ریاست سوات کے حکم نامے

جمال الدین

محفلین
ریاستی دور میں کاروباری طبقے کی پزیرائی کی جاتی تھی کہ وہ ریاستی آمدنی کے ماخذ تھے اور بے کار خوانین کو لفٹ نہیں کرائی جاتی۔

ادغام کے بعد ان خوانین کو سر پر چھڑایا گیا اور کاروباری طبقے کو نظر انداز کیا گیا


میرے تایا جان مرحوم (جو ہم سے گزشتہ ماہ - 9 مئی کو دور چلے گئے) ریاستی دور میں قالینوں اور سواتی دریوں کے کاروبار میں میرے دادا جان مرحوم کا ہاتھ بٹاتے تھے، کہتے تھے کے والی صاحب عموماََ شام کو بازار کا دورہ کرتے تھے اور جن لوگوں نے اپنے دکان میں چیزوں کو ترتیب سےاور اس کے سامنے سڑک کے حصے کو صاف رکھا ہوتا تھا، انہیں انعامات سے نوازتے تھے۔ میرے تایا بھی ایسے کئی انعامات حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
 

سید فصیح احمد

لائبریرین
میرے تایا جان مرحوم (جو ہم سے گزشتہ ماہ - 9 مئی کو دور چلے گئے) ریاستی دور میں قالینوں اور سواتی دریوں کے کاروبار میں میرے دادا جان مرحوم کا ہاتھ بٹاتے تھے، کہتے تھے کے والی صاحب عموماََ شام کو بازار کا دورہ کرتے تھے اور جن لوگوں نے اپنے دکان میں چیزوں کو ترتیب سےاور اس کے سامنے سڑک کے حصے کو صاف رکھا ہوتا تھا، انہیں انعامات سے نوازتے تھے۔ میرے تایا بھی ایسے کئی انعامات حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
کاش ویسی انسانیت پھر سے لوٹ آئے نا ،،،،،،، کاش !!!! کیسا با ادب ، نفیس اور مہذب ماحول تھا ،،، سوات ہی نہیں ایسی باتیں پورے پاکستان سے سننے کو ملتی ہیں ،،، وہ دور جب انسانوں کی گنتی درندوں سے زیادہ ہوا کرتی تھی ،،، کتابوں کا وزن سکوں سے بہتا ہوا کرتا تھا !!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
 

جیہ

لائبریرین
میرے تایا جان مرحوم (جو ہم سے گزشتہ ماہ - 9 مئی کو دور چلے گئے) ریاستی دور میں قالینوں اور سواتی دریوں کے کاروبار میں میرے دادا جان مرحوم کا ہاتھ بٹاتے تھے، کہتے تھے کے والی صاحب عموماََ شام کو بازار کا دورہ کرتے تھے اور جن لوگوں نے اپنے دکان میں چیزوں کو ترتیب سےاور اس کے سامنے سڑک کے حصے کو صاف رکھا ہوتا تھا، انہیں انعامات سے نوازتے تھے۔ میرے تایا بھی ایسے کئی انعامات حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
اللہ آپ کے تایا جان کی مغفرت کریے آمین۔ ان کا نام تو حاجی گل رحمان نہیں تھا نا؟؟
 

سید فصیح احمد

لائبریرین
پھر تو یہ اور بھی مزاحیہ بات ہوئی۔ بالکل ویسے ہی جیسے آجکل بعض اسلامی ممالک میں ہزار سال پرانے شرعی احکامات پر واقعی بہت سنجیدگی سے عمل ہوتا ہے :)
بالکل نہیں ہوتا !! درست کہا ،،، لیکن میرے خیال میں یہاں فی الحال اسلامی ریاستوں کا اسلامی احکامات کی تعمیل یا ان سے بغاوت کا موضوع قطعاً زیر بحث نہیں ہے :) ،،،، کہ ہے ؟؟
 

سید فصیح احمد

لائبریرین
تعارف کا مرحلہ بھی مکمل ہوگیا۔ اب کم از کم "محفل" یہ اطلاع تو نہیں دےگا کہ آپ کا پروفائل مکمل نہیں ہوا۔۔
یہ آپ نے کمال کیا اور ہم بھی اب نہ ستائیں گے کہ صاحب! اجی برادرِ محترم! اِک نِگاہ اِس طرف بھی !! o_O ۔۔۔۔ :) :)
 

arifkarim

معطل
تو کیا سوات کے لوگ کشمیریوں کی طرح پاکستان سے الحاق نہیں چاہتے تھے ؟
وہ لوگ اپنی مرضی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔ البتہ قلات بلوچستان اسٹیٹ کو بزریعہ عسکری طاقت پاکستان کا حصہ بنایا گیا:
http://en.wikipedia.org/wiki/Balochistan_conflict

