رابعہ کیا ہے؟

ربیعہ کا نشام جس کثرت سے استعمال کیا گیا، اسکا فائدہ یہ ہوا، یہ بہت سے لوگ جن کی توجہ اس طرف نہیں تھی وہ پوچھنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ کیا ہے، جب انکو بتایاجاتا ہے تو پھر وہ بھی تاسف کا اظہار کرتے ہیں اور امریکہ اسرائیلی و یورپی پالیستی کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں، تو جن احباب نے ابھی تک اس لوگو کو نہیں اپنایا بوجہ ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنی پروفائل پکچر کے طور پر اس نشان کو لگا کر مصری بھائیوں کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو جاویں، یہ کم سے کم ہوگا

اقتباس از فیس بک @ افتخار راجہ


دراصل افتخار راجہ یورپ میں رہتے ہیں شاید اٹلی میں۔
اس طرح کے ممالک میں رہنے والے عجیب المیے سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہ اسلام پر عمل بھی کرنا چاہتے ہیں اورمقامی ثقافت میں بھی ایڈجسٹ ہوناچاہتےہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں عام مذہبی لوگوں کی مذہب سےلگاوٹ زیادہ ہوجاتی ہے لہذا ان کے لیے اسان ہے کہ وہ اس طرح کے نشانوں کوا پنا کر اپنی اٹیچمنٹ اسلام سے رکھیں اور مقامی لوگوں کو بھی اگاہ کریں۔ بس۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اصل میں حالات اس سے بہت زیادہ متقاضی ہیں کہ صرف یہ نشان پروفائل میں لگاکر اپنے ضمیر کو مطمئن کریں۔ اپنے پوری زندگی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے
 

محمداحمد

لائبریرین
دراصل افتخار راجہ یورپ میں رہتے ہیں شاید اٹلی میں۔
اس طرح کے ممالک میں رہنے والے عجیب المیے سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہ اسلام پر عمل بھی کرنا چاہتے ہیں اورمقامی ثقافت میں بھی ایڈجسٹ ہوناچاہتےہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں عام مذہبی لوگوں کی مذہب سےلگاوٹ زیادہ ہوجاتی ہے لہذا ان کے لیے اسان ہے کہ وہ اس طرح کے نشانوں کوا پنا کر اپنی اٹیچمنٹ اسلام سے رکھیں اور مقامی لوگوں کو بھی اگاہ کریں۔ بس۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اصل میں حالات اس سے بہت زیادہ متقاضی ہیں کہ صرف یہ نشان پروفائل میں لگاکر اپنے ضمیر کو مطمئن کریں۔ اپنے پوری زندگی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے

بات اگر شخصیت کے بجائے موضوع پر کی جاتی تو اچھا تھا۔

مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ صرف یہ نشان پروفائل پر لگا کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ تاہم یہ اپنی اپنی صوابدید ہے کہ یہیں پر بس کردیا جائے یا اس سے آگے بھی دیکھا جائے۔ جسے آپ کُل سمجھ رہے ہیں وہ ایک آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سمت کا تعین ہے کہ آپ کا رُخ کس طرف ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ "یکجہتی" کا نشان ہے۔

کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے یکجہتی سب سے اہم چیز ہے۔
 
بات اگر شخصیت کے بجائے موضوع پر کی جاتی تو اچھا تھا۔

مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ صرف یہ نشان پروفائل پر لگا کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ تاہم یہ اپنی اپنی صوابدید ہے کہ یہیں پر بس کردیا جائے یا اس سے آگے بھی دیکھا جائے۔ جسے آپ کُل سمجھ رہے ہیں وہ ایک آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سمت کا تعین ہے کہ آپ کا رُخ کس طرف ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ "یکجہتی" کا نشان ہے۔

کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے یکجہتی سب سے اہم چیز ہے۔

موضوع پر ہی کی ہے ۔ وہ توصرف ایک پس منظر بیان کیا تھا

اپ کی بات کا جواب ادھار رہا
 

آصف اثر

معطل
ترکی کا موجودہ صدر کچھ غنیمت ہے مگر اپ شاید ترکوں سے ملے نہیں ہیں یا ترکی کا دورہ نہیں کیا ہے۔ اپ ترکوں کو قریب سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ قوم بے حد مغرور ہے۔ میر اخیال ہے قوم پرستی میں ترک قوم کا کوئی ثانی نہیں۔ انتہائی تند خو ہے۔ قوم پرستی میں اتنی زیادہ ہے کہ عربی رسم الخط ترک کردیا ۔ ایک عرصہ تک ترکی میں عربی زبان میں اذان پر پابندی رہی ہے۔ اکثر ترکیوں کو عربی پڑھنی نہیں اتی۔ اگر ان کا تعلق شہروں سے ہے تو عربی جاننے کی کوئی امید نہیں ۔ البتہ گاوں کے لوگ قران عربی میں پڑھ سکتے ہیں

