1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

زیرک کے پسندیدہ قطعات

زیرک نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 6, 2019

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,869
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کھلا تو پول ہمارا کھلا سوالوں سے
    خود آزمائے گئے ان کو آزمانے میں
    غزال خوب سمجھتے ہیں یہ نوا راحیلؔ
    غزل کی تان ہے الفت کے ہر ترانے میں

    راحیل فاروق​
     
  2. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,869
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ہم تو عاشق ہیں ہمارا تو چلو کام سہی
    سجدے اس شہر کا دستور نہ ہو جائیں کہیں
    آپ کے عشق میں ہم ہو تو گئے آپ ہی آپ
    آپ کے نام سے مشہور نہ ہو جائیں کہیں

    راحیل فاروق​
     
  3. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,869
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ہر دکھ مجھے قبول، مگر یہ ستم نہ ہو
    یا رب! بچھڑتے وقت بھی وہ آنکھ نم نہ ہو
    یہ کیا کہ ساری رات کٹے جاگتے ہوئے
    اور پھر بس ایک شعر ہو اس میں بھی دم نہ ہو

    احسن سلیمان​
     
  4. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,869
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کوئی شکوہ نہیں کرتے تھے خدا سے پیاسے
    ہائے کربل میں محمدﷺ کے نواسے پیاسے
    شام والو! یہ نبی پاکﷺ کی اولاد سے ہیں
    شام کو آئے ہیں جو کرب و بلا سے پیاسے

    احسن سلیمان​
     
  5. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,869
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دیکھو اس کا ہجر نبھانا پڑتا ہے
    وہ جیسا چاہے ہو جانا پڑتا ہے
    اس دنیا کو چھوڑ کے جس میں تم بھی ہو
    جاتا کون ہے؟ لیکن جانا پڑتا ہے

    ندیم بھابھہ​
     
  6. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,869
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    یہ دل اگر کبھی اذنِ کلام مانگتا ہے
    تو وہ سمجھتے ہیں شاید مقام مانگتا ہے
    ہمارا مسئلہ یہ ہے مذاق کس سے کریں؟
    پرانا دوست تو اب احترام مانگتا ہے

    ندیم بھابھہ​
     
  7. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,869
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ضعیفی اس لئے مجھ کو سہانی لگتی ہے
    اسے کمانے میں پوری جوانی لگتی ہے
    تو میرے جسم کو چھو کر بتا میں کیسا ہوں
    مجھے تو خاک یہ صدیوں پرانی لگتی ہے

    خالد سجاد​
     

اس صفحے کی تشہیر