رومان اور خوشبوؤں کی نگری کا ایک سفر

جاسم محمد نے 'اپنا اپنا دیس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 16, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    22,008
    رومان اور خوشبوؤں کی نگری کا ایک سفر
    عبدالصمد سید اتوار 14 اپريل 2019
    فرانس کی ویسے تو کئی چیزیں مشہور ہیں مگر اس کے شہر پیرس کی بات ہی کچھ اور ہے۔(تصاویر بشکریہ بلاگر)

    فرانس کی ویسے تو کئی چیزیں مشہور ہیں جن میں فرنچ ٹوسٹ، فرنچ فرائز، فرنچ خوشبوئیں، اور ایک اور چیز جس کا نام یہاں نہیں لکھا جاسکتا، شامل ہیں۔ مگر اس کے شہر پیرس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ فیشن کا عالمی دارالحکومت برائے فیشن (fashion capital of the world) کا اعزاز رکھنے والا شہر پیرس، فرانس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اپنی جادوئی کشش کے سبب یہ دنیا بھر کے سیاحوں کے پسندیدہ مقامات میں سرفہرست ہے۔ یہ صرف دیکھنے والے کو اپنی جانب متوجہ ہی نہیں کرتا، بلکہ اپنے سحر میں یوں جکڑ لیتا ہے کہ وقت گزر جانے کے بعد بھی اس کی یادوں کو فراموش کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    اپنی منفرد یادگاروں، تعمیرات، عجائب گھروں، باغات، فیشن، جدید و قدیم رنگوں کا امتزاج اسے موجودہ دور میں آباد ہونے والے بلند و بالا عمارات کے حامل شہروں سے ممتاز کرتا ہے۔ پیرس کے سفر کی خواہش بڑے عرصے سے دل میں مچل رہی تھی سو اپنی مصروفیت کو پس پشت ڈال کر ایک دن پیرس میں گزارنے کی ٹھانی۔ گوگل پر تلاشنے سے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ پیرس دیکھنے کےلیے ایک دن بہت ہی کم ہے، پھر بھی ہمارا مقصد پیرس کی مشہور و معروف جگہوں کو دیکھنا تھا جو ایک دن میں حاصل کیا جاسکتا تھا۔

    پیرس میں گھومنے پھرنے کےلیے مختلف ذرائع آمدورفت میسر ہیں۔ ان میں سستا اور تیز ترین میٹرو ٹرین کا ذریعہ ہے۔ اسے استعمال کرنے میں ایک قباحت ہے، اور وہ یہ کہ پھر آپ کی آشنائی پیرس کے ایسے رخ سے ہو سکتی ہے جو کسی طور اچھا نہیں اور اس کا نام ہے گندگی۔ پیرس سے آنے والے بے شمار لوگ ہمیں اس شہر سے اس کی گندگی کی وجہ سے بیزار نظر آئے۔ عین ممکن ہے کہ اس کا تجربہ ہونے کے بعد آپ بھی پیرس کی اچھی جگہوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے بے شمار دیگر سیاحوں کی طرح پیرس کی برائی کرتے نظر آئیں۔ دیگر ذرائع استعمال کرنے کی صورت میں اس کا احتمال کم ہے۔

    دوسرا ممکنہ ذریعہ سائیکل رکشہ ہے۔ مگر کرائے اتنے زیادہ ہیں جو جیب میں شگاف ڈالنے کےلیے کافی ہیں۔ رکشوں کے نام بھی ان کے مالکان نے شاید اسی مناسبت سے رکھے ہیں۔ مثلاّ ایک رکشے کا نام تھا فراری۔ ایک سائیکل رکشے کا ایسا نام دیکھ کر کراچی کی کھٹارہ بسیں یاد آ گئیں، جن کی حالت بے حد ابتر اور ماڈل 1960 کا ہوا کرتا تھا مگر پیچھے جلی حروف میں F16 طیارہ تحریر ہوتا تھا۔