ترک عرب دشمن ہیں۔ ایک بڑی تعداد سیکولر لامذہب ہے۔ اور جو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں وہ مذہب کی تعلیمات کو اپنی نظر سے توڑ مروڑتے ہیں۔ ان کی نئی نسل اخلاق باختہ ہے۔

البتہ موجودہ صدر اور وزیر اعظم کچھ بہتر ہیں۔ مگر پھر بھی ان کا طریقہ کار یہ ہی ہے کہ بجائے عمل کے صرف امیج سازی کی جائے۔ ترکی نے مصر کے موجودہ حالات میں کچھ خاص مدد نہیں کی ہے نہ ہی اپنے تعلقات امریکہ سے کشید ہ کیے ہیں نہ اسرائیل سے۔ یہ کیسا ملک ہے جو مسلمانوں کے دشمنوں سے قریبی تعلقات بھی بحال رکھتا ہے اور یہودیوں جیسے نشانات کے ذریعہ مسلمانوں کو گمراہ بھی کرتا ہے
آپ نے اس مراسلے میں جو باتیں کی ہیں۔ کسی حد تک حقیقت آشنا ہیں۔ مگر شک جو میرا ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے موجودہ ترک عوام کے کسی خاص طبقے سے مل کر یا اُن کے موجودہ احوال یک طرفہ طور پر پڑھ کر یہ رائے قائم کی ہے۔ جو اپنی حد تک ٹھیک ہے مگر ہوسکتا ہے آپ نے وہ وجوہات نہیں پڑھی ہوں جن کہ سبب ایسے حالات یا اذہان وجود میں آئے۔ پہلی بات ان کے غرور کی ہے۔ غرور ہر فاتح قوم میں سرائیت کر جاتاہے۔جو کہ ان کے لیے بالآخر تباہی کا پیغام لے کر آتاہے۔ترک قوم نے ایک عرصے تک مسلمانوں کی نمائندگی کی ہے جسے ہمیں احترام کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔آخر انہوں نےاسلام کے بول بالے کے لیے عربوں سے زیادہ کوششیں کی۔ یعنی جب کوششوں کا پلڑا ترکوں کا وزنی ہوا تو اقتدار ان کو ملا۔ مگر جیسے جیسے اُن میں تکبر ،غرور اور اسلامی تعلیمات سے بے رُغبتی نےپاؤں جمائے ان کی ہوا اکھڑ گئی۔ ساتھ ساتھ ہمیں پہلی جنگ عظیم کے حالات بھی دیکھنے ہوں گے۔اب یہ کہناکہ غرور کے سبب تُرک قوم نے عربی رسم الخط ترک کیا یہ ٹھیک نہیں۔ بلکہ اس کی وجہ مصطفی کمال اتاترک کی وہ سخت ترین پابندیاں تھی جن کی وجہ سے ان کو عربی رسم الخط (اور اس کے نتیجے میں اپنی شاندار ماضی کے حقیقی رکارڈ )سے ہاتھ دھونے پڑے۔ مزید اذان پر پابندی بھی مصطفی کمال اتاترک کی پالیسی تھی، نہ کہ ترک قوم کی۔اتاترک کے" نوجوانانِ ترک "نے اسلام کے لیے اس خطے کو جتنا تنگ کیا اتنا کسی اور ملک میں نہیں ہوا۔لٰہذا عربی نہ پڑھ سکنے کا بڑاتعلق صرف انہیں وجوہات سے ہے۔ نہ کہ غرور وتفاخر سے۔پاکستان میں کتنے پڑھے لکھے لوگوں کو عربی آتی ہےیہ بھی سوچنے کی بات ہے۔
چوں کہ موجودہ اسلامی پارٹی کی پالیسی "کیچوے کی چال" کی بنیاد پر قائم ہے لہذا وہاں بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر آرہی ہیں۔ آپ نے شایدحکمران پارٹی"انصاف و ترقی "کے دور کے حالات کا بخوبی جائزہ نہ لیا ہو۔ جہاں مصطفی کمال اتاترک کے تمام نظریات و پابندیوں کو آہستہ آہستہ ختم کیا جارہاہیں۔آج اگر اس ملک کے اسلامی معاشرتی تشخص کو دیکھا جائے تو ہمیں افسوس کے بجائے بے حد خوشی ہوگی۔آج کی ترکی پہلے کی نسبت بہت زیادہ بابرکت ہے۔یہ سب نمایاں طور پر اس وجہ سے بھی زیادہ نظر نہیں آتا کہ مصطفی کمال سے لیکر اب تک تقریبا 90سال کم وبیش کا عرصہ انتہائی زور زبردستی کا رہاہے۔جس کے باعث یہ کام اتنا جلدی ممکن نہیں ہوسکتا،جب کہ ہر وقت ان کی حکومت گرانے کی سازشیں بھی عالمی سطح پر ہورہی ہوں۔
جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ"ترک عر ب دشمن ہیں "تو یہ بات بھی تاریخ کے نہ پڑھنے کا سبب ہوسکتی ہے۔اس سے انکار نہیں کہ اتنی بڑی قوم میں کچھ حصہ تو ایسے لوگوں کا ضرور ہوگا،مگر ساری قوم کواس کھاتے میں ڈالنا ناانصافی ہے۔جب کہ مصطفی کمال اتاترک کے سیکولر حلقے کی ان کوششوں کو دیکھ کر ،جن کی وجہ سے انہوں نے اپنے طویل اورسخت باعمل دور میں ترکوں کو عربوں سے متنفر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، تاکہ پھر یہ دونوں قومیں ایک بازو نہ ہوجائے، اور دوسری طرف عرب طاقتور قوم پرستوں نے اپنے زیرِ نگیں عربوں کو یورپی سازشوں کی بدولت ترکوں سے اتنا بد ظن کیا کہ ان کے اثرات بعد کے حالات پربُری طرح پڑے۔
دوسرا سبب ترکی کی "عرب مخالف" (مگر غیرقوم پرست)طبقے کے سوچ کایہ ہے کہ عرب قوم پرستوں (جو آج برسرِاقتدار ہیں ) نے پہلی جنگ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کرنے میں جتنا حصہ ڈالا ہے اتنا تُرکیوں کی اپنی کوتاہیوں نے بھی نہیں ڈالا ہوگا۔اوران کا یہ سوچ بھی صرف ان عربوں کے خلاف ہے جو اس پارہ سازی کا سبب بنے۔
آخر میں"ان کی ایک بڑی تعداد سیکولر لامذہب ہے،مذہبی تعلیمات کو توڑ مروڑتے ہیں اور نئی نسل اخلاق باختہ ہے،" کی باتیں رہ گئی تو جب تک مصطفٰی کمال اتاترک کے نافذ کردہ سیکولرازم اور اسلام مخالف پالیسیوں کے اثرات کا بغور مطالعہ نہ کیا جائے یہ آسان اندراجات سمجھ میں اس وقت تک نہیں آسکتی ۔
موجودہ حالات میں حکمران جماعت نے امریکہ سے تعلق خراب نہیں کیا تو اس کا سبب ترکی کی محلِ وقوع،ماضی کی فوجی بغاوتیں، طاقت ورسیکولر عناصر کی خطرناک بین الاقوامی ریشہ دوانیاں، اور "فائدہ ونقصان " کے تناسب کو دیکھنا ہے۔ جب سب کچھ امریکہ سے تعلق خراب کیےکے باوجود بحسن وخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ رہا ہے تو آخر اسے خراب کیوں کیا جائے؟ ایک تیر سے ایک شکار کے مقابلے میں ایک تیر سے دو شکار اچھے ہوتے ہیں۔لیکن یہ منافقت ہر گز نہیں ، انہوں نے ہر سطح پر اپنی قوت کی مناسبت سے امریکہ کے ہر غلط فیصلے کی کھلم کھلا مخالفت بھی کی ہے۔جب کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی اب وہ نہیں رہے جو پہلے تھے۔نہ پہلے اور نہ آج انہوں نے فلسطین کے خلاف تعاون کیا ۔تجارت اور فوجی مشقوں میں ان کا فائدہ زیادہ ہے اس وجہ سےہی انہوں نے یہ پالیسی اپنائے رکھی۔ فلسطین ہو یا شام، مصر ہو یاعراق انہوں نے تمام "مسلم" ممالک کے حکمران پارٹیوں سے زیادہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کی ہے۔ آخر ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ پر بھی حملہ کردے، اسرائیل کو تباہ کرے، شام پر بھی چھڑائی کرے، اور ایک طویل عرصے تک لادین عناصر کے زیر تسلط رہنے والی باشعور قوم کو بھی کامیابی کے ساتھ اسلامی دائرے میں لے آئے۔ یہ اتنا آسان نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ان کی اپنی کامیاب پالیسی ہے جو ابھی تک جاری ہے۔ سب کچھ بہتر طور پر ہورہا ہے، ہمیں ان کے ہر اچھے اور دینی کوشش کو عزت اور ستائش کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔غلطیاں سب میں ہیں لیکن جہاں اتنی کامیابیوں کے ساتھ ایک دو غلطیاں ہوں تو ان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شاید ہمیں زیب نہ دیں۔ آج ترکی اپنی اپنی حد تک دو طاقتور طبقوں پر مشتمل ہے، اسلام پسند اور سیکولر۔ لہذا کوئی رائے قائم کرتےوقت اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے۔
کمی کوتاہی کے لیے معذرت۔
والسلام۔
 
