے پھر اُٹھایا
نبوت سے ظلمت جَہاں کی مٹائی
ہدایت کا رستہ سبھی کو بَتایا
اُُجالے دلوں میں جو ہونے لگے تھے
صَحابہ محمد پہ مرنے لگے تھے
کسی کی تھی نسبت جناب ِاویسی،
تو روحِ بلالی کسی نے تھی پائی
کہیں جستجو کو جو سلمان فارس سے نکلے
جو آوازہ "حیّ علی خیر " کا پھر اُٹھا تھا
تو "اللہ اکبر" کی گونجیں صَدائیں،
تَیقُّن سے سینے منور ہوئے تھے*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصہ سوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرفتار اندیشوں میں سارے دشمن
مظالم تبھی مسلمانوں پہ ہونے لگے بے تحاشا
تو مکّہ سے ہجرت بھی کرنی پڑی تھی
خطرناک کفّار کے جب ارادے ہوئے تھے
گَھروں سے تَہّییہ یہ کرکے وہ نکلے
کہ اس شمعِ ایمان کو وہ بجھا دیں
یَقیں کی جو طاقت سے انجان تھے وُہ
رَمّی وہ محمد کی تھی، وہ رَمّی تھی خدا کی
تو قدرت خدا کی کہ اندھے ہُوئے سب،
مدینہ کی جانب روانہ ہوئے تھے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصہ چہارم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


*چراغِ اَلوہی بجھایا نہ جائے گا، یہ فیصلہ تو ازل سے رقم تھا
کہ قندیلِ طاہر سے سارے جہانوں، زمانوں نے روشن ہے ہونا

یَہودو نَصارٰی مقابل ہوئے جب
تو کُفّار کو چین پھر کیسے آتا
مُقابل لَشاکر یہ سارے ہوئے تھے
.بَدر میں، احد میں شجاعت، دلیری،
فَتوحات کے جھنڈے گاڑے گئے تھے
وہ فتحِ مبیں اور کعبے سے بت سب اکھاڑے گئے تھے
رسالت، نبوت، نیابت کی تکمیل ہوئی تھی
مقامات درجہ بہ درجہ یہ طے جو ہوئے تھے
تو طٰہ، وہ یٰسین، حم کہہ کے پُکارے گئے تھے *
مقاماتِ بشری کے یہ استَعارے،
یہی راز ہیں معرفت کےتو سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حصہ پنجم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شب قدر میں اوجِ بشری
سرِ لا مکاں سے طَلب جب ہُوئی تھی
سوئے منتَہی کو چلے سرورِ انبیاء تھے
ستارے حَیا سے حجاباتِ شب میں
منور، مطہر محمد کی سیرت
تصور میں کیسے سمائے وہ صورت
فَرشتے تبِ و تاب اس حسن کی لا نہ پائے
جو جس حال میں تھا، اُسی حال میں مر مٹا تھا
تحیر کی ساعت سے کیسے نکلتا کوئی پھر
حبیبِ خُدا پھر اَکیلے روانہ ہوئے تھے
وہ دن تھا بھی کتنا سُہانا
یہ" ثُمَّّ دَنَا" سے کہیں آگے سفر تھا*
خطِ حد سے کم فاصَلہ تھا
ہیں "ما زاغ" چشمِ کرم ،یہ شَہادت خُدا کی
نِگاہیں مطہر تھیں، دل بھی نَمازی
وہ معراج، "صلّ عَلی "کی صدائیں *
وہ اسرٰی کی شب اور اقصٰی کی مسجد
رَموزِ حَقیقت عَیاں سب ہوئے تھے
محبت میں سب انبیاء ہی کَھڑے تھے
امامت کو شاہِ رُسل جو کھَڑے تھے
صَبیحو منور یہی وہ ستارہ
رُخِ زیبا جسطرف اسکا ہو جائے
وُہ پاکیزہ، طاہر ہو جائے
مرا دل اسی تارے سے جگمگا دے
سبھی تارے اسمِ محمد سے چمکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اب سیکشنز کے لحاظ اس نظم کو درست کروں گی
 

نور وجدان

لائبریرین
محترم الف عین سر

ایک سوال پوچھنا ہے
فعولن فعولن کی تکرار میں مصرعے کا آخری رکن فعو/فَ کیا جاسکتا ہے؟ فعول /فع کرنے کی اجازت بھی ہے؟

ایک مثال

۔۔ ۔۔ ۔۔ اور سدرہ پہ معراجِ انسا/نی

نی " زائد ہے مصرعے میں ایسی صورت میں رکھنا جائز ہے؟
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
حصہ اول


یہ دولت ہے علمُ البَیاں کی*،
قَلم نعمتِ رب ہے، آیت بہ آیت چلا سلسلہ ہے،
حِرا میں ہُوئی ابتَدا، اور سدرہ پہ معراج ِِ انسانی



