سائنس اور مذہب کے اس ٹکراؤ پر آپکی رائے؟

مہوش علی نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 16, 2014

ٹیگ:
  1. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    531
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    اب آخری اعتراض کہ جو ابتدا میں وارد کیا گیا کہ کیا کسی بھی مخلوق کا اپنی عام طبعی عمر سے کہیں زیادہ زندہ رہنا ممکن ہے اسکا جواب بھی ہم سائنس میں ڈھونڈھتے ہیں .

    What we're talking about here is "biological immortality", although many biologists would probably rather we didn't use the phrase.

    Biologically immortal organisms do die, but they don't seem to age
    "Immortal really means you don't die at all, which is stupid," saysThomas Bosch at the University of Kiel, Germany.

    Paradoxical though it might seem, biologically immortal organisms are definitely mortal. They can be killed by a predator, a disease, or a catastrophic change in the environment such as an erupting volcano. But unlike humans, they rarely die simply because they get old.
    To put it another way, biologically immortal organisms do die, but they don't seem to age. They're basically the exact opposite of Tithonus.
    [​IMG]

    A Rocky Mountain bristlecone pine (Pinus aristata) (Credit: David Welling/NPL)

    The bristlecone pine is a good example. Some of these North American trees are astonishingly old. They began growing 5000 years ago: about the time the real city of Troy was founded in what is now Turkey.

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    معذرت راہی برادر، میں نیٹ کی دنیا سے تقریباً کٹ چکی ہوں اس لیے آپکے پیغام کا جواب وقت پر نہیں دے پائی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    نہیں جناب! یہ اصول غلط قرار پائے گا۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 4, 2016
  4. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ، اور مسلمان کو عیسائیوں کا سہارا
    حسیب صاحب نے اوپر جو آرٹیکل کاپی پیسٹ فرمایا ہے، وہ بذاتِ خود کسی سائنٹسٹ کا لکھا ہوا نہیں ہے جو کہ نیندرتھال پر تحقیق کر رہا ہو۔ بلکہ یہ آرٹیکل ایک عیسائی ویب سائیٹ پر موجود ہے جسکا نام ہے Institute for Creation Research
    چنانچہ یہ کوئی سائنسی تحقیقی ادارہ نہیں، بلکہ یہ یہاں اس لیے بیٹھا ہے تاکہ بائیبل پر اٹھتے تمام سائنسی اعتراضات کا کسی نہ کسی بہانے دفاع کرے۔
    یہ آرٹیکل لکھنے والا کوئی سائنٹسٹ نہیں بلکہ کوئی عیسائی پادری معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس نے انجانے میں خود ہی evolution کو ثابت کر دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ نیندرتھال میں جو جسمانی تبدیلیاں ہیں، (چھوٹے ہاتھ اور پاؤں بہ نسبت باڈی کے) تو یہ جسمانی تبدیلیاں سرد علاقوں میں رہنے کی وجہ سے پید اہوئی ہیں۔ تو جناب یہ ہی تو ارتقاء ہے جس کا انکار ہر مذہبی شخص بطور فریضہ کرنے لگ گیا ہے۔

    جرمنی کے ماکس پلانک ادارے کی تحقیق اور A high-quality Neandertal genome sequence


    ان عیسائی مشنری ویب سائیٹ کے استعمال کی جگہ کسی سائنسی ادارے کی تحقیق کو پڑھنا چاہیے اور سوچنا سمجھنا چاہیے۔
    میں نے پہلے ہی اس تھریڈ میں جرمنی کے ماکس پلانک ادارے کا لنک شیئر کر دیا تھا جو کہ نیندرتھال پر تحقیق کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے اور انہوں نے 2010 میں نیندرتھال کے ڈی این اے کی 'سیکوئنسگ' کر کے مذہبی طبقات کی طرف سے اٹھائے گئے سارے شبہات رفع کر دیے ہیں اور ڈی این اے کی بنیاد پر ثابت کر دیا ہے کہ انسان اور نیندرتھال دو علیحدہ نوع (سپیشیز) ہیں۔
    اسکی وجہ یہ ہے کہ ڈی این اے کے فرق کی وجہ سے بچہ صرف اس صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جبکہ مرد انسان اور نیندرتھال عورت آپ میں سیکس کریں۔ لیکن اگر مرد نیندرتھال ہے اور عورت انسان، تو پھر بچہ پیدا نہیں ہو گا۔

    میری رائے میں اسکے بعد نیندرتھال کے متعلق تمام تر اشکال دور ہو چکے ہیں، انکی نوع کی درجہ بندی ہو چکی ہے جو کہ انسان کی نوع سے علیحدہ ہے۔

    کیا کسی مسلمان عالم یا مسلمان سائنٹسٹ میں ہمت ہے کہ وہ ماکس پلانک ادارے کی اس تحقیق کے متعلق کوئی شک کر سکے، کوئی ثبوت لا سکے؟ نہیں، ایسا ممکن نہیں ہے۔ مسلمانوں کو چھوڑیں، انکے بڑے بھائی عیسائی بھی اس معامالےمیں کوئی بھی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ عیسائی ویب سائیٹ والے فقط 1990 کی دھائی تک کی تحقیق کو توڑ مڑوڑ کر اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کوئی 2010 کے بعد ماکس پلانک ادارے کی تحقیق کا جواب نہیں دیتا۔
     