    دریائے سین پیرس کے بیچوں بیچ سے گزرنے والا دریا ہے جس کے کناروں پر پیرس کے بیشتر قابل دید مقامات واقع ہیں۔ اس لیے کشتی کا سفر ایک بہترین ذریعہ ہے۔ بالکل ایک بس یا ٹرین کی طرح، دریائے سین پر چلنے والی کشتیوں کے بھی مخصوص اسٹاپس ہیں جن پر اتر کر مشہور معروف جگہوں تک پیدل رسائی ممکن ہے۔ ہم نے پیرس گھومنے کےلیے اسی راستے کا انتخاب کیا۔ آغاز اس سفر کا مشہور و معروف ایفل ٹاور سے ہوا۔

    ایفل ٹاور

    [​IMG]

    (اسے پہچاننا تو ذرا بھی مشکل نہیں)

    یہ اس جگہ کا نام ہے کہ جسے زندگی میں ایک بار دیکھنے کی خواہش ہر خاص و عام کے دل میں مچلتی ہے – دیکھا جائے تو یہ ٹاور کوئی ایسی غیرمعمولی جگہ نہیں کہ جس کا ثانی اس دنیا میں موجود نہ ہو۔ درحقیقت ایک سے بڑھ کر ایک اچھی تعمیرات اور علاقے اس دنیا میں موجود ہیں۔ مگر شاید تشہیر نے لوگوں کے دلوں میں کچھ ایسا اثر ڈال دیا ہے کہ زندگی میں اسے ایک بار دیکھ لینے کی خواہش نیویارک میں رہنے والی نتالیہ کرتی ہے تو کراچی میں رہنے والا کامران بھی۔ شاید قسمت نے بھی اسے چن لیا ہے اور جسے قسمت چن لے اس کے ستارے سب سے اونچے ہو جاتے ہیں اور اس کا بہترین ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

    ایفل ٹاور کی تاریخ پڑھیں تو یہ دلچسپ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ فرانس کے نامی گرامی مصور اور آرٹ سے شغف رکھنے والے اس ٹاور کی تعمیر کے شدید مخالف تھے۔ اس کی تعمیر کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی تھی۔ کسی نے اسے فیکٹری کی چمنی قرار دیا تو کسی نے اسے فولاد کا بدشکل مجسمہ۔ تمام تر مخالفت کے باوجود اس کی تعمیر سن 1886 میں مکمل ہوئی۔ صرف تین سال بعد ہی اسے بیس لاکھ لوگ دیکھنے آئے۔ تب سے یہ ٹاور اس ملک اور شہر کی پہچان ہے اور ہر سال تقریباً ستر لاکھ لوگ دنیا بھر سے اس کا دیدار کرنے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

    [​IMG]

    (پیرس میں آرٹ کے ایسے شاہکار جا بجا نظر آتے ہیں۔ ایفل ٹاور کے قریب لی گئی ایک تصویر)

    یہ 324 میٹر اونچا دیوقامت مجسمہ پیرس کی بیشتر جگہوں سے نظر آتا ہے۔ ہم نے اسے دور سے بھی دیکھا اور قریب جا کر بھی۔ دن میں بھی دیکھا اور رات میں بھی۔ دن میں تو اس کا نظارہ متاثر کن ہے ہی، رات میں اس کی خوبصورتی کو چار چاند اس وقت لگ جاتے ہیں جب ہر گھنٹے کے آغاز پر پانچ منٹ کےلیے اس ٹاور کی بتیاں جلائی جاتی ہیں۔ بیک وقت جگمگاتے ہزاروں قمقمے ایک ایسا پرکشش اور دلفریب نظارہ پیدا کرتے ہیں جو ہماری نگاہوں نے تو پہلے کبھی نہ دیکھا۔

    نوٹرے ڈیم چرچ

    پیرس کے قابل ذکر مقامات کا تذکرہ نوٹرے ڈیم چرچ کے بغیر نامکمل ہے۔ جی ہاں! یہ وہی چرچ ہے جس کی بابت وکٹر ہیوگو نے اپنا مشہور ناول ’’ہنچ بیک آف نوٹرے ڈیم‘‘ لکھا جس پر بعد ازیں فلمیں اور ٹی وی سیریز بھی بنائی گئیں۔ گوتھک طرز تعمیر کی یہ شاہکار عمارت بارہویں صدی سے چودھویں صدی تک اپنی تعمیر کے مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچی۔ اس عمارت کی شان و شوکت باہر سے ہی قابل دید ہے۔

    [​IMG]

    (نوٹرے ڈیم چرچ کا بیرونی منظر)

