زندگی اور جہاں !

نور وجدان

لائبریرین
زندگی اور جہاں !
یہ فانی
جو اس کے درمیاں
وہ قربانی
عظمتوں کے پیکر
رفعتوں پر مکیں
مانگتے ہیں
اپنے ہونے کی
ایک عظیم قربانی
حیات کے ہر قدم پر
مشکل کے آئینے
آنکھوں میں آبگینے
دلوں میں ملال کے سمندر
مانگ رہے ہیں
سفینے ۔۔۔!
کہاں ملیں گے ؟
کہاں اور کس موڑ پر
اداکار تری بستی کے
تجھے برباد کرکے
اپنے ہنر کی چھاپ لگا کر
کیا کریں گے؟
ہنسیں گے ۔۔۔!
ہنسنے دو ۔۔۔۔!
چلیے ایسا کرتے ہیں کہ وہی خیال رکھتے ہیں جو آپ کا ہے۔ پہلے اس ساری نظم کو سادہ نثر میں لکھیے۔ پھر ہم ساتھ ساتھ اسے نثم میں تبدیل کرتے جاتے ہیں

اس نظم میں ایک طنز تھا۔ زندگی اور یہ دنیا فانی ہے مگر فنا کے سفر سے پہلے قربان ہونا پڑتا ہے ۔ قربان کرنے والے کون ہیں ؟ جو اونچی مساند پر بیٹھے ہیں اس کے نتیجے میں آنکھو میں آنسو ، مشکل کے پہاڑ اور دل میں ملال پیدا ہوجاتا ہے اور اس موڑ پر جب دل ملال سے بھرا ہوا ہے ۔۔۔سفینہ مل سکتا ہے ؟ اونچی مساند پر بیٹھنے والے اداکارہیں ۔۔جو برباد کرکے ہنستے ہیں اس لیے ان کو ہنسنے دو
 
اس نظم میں ایک طنز تھا۔ زندگی اور یہ دنیا فانی ہے مگر فنا کے سفر سے پہلے قربان ہونا پڑتا ہے ۔ قربان کرنے والے کون ہیں ؟ جو اونچی مساند پر بیٹھے ہیں اس کے نتیجے میں آنکھو میں آنسو ، مشکل کے پہاڑ اور دل میں ملال پیدا ہوجاتا ہے اور اس موڑ پر جب دل ملال سے بھرا ہوا ہے ۔۔۔سفینہ مل سکتا ہے ؟ اونچی مساند پر بیٹھنے والے اداکارہیں ۔۔جو برباد کرکے ہنستے ہیں اس لیے ان کو ہنسنے دو


پھر آپ آخر میں ان کو ہنسنے دینے کے بجائے ان کے چہروں سے خوشی نوچ لینے کی بات کیجیے۔ باقی خیال اچھا ہے۔ اور جس طرح میں نے کوشش کی اس طرح سے اسے دوبارہ ترتیب دیجئے۔
 
Top