  5. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    معذرت! لیکن حسیب صاحب آپ کو خود اندازہ نہیں ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔
    آپ نے جو آرٹیکل یہاں کاپی پیسٹ فرمایا ہے، وہ آپ کے مؤقف کو نہیں، بلکہ 100٪ "ارتقاء" کو ثابت کر رہا ہے کہ پہلے زمین پر ڈینوسار موجود تھے۔ پھر انکا سائز گھٹتا گیا اور وہ پرندوں میں تبدیل ہو گئے۔

    ارتقاء کے اس عمل میں کڑوڑوں سال لگتے ہیں۔

    دوسری طرف اسلام کا دعویٰ یہ ہے کہ حضرت محمد (ص) سے پہلے (یعنی 1400 سال قبل) کے انسانوں کے قد لمبے تھے۔
    لیکن سائنس نے اس دعوے کا مکمل رد کیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں انسانی ڈھانچے موجود ہیں جو کہ 1400 سال سے پرانے ہیں، لیکن ان سب کے قد آج کے انسان کے برابر ہی ہیں۔
    تمام تفصیلات میں پہلے اسی تھریڈ میں بیان کر چکی ہوں۔ آپ رامسیس دوم کے متعلق وہاں پڑھ لیجئے۔
     
  6. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    531
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    معاملہ یہ ہے کہ اگر کسی کے ذہن میں موجود اشکالات اسے دلیل معلوم ہوں اور وہ انکی روشنی میں بدیھات کا انکار شروع کر دے تو اس سے حقائق تبدیل نہیں ہو جاتے .
     
  7. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    531
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    محترمہ پہلی بات تو یہ کہ یہاں ارتقاء کے حوالے سے سوال اٹھایا ہی نہیں گیا دوسری بات اگر آپ کا نظریہ درست تسلیم کر لیا جاوے تو انسان اور نیندرتھل ایک دور میں موجود ہی نہ تھے ...

    اب یہاں آپ کی پوری بحث ہی غلط ثابت ہو جاتی ہے کیونکہ اگر آپ کے مطابق نیندرتھال انسان تھے ہی نہیں تو مذہب نے یہ دعویٰ کیا ہی کب ہے کہ انسان اس دنیا میں آنے والی سب سے پہلی مخلوق تھا ...

    سو پہلے اپنے بنیادی مقدمے پر نظر ثانی کیجئے کہ آپ کو آخر تلاش کس جواب کی ہے ....
     
  8. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    531
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    محترمہ جوابی سوال اٹھانے کا مقصود ہی یہ ہے کہ اگر آپ ارتقاء کو تسلیم کرتی ہیں تو انسانی قد کے گھٹنے یا بڑھنے پر آپ کو سائنسی اعتبار سے کوئی اعتراض ہونا ہی نہیں چاہئیے ...

    دوسری جانب مختلف ہیبی (habitats) میں ارتقائی عمل کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں سو عین ممکن ہے کہ کسی ایک علاقے میں انسانی ہیت پر وہ اثرات مرتب نہ ہوے ہوں جو کسی دوسرے علاقے میں ہوئے ہوں ..

    دوسری طرف کیا ان عظیم الجثہ انسانوں کے ڈھانچوں کا نہ ملنا اس بات کی دلیل ہو سکتا ہے کہ وہ موجود ہی نہ تھے .......

    اب اس چارٹ کو دیکھئے کیا اس ارتقائی عمل میں شامل انسان کی بدلتی ہوئی کیفیت و اشکال کے تمام ظاہری ثبوت آپ کے پاس موجود ہیں یہ صرف کڑیاں ملائی گئی ہیں .



    [​IMG]
     
  9. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    شکریہ حسیب صاحب!
    میں آپ کے آخری تینوں مراسلوں کو بلا تبصرہ چھوڑتی ہوں۔
    والسلام۔
     
    • غمناک غمناک × 1
  10. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    حسیب صاحب! آپ نے میرے تبصرے پر غمناک کی سمائلی لگائی ہے۔
    آپ غمناک نہ ہوں۔
    آپ سے زیادہ غمناک میں ہوں اور اذیت میں ہوں۔
    یہ سوالات ایسے ہیں جو آپ سے زیادہ مجھے پریشان کر رہے ہوتے ہیں۔ میں انکے جوابات سوچنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اور پھر تھک ہار کر انہیں یونہی چھوڑ دیتی ہوں۔ اس حد کو پار کرنے کا مطلب ایمان سے مکمل ہاتھ دھو بیٹھنا ہے۔
    والسلام۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. ڈاکٹرعامر شہزاد

    ڈاکٹرعامر شہزاد معطل

    مراسلے:
    2,162
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    پورا دھاگہ پڑھنے کے بعد حاصل یہ ہوا کہ ہماری بہن اذیت میں ہیں ۔ دُعا ہے کہ اللہ آپ کے لیے آسانیاں فر مائے ۔
    جب ذہن کو فضول ترین سوالات کی آماجگاہ بنا لیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ یہ علم حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے تو اذیت تو بہت چھوٹا لفظ ہے ۔
    ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنا ۔ کس ایمان سے ؟؟ اللہ پہ ایمان سے ؟؟ یا سائنس پہ ایمان سے ؟؟ کیونکہ پورے دھاگے میں کہیں سے بھی یہ ثابت نہیں ہو رہا کہ آپ کا کسی ایک بھی چیز پہ پُختہ ایمان ہے ۔
     