کشمیریوں کو کبھی بھی خود ارادیت کا موقع نہیں دیا گیا۔ 1947 ہی میں پاکستان نے اسلامی جہادی لشکر کشمیر "فتح" کرنے کیلئے بھیج دئے تھے جس کے بعد وہاں کے راجہ نے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا دیا:
http://en.wikipedia.org/wiki/Kashmir_conflict#Indo-Pakistani_War_of_1947

نہیں ایسا نہیں ۔ سوات ، دیر اور چترال میں سے صرف سوات ہی نے خوشی سے پاکستان سے الحاق کیا۔ باقی ریاستیں بزور شمشیر پاکستان میں مدغم ہوئے

یہ اور بات ہے کہ عوام کی توقعات پوری نہ ہوئیں
زور شمشیر غیر جمہوری عمل ہے۔ ظاہر ہے محض عسکری طاقت کے بل بوتے پر قائم ریاستیں یا مملکتیں زیادہ عرصہ تک بغیر اندرونی انتشار کے چل نہیں سکتی۔

افسوس کہ یہ بددیانت حکمران کسی کی بھی امیدوں پر پورے نہیں اترے
یہاں صرف حکمرانوں کا ہی نہیں نظام کا بھی قصور ہے۔ مملکت خداداد پاکستان کے سیاسی نظام کئی بار تبدیل کئے جا چکے ہیں۔ اور ہر بار نتیجہ وہی صفر نکلا ہے۔
http://en.wikipedia.org/wiki/Political_history_of_Pakistan

آپی مجھے معلوم نہیں لیکن ،،،، جہاں تک میرا خیال ہے ،،، اُنہوں نے جب الحاق حاصل کیا تو اسی بنیاد پر کہ اسلامی قانون پر بنیاد ہوئی مملکت ہے تو حالات بہتر ہی ہوں گے ،،
تحریک پاکستان کا اسلامی بنیادوں پر قائم ہونا اول دن ہی سے تنازعات اور منافقت کا سر چشمہ رہا ہے۔ اسلامی شدت پسند انہی نام نہاد اسلامی بنیادوں پر اپنی سیاست کی دکانیں چمکاتے رہے تو ادھر بنگالی اپنی زبان اور تاریخ کو بنیاد کر مغربی پاکستان سے الگ ہو گئے۔ اوپر سے ستم یہ کہ متحدہ بھارت میں باقی رہ جانے والے کروڑوں مسلمانوں کا اس دو قومی نظریہ میں بالکل خیال نہیں رکھا گیا کہ آئندہ وقتوں میں انکے ساتھ کیا ہوگا۔
http://en.wikipedia.org/wiki/Two-nation_theory

ریاستی دور میں کاروباری طبقے کی پزیرائی کی جاتی تھی کہ وہ ریاستی آمدنی کے ماخذ تھے اور بے کار خوانین کو لفٹ نہیں کرائی جاتی۔

ادغام کے بعد ان خوانین کو سر پر چھڑایا گیا اور کاروباری طبقے کو نظر انداز کیا گیا
وہ اسلئے کہ اس زمانہ میں حکومتی کرنسی جعلی ردی نوٹوں سے نہیں بلکہ اصلی چاندی یا سونے کے سکوں سے چلتی تھی۔ پاکستان میں سینٹرل بینک کے قیام کے بعد نوٹ چھاپنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی جسکے بعد مہنگائی آج تاریخ کی بلندیاں چھو رہی ہے۔ آجکل حکومتی ادارے و معاملات چلانے کیلئے عوام کا ٹیکس کا پیسا درکار نہیں ہوتا۔ آپ سیدھا سنٹرل بینک کے چھاپے خانوں سے ردی نوٹ منگوا کر اپنا الو سیدھا کر سکتے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی شرح 1 فیصد بھی نہیں:
http://www.aboardthedemocracytrain.com/less-than-1-percent-of-pakistanis-pay-tax-survey