آپ نے اس مراسلے میں جو باتیں کی ہیں۔ کسی حد تک حقیقت آشنا ہیں۔ مگر شک جو میرا ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے موجودہ ترک عوام کے کسی خاص طبقے سے مل کر یا اُن کے موجودہ احوال یک طرفہ طور پر پڑھ کر یہ رائے قائم کی ہے۔ جو اپنی حد تک ٹھیک ہے مگر ہوسکتا ہے آپ نے وہ وجوہات نہیں پڑھی ہوں جن کہ سبب ایسے حالات یا اذہان وجود میں آئے۔ پہلی بات ان کے غرور کی ہے۔ غرور ہر فاتح قوم میں سرائیت کر جاتاہے۔جو کہ ان کے لیے بالآخر تباہی کا پیغام لے کر آتاہے۔ترک قوم نے ایک عرصے تک مسلمانوں کی نمائندگی کی ہے جسے ہمیں احترام کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔آخر انہوں نےاسلام کے بول بالے کے لیے عربوں سے زیادہ کوششیں کی۔ یعنی جب کوششوں کا پلڑا ترکوں کا وزنی ہوا تو اقتدار ان کو ملا۔ مگر جیسے جیسے اُن میں تکبر ،غرور اور اسلامی تعلیمات سے بے رُغبتی نےپاؤں جمائے ان کی ہوا اکھڑ گئی۔ ساتھ ساتھ ہمیں پہلی جنگ عظیم کے حالات بھی دیکھنے ہوں گے۔اب یہ کہناکہ غرور کے سبب تُرک قوم نے عربی رسم الخط ترک کیا یہ ٹھیک نہیں۔ بلکہ اس کی وجہ مصطفی کمال اتاترک کی وہ سخت ترین پابندیاں تھی جن کی وجہ سے ان کو عربی رسم الخط (اور اس کے نتیجے میں اپنی شاندار ماضی کے حقیقی رکارڈ )سے ہاتھ دھونے پڑے۔ مزید اذان پر پابندی بھی مصطفی کمال اتاترک کی پالیسی تھی، نہ کہ ترک قوم کی۔اتاترک کے" نوجوانانِ ترک "نے اسلام کے لیے اس خطے کو جتنا تنگ کیا اتنا کسی اور ملک میں نہیں ہوا۔لٰہذا عربی نہ پڑھ سکنے کا بڑاتعلق صرف انہیں وجوہات سے ہے۔ نہ کہ غرور وتفاخر سے۔پاکستان میں کتنے پڑھے لکھے لوگوں کو عربی آتی ہےیہ بھی سوچنے کی بات ہے۔
چوں کہ موجودہ اسلامی پارٹی کی پالیسی "کیچوے کی چال" کی بنیاد پر قائم ہے لہذا وہاں بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر آرہی ہیں۔ آپ نے شایدحکمران پارٹی"انصاف و ترقی "کے دور کے حالات کا بخوبی جائزہ نہ لیا ہو۔ جہاں مصطفی کمال اتاترک کے تمام نظریات و پابندیوں کو آہستہ آہستہ ختم کیا جارہاہیں۔آج اگر اس ملک کے اسلامی معاشرتی تشخص کو دیکھا جائے تو ہمیں افسوس کے بجائے بے حد خوشی ہوگی۔آج کی ترکی پہلے کی نسبت بہت زیادہ بابرکت ہے۔یہ سب نمایاں طور پر اس وجہ سے بھی زیادہ نظر نہیں آتا کہ مصطفی کمال سے لیکر اب تک تقریبا 90سال کم وبیش کا عرصہ انتہائی زور زبردستی کا رہاہے۔جس کے باعث یہ کام اتنا جلدی ممکن نہیں ہوسکتا،جب کہ ہر وقت ان کی حکومت گرانے کی سازشیں بھی عالمی سطح پر ہورہی ہوں۔
جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ"ترک عر ب دشمن ہیں "تو یہ بات بھی تاریخ کے نہ پڑھنے کا سبب ہوسکتی ہے۔اس سے انکار نہیں کہ اتنی بڑی قوم میں کچھ حصہ تو ایسے لوگوں کا ضرور ہوگا،مگر ساری قوم کواس کھاتے میں ڈالنا ناانصافی ہے۔جب کہ مصطفی کمال اتاترک کے سیکولر حلقے کی ان کوششوں کو دیکھ کر ،جن کی وجہ سے انہوں نے اپنے طویل اورسخت باعمل دور میں ترکوں کو عربوں سے متنفر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، تاکہ پھر یہ دونوں قومیں ایک بازو نہ ہوجائے، اور دوسری طرف عرب طاقتور قوم پرستوں نے اپنے زیرِ نگیں عربوں کو یورپی سازشوں کی بدولت ترکوں سے اتنا بد ظن کیا کہ ان کے اثرات بعد کے حالات پربُری طرح پڑے۔