    • متفق متفق × 1
  12. ٍفرحان گوہر

    ٍفرحان گوہر محفلین

    مراسلے:
    2
    ماشا اللہ میں بھی اس کی تلاش میں تھا اور اپکا پوسٹ میرے لیےکارآمدسابت ہوا، اپنے اپنی ہر بات دلائیلوں علموں روشنی سے پیش فرمائی میرا ادھا کام اپنے کردیاں بہت خوشی ہوئی کے دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تحقیق بھی کرتے ہیں، میرا سوال تمام مسلمانوں بھائیوں اور بہنوں کے لیے ہے جب اپکے عمان خراب نہیں ہوتے جب سورج اور زمین کے حوالے سے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے کے زمین گھومتی ہے سورج ساکن ہے جب کے قرآنِ پاک میں درج ہے کےچاند ہر سورج زمین کے گرد گردش کرتےہیں، فرق صرف اتنا ہے کے آج کے مولوی تحقیق نہیں کرتے جو بات انکوں سمجھ نہیں آتی تو کہتے ہیں کے عمان خراب ہوجائے گا کیوں کےریاضی کے حساب کتاب سے سابت کرنا ہوگا، انکو یہ نہیں پتا کے 2500 سال پہلے کے ارسطو افلاطون اور سقرات جیسے فلسفیریاضی کے حساب کتاب سے کہتے تھے کے زمین ساکن ہے، اگر اج بھی ایسے فلسفی ہوتے تو وہ قران پاک کی آیتوں کو جھٹلاتے نہیں بلکے ساری زندگی لگا دیتے چاہے انکوں اس علم کے لیے چین ہی کیوں نا جانا پڑھتا، کیوں اس حدیث پاک کے مطابق کیا چین میں اُس وقت دین کی تعلم سکھائی جاتی تھی؟بلکل نہیں، جو لوگ تحقیق نہیں کرتے اُلٹا اپنے بچوں کوغلت سائیس پڑھاتے ہیں وہ گمراہ ہیں اور قران پاک میں کہیں نہیں لکھا کے آدم سفی اللہ پہلے نبی ہیں نا حدیثوں میں موجود ہے اور مولیوں نے بغیرتحقیق بچوں کا عمان خراب کر رہے ہیں، علم صرف ایک ہوتا ہے علم نہ سائیس ہے نہ ریاضی وغیرہ وغیرہ، علم صرف علم ہےچاہے مذہبی ہوں یا دنیاویں سب کا مقصد ہے راستہ دکھانا۔

    آجائیں اب آدم ؑ کےموضوع پر، آدھی تحقیق اپکی اور آدھی نیچے وضاحت فرمان پھر آپکو کوئی غمناک اور اذیت نہیں ہوگی۔ ..... جزاک الله .....

    کتاب دینِ الہی سے


    سوچ تو ذرا۔ تُو کس آدم کی اولاد میں سے ہے!


    کچھ الہامی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس دنیا میں چودہ ہزار آدمؑ آچکے ہیں۔ اور کسی نے کہا ہے کہ آدم صفی اللہ چودھویں اور آخری آدم ہیں۔اس دنیا میں واقعی بہت سے آدم ہوئے ہیں۔ جب صفی اللہ کو مٹی سے بنایا جارہا تھا تو فرشتوں نے کہا تھا کہ یہ بھی دنیا میں جاکر دنگا فساد کرے گا۔ یعنی فرشتے پہلے والے آدموں کے حالات سے باخبر تھے، ورنہ انہیں کیا خبر کہ اللہ کیا بنارہا ہے اور یہ جاکر کیا کرے گا۔لوح محفوظ میں مختلف زبانیں، مختلف کلمے، مختلف جنتر منتر، مختلف اللہ کے نام، مختلف سورتیں حتیٰ کہ جادو کا عمل بھی درج ہے۔ جو کہ ہاروت، ماروت دو فرشتوں نے لوگوں کو سکھایا تھا۔ اور بطور سزا وہ دونوں فرشتے مصر کے ایک شہر بابل کے کنویں میں الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔

    ہر آدم کو کوئی زبان سکھائی ،پھر ان کی قوم میں نبیوں کو ہدایت کے لئے بھیجا ، تبھی کہتے ہیں کہ دنیا میں سوالاکھ نبی آئے ،جبکہ آدم صفی اللہ کو آئے ہوئے چھ ہزار سال ہوئے ہیں ۔اگر ہر سال ایک نبی آتا تو چھ ہزار ہی ہوتے ، کچھ عرصہ بعد ان اقوام کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے تباہ کیا،جیسا کہ آثار ِقدیمہ کے شہروں کا بعد میں نمودار ہونا ، اور وہاں کی لکھی ہوئی زبانوں کو کسی کا بھی نہ سمجھنا۔اور کسی قوم کو پانی کے ذریعہ غرق کیا۔ اور ان میں سے نوح طوفان کی طرح کچھ افراد اُن خطوں میںبچ بھی گئے۔