شُروعات "اقراء " کی سوغات سے کی گئی تھی،
خدا کے وہ محبوب پیارے،
تکلّم میں شیریں، بیاں میں حلاوت لیے،
وہ سیرت میں کامل، شجاعت کا پیکر،
سخاوت میں ثانی نہیں کوئی ان کا،
مصور کا شہکار، کیا خوب خالق کا اظہار ہیں،
چراغِ محبت سے تقسیم کرتے رہے تھے،
جہاں پر رِدا ان کی رحمت کی چھائی،
حِرا میں مراقب ہوئے جب،
ثنائے خدا میں رہے تب،
فرشتہ لیے وحی آیا،
خدا نے فَریضہ نبوت کا سونپا،
وہ تکرار" امّی" کی کرتے رہے تھے،
اسی میں وہ لمحات گزرے،
وہ دو قلب یوں پھر ملائے گئے تھے،
کہ نورانی مصحف اُتارے گَئے تھے،
نہ تابِ خشیت، نہ تابِ وِصالت،
اسی حال میں گھر کو لوٹے،
خَشیت سے جسمِ مبارک تھا کانپا،
خدیجہ نے کملی سے اپنی تھا ڈھانپا،
لَقب "کملی والے "کا پایا،
وہ عالی خدیجہ بڑی رحمتوں، شان والی،
نَہیں زوجہ ان جیسی عالی،
دلاسے سے جن کے تَسّلی ہوئی تھی،
تفّکر میں راتیں بسر کیں،
پیامِ الوہی رسالت، نبوت کی تکمیل کا تھا
شناسائی کا مرحلہ، ابتدائے سفر تھا،
یہ تھی وحی پہلی،
اثر جس کا تھا اتنا،
نزولِ قُراں رک گیا تھا،
سکوں آپ کا گویا رخصت ہوا تھا،
کسی طور وہ سلسلہ پھر ہو جاری
مجسم دعا میں وہ پیکر مبارک
توّقف کے اس عرصہ میں آزمایا گیا تھا
مہینوں گُزرتے رہے تھے،
یَکایک اَبر رحمَتوں کے تھے چھائے
کہ روحُ الاَمیں وحی پھر سے تھے لائے
 

الف عین

لائبریرین
محترم الف عین سر

ایک سوال پوچھنا ہے
فعولن فعولن کی تکرار میں مصرعے کا آخری رکن فعو/فَ کیا جاسکتا ہے؟ فعول /فع کرنے کی اجازت بھی ہے؟

ایک مثال

۔۔ ۔۔ ۔۔ اور سدرہ پہ معراجِ انسا/نی

نی " زائد ہے مصرعے میں ایسی صورت میں رکھنا جائز ہے؟
کیا جا سکتا ہے ایسا، اگر نا گوار نہ لگے
 

نور وجدان

لائبریرین
حصہ اول


یہ دولت ہے علمُ البَیاں کی*،
قَلم نعمتِ رب ہے، آیت بہ آیت چلا سلسلہ ہے،
حِرا میں ہُوئی ابتَدا، اور سدرہ پہ معراج ِِ انسانی



شُروعات "اقراء " کی سوغات سے کی گئی تھی،
خدا کے وہ محبوب پیارے،
تکلّم میں شیریں، بیاں میں حلاوت لیے ہیں،
وہ سیرت میں کامل، شجاعت کا پیکر،
سخاوت میں ثانی نہیں کوئی ان کا،

مصور کا شہکار، کیا خوب خالق کا اظہار ہیں، اور دنیا میں ان کی وجہ سے ہے رحمت،

چراغِ محبت سے تقسیم کرتے رہے تھے،
جہاں پر رِدا ان کی رحمت کی چھائی،
حِرا میں مراقب ہوئے جب،
ثنائے خدا میں رہے تب،
فرشتہ لیے وحی آیا،
خدا نے فَریضہ نبوت کا سونپا،
وہ تکرار" امّی" کی کرتے رہے تھے،
اسی میں وہ لمحات گزرے،
وہ دو قلب یوں پھر ملائے گئے تھے،
کہ نورانی مصحف اُتارے گَئے تھے،
نہ تابِ خشیت، نہ تابِ وِصالت،
اسی حال میں گھر کو لوٹے،
خَشیت سے جسمِ مبارک تھا کانپا،
خدیجہ نے کملی سے اپنی تھا ڈھانپا،
لَقب "کملی والے "کا پایا،
وہ عالی خدیجہ بڑی رحمتوں، شان والی،
نَہیں زوجہ ان جیسی عالی،
دلاسے سے جن کے تَسّلی ہوئی تھی،
تفّکر میں راتیں بسر کیں،
پیامِ الوہی رسالت، نبوت کی تکمیل کا تھا
شناسائی کا مرحلہ، ابتدائے سفر تھا،
یہ تھی وحی پہلی،
اثر جس کا تھا اتنا،
نزولِ قُراں رک گیا تھا،
سکوں آپ کا گویا رخصت ہوا تھا،
کسی طور وہ سلسلہ پھر ہو جاری
مجسم دعا میں وہ پیکر مبارک
توّقف کے اس عرصہ میں آزمایا گیا تھا
مہینوں گُزرتے رہے تھے،
یَکایک اَبر رحمَتوں کے تھے چھائے
کہ روحُ الاَمیں وحی پھر سے تھے لائے
سر
یہ درست ہے؟
 
Top