زیرک کی پسندیدہ غزلیں

زیرک نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 19, 2019

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آستیں میں سانپ پالے جائیں گے
    نِت نئے رشتے نکالے جائیں گے
    پہلے کرنا ہے انھیں بے بال و پر
    یہ پرندے پھر اچھالے جائیں گے
    محوِ حیرت ہوں کہ سُوئے مے کدہ
    مجھ سے پہلے ہوش والے جائیں گے
    کام وہ ہم سے ہی لے گا، اور پھر
    اس میں پھر کیڑے بھی ڈالے جائیں گے
    دوسروں کے آسرے پر یہ بتا
    کب تلک خود کو سنبھالے جائیں گے
    علم ہی میرا ہے بس میری اثاث
    چھین کر مجھ سے وہ کیا لے جائیں گے
    ان کی مانگیں میں نے گر پوری نہ کیں
    وہ مرے بچے اٹھا لے جائیں گے

    سہیل ثاقب
     
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,128
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب
    شاعر: حافظ الماس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں، در کھلا رکھنا
    گئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھنا
    ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے
    زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا
    نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگِ ربط بن جائے
    وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا
    اتار پھینک دے خوش فہمیوں کے سارے غلاف
    جو شخص بھول گیا اس کو یاد کیا رکھنا
    ابھی نہ علم ہو اس کو لہو کی لذت کا
    یہ راز اس سے بہت دیر تک چھپا رکھنا
    کبھی نہ لانا مسائل گھروں کے دفتر میں
    یہ دونوں پہلو ہمیشہ جدا جدا رکھنا
    اڑا دیا ہے جسے چوم کر ہوا میں نسیمؔ
    اسے ہمیشہ حفاظت میں اے خدا رکھنا

    افتخار نسیم افتی
     
  4. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    عذابِ ہجر سے انجان تھوڑی ہوتا ہے
    یہ دل اب اتنا بھی نادان تھوڑی ہوتا ہے
    یہ زندگی ہے بہت کچھ یہاں پہ ممکن ہے
    کہ کچھ نہ ہونے کا امکان تھوڑی ہوتا ہے
    یہ دل کے زخم چھپا کر جو مسکراتے ہیں
    تو میرے دوست یہ آسان تھوڑی ہوتا ہے
    کبھی کبھار تو بدعت بھی ہو ہی جاتی ہے
    ہر ایک لمحہ ترا دھیان تھوڑی ہوتا ہے
    وہ جس کے پاس محبت بھی ہو وفا بھی ہو
    بھلا وہ بے سر و سامان تھوڑی ہوتا ہے
    تری وفا میں کمی کچھ تو آئی ہے کہ یہ دل
    بلا جواز پریشان تھوڑی ہوتا ہے
    اِدھر اُدھر سے دلیلیں اٹھانی پڑ جائیں
    جو اتنا کچا ہو ایمان تھوڑی ہوتا ہے

    ناہید ورک
     
  5. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیں
    آؤ، ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیں
    اپنی قسمت میں لکھے ہیں جو وراثت کی طرح
    آؤ، اک بار وہ زخمِ دل و جاں دیکھ آئیں
    آؤ، بھیگی ہوئی آنکھوں سے پڑھیں نوحۂ دل
    آؤ، بکھرے ہوئے رشتوں کا زِیاں دیکھ آئیں
    جس سے ٹکرا کے گرے تھے کبھی اربابِ خِرد
    آؤ، نزدیک سے وہ سنگِ گراں دیکھ آئیں
    وقت جاتے ہوئے کیا لکھ گیا پیشانی پر
    آؤ، آشفتگئ عہدِ رواں دیکھ آئیں
    ٹُوٹا ٹُوٹا ہوا دل لے کے پھِریں گلیوں میں
    کچی مٹی کے کھلونوں کی دُکاں دیکھ آئیں
    روشنی کے کہیں آثار تو باقی ہوں گے
    آؤ، پِگھلی ہوئی شمعوں کا دُھواں دیکھ آئیں
    جِن درختوں کے تلے رقصِ صبا ہوتا تھا
    سُوکھے پتوں کا برسنا بھی وہاں دیکھ آئیں
    اُڑ رہے ہوں گے کہیں، جُھنڈ ابابیلوں کے
    آؤ، سنسان دریچوں کا سماں دیکھ آئیں
    اب فرشتوں کے سِوا کوئی نہ آتا ہو گا
    کون دیتا ہے خرابے میں اذاں، دیکھ آئیں
    مُدتوں بعد مہاجر کی طرح آئے ہیں
    روٹھ جائے نہ کھنڈر، آؤ میاں! دیکھ آئیں

