قتیل شفائی رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں - برگد از قتیل شفائی

ماروا ضیا

محفلین
رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں​
اُس کے چہرے کی تلاوت کر رہا ہُوں​
​
لو خریدو اِک نظر کے مول مجھ کو​
اپنی قیمت میں رعایت کر رہا ہُوں​
​
لی ہے ضبط نے مجھ سے اجازت​
اپنے مہمانوں کو رخصت کر رہا ہوں​
​
چِھن گیا مُلکِ جوانی بھی تو کیا غم​
اب بھی یادوں پر حکومت کر رہا ہوں​
​
کوئی بھی غم اُس کو لوٹایا نہیں ہے​
یوں امانت میں خیانت کر رہا ہوں​
​
اُس نے تو بس اک ذرا سی بات چھیڑی​
میں وضاحت پر وضاحت کر رہا ہوں​
​
عشق کر کے آپ بھی بن جائیں انساں​
شیخ صاحب کو نصیحت کر رہا ہوں​
​
عاشقی طوفان گریہ چاہتی ہے​
اور میں آہوں پر قناعت کر رہا ہوں​
​
آسماں جو شخص ہے سب کی نظر میں​
اُس کو چھو لینے کی جُرات کر رہا ہوں​
​
میں نے دیکھا ہے قتیلؔ اُ س کا سراپا​
میں کہاں ذکرِ قیامت کر رہا ہوں​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top