"روزہ کی اہمیت و افادیت"

ایم سعدی

محفلین
"قرآن کریم کی روشنی میں روزہ کے اغراض و مقاصد:"

* یہ کہ مسلمان اللہ تعالی کی کبریائی اور اس کی عظمت کا اظہار کریں.
* ہدایت الہی ملنے پر خدائے کریم کا شکر بجا لائیں کہ اس نے پستی وذلت کے عمیق غار سے نکال کر، رفعت و عزت کے اوج کمال تک پہنچایا.
* یہ کہ مسلمان پرہیزگار بنیں اور ان میں تقوی پیدا ہو.
"تقوی" دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک محسوس ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بیتابانہ تڑپ ہوتی ہے اور روزہ کا مقصود یہ ہے کہ انسان کے اندر یہی کیفیت پیدا ہو.

دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہ سکتے ہیں کہ روزے، خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم کر دیتے ہیں. جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور خدا کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی اجاگر ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آتا. اور یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان، خدا کے حکم کی وجہ سے حرام و ناجائز اور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرأت نہ کرے گا. اسی اخلاقی برتری کو ہم تقوی کہتے ہیں.

"احادیث مبارکہ کی روشنی میں روزہ کے فضائل:"

* جب رمضان آتا ہے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں. اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں. (بخاری و مسلم)
* جنت میں آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ کا نام "ریان" ہے. اس دروازے سے وہی جائیں گے جو روزہ رکھتے ہیں. (ترمذی)
* روزہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں. ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملنے کے وقت. اور روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ رب العزت کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ اور خوشبودار ہے. (بخاری و مسلم)
* رمضان المبارک وہ مہینہ ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے. دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے. اور اس کا تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے. (بیہقی)
* روزہ خالصتا اللہ رب العزت کیلئے ہے اس کا ثواب اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا. (طبرانی)
* ہر شے کیلئے زکوة ہے اور بدن کی زکوة روزہ ہے اور نصف صبر ہے. (ابن ماجہ)
* روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی. (بیہقی)
* اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو. (ابن خزیمہ)
* اللہ رب العزت رمضان میں ہر روز دس لاکھ بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور جب رمضان کی انتیسویں رات ہوتی ہے تو مہینے بھر میں جتنے آزاد کئے ان کے مجموعہ کے برابر اس ایک رات میں آزاد فرماتا ہے. پھر جب عید الفطر کی رات آتی ہے تو ملائکہ خوشی کرتے ہیں اور اللہ جل مجدہ اپنے نور کی خاص تجلی فرماتا ہے اور فرشتوں سے فرماتا ہے:
"اے میرے ملائکہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جس نے کام پورا کر لیا؟ "
فرشتے عرض کرتے ہیں "اس کو پورا اجر دیا جائے."
اس پر خالق کائنات جل مجدہ فرماتا ہے:
"میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا." (اصبہانی)

روزہ جسے عربی میں صوم کہتے ہیں اس کے معنی ہیں "رکنا اور چپ رہنا."
قرآن کریم میں "صوم" کو صبر سے تعبیر کیا گیا ہے. جس کا خلاصہ ضبط نفس، ثابت قدمی اور استقلال ہے. اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک روزہ کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی نفسانی ہوا و ہوس اور جنسی خواہشوں میں بہک کر غلط راہ پر نہ پڑے اور اپنے اندر موجود ضبط اور ثابت قدمی کے جوہر کو ضائع ہونے سے بچائے.

لیکن اصطلاح شریعت میں "مسلمان کا بہ نیت عبادت، صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے آپ کو قصدا کھانے پینے اور جماع سے باز رکھنے کا نام روزہ ہے."
دین اسلام میں روزہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے چوتھا رکن ہے.
اور اللہ رب العزت نے روزہ کی صورت میں حضرت انسان کو جن فوائد سے نوازا ہے وہ یہ ہیں:

* روزے جسمانی صحت کو برقرار رکھتے بلکہ اسے بڑھاتے ہیں
* روزے رکھنے سے دل کی پاکی، روح کی صفائی اور نفس کی طہارت حاصل ہوتی ہے.
* روزے، دولت مندوں کو، غریبوں کی حالت سے عملی طور پر باخبر رکھتے ہیں.
* روزے، شکم سیروں اور فاقہ مستوں کو ایک سطح پر کھڑا کر دینے سے قوم میں مساوات کے اصول کو تقویت دیتے ہیں.
* روزے، ملکوتی قوتوں کو قوی اور حیوانی قوتوں کو کمزور کرتے ہیں.
* روزے، جسم کو مشکلات کا عادی اور سختیوں کا خوگر بناتے ہیں.
* روزوں سے بھوک اور پیاس کے تحمل اور صبر و ضبط کی دولت ملتی ہے.
* روزوں سے انسان کو دماغی اور روحانی یکسوئی حاصل ہوتی ہے.
* روزے بہت سے گناہوں سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں.
* روزے نیک کاموں کیلئے اسلامی ذوق و شوق کو ابھارتے ہیں.
* روزہ ایک مخفی اور خاموش عبادت ہے جو ریا و نمائش سے بری ہے.
* قدرتی مشکلات کو حل کرنے اور آفات کو ٹالنے کیلئے روزہ بہتریں ذریعہ ہے.

اس کے علاوہ بھی روزہ کے بہت سے فوائد ہیں جن کا قرآن و حدیث میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر آیا ہے. امت مسلمہ کو اس وقت دین اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے اسی میں ہی مسلمانوں کی بقا ہے. اللہ رب العزت ماہ مقدس کی شایان شاں عزت و تکریم کی توفیق عطا فرمائے اور حقیقی معنوں میں روزہ اہمیت اور افادیت کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے.
(تحریر: ایم سعدی)
 
Top