    آخر میں صفی اللہ کو اُن سب سے بہتر بنا کر عرب میں بھیجا گیا۔ اور بڑے بڑے نبی بھی اس آدم کی اولاد سے پیدا ہوئے۔ مختلف آدموں کی مختلف زبانیں اُن کی بچی ہوئی قوموں میں رہیں، جب آخری آدم آئے تو اُن کو سریانی زبان سکھائی گئی۔ جب آپ کی اولاد نے دور دراز کی سیاحت کی تو پہلے والی قوموں سے بھی ملاقات ہوئی، اور کسی نے اچھی جگہ یا سبزہ دیکھ کر اُن کے ساتھ ہی بود و باش اختیار کرلی۔

    عرب میں سریانی ہی بولی جاتی تھی پھر یہ اقوام کے میل جول سے عربی، فارسی، لاطینی، سنسکرت وغیرہ سے ہوتی ہوئی انگریزی سے جاملی، مختلف جزیروں میں مختلف آدموں کی اولاد مقیم تھی۔ ان میں سے ایک خانہ بدوش بھی آدم تھا، جس کی اولاد آج بھی موجود ہے اور جس کے ذریعہ مختلف قومیں دریافت ہوئیں۔

    سمندر پار کے جزیروں والی قومیں ایک دوسرے سے بے خبر تھیں، اتنے دور دراز سمندری سفر نہ تو گھوڑوں سے کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی چپو والی کشتیاں پہنچا سکتیں تھیں۔ کولمبس مشینی سمندری جہاز بنانے میں کامیاب ہوا۔جس کے ذریعہ وہ پہلا شخص تھا جو امریکا کے خطے کو پہنچا۔ کنارے پر لوگوں کو دیکھا جو سرخ تھے، اس نے سمجھا اور کہا شاید انڈیا(India) آگیا ہے ۔ اور وہ انڈین (Indian)ہیں۔ تبھی اس قوم کو (Red Indian) ریڈ انڈین کہتے ہیں جو نارتھ ڈکوٹا (North Dakota)کی ریاست میں اب بھی موجود ہیں۔


    ریڈ انڈین کے ایک قبیلے کے سردار سے پوچھا کہ آپ کا آدم کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہمارے مذہب کے مطابق ہمارا آدم ایشیا میں ہے، جس کی بیوی کا نام حوا ہے۔ لیکن ہماری تاریخ کے مطابق ہمارا آدم ساؤتھ ڈکوٹا (South Dakota) کی ایک پہاڑی سے آیا تھا، اُس پہاڑی کی نشان دہی اب بھی موجود ہے۔

    لوگ کہتے ہیں کہ انگریز اور امریکن ٹھنڈے موسم کی وجہ سے گورے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ کسی کالے آدم کی نسل بھی ان خطوں میں قدیمی موجود ہے۔ وہ آج تک گورے نہ ہو سکے یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے رنگ، حلیے، مزاج، دماغ، زبانیں، خوراک ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

    آدم صفی اللہ کی اولاد کا سلسلہ وسط ایشیا تک ہی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ وسط ایشیا والوں کے حلیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ آدم صفی اللہ ( شنکر جی )سری لنکا میں اترے، پھر وہاں سے عرب پہنچے۔ اور اس کے بعد آپ عرب میں ہی رہے، اور سرزمین ِعرب میں ہی آپ کی قبر موجود ہے، تو پھر سری لنکا میں آپ کے اترنے اور قدموں کی نشان دہی کس نے کی؟ جو ابھی تک محفوظ ہے۔ اس کا مقصد آپ سے پہلے ہی وہاں کوئی قبیلہ آباد تھا۔

    جو قومیں ختم کر دی گئی ہیں ان پر نبوت اور ولائت بھی ختم ہو گئی ۔ اور باقی ماندہ لوگ ان ہستیوں سے محروم ہو کر کچھ عرصہ بعد بھٹک گئے۔جو ں جوںیہ خطے دریافت ہوتے گئے ، ایشیا سے ولی پہنچتے گئے ،اور اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم دیتے رہے اور آج سب خطوں میں ایشیائی دین پھیل گیا۔ عیسیٰ ؑ یروشلم ،موسیٰ ؑ بیت المقدس ، حضور پاک مکہ ، جبکہ نوح ؑ اور ابراہیم ؑ کا تعلق بھی عرب سے ہی تھا

    کچھ نسلیں عذابوں سے تباہ ہوئیں ، کچھ کی شکلیں ریچھ،بندروں کی طرح ہوئیں ۔ کچھ رہے سہے لوگ خوف ذدہ ہو کر رب کی طرف مائل ہوئے ۔اور کچھ رب کو قہارسمجھ کر اس سے متنفر ہو گئے۔ اور اس کے کسی بھی قسم کے حکم کی نافرمانی کی اور کہنے لگے کہ’ رب وغیرہ کچھ بھی نہیں، انسان ایک کیڑہ ہے، دوزخ بہشت بنی بنائی باتیں ہیں‘۔ موسیٰؑ کے زمانے میں بھی جو قوم بندر بن گئی تھی انہوں نے یورپ کا رخ کیا تھا، اس وقت کی حاملہ ماؤں نے بعد میں بندریا ہونے کی صورت میں بھی جنم انسانی دیا تھا، وہ قوم اب بھی موجود ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم بندر کی اولاد میں سے ہیں۔