    اندر داخل ہونے کےلیے ٹکٹ کی ضرورت نہیں اور تصویریں اتارنا بھی ممنوع نہیں۔ چھتیں اور دیواریں باریک اور نفیس نقش و نگار سے مزیّن ہیں۔ خوبصورت مجسمے بھی جابجا نظرآئے جنہیں ہم کیمرے کی آنکھ میں قید کرتے رہے۔ چرچ اتنا وسیع اور دلچسپی کے اتنے سامان رکھتا ہے کہ گھنٹوں اس میں گزارے جاسکیں۔ مشینوں سے کچھ پیسوں کے عوض یادگاری سکے بھی نکالے جاسکتے ہیں جن پر اس عمارت کا ڈیزائن کندہ ہے۔ گو کہ یہ چرچ اب سالانہ ایک کروڑ سے زائد سیاحوں کا استقبال کرتا ہے مگر ہمیشہ ایسا نہ تھا۔ اس کی قسمت کے ستارے وکٹر ہیوگو کے تحریر کردہ ناول کے بعد ہی چمکے جس نے ایک دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا۔ بہت ساری زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا اور اس کا تعارف دنیا تک پہنچا۔ اس کے بعد ہی ناقدری کی شکار یہ عمارت بھی حکومتی توجہ کا مرکز ٹھہری۔

    [​IMG]

    (چرچ کا اندرونی منظر)

    [​IMG]

    (چرچ کی عمارت کے اندرونی حصے بیشمار مجسموں سے آراستہ کیے گئے ہیں)

    لوور میوزیم

    آرٹ میں ہماری دلچسپی اور اس سے واقفیت کی سطح واجبی سے ہے؛ اور ہمیں اس کا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں۔ مگر پیرس کی سیر اس میں موجود دنیا کے سب سے بڑے لوور میوزیم کی سیر کے بغیر نامکمل ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ عجائب گھر پچھلے زمانوں میں بادشاہوں کا محل ہوا کرتا تھا۔ 72 مربع کلومیٹر پر محیط یہ وسیع و عریض عجائب گھر اڑتیس ہزار سے زائد فن پارے اور نوادرات رکھتا ہے جن کا تعلق تاریخ کے مختلف ادوار سے ہے۔ یہاں آپ کو مصری، ایرانی، عراقی، یونانی، رومن ادوار کی تاریخی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی جبکہ اسلامی تہذیب کی نمائش کےلیے بھی ایک حصہ مخصوص ہے۔ مجسمہ سازی مغربی ثقافت کا اہم جز ہے اور اس جگہ ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار تخلیق موجود ہے۔ آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کہ اس عجائب گھر کو دیکھنے کےلیے ایک دن کیا ایک ہفتہ بھی نا کافی تھا۔ در حقیقت ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا فاصلہ ہی چودہ کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ بغیر رکے چلتے رہیں تو چار سے پانچ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ جو ایک نا تواں کےلیے مشکل کام ہے۔

    [​IMG]

    (بھیگا بھیگا سا لوور میوزیم اور سیاحوں کا مجمع)

    [​IMG]

    (میوزیم کا ہر گوشہ فن کا نادر نمونہ ہے)

    [​IMG]
    (میوزیم میں موجود دلچسپ دیوقامت مجسمے جن کے چہرے کہانی سناتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں)

    ان ساری چیزوں سے قطع نظر جو چیز ہمیں لوور میں لے کر گئیں، وہ کوئی اور نہیں مونا لیزا کی تصویر تھی۔ مونا لیزا کےلیے یہ دلچسپی اور جنون ان ساری باتوں، کتابوں کا پیدا کردہ تھا جو ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے چلے آئے تھے۔

    اس کےلیے ہمیں وہ انتظار بھی منظور تھا جو ہم نے بیچ ایک نہ ختم ہونے والی بارش کے دو گھنٹے تک قطار میں لگ کر کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ قطار سے بچنے کا دوسرا راستہ یہ تھا کہ پیشگی ٹکٹ انٹرنیٹ کے ذریعے خرید لیا جائے۔ مگر ایسا نہ کرنا ہی ہمارے لیے بہتر ثابت ہوا۔ اندر داخل ہونے کے بعد ٹکٹ کاؤنٹرکی تلاش میں نظریں دوڑا ہی رہے تھے کہ ایک آدمی نما فرشتہ کہیں سے برآمد ہوا۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ہم ٹکٹ کی تلاش میں ہیں۔ اس نے چار ٹکٹ ہمیں پکڑا دیئے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کا شکریہ ادا کرتے وہ یہ جا وہ جا۔

    سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
    ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

    شاید صحیح یاد پڑتا ہے تومونا لیزا سے پہلی بار آگہی اردو کے کورس میں شامل ایک سبق سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد لوگوں سے سنتے ہوئے تاثر قائم ہوا کہ شاید مونا لیزا کی مسکراہٹ اس کائنات کی سب سے خوبصورت مسکراہٹ ہے۔ تاہم جب پہلی بار اس کی تصویر دیکھنے کا اتفاق ہوا تو خاصی حد تک مایوسی ہوئی۔ ابن انشاء نے بھی ایسی مایوسی کا شکار ہو کر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے، اپنی کتاب ’’دنیا گول ہے‘‘ میں اسے یوں بیان کیا ہے:

    ’’مونا لیزا کا سنا تھا اور اسی کی تلاش تھی۔ اور صاحبو پروپیگنڈا بڑی چیز ہے۔ ہم نے اسے دور سے دیکھا اور پاس سے دیکھا جی بہت کڑا کیا۔ لیکن صاحبو! آپ نے بھی یہ تصویر دیکھی اس میں کونسی خاص بات ہے؟ ایک عورت ہے اس کے جسم میں کسی طرح کی موزونیت نہیں۔ ایک چہرہ ہے جس پر کسی طرح کے جذبات نہیں۔ ادب شرط منہ نہ کھلوائے ایک بار کسی نے اسے چڑھا دیا باقی لوگ تقلیداً مکھی پر مکھی مارتے گئے۔‘‘

    [​IMG]

    (تھی جس کی ہمیں تلاش وہ شاہکار مل گیا۔ ڈی ونچی کی مونا لیزا)

    سو ہمیں بھی کوئی توقعات باقی نہ رہیں۔ بس قریب سے دیکھنے کی خواہش تھی۔ داخل ہونے کے بعد کوئی پون گھنٹے کی مسافت اس ہال میں لے گئی جہاں مونا لیزا کی تصویر تھی۔ اس ہال میں اور بھی تصاویر تھیں جو فنی لحاظ سے نفیس اور ایک عامی کی نگاہ کےلیے بھی پر کشش تھیں، ان دیگر شاہکاروں کی طرح جو اس عجائب گھر میں رکھے ہوئے تھے۔ تاہم لوگوں کا ہجوم صرف مونا لیزا کی تصویر کے گرد اکٹھا تھا۔ اسی ہجوم میں سے راستہ بنا کر جس قدر قریب پہنچنے کی اجازت تھی وہاں پہنچے۔ تصویر اتاری اور مونا لیزا کے ساتھ ایک ’’مونلفی‘‘ لی۔ دل میں نعرہ لگایا کہ آخرکار دیکھ ہی لیا وہ شاہکار۔ مگر اہم یہ تھا کہ جسے انگریزی میں کہتے ہیں ‘’’بِین دیئر، ڈن دیٹ!‘‘

    پیرس کے کچھ متفرقات

    [​IMG]

    (نپولین کا مقبرہ)

    [​IMG]

    (پارک میں موجود ایک دیو قامت جھولا)

    لوور میوزیم سے باہر نکلیں تو ایک سیدھا راستہ آپ کو پیرس کی مشہور شانزے لیزے اسٹریٹ تک لے جائے گا۔ وسیع و عریض پارکوں میں بنے ہوئے طویل راستے آپ کو اصل پیرس سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہی سے گزرتے ہوئے پیرس کا معروف ’’اسکوائر ڈی لا کوںکوردے‘‘ آتا ہے جو فرانس کی خونی تاریخ کے متعدد مدوجزر کا شاہد ہے۔ اجتماعی پھانسی دینے کی مشین المعروف گلوٹین اس چوک پر چلا کرتی تھی جہاں انقلاب فرانس کے دوران بادشاہ لوئی 16 سمیت اشرافیہ کے متعدد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

    [​IMG]

    (معروف ڈی لا کوںکوردے میں لگا ایک فوارہ)

