زندگی سے میں ڈر نہیں رہا۔۔۔ برائے اصلاح

عائد

محفلین
زندگی سے میں ڈر نہیں رہا
تیرے بعد بھی مر نہیں رہا
ایک ہی تو دکھ کھائے جاتا ہے
تیرا غم برابر نہیں رہا
پلکیں جھپکوں تو ٹیس اٹھتی ہے
آنکھ میں سمندر نہیں رہا
تیرے بعد ہر ایک سمت میں
اک خلا ہے جو بھر نہیں رہا
تیرے بعد خالی سا ہو گیا
کچھ بھی میرے اندر نہیں رہا
 

عائد

محفلین
کچھ ایسے کوشش کی ہے
فاعلن فَعَل فاعلن فَعَل
زندگی سے میں ڈر نہیں رہا
زندگی سِ مے ڈر نہی رہا
تیرے بعد بھی مر نہیں رہا
تیرے بع د بی مر نہی رہا
ایک ہی تو دکھ کھائے جاتا ہے
ایک ہی تو دک کائے جا تا ہے
تیرا غم برابر نہیں رہا
تیرَ غم برا بر نہی رہا
پلکیں جھپکوں تو ٹیس اٹھتی ہے
پلکِ جپ کُ تو ٹیس اٹ تِ ہے
آنکھ میں سمندر نہیں رہا
آک مے سمن در نہی رہا
تیرے بعد ہر ایک سمت میں
تیرِ بع د ہر ایک سم ت مے
اک خلا ہے جو بھر نہیں رہا
اک خلا ہ جو بر نہی رہا
تیرے بعد خالی سا ہو گیا
تیرِ بع د خا لی سَ ہو گیا
کچھ بھی میرے اندر نہیں رہا
کچ بِ می رِ ان در نہی رہا
 
Top