    جو قوم ریچھ کی شکل میں تبدیل ہوئی تھی، انہوں نے افریقہ کے جنگلوں کی طرف رخ کر لیا تھا ۔ اس وقت کی حاملہ ما ¶ں کے پیٹ میں تو انسانی بچے تھے، جن کے ذریعہ بعد میں نسل چلی (مم ) کہتے ہیں۔ جسم پر لمبے لمبے بال ہوتے ہیں۔ مادہ زیادہ ہوتی ہیں۔ انسانوں کو اٹھا کر لے بھی جاتی ہیں۔ ان پر مذہب کا رنگ نہیں چڑھتا، لیکن آدمیت کی وجہ سے شرم گاہوں کو پتوں کے ذریعہ چھپایا ہوا ہوتا ہے۔


    کسی اور آدم کو کسی غلطی کی وجہ سے ایک ہزار سال سزا ملی تھی۔ اسے سانپ کی شکل میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اب اس کی بچی ہوئی قوم جو ایک خاص قسم کے سانپ کے روپ میں ہے۔ جنم کے ہزار سال بعد انسان بھی بن جاتی ہے اسے روحا کہتے ہیں۔ تاریخ میں ہے، کہ ایک دن سکندر اعظم شکار کے لئے کسی جنگل سے گزرا، دیکھا کہ ایک خوب صورت عورت رو رہی ہے۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں چین کی شہزادی ہوں۔ اپنے شوہر کے ہمراہ شکار کو نکلے تھے، لیکن شوہر کو شیر کھا گیا۔ میں اب تنہا رہ گئی ہوں۔ سکندر نے کہا میرے ساتھ آؤ میں تمہیں واپس چین بھیجوادوں گا۔ عورت نے کہا شوہر تو مر گیا، میں اب واپس جاکر کیا منہ دکھاؤں گی، سکندر اسے گھر لے آیا، اور اس سے شادی کر لی۔

    کچھ مہینوں بعد سکندر کے پیٹ میں درد شروع ہو گیا۔ ہر قسم کا علاج کر ایا مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ درد بڑھتا گیا ، حکیم عاجز آگئے ایک سپیرا بھی سکندر کے علاج کے لئے آیا، اس نے سکندر کو علیحدہ بلوا کر کہا۔ میں آپ کا علاج کر سکتا ہوں لیکن میری کچھ شرطیں ہیں؟ اگر چند ہی دنوں میں میرے علاج سے شفا نہ ہوئی تو بے شک مجھے قتل کرادینا۔آج کی رات کھچڑی پکواؤ، نمک ذرا زیادہ ہو، دونوں میاں بیوی پیٹ بھر کر کھاؤ، کمرے کو اندر سے تالا لگاؤ، کہ دونوں میں سے کوئی باہر نہ جا سکے، تم کو سونا نہیں: لیکن بیوی کو ایسا لگے کہ تم سورہے ہو، پانی کا قطرہ بھی اندر موجود نہ ہو۔ سکندر نے ایسا ہی کیا۔ رات کے کسی وقت بیوی کو پیاس لگی، دیکھا پانی کا برتن خالی ہے، پھر دروازہ کھولنے کی کوشش کی : دیکھا، کہ تالا ہے۔ پھر شوہر کو دیکھا: محسوس ہوا کہ بے خبر سو رہا ہے، پھر سپنی بن کے نالی کے سوراخ سے باہر نکل گئی۔ پانی پی کر پھر سپنی کی صورت میں داخل ہو کر عورت بن گئی۔ سکندر اعظم یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔ صبح سپیرے کو سب کچھ بتایا اس نے کہا تیری بیوی ناگن ہے جو ہزار سال بعد روپ بدلتا ہے۔ اس کا زہر پیٹ کے درد کا باعث بنا۔ پھر اس عورت کو سیر کے بہانے سمندر میں لے گئے۔ اور جس جگہ پھینکا وہ نشان اب بھی موجود ہے۔ اسے سد سکندری کہتے ہین۔ ان کی نسل بھی اس دنیا میں موجود ہے۔ عام سانپوں کے کان نہیں ہوتے، لیکن اس نسل والے سانپ کے کان ہوتے ہیں۔پتہ نہیں کس آدم کا قبیلہ چین کے پہاڑوں میں بند ہے اُن کے اس خطے میں داخلہ کو روکنے کے لئے ذوالقرنین نے پتھروں کی دیوار بنا دی تھی۔ ان کے لمبے لمبے کان ہیں،ایک کو بچھا لیتے ہیں اور دوسرے کو اوڑھ لیتے ہیں،انہیں جوج ماجوج کہتے ہیں۔سائنس نے کافی خطے تلاش کر لئے ہیں،لیکن ابھی بھی کافی خطے دریافت کرنے باقی ہیں۔

    ھمالیہ کے پیچھے بھی برفانی انسان موجودہیں۔بہت سے انسان جنگلوں میں بھی موجود ہیں،ان کی زبان اُن کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔وہ بھی اپنے آدم کے طریقہ پر عبادت کرتے ہیں ۔ اور ضابطہ ِ حیات کے لئے ان کا بھی سرداری نظام قائم ہے۔ ان براعظموں کے علاوہ اور بھی بڑی زمینیں ہیں۔ جیسا کہ چاند ، سورج ، مشتری ، مریخ وغیرہ وہاں بھی آدم آئے ہیں۔لیکن وہاں قیامتیں آچکی ہیں۔ کہیں آکسیجن کو روک کر اور کہیں زمین کو تہس نہس کردیا گیا۔