کاش ویسی انسانیت پھر سے لوٹ آئے نا ،،،،،،، کاش !!!! کیسا با ادب ، نفیس اور مہذب ماحول تھا ،،، سوات ہی نہیں ایسی باتیں پورے پاکستان سے سننے کو ملتی ہیں ،،، وہ دور جب انسانوں کی گنتی درندوں سے زیادہ ہوا کرتی تھی ،،، کتابوں کا وزن سکوں سے بہتا ہوا کرتا تھا !!! ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ !!
اب ایسا ممکن نہیں۔ یہ عالمگیریت کا زمانہ ہے:
http://ur.wikipedia.org/wiki/عالمگیریت
 

arifkarim

معطل
صحیح !! عجیب بات ہے نا ان مزاحیہ حکم ناموں پر عمل کر کے امن قائم رکھا جاتا تھا ،،، جرم تو ختم نہ ہوا مگر احتساب کا عمل گدلا نہ تھا ، اب احتساب کرنے والے خود بے شکل کی بلائیں ہیں ،، اب قانونی عبارات پڑھ کر لُطف نہیں ہوتا ہاں عوام کو عریاں کرتی خبریں سُن کر تو لُطف ہوتا ہی ہو گا نا ؟؟ :)
قانون پر عملداری کا مقصد جرائم کا معاشرے سے مکمل نہ سہی لیکن بہت حد تک خاتمہ مقصود ہوتا ہے۔ اسلامی شرعی سزاؤں کے نفاذ کا بھی یہی مقصد ہے وگرنہ اگر بے مقصد یہ سزائیں نشان عبرت کے طور پر دی جاتیں تو آج پاکستانی قوم کی اکثریت ٹونڈی ہوتی :)
دوسرا کسی بھی قانون کی عملداری کیلئے اسکے نفاذ کرنے والوں کا غیرجانبدارانہ اور خودمختار ہونا ضروری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اسوقت سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور میں جرائم کی شرح سب سے کم ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے بارہ میں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تاریخی طور پر ہر لحاظ سے بہت استحکام والا ملک ہے اسلئے وہاں جرائم اتنے کم ہیں۔ لیکن سنگاپور میں جرائم اسلئے کم ہیں کہ وہاں پر قوانین پر عملداری کروانے والے اور کرپشن پکڑنے والے ادارے حکومت وقت کے نیچے نہیں آتے۔ وہاں بڑے بڑے وزراء سے لیکر خود اس سنگاپورین "نیب" کے آفیسر قانون کے شکنجے میں آکر سزائیں کاٹ چکے ہیں:
http://www.the-star.co.ke/news/article-99222/fighting-corruption-singapore-way
http://www.elist10.com/top-10-countries-lowest-recorded-crime-rate/
 
نہیں ایسا نہیں ۔ سوات ، دیر اور چترال میں سے صرف سوات ہی نے خوشی سے پاکستان سے الحاق کیا۔ باقی ریاستیں بزور شمشیر پاکستان میں مدغم ہوئے

یہ اور بات ہے کہ عوام کی توقعات پوری نہ ہوئیں
ریاست بہاولپور بھی اپنی خوشی اور مرضی سے شامل ہوئی۔
 

آصف اثر

معطل
یہ حکم نامے اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔آج بھی ہمارے بزرگ ریاست ِسوات کی عظمت خصوصاََ تعلیم، صحت اور ذرائع آمد و رفت کےلئے والئ سوات کی خدمات فخر سے بیان کرتےہیں۔
آپ کا تعلق شاید سوات، شانگلہ یا کوز بونیر (لوئیر بونیر) سے لگتا ہے۔ ورنہ "بر بونیر (اپر بونیر)" میں سب کچھ الٹ تھا۔۔۔ بر بونیر میں والئیِ سوات کے ساتھ جو معرکہ بپا ہوا تھا۔ اس سے بہت ہی کم لوگ واقف ہوں گے۔ مزید یہ کہ والئی سوات (دوم) کے جابرانہ احکام کے خلاف بر بونیر میں دو ایسی شخصیات نے (مذکورہ گھمسان کی جنگ کے علاوہ) ایک تحریک چلائی تھی جن میں ایک کا شمار "پیپلز پارٹی" کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھنے سے پہلے انہیں قید وبند کی سزا سنائی گئی۔ جس کے ردعمل میں انہوں نے اپنے آبائی گاؤں کو خیر باد کہا۔ بعد میں انہوں نے دو کتابیں بھی رقم کیں ہیں۔ ان شاء اللہ جب بھی وہ کتابیں ہاتھ لگیں۔ یہاں شریک کروں گا۔ اور بھی کچھ تاریخی باتیں ذہن میں ہیں مگر فی الحال اسی پر اکتفا کافی ہے۔
 