دوسرا سبب ترکی کی "عرب مخالف" (مگر غیرقوم پرست)طبقے کے سوچ کایہ ہے کہ عرب قوم پرستوں (جو آج برسرِاقتدار ہیں ) نے پہلی جنگ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کرنے میں جتنا حصہ ڈالا ہے اتنا تُرکیوں کی اپنی کوتاہیوں نے بھی نہیں ڈالا ہوگا۔اوران کا یہ سوچ بھی صرف ان عربوں کے خلاف ہے جو اس پارہ سازی کا سبب بنے۔
آخر میں"ان کی ایک بڑی تعداد سیکولر لامذہب ہے،مذہبی تعلیمات کو توڑ مروڑتے ہیں اور نئی نسل اخلاق باختہ ہے،" کی باتیں رہ گئی تو جب تک مصطفٰی کمال اتاترک کے نافذ کردہ سیکولرازم اور اسلام مخالف پالیسیوں کے اثرات کا بغور مطالعہ نہ کیا جائے یہ آسان اندراجات سمجھ میں اس وقت تک نہیں آسکتی ۔
موجودہ حالات میں حکمران جماعت نے امریکہ سے تعلق خراب نہیں کیا تو اس کا سبب ترکی کی محلِ وقوع،ماضی کی فوجی بغاوتیں، طاقت ورسیکولر عناصر کی خطرناک بین الاقوامی ریشہ دوانیاں، اور "فائدہ ونقصان " کے تناسب کو دیکھنا ہے۔ جب سب کچھ امریکہ سے تعلق خراب کیےکے باوجود بحسن وخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ رہا ہے تو آخر اسے خراب کیوں کیا جائے؟ ایک تیر سے ایک شکار کے مقابلے میں ایک تیر سے دو شکار اچھے ہوتے ہیں۔لیکن یہ منافقت ہر گز نہیں ، انہوں نے ہر سطح پر اپنی قوت کی مناسبت سے امریکہ کے ہر غلط فیصلے کی کھلم کھلا مخالفت بھی کی ہے۔جب کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی اب وہ نہیں رہے جو پہلے تھے۔نہ پہلے اور نہ آج انہوں نے فلسطین کے خلاف تعاون کیا ۔تجارت اور فوجی مشقوں میں ان کا فائدہ زیادہ ہے اس وجہ سےہی انہوں نے یہ پالیسی اپنائے رکھی۔ فلسطین ہو یا شام، مصر ہو یاعراق انہوں نے تمام "مسلم" ممالک کے حکمران پارٹیوں سے زیادہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کی ہے۔ آخر ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ پر بھی حملہ کردے، اسرائیل کو تباہ کرے، شام پر بھی چھڑائی کرے، اور ایک طویل عرصے تک لادین عناصر کے زیر تسلط رہنے والی باشعور قوم کو بھی کامیابی کے ساتھ اسلامی دائرے میں لے آئے۔ یہ اتنا آسان نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ان کی اپنی کامیاب پالیسی ہے جو ابھی تک جاری ہے۔ سب کچھ بہتر طور پر ہورہا ہے، ہمیں ان کے ہر اچھے اور دینی کوشش کو عزت اور ستائش کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔غلطیاں سب میں ہیں لیکن جہاں اتنی کامیابیوں کے ساتھ ایک دو غلطیاں ہوں تو ان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شاید ہمیں زیب نہ دیں۔ آج ترکی اپنی اپنی حد تک دو طاقتور طبقوں پر مشتمل ہے، اسلام پسند اور سیکولر۔ لہذا کوئی رائے قائم کرتےوقت اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے۔
کمی کوتاہی کے لیے معذرت۔
والسلام۔