    مریخ میں انسانی زندگی ابھی بھی موجود ہے، جبکہ سورج میں بھی آتشی مخلوق آباد ہے۔



    کہتے ہیںایک خلا باز جب چاند میں اترا، اُس نے اوپر کے سیاروں کی تحقیق کرنا چاہی، تو اُسے آذان کی آواز بھی سنائی دی، جس سے وہ متاثر ہوکر مسلمان ہوگیا تھا، وہ مریخ کی دنیا تھی جہاں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے سائنس دان ابھی مریخ پر پہنچ نہیں پائے، جبکہ وہ لوگ کئی بار اس دنیا میں آچکے ہیں اور بطور تجربہ یہاں کے انسانوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اُن کی سائنس اور ایجادیں ہم سے بہت آگے ہیں، ہمارے سیارے یا سائنس دان اگر وہاں پہنچ بھی گئے تو اُن کی گرفت سے آزاد نہیں ہوسکتے۔


    ایک آدم کو اللہ نے بہت علم دیا تھا، اور اس کی اولاد علم کے ذریعے بیت المامور تک جا پہنچی تھی، یعنی جو حکم اللہ فرشتوں کو دیتا، نیچے وہ سُن لیتے تھے۔ ایک دن فرشتوں نے کہا، اے اللہ یہ قوم ہمارے معاملے میں مداخلت بن گئی ہے۔ ہم جب کوئی کام کرنے دنیا میں جاتے ہیں، تو یہ پہلے ہی اس کا توڑ کر چکے ہوتے ہیں۔ اللہ نے جبرائیل سے کہا، جاؤ اُن کا امتحان لو۔ ایک بارہ سال کا بچہ بکریاں چرارہا تھا، جبرائیل نے اُس سے پوچھا، کیا تم بھی کوئی علم رکھتے ہو؟ اُس نے کہا ، پوچھو؟ جبرائیل نے کہا ، بتاؤ اس وقت جبرائیل کدھر ہے؟ اُس نے آنکھیں بند کیں، اور کہا آسمانوں پر نہیں ہے۔ پھر کدھر ہے؟ اُس نے کہا زمینوں پر بھی نہیں ہے۔ جبرائیل نے کہا پھر کدھر ہے؟ اس نے آنکھیں کھول دیں، اور کہا میں نے چودہ طبقوں میں دیکھا وہ کہیں بھی نہیں ہے، یا میں جبرائیل ہوں یا تو جبرائیل ہے۔

    پھر اللہ نے فرشتوں کو کہا، اس قوم کو سیلاب کے ذریعہ غرق کیا جائے۔ انہوں نے یہ فرمان سُن لیا۔ لوہے اور شیشے کے مکانات بنانا شروع کردیئے، پھر زلزلے کے ذریعہ اُس قوم کو غرق کیا گیا، اُس وقت اُس خطے کو’ کالدہ‘ اور اب یونان بولتے ہیں۔

    ہم کیتے ہیں

    انہوں نے روحانی علم کے ذریعہ اور اب ہمارے سائنس دان، سائنسی علم کے ذریعہ رب کے کاموں میں مداخلت کررہے ہیں، انہیں ڈرانے کےلئے چھوٹی موٹی تباہی اور مکمل تباہی کے لئے ایک سیارے کو زمین کی طرف بھیج دیا گیا ہے۔ جس کا گرنا بیس(۲۰) پچیس(۲۵) سال تک متوقع ہے اور وہ دنیا کا آخری دن ہوگا۔ اُس کا ایک ٹکڑا گزشتہ دو برسوں میں مشتری پر گر چکا ہے۔ سائنس دانوں کو بھی اُس کا علم ہوچکا ہے۔ اور یہ اُس کے گرنے سے پہلے چاند پر یا کسی اور سیارے پر رہائش پزیر ہونا چاہتے ہیں۔ جبکہ چاند پر پلاٹوں کی بکنگ بھی ہوچکی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ چاند میں انسانی زندگی کے آثار یعنی ہ ¿وا، پانی اور سبزہ نہیں ہے، پھر تگ و دو کا مقصد کیا ہے؟ رہا سوال تحقیق کا؟ چاند مشتری پر پہنچ کر بھی انسانیت کا کیا فائدہ ہوا؟ کیا کوئی ایسی دوائی یا نسخہ درازی ِعمر یا موت کی شفا کا ملا؟

    اگر مریخ کی مخلوقات تک پہنچ بھی گئے تو وہاں کی آکسیجن اور یہاں کی آکسیجن کی وجہ سے ایک دوسری جگہ رہنا محال ہے، بس بیکار دولت ضائع کی جارہی ہے، اگر وہی دولت روس اور امریکا، غریبوں پر خرچ کردے تو سب خوشحال ہوجائیں۔ آدمیت کے فرق کی وجہ سے ایک دوسرے کو تباہ کرنے کےلئے ایٹم بم بھی بنائے جارہے ہیں جب کہ بموں کے بغیر بھی دنیا کو تباہ ہی ہوناہے۔

    آسمان پر روحیں حد سے زیادہ بن گئی تھیں!