    قیصر الجعفری
     
  6. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے
    شام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگے
    مٹھی بند کئے بیٹھا ہوں کوئی دیکھ نہ لے
    چاند پکڑنے گھر سے نکلا جگنو ہات لگے
    تم سے بچھڑے دل کو اجڑے برسوں بیت گئے
    آنکھوں کا یہ حال ہے اب تک کل کی بات لگے
    تم نے اتنے تیر چلائے، سب خاموش رہے
    ہم تڑپے تو دنیا بھر کے الزامات لگے
    خط میں دل کی باتیں لکھنا اچھی بات نہیں
    گھر میں اتنے لوگ ہیں جانے کس کے ہات لگے
    ساون ایک مہینے قیصرؔ، آنسو جیون بھر
    ان آنکھوں کے آگے بادل بے اوقات لگے

    قیصر الجعفری
     
  7. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں
    کوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوں
    آخری ناؤ نہ آئی تو کہاں جاؤں گا
    شام سے پار اترنے کے لیے بیٹھا ہوں
    مجھ کو معلوم ہے سچ زہر لگے ہے سب کو
    بول سکتا ہوں مگر ہونٹ سیے بیٹھا ہوں
    لوگ بھی اب مِرے دروازے پہ کم آتے ہیں
    میں بھی کچھ سوچ کے زنجیر دئیے بیٹھا ہوں
    زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے
    میں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں
    کم سے کم ریت سے آنکھیں تو بچیں گی قیصرؔ
    میں ہواؤں کی طرف پیٹھ کیے بیٹھا ہوں

    قیصر الجعفری
     
  8. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے
    سو ہمیں شامِ ملاقات سے خوف آتا ہے
    ماند پڑتے ہوئے جذبات سے خوف آتا ہے
    عمرِ آخر کی شروعات سے خوف آتا ہے
    پھونکتا جاتا ہے یہ شعلۂ تخلیق مجھے
    اب تو اپنے ہی کمالات سے خوف آتا ہے
    موت کا ڈر بھی بڑی شے ہے، سرِ دست مگر
    زندگانی کے طلسمات سے خوف آتا ہے
    ق
    نئی تقریبِ مواخات سے خوف آتا ہے
    مجھے آئندہ فسادات سے خوف آتا ہے
    اب تو مل کر یہ دعا تک بھی نہیں کر سکتے
    اب تو اِس ہاتھ کو اُس ہاتھ سے خوف آتا ہے
    ایسے ٹھہرے ہوئے ماحول میں رحمان حفیظ
    ان گزرتے ہوئے لمحات سے خوف آتا ہے

    رحمان حفیظ
     
  9. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ہوئے ہجرت پہ مائل پھر مکیں آہستہ آہستہ
    بہت سی خواہشیں دل سے گئیں آہستہ آہستہ
    ہوا اس سانحے میں غیر جانبدار نکلی، سو
    دھوئیں کی ایک دو موجیں اٹھیں آہستہ آہستہ
    مجھے ماہِ منور نے بہت الجھائے رکھا اور
    سمندر کھا گئے میری زمیں آہستہ آہستہ
    مِری آنکھیں گماں کے سحر میں ہی تھیں مگر دل میں
    نمو پاتا گیا آخر یقیں آہستہ آہستہ
    میں آخر کار اپنے آپ پر ایمان لے آیا
    جھکائی اپنے قدموں میں جبیں آہستہ آہستہ
    مجھے آئندہ کے پھیلاؤ کو ترتیب دینا ہے
    سو اب ہوتا ہوں خود میں تہ نشیں آہستہ آہستہ

