1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

ساقی نامہ

علی بابا نے 'اقبالیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 7, 2006

  1. علی بابا

    علی بابا محفلین

    مراسلے:
    23
    ہؤا خیمہ زن کاروانِ بہار ---- ارم بن گیا دامنِ کوہسار
    گل و نرگس و سوسن و نسترن ---- شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن
    جہاں چھپ گیا پردہء رنگ میں ---- لہوکی ہے گردش رگِ سنگ میں
    فضا نیلی نیلی ، ہوا میں‌سرور ---- ٹھہرتے نہیں‌آشیاں‌میں‌طیور
    وہ جوئے کہستاں‌اچکتی ہوئی ---- اٹکتی، لچکتی، سرکتی ہوئی
    اچھلتی، پھسلتی، سنبھلتی ہوئی ---- بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی
    رکے جب تو سِل چیر دیتی ہے یہ ---- پہاڑوں‌کے دل چیر دیتی ہے یہ
    ذرا دیکھ اے ساقئ لالہ فام ---- سناتی ہے یہ زندگی کا پیام
    پلادے مجھے وہ مئے پردہ سوز ---- کہ آتی نہیں‌فصلِ گل روز روز
    وہ مے جس سے روشن ضمیرِ حیات ---- وہ مے جس سے ہے مستئ کائنات
    وہ مے جس میں‌ہے سوز و سازِ ازل ---- وہ مے جس سے کھلتا ہے رازِ ازلٔٔ
    اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
    لڑا دے ممومے کو شہباز سے

    زمانے کے انداز بدلے گئے ---- نیا راگ ہے ساز بدلے گئے
    ہؤا اس طرح‌فاش رازِ فرنگ ---- کہ حیرت میں‌ہے شیشہ بازِ فرنگ
    پرانی سیاست گری خوار ہے ---- زمیں‌میر و سلطاں‌سے بیزار ہے
    گیا دورِ سرمایہ داری گیا ---- تماشا دکھا کار مداری گیا
    گراں‌خواب چینی سنبھلنے لگے ---- ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
    دلِ طورِ سینا و فارا‌ں دو نیم ---- تجلی کا پھر منتظر ہے کلیم
    مسلماں‌ہے توحید میں‌گرم جوش ---- مگر دل ابھی تک ہے زنار پوش
    تمدن، تصوف، شریعت، کلام ---- بتانِ عجم کے پجاری تمام
    حقیقت خرافات میں‌کھو گئی ---- یہ امت خرافات میں کھو گئی
    لبھاتا ہے دل کو کلامِ‌ خطیب ---- مگر لذتِ شوق سے بے نصیب
    بیا‌اس کا منطق سے سلجھا ہؤا ---- لغت کے بکھیڑوں میں‌الجھا ہؤا
    وہ صوفی کہ تھا خدمتِ حق میں‌مرد ---- محبت میں‌یکتا حمیت میں‌فرد
    عجم کے خیالات میں‌کھو گیا ---- یہ سالک مقامات میں‌کھو گیا
    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
    مسلماں‌نہیں‌راکھ کا ڈھیر ہے

    شرابِ کہن پھر پلا ساقیا ---- وہی جام گردش میں‌لا ساقیا
    مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا ---- مری خاک جگنو بنا کر اڑا
    خرد کو غلامی سے آزاد کر ---- جوانوں‌کو پیروں‌کا استاد کر
    ہری شاخِ ملت ترے نم سے ہے ---- نفس اس بدن میں‌ترے دم سے ہے
    تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے ---- دلِ مرتضٰی سوزِ صدیق دے
    جگر سے وہی تیر پھر پار کر ---- تمنا کو سینوں‌میں‌بیدار کر
    ترے آسمانوں کے تاروں‌کی خیر ---- زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر
    جوانوں‌کو سوز جگر بخش دے ---- مرا عشق میری نظر بخش دے
    مری ناؤ گرداب سے پار کر ---- یہ ثابت ہے تو اس کو سیّار کر
    بتا مجھ کو اسرارِ مرگ و حیات ---- کہ تیری نگاہوںمیں‌ہے کائنات
    مرے دیدہء تر کی بے خوابیاں ---- مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں
    مرے نالہء نیم شب کا نیاز ---- مری خلوت و انجمن کا گداز
    امنگیں مری آرزوئیں مری ---- امیدیں مری جستجوئیں مری
    مری فطرت آیئنہء روزگار ---- غزالانِ افکار کا مرغزار
    مرا دل مری رزم گاہِ حیات ---- گمانوں کے لشکر یقیں‌کا ثبات
    یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر ---- اسی سے فقیری میں‌ہوں‌میںامیر
    مرے قافلے میں‌لٹادے اسے
    لٹادے ٹھکانے لگادے اسے

    دمادم رواں‌ہے یمِ زندگی ---- ہر اک شے سے پیدا رمِ‌ زندگی
    اسی سے ہوئی ہے بدن کی نمود ---- کہ شعلے میں‌پوشیدہ ہے موجِ دود
    گراں گرچہ ہے صحبتِ آب و گِل ---- خوش آئی اسے محنتِ آب و گِل
    یہ ثابت بھی ہے اور سیّار بھی ---- عناصر کے پھندو‌ں‌سے بیزار بھی
    یہ وحدت ہے کثرت میں‌ہر دم اسیر ---- مگر ہی کہیں‌بے چگوں، بے نظیر
    یہ عالم، یہ بت خانہء شش جہات ---- اسی نے تراشا ہے یہ سومنات
    پسند اس کو تکرار کی خو نہیں ---- کہ تو میں‌نہیں، اور میں‌تو نہیں
    من و تو سے ہے انجمن آفریں ---- مگر عین محفل میں‌خلوت نشیں
    چمک اس کی بجلی میں‌تارے میں‌ہے ---- یہ چاندی میں، سونے میں، پارے میں‌ہے
    اسی کے بیاباں، اسی کے ببُول ---- اسی کے ہیں‌کانٹے، اسی کے ہیں‌پھول
    کہیں‌اس کی طاقت سے کہسار چُور ---- کہیں‌اس کے پھندے میں‌جبریل و حور
    کہیں‌ جرّہ شاہیں سیماب رنگ ---- لہو سے چکوروں‌کے آلودہ چنگ
    کبوتر کہیں‌آشیانے سے دور
    پھڑکتا ہؤا جال میں‌ناصبور
     

اس صفحے کی تشہیر