مجموعی طور پر اپ کہہ رہے ہیں کہ ترکی کے مسلمانوں کے خون بہانے، اسرائیل کے ساتھ فوجی مشقیں اور تجارت اور دوستی اور ترکوں کی نخوت، عرب دشمنی سب ٹھیک ہے کیونکہ وہ ان کے حق میں ہے۔
مان لیں کہ یہ پالیسی ان کے حق میں ہے۔ مگر اس پالیسی کے بعد یہ امیج تو نہ بنائیں کہ یہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دوست ہیں۔ حقیقت تو حقیقت رہے گی۔ یہ امریکہ، ناٹو اور اسرائیل کے دوست ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
ایچ اے خان (شناخت مشکوک) کا پروپگنڈہ
ستمبر 2 ، 2012 کو مراسلہ
اس دنیا میں جب سب مسلم ممالک بھیگی بلی بن کر سبے سے پہلے "میں" کا نعرہ ماررہے ہیں ترکی نے وہ کام کررہا ہے جو امت مسلمہ میں اخوت کا درس دے رہا ہے۔ ہمارا قبلہ اول غیروں کے قبضے میں ہے۔ رمضان میں ہر رات تمام مسلمانوں نے قیام الیل کے بعد رو رو کر قبلہ اول کی ازادی کی دعا مانگی کہ یہ ہمارے مذہب میں بہت اہم ہے۔ مگر جو عملی کام ہے وہ ترکی کررہا ہے۔ ترکی سب سے پہلے ترکش کا نعرہ نہیں ماررہا ہے۔ بلکہ وہ نعرے ہی نہیں ماررہا ہے۔ بلکہ صرف کام کررہا ہے۔ زندہ باد ترکی۔
ایچ اے خان 22 اگست 2013 کاپروپگنڈا آمیز مراسلہ
ترکی ناٹو کا ایک طرح کا ممبر ہے یا کم ازکم الائیڈ ہے۔ ہر قسم کے جاسوسی کے اپریشن میں جو عراق، عرب اور ایران میں ہوتا ہے میں ملوث ہے۔ اکثر لاجسٹک سپورٹ کرتا ہے۔ خود اس کے ہاتھ کرد مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ اسرائیل کا "دوست" ملک ہے۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارت کا حجم بہت زیادہ ہے۔ میرے خیال میں جتنی چالاکی ترکی کرتا ہے کوئی دوسرا ملک مشکل سے ہی کرے۔ یہ ملک مسلمانوں کے دشمنوں یعنی اسرائیل کا بہترین دوست ہونے کے باوجو د اپنے اچھے امیج سازی کے لیے بہت اقدامات کرتا ہے