    مقرب روحیں اگلی صفوں میں تھیں۔ عام روحوں کو اس دنیا میں بنائے ہوئے آدموں کی قوموں میں بھیجا۔ جو کوئی کالی ،کوئی سفید، کوئی پیلی اور کوئی لال مٹی سے بنائے گئے تھے انہیں جبرائیل اور ہاروت ماروت کے ذریعہ علم سکھایا گیا۔


    جب زمین پر مٹی سے آدم بنائے جاتے، تو خبیث جن بھی موقع پاکر اُن کے اور اُن کی اولاد کے جسموں میں داخل ہوجاتے۔اور انہیں اپنی شیطانی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے۔ پھر اُن کی قوم کے نبی، ولی اور اُن کی سکھائی ہوئی تعلیمات چھٹکارے کا ذریعہ بنتی ۔ بے شمار آدم جوڑوں کی شکل میں بنائے گئے جن سے اولاد کا سلسلہ جاری ہوا لیکن کئی بار صرف اکیلی عورت کو بنایا گیا۔ اور امرِ کُن سے اس کی اولاد ہوئی۔


    وہ قومیں بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔ اس قبیلے میں صرف عورتیں ہی سردار ہوتی ہیں اور وہ موئنث کی اولاد ہونے کی وجہ سے رب کو بھی موئنث سمجھتے ہیں۔ اور خود کو فرشتوں کی اولاد تصور کرتے ہیں، چونکہ اُن کے موئنث آدم کی (شادی ) یا مرد کے بغیر ہی بچے ہوئے تھے۔ یہی رسم اُن میں اب بھی چلی آرہی ہے ان قبیلوں میں پہلے عورت کے کسی سے بھی بچے ہو جاتے ہیں اور بعد میں کسی سے بھی شادی ہو جاتی ہے، اور وہ اس کو معیوب نہیں سمجھتے۔

    روحوں کے اقرار ، قسمت، اور مراتب کی وجہ سے اُن ہی جیسے آدم بنا کر اُن ہی جیسی روحوں کو نیچے بھیجا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لئے کوئی خاص دین ترتیب نہیں دیا گیا۔ اگر ان میں نبی آئے بھی تو بہت کم نے ان کو تسلیم کیا ، بلکہ نبیوں کی تعلیم کا اُلٹ کیا، بجائے اللہ کے چاند ستاروں سورج درختوں، آگ، حتیٰ کہ سانپوں کو بھی پوجنا شروع کردیا۔


    آخر میں آدم صفی اللہ کو جنت کی مٹی سے جنت میں ہی بنایا گیا، تاکہ عظمت اور فضیلت میں سب سے بڑھ جائے اور خبیثوں سے بھی محفوظ رہے ، کیونکہ جنت میں خبیثوں کی رسائی نہ تھی۔ عزازیل اپنے علم کی وجہ سے پہچان گیا تھا، جو عبادت کی وجہ سے سب فرشتوں کا سردار بن گیا تھا اور قوم ِجنات سے تھا۔آدم کے جسم پر حسد سے تھوکا تھا، اور تھوک کے ذریعہ خبیثوں جیسا جراثیم اُن کے جسم میں داخل ہوا، جسے نفس کہتے ہیں، اور وہ بھی آدم کی اولاد کے ورثے میں آگیا۔ اُسی کے لئے حضور نے فرمایا ’ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو ایک شیطان جن بھی اس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

    فرشتوں اور ملائکہ میں فرق ہے ۔ ملکوت میں فرشتے ہوتے ہیں جن کی تخلیق روحوں کے ساتھ ہوئی۔

    ملکوت سے اوپر جبروت کی مخلوق کو ملائکہ کہتے ہیں۔

    جو روحوں کے امرِ کن سے پہلے کے ہیں ۔رب کی طرف سے آدم صفی اللہ کو سجدہ کا حکم ہوا ۔ جبکہ اس سے پہلے نہ ہی کوئی آدم بہشت میں بنایا گیا تھا اور نہ ہی کسی آدم کو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا۔ عزازیل نے حجت کری، سجدہ سے انکاری ہوا، تو اس پر لعنت پڑی، اور اس نے صفی اللہ کی اولاد سے دشمنی شروع کر دی۔ جبکہ پہلے آدموں کی قومیں اس کی دشمنی سے محفوظ تھیں، اُن کے بہکانے کے لئے خبیث جن ہی کافی تھے۔

    چونکہ شیطان سب خبیثوں سے زیادہ پاورفل تھا ، اس نے صفی اللہ کی اولاد کو ایسے قابو کیا اور ایسے جرائم سکھائے جس کی وجہ سے دوسری قومیں ان ایشیائیوں سے متنفر ہونے لگیں ۔ اور عظمتِ آدم کی ہی وجہ سے جن لوگوں کو رب کی طرف سے ہدایت ملی۔ اتنے خدا رسیدہ اور عظمت والے ہو گئے کہ دوسری قومیں حیرت کرنے لگیں، سب سے بڑی آسمانی کتابیں، توریت، زبور، انجیل اور قرآن ان ہی پر نازل ہوئیں۔جن کی تعلیم ، فیض اور برکت سے ایشیائی دین پوری دنیا کی اقوام میں پھیل گیا۔

    آدمؑ کی ابھی روح بھی ڈالی نہیں گئی، فرشتے سمجھ گئے تھے کہ اس کو بھی دنیا کے لئے بنایا جارہا ہے۔ کیونکہ مٹی کے انسان زمین پر ہی ہوتے ہیں۔ پھر کسی بہانے زمین پر بھیج دیا گیا۔ ازلی کام اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں لیکن الزام بندوں پر لگ جاتا ہے۔ اگر آدم کو بغیر الزام کے دنیا میں بھیجا جاتا، تو وہ دنیا میں آکر شکوہ شکایت ہی کرتے رہتے، توبہ تائب اور گریہ زاری کیوں کرتے؟