سید فصیح احمد

لائبریرین
آپ کا تعلق شاید سوات، شانگلہ یا کوز بونیر (لوئیر بونیر) سے لگتا ہے۔ ورنہ "بر بونیر (اپر بونیر)" میں سب کچھ الٹ تھا۔۔۔ بر بونیر میں والئیِ سوات کے ساتھ جو معرکہ بپا ہوا تھا۔ اس سے بہت ہی کم لوگ واقف ہوں گے۔ مزید یہ کہ والئی سوات (دوم) کے جابرانہ احکام کے خلاف بر بونیر میں دو ایسی شخصیات نے (مذکورہ گھمسان کی جنگ کے علاوہ) ایک تحریک چلائی تھی جن میں ایک کا شمار "پیپلز پارٹی" کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھنے سے پہلے انہیں قید وبند کی سزا سنائی گئی۔ جس کے ردعمل میں انہوں نے اپنے آبائی گاؤں کو خیر باد کہا۔ بعد میں انہوں نے دو کتابیں بھی رقم کیں ہیں۔ ان شاء اللہ جب بھی وہ کتابیں ہاتھ لگیں۔ یہاں شریک کروں گا۔ اور بھی کچھ تاریخی باتیں ذہن میں ہیں مگر فی الحال اسی پر اکتفا کافی ہے۔
جزاک اللہ محترم !!
 
حکم ناموں میں درج احکامات اپنی جگہ، ہمیں تو اس میں سب سے زیادہ دلچسپی اس کی تاریخی حیثیت کی وجہ سے ہے، نیز زبان و بیان اور انداز تحریر سے، کیونکہ آرکائیونگ ہماری ریسرچ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ :) :) :)
 

سید فصیح احمد

لائبریرین
حکم ناموں میں درج احکامات اپنی جگہ، ہمیں تو اس میں سب سے زیادہ دلچسپی اس کی تاریخی حیثیت کی وجہ سے ہے، نیز زبان و بیان اور انداز تحریر سے، کیونکہ آرکائیونگ ہماری ریسرچ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ :) :) :)
بالکل سعود بھائی ،،، عمل درآمد اور متعلقہ نتائج سے در گزر ان کی حیثیت بیش قیمت ہے !!
 

جمال الدین

محفلین
آپ کا تعلق شاید سوات، شانگلہ یا کوز بونیر (لوئیر بونیر) سے لگتا ہے۔ ورنہ "بر بونیر (اپر بونیر)" میں سب کچھ الٹ تھا۔۔۔ بر بونیر میں والئیِ سوات کے ساتھ جو معرکہ بپا ہوا تھا۔ اس سے بہت ہی کم لوگ واقف ہوں گے۔ مزید یہ کہ والئی سوات (دوم) کے جابرانہ احکام کے خلاف بر بونیر میں دو ایسی شخصیات نے (مذکورہ گھمسان کی جنگ کے علاوہ) ایک تحریک چلائی تھی جن میں ایک کا شمار "پیپلز پارٹی" کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھنے سے پہلے انہیں قید وبند کی سزا سنائی گئی۔ جس کے ردعمل میں انہوں نے اپنے آبائی گاؤں کو خیر باد کہا۔ بعد میں انہوں نے دو کتابیں بھی رقم کیں ہیں۔ ان شاء اللہ جب بھی وہ کتابیں ہاتھ لگیں۔ یہاں شریک کروں گا۔ اور بھی کچھ تاریخی باتیں ذہن میں ہیں مگر فی الحال اسی پر اکتفا کافی ہے۔

میرا تعلق منگورہ شہر سے ہے۔ رہی بات ان معرکوں کی، میں نےسوات کےچند بزرگ شہریوں سے یہ سنا ہے کہ مضافاتی علاقوں کے نواب اور خان، والئ سوات میاں گل جہانزیب کی تعلیم عام کرنے کی پالیسی کے خلاف تھے۔ باقی واللہ اعلم۔
 

arifkarim

معطل
میرا تعلق منگورہ شہر سے ہے۔ رہی بات ان معرکوں کی، میں نےسوات کےچند بزرگ شہریوں سے یہ سنا ہے کہ مضافاتی علاقوں کے نواب اور خان، والئ سوات میاں گل جہانزیب کی تعلیم عام کرنے کی پالیسی کے خلاف تھے۔ باقی واللہ اعلم۔
یقیناً یہ وہی نواب اور زمیندار ہیں جو تحریک پاکستان کے حامی تھے تاکہ اس خطے سے کبھی اس ظالمانہ جاگیردارانہ حکمرانوں کا خاتمہ نہ ہو سکے:
http://en.wikipedia.org/wiki/Feudalism_in_Pakistan
http://en.wikipedia.org/wiki/Establishment_(Pakistan)

جبکہ بھارت کے دوستور اساسی کی پہلی شک ہی میں وہاں جاگیرداری کا خاتمہ کر دیا گیا تھا:
http://en.wikipedia.org/wiki/Indian_feudalism
 
Top