محفلین اس شخص سے ہوشیار رہیں!
برائے مطالعہ :پروپگنڈا ٹولز

آصف اثر شمشاد یوسف-2 عاطف بٹ
امجد میانداد,
محمداحمد,
سید زبیر,
منیب احمد فاتح,
زرقا مفتی
 
آخری تدوین:

فلک شیر

محفلین
ایچ اے خان (شناخت مشکوک) کا پروپگنڈہ
ستمبر 2 ، 2012 کو مراسلہ
اس دنیا میں جب سب مسلم ممالک بھیگی بلی بن کر سبے سے پہلے "میں" کا نعرہ ماررہے ہیں ترکی نے وہ کام کررہا ہے جو امت مسلمہ میں اخوت کا درس دے رہا ہے۔ ہمارا قبلہ اول غیروں کے قبضے میں ہے۔ رمضان میں ہر رات تمام مسلمانوں نے قیام الیل کے بعد رو رو کر قبلہ اول کی ازادی کی دعا مانگی کہ یہ ہمارے مذہب میں بہت اہم ہے۔ مگر جو عملی کام ہے وہ ترکی کررہا ہے۔ ترکی سب سے پہلے ترکش کا نعرہ نہیں ماررہا ہے۔ بلکہ وہ نعرے ہی نہیں ماررہا ہے۔ بلکہ صرف کام کررہا ہے۔ زندہ باد ترکی۔
ایچ اے خان 22 اگست 2013 کاپروپگنڈا آمیز مراسلہ
ترکی ناٹو کا ایک طرح کا ممبر ہے یا کم ازکم الائیڈ ہے۔ ہر قسم کے جاسوسی کے اپریشن میں جو عراق، عرب اور ایران میں ہوتا ہے میں ملوث ہے۔ اکثر لاجسٹک سپورٹ کرتا ہے۔ خود اس کے ہاتھ کرد مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ اسرائیل کا "دوست" ملک ہے۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارت کا حجم بہت زیادہ ہے۔ میرے خیال میں جتنی چالاکی ترکی کرتا ہے کوئی دوسرا ملک مشکل سے ہی کرے۔ یہ ملک مسلمانوں کے دشمنوں یعنی اسرائیل کا بہترین دوست ہونے کے باوجو د اپنے اچھے امیج سازی کے لیے بہت اقدامات کرتا ہے

محفلین اس شخص سے ہوشیار رہیں!
برائے مطالعہ :پروپگنڈا ٹولز

آصف اثر شمشاد یوسف-2 عاطف بٹ
:eek:
 

عاطف بٹ

محفلین
ایچ اے خان (شناخت مشکوک) کا پروپگنڈہ
ستمبر 2 ، 2012 کو مراسلہ
اس دنیا میں جب سب مسلم ممالک بھیگی بلی بن کر سبے سے پہلے "میں" کا نعرہ ماررہے ہیں ترکی نے وہ کام کررہا ہے جو امت مسلمہ میں اخوت کا درس دے رہا ہے۔ ہمارا قبلہ اول غیروں کے قبضے میں ہے۔ رمضان میں ہر رات تمام مسلمانوں نے قیام الیل کے بعد رو رو کر قبلہ اول کی ازادی کی دعا مانگی کہ یہ ہمارے مذہب میں بہت اہم ہے۔ مگر جو عملی کام ہے وہ ترکی کررہا ہے۔ ترکی سب سے پہلے ترکش کا نعرہ نہیں ماررہا ہے۔ بلکہ وہ نعرے ہی نہیں ماررہا ہے۔ بلکہ صرف کام کررہا ہے۔ زندہ باد ترکی۔
ایچ اے خان 22 اگست 2013 کاپروپگنڈا آمیز مراسلہ
ترکی ناٹو کا ایک طرح کا ممبر ہے یا کم ازکم الائیڈ ہے۔ ہر قسم کے جاسوسی کے اپریشن میں جو عراق، عرب اور ایران میں ہوتا ہے میں ملوث ہے۔ اکثر لاجسٹک سپورٹ کرتا ہے۔ خود اس کے ہاتھ کرد مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ اسرائیل کا "دوست" ملک ہے۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارت کا حجم بہت زیادہ ہے۔ میرے خیال میں جتنی چالاکی ترکی کرتا ہے کوئی دوسرا ملک مشکل سے ہی کرے۔ یہ ملک مسلمانوں کے دشمنوں یعنی اسرائیل کا بہترین دوست ہونے کے باوجو د اپنے اچھے امیج سازی کے لیے بہت اقدامات کرتا ہے

محفلین اس شخص سے ہوشیار رہیں!
برائے مطالعہ :پروپگنڈا ٹولز

آصف اثر شمشاد یوسف-2 عاطف بٹ
بہت ہی عمدہ، نظامی بھائی!
خان صاحب سے متعدد موضوعات پر بحث ہوچکی ہے اور انہیں ہمیشہ اپنی ڈھائی اینٹ کی الگ مسجد بنا کر کوئی نئی بانگ دیتے ہی سنا ہے۔ اللہ ہم سب پر اپنی رحمت نازل کرے اور ہمیں اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے نمٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
 