    1 - روز ِازل والی جہنمی روح غیر مذہب کے گھر پیدا ہو جائیں، اُسے کافر اور کاذب کہتے ہیں، یہی لوگ منکر ِخدا ، دشمن انبیاءاور دشمن ِ اولیاءہوتے ہیں ۔متکبر، سخت دل اور مخلوق ِ خدا کو آزار پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔دوسرا درجہ مذہب میں آکر بھی مذہب سے دور ہوتا ہے، یہی روح اگر کسی مذہبی دیندار گھرانے میں پیدا ہوجائے تو اُسے منافق کہتے ہیں۔

    2 - یہی لوگ گستاخ ِانبیائ، جلیس ِاولیاءاور مذاہب میں فتنہ ہوتے ہیں۔ ان کی عبادت بھی ابلیس کی طرح بیکار ہوتی ہے۔ انہیں مذہب جنت میں لے جانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن مقدر دوزخ کی طرف کھینچتا ہے۔ چونکہ نبیوں، ولیوں کی امداد سے محروم ہوتے ہیں، اس لئے شیطان اور نفس کے بہکاوے میں آجاتے ہیں، کہ تو اتنا علم جانتا ہے، اور اتنی عبادت کرتا ہے، تجھ میں اور نبیوں میں کیا فرق ہے۔ پھر وہ اپنا باطن دیکھے بغیر خود کو نبی جیسا سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں اور ولیوں کو اپنا محتاج سمجھتے ہیں، پھر روحانیت اور کرامتوں کے اقراری نہیں ہوتے، بلکہ اُسی عمل کے اقراری ہوتے ہیں، جن کی اُن میں خود کی صلاحیت ہوتی ہے، حتیٰ کہ معجزوں کو بھی جادو کہہ کر جھٹلادیتے ہیں۔ ابلیس کی طاقت کو مان لیتے ہیں لیکن انبیاءو اولیاءکی طاقت کو مان لینا ان کےلئے مشکل ہے۔

    3 - ازل والی بہشتی روح اگر غیر مذہب یا گندے ماحول میں آجائے تو اُسے معذور کہتے ہیں۔ معذور کےلئے معافی اور بخشش کا امکان ہوتا ہے۔ یہی روحیں صراط ِمستقیم کی تلاش میں ، اور دلدل سے نکلنے کےلئے ولیوں کا سہارا ڈھونڈتی ہیں، نرم دل، عاجز اور سخی ہوتے ہیں۔

    4 - اگربہشتیروح کسی آسمانی مذہب اور دینی گھرانے میں پیدا ہوجائے تو اُسے صادق اور مومن کہتے ہیں۔یہی لوگ عبادت و ریاضت سے اللہ کا قرب حاصل کرکے اُس کی وراثت کے حقدار ہو جاتے ہیں۔

     
  13. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    13,906
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    محترم ٍفرحان گوہر صاحب یہ سب آپ نے خود لکھا ہے یا کاپی کیا ہے؟
    اس میں سے زیادہ تر تو محض کہانیوں کا حصہ لگ رہا ہے
     
  14. ٍفرحان گوہر

    ٍفرحان گوہر محفلین

    مراسلے:
    2
    خالد محمود چوہدری بھائی حوالہ دیا ہے کے میں نے کتاب سے یہ سب تحریر کیا ہے، جی بلکل اور کہانیوں سے ہی ہدایت ملتی ہے۔ جسے ہرذہنیت قبول کرے۔ عربی زبان کو دنیا میں آئے لگ بھگ 2000 سال ہوئے ہے، جب کے اس سے پہلے عرب میں عبرانی زبان نہیں بولی جاتی تھی ،تمام کلمے اربی زبان کےنہیں بلکہ سریانی زبان کے ہیں،
    لا الہ الا اللہ آدم صفی اللہ، جب کے یہ کلمہ سریانی زبان کا ہے 6000 سال پُرانا، اور اج کے جدید دور میں سریانی کا کوئی نامونشان موجود نہیں۔

    حضرت سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایاکہ کیا تم سریانی زبان جانتے ہو؟ کیونکہ میرے پاس سریانی زبان میں خطوط آتے ہیں ، فرمایا کہ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو تم اُسے سیکھ لو ،پھر میں سریانی زبان سترہ دن میں سیکھ لیا۔ (مسند الامام ، حدیث زید بن ثابت ، حدیث نمبر:22208)

    ایسی الہ زبان جو 17 دن میں سیکھیں جا سکتی تھی تو آج اسکا نامو نشان کیوں موجود نہیں اور وہ خطوط کہا سے آتے تھے؟

    سوچ تو ذرا۔ تُو کس آدم کی اولاد میں سے ہے! یہ پورا ٹوپک جومیں نے اوپر تحریر کیا ہے اس میں کوئی بات بغیرتحقیق کے موجود نہیں میں اس کتاب پر 7سال سے ریسرچ کر رہا ہوں بہت سی باتوں کے جواب حدیث کی روشنی میں اس پوسٹ سے مل چکے اور کچھ کے باکی ہیں پھر انشااللہ اس پر عملی کام کروں گا۔

    جزاک اللہ
     

اس صفحے کی تشہیر