    رحمان حفیظ
     
  10. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ہمارے حق میں کسی کے جفر، رمل کوئی نئیں
    جو اہلِ دل کے مسائل ہیں، ان کا حل کوئی نئیں
    عجیب شہر میں میرا جنم ہوا ہے جہاں
    بدی کا حل کوئی نئیں، نیکیوں کا پھل کوئی نئیں
    مِرے لیے نہ رکے کوئی موجِ استقبال
    میں رزقِ لمحۂ حاضر ہوں، میرا کل کوئی نئیں
    مرا سخن، مرا فن دوسروں کی خاطر ہے
    درخت ہوں، مِری قسمت میں اپنا پھل کوئی نئیں
    ہم اہلِ فکر و نظر جس میں جینا چاہتے ہیں
    جہانِ گِل! تِری تقویم میں وہ پَل کوئی نئیں
    میں آپ اپنے گلے لگ کے خود سے کہتا رہا
    حفیظ ! چل کوئی نئیں، اے حبیب چل کوئی نئیں

    رحمان حفیظ
     
  11. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    سب گناہ و حرام چلنے دو
    کہہ رہے ہیں نظام چلنے دو
    ضد ہے کیا وقت کو بدلنے کی
    یونہی سب بے لگام چلنے دو
    بیکسی، بھوک اور مصیبت کا
    خوب ہے اہتمام چلنے دو
    اہلیت کیا ہے میری چھوڑ اسے
    نام کافی ہے، نام چلنے دو
    مفت مرتا نہیں تو راہوں میں
    تجھ کو دیتے ہیں دام، چلنے دو
    تم ہو زاہد تو جاؤ گھر پہ ٹِکو
    مئے کدے میں تو جام چلنے دو
    تیرے اجداد کے تھے آقا ہم
    خود کو بھی زیر دام چلنے دو
    حق کو چھوڑو، کتاب کو چھوڑو
    حکمِ حاکم سے کام چلنے دو
    ہم جو اترے تو پھر اندھیرا ہے
    سو یہی غم کی شام چلنے دو
    شاہ جائے گا، شاہ آئے گا
    تم رہو گے غلام ، چلنے دو

    اتباف ابرک
     
  12. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,339
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    زاہد بدل گیا ہے سیانا بدل گیا
    ڈنکے کی چوٹ پر ہے زمانہ بدل گیا
    الٹا ہماری نسل نے سارا نظام یوں
    اپنے بڑوں سے بچوں کا رتبہ بدل گیا
    کہہ دو مسافروں سے نہ آئیں وہ لوٹ کر
    رستہ یہ ان کے جاتے ہی رستہ بدل گیا
    پلٹا تھا احتیاط سے ہم نے ورق ورق
    جانے یہ کس مقام پہ قصہ بدل گیا
    آرام، عیش خوب ہے ویران گھر میں اب
    تنہائیوں سے جب ڈرے، کمرہ بدل گیا
    اتنا تو گر نہ پایا کہ گالی میں دے سکوں
    گالی پہ مسکرایا، ہاں اتنا بدل گیا
    پلکیں بھی ڈرتے ڈرتے جھپکتا ہوں آج کل
    اس بیچ گر جہان کا نقشہ بدل گیا
    صیاد نے اڑا دیا پنچھی فضاؤں میں
    پنچھی کو یوں لگا ہے کہ پنجرہ بدل گیا
    سب کچھ بدل گیا ہے بجز ایک عذر کے
    کیا کیجئے جناب زمانہ بدل گیا
    ابرک ہمیں بدل کے یوں خوش یار لوگ ہیں
    جیسے کوئی خراب سا پرزہ بدل گیا

    اتباف ابرک
     

اس صفحے کی تشہیر