    اس کی مغربی سمت میں تقریباً دو کلو میٹر طویل شانزے لیزے اسٹریٹ کا آغاز ہوتا ہے۔ دنیا کے سارے بڑے برانڈز کے اسٹور اس فیشن ایونیو کے دونوں اطراف میں واقع ہیں۔ بعض مخصوص حصوں پر ہجوم اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ پیدل چلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس شاہراہ کے اختتام پر آرک ڈی ٹرائمف آتا ہے جو نپولین کی فتوحات کی یادگار ہے۔

    [​IMG]

    (آرک ڈی ٹرائمف، نپولین کی فتوحات کی یاد میں تعمیر کردہ ایک عمارت)

    اس جگہ پر آ کر کھڑے ہوں تو یہاں سے بارہ راستے شہر کے مختلف مقامات پر نکلتے ہیں۔ یہیں سے ایک راستہ ایفل ٹاور کو بھی نکلتا ہے۔ ایک یادگاراس زیر زمین سرنگ کے قریب بھی بنائی گئی ہے جہاں لیڈی ڈیانا کی کار حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ یہاں لوگ آج بھی شہزادی کی یاد میں پھول رکھ جاتے ہیں۔ یہ یادگار ٹھیک ایفل ٹاور کے مخالف سمت میں دریائے سین کی دوسری طرف موجود ہے۔ یہاں پہنچ کر ہماری پیرس یاترا کا بھی اختتام ہوا۔

    [​IMG]

    (ٹھیک اسی جگہ لیڈی ڈیانا کی کار کو حادثہ پیش آیا۔ لوگ آج بھی یہاں پھول رکھ کر شہزادی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں)

    [​IMG]

    (ایفل ٹاور: جس کی خوبصورتی کو رات میں چار چاند لگ جاتے ہیں)

    آخری بات: فرانس وہ ملک ہے جہاں سیاحت کےلیے آنے والے لوگوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ رہتی ہے۔ ان میں زیادہ تر لوگ صرف ایفل ٹاور کی کشش میں اور مونا لیزا کی تلاش میں کھنچے چلے آتے ہیں۔ اپنی تصویریں اتار کر فخر سے سوشل میڈیا پر لوگوں سے بانٹتے ہیں۔ جیسے پہلے عرض کیا، ایفل ٹاور دنیا کی سب سے خوبصورت اور اونچی تعمیر نہیں۔ شاید سو سال پہلے ہوگی مگر آج سے اس کا موازنہ کریں تو یہ دوسری تعمیرات کے مقابلے میں بونی اور کسی حد تک کم خوبصورت بھی ہے۔

    مگر یہی چیز برانڈنگ ہے جو کھینچ کھینچ کر لوگوں کو دنیا کے کونے کونے سے لے آتی ہے۔ اسی تشہیر اور ہائپ کی وجہ سے پیرس شہر اب خوشبو، رومانویت، اور فیشن کا استعارہ ہے۔ یقیناً اس میں کچھ عمل دخل قسمت کا بھی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے عجائب گھر لوور کے نام سے شاید ہی کوئی واقف نہ ہو۔ اس میں ازمنہ قدیم کے تاریخی نوادرات سے لے کر اکیسویں صدی تک کے فن پارے، مصوری کے عظیم شاہکار سمیت اڑتیس ہزار فن پارے ایک طرف اور مونا لیزا ایک طرف۔ دنیا ان سب سے بے پرواہ اور صرف مونا لیزا کے سحر میں گرفتار۔ قسمت بھی شاید لیونارڈو ڈی ونچی کی اس تخلیق پر مہربان ہوگئی ہے۔

    مگر قسمت بنانے کےلیے بھی میدان میں اترنا پڑتا ہے۔ تالیاں بجاتا ہوا تماشائی کبھی دوڑ نہیں جیت سکتا۔ میدان میں اتر کر محنت کرنی پڑتی ہے اور پھر کسی لمحے قسمت کو آپ پر پیار آجاتا ہے۔

    میرے یہ اختتامی الفاظ پاکستانی سیاحتی مقامات کےلیے ہیں جنہیں اس میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔ بائیس کروڑ کی آبادی اور آٹھ لاکھ مربع میل کا رقبہ رکھنے والے ملک کے جنت نظیر مقامات دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ مجھے ایک امریکن ٹی وی سیریز کی ایک قسط کا منظر یاد آ رہا ہے جس میں اسلام آباد کو ایک ٹوٹا پھوٹا شہر بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ ایک ایرانی کولیگ بھی یاد ہے جس نے ایئربلیو کے حادثے کے بعد جب ویڈیو دیکھی تو مارگلہ کی خوبصورتی دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ بعد میں مجھ سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں پتا تھا پاکستان اتنا خوبصورت ہے۔ وہ ایک ناخوشگوار اور افسوس ناک حادثہ تھا مگر وہ بھی ایک وجہ بن گیا تھا کہ لوگ اپنے تاثر والے نہیں بلکہ اصل پاکستان کو دیکھ سکیں۔ ہماری پانچ ہزار سال پرانی تہذیب، ہمارے ساحل، ہمارے ہمالیہ کے پہاڑ، ہمارے ملک کو جنوب سے لے کر شمال تک ایک مکمل پیکیج بناتے ہیں۔ ہم اس پیکیج کو کب ایک برانڈ بناکر دنیا کے سامنے پیش کرسکیں گے؟ نہیں معلوم!

    نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
    ---
    اپڈیٹ: نوٹرے ڈیم کا تاریخی چرچ آج ہم میں نہیں رہا
    محمد خلیل الرحمٰن
     
    • زبردست زبردست × 3
  2. سیما علی

    سیما علی محفلین

    مراسلے:
    2,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جناب خلیل صاحب !!!!!
    بہت شاندار اور معلوماتی :flower:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    549
    موڈ:
    Breezy
    محترم جاسم محمد صاحب تارڑ صاحب کے ایک سفر نامے غالباََ "نکلے تیری تلاش میں" کے اندر ڈنمارک کے ایک قصبے "اوڈنزے" کے بارےمیں پڑھا تھا کہ وہاں اینڈرسن نام کا کوئی بہت بڑا لوک داستان گو ،کہانی کار گزرا ہے کچھ اس بارے میں بھی شریک فرمائیں دراصل اس کہانی کار کی اپنی زندگی کی کہانی بہت مزیدار لگی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. سیما علی

    سیما علی محفلین

    مراسلے:
    2,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جناب جاسم صاحب!!!!
    زبردست اور معلوماتی
    مستنصر حسین تارڑ صاحب پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہے۔ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں اب تک 50 سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں اور گلگت بلتستان کے بارے میں تقریباً (12)کتابیں لکھی جو تمام سفر ناموں پر مشتمل ہے ۔ جیسے کہ "کے ٹو " " یاک سرائے " "ننگا پربت" "ہنزہ داستان "وغیرہ ہیں۔ گلگت بلتستان کے اوپر لکھی گئی سفرناموں میں انہوں نے گلگت بلتستان کی تاریخ ،ثقافتوں ،وادیوں ،پہاڑ وں، ندیوں اور ہر ایک جگے کو خوبصورتی کے ساتھ اپنے سفرناموں میں بیان کیا ہے ۔ "گلگت بلتستان میرے اندر بستاہے " "وہاں کی ٹھنڈی ہوائیں میری سانس اکھڑ نے نہیں دیتی" "یہ میرے لوگ ہیں " یہ کہنے والا کوئی اور نہیں مستنصر حسین تارڑ ہے۔ غرض مستنصر حسین تارڑ کا ہر سفر انوکھا اور داستان پر ہے ۔ ان کے سفرناموں نے گلگت بلتستان کی ٹورازم بڑھانے میں بے انتہا مدد کی ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے پہلے ادیب ہیں جنہوں نے گلگت بلستان کے بارے میں اتنا کچھ لکھا ہے ۔ انکی ہر کتاب ایک نشست میں پڑھنے کا اصل لطف ہے ۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 16, 2020
  5. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    2,271
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یہ مراسلہ خلیل الرحمن سر نے پوسٹ نہیں کیا ہے :) یہ جاسم محمد بھائی ہیں
     
    • متفق متفق × 1
    • غمناک غمناک × 1
  6. سیما علی

    سیما علی محفلین

    مراسلے:
    2,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جی غلطی سے جاسم صاحب کے بجائے خلیل صاحب کانام لکھ دیا:crying3:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2

اس صفحے کی تشہیر