ایچ اے خان (شناخت مشکوک) کا پروپگنڈہ
ستمبر 2 ، 2012 کو مراسلہ
اس دنیا میں جب سب مسلم ممالک بھیگی بلی بن کر سبے سے پہلے "میں" کا نعرہ ماررہے ہیں ترکی نے وہ کام کررہا ہے جو امت مسلمہ میں اخوت کا درس دے رہا ہے۔ ہمارا قبلہ اول غیروں کے قبضے میں ہے۔ رمضان میں ہر رات تمام مسلمانوں نے قیام الیل کے بعد رو رو کر قبلہ اول کی ازادی کی دعا مانگی کہ یہ ہمارے مذہب میں بہت اہم ہے۔ مگر جو عملی کام ہے وہ ترکی کررہا ہے۔ ترکی سب سے پہلے ترکش کا نعرہ نہیں ماررہا ہے۔ بلکہ وہ نعرے ہی نہیں ماررہا ہے۔ بلکہ صرف کام کررہا ہے۔ زندہ باد ترکی۔
ایچ اے خان 22 اگست 2013 کاپروپگنڈا آمیز مراسلہ
ترکی ناٹو کا ایک طرح کا ممبر ہے یا کم ازکم الائیڈ ہے۔ ہر قسم کے جاسوسی کے اپریشن میں جو عراق، عرب اور ایران میں ہوتا ہے میں ملوث ہے۔ اکثر لاجسٹک سپورٹ کرتا ہے۔ خود اس کے ہاتھ کرد مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ اسرائیل کا "دوست" ملک ہے۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارت کا حجم بہت زیادہ ہے۔ میرے خیال میں جتنی چالاکی ترکی کرتا ہے کوئی دوسرا ملک مشکل سے ہی کرے۔ یہ ملک مسلمانوں کے دشمنوں یعنی اسرائیل کا بہترین دوست ہونے کے باوجو د اپنے اچھے امیج سازی کے لیے بہت اقدامات کرتا ہے

محفلین اس شخص سے ہوشیار رہیں!
برائے مطالعہ :پروپگنڈا ٹولز

آصف اثر شمشاد یوسف-2 عاطف بٹ


بلکل مجھ سے ہوشیار رہیں۔
ترکی ایک ملک ہے اور اسکی ایک تاریخ ہے۔ یہ تاریخ صرف موجودہ حکومت کے برسراقتدار انے سے تبدیل نہیں ہوجاتی۔ فلوٹیلا کا واقعہ غزہ کے محاصرے کو ہائی لائیٹ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس لیے ہی مجھے یہ اقدام پسند ایا۔ بالخصوص 2008 کی لڑائی کے بعد۔ مگر بعد کے حالات نے یہ ثابت کیا کہ ترکی نے مجموعی طور پر اپنے سیاسی قد کو عرب میں بلند کرنے کے لیے یہ شور رچایا تھا۔

بہرحال نور تحریک کے کارکنوں کے کام کا اعتراف کرنا اچھا ہے۔ یہ سچے مسلمان ہیں اور میرے بہت سے دوست ترکی کی اسی جماعت نور سے تعلق رکھتے ہیِں۔ مگر ترکی کی فوج اور بالادست سیکولرطبقے کی کیا حرکات ہیں یہ سب کو معلوم ہے۔
 
بہت ہی عمدہ، نظامی بھائی!
خان صاحب سے متعدد موضوعات پر بحث ہوچکی ہے اور انہیں ہمیشہ اپنی ڈھائی اینٹ کی الگ مسجد بنا کر کوئی نئی بانگ دیتے ہی سنا ہے۔ اللہ ہم سب پر اپنی رحمت نازل کرے اور ہمیں اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے نمٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!


میر ی ڈھائی اینٹ کی مسجد پختہ ہے اور وہاں باجماعت نماز بھی ہوتی ہے
اپ لوگوں کی مسجد ضرار نہیں ہے
 
الف نظامی تو حامد میر کا کام کررہا ہے :)

ایک مرتبہ سیول میں مجھے مسلم لیگ نون کے ایک مقامی لیڈر کی ای میل وصول ہوئی کہ توہین رسالت کے لیے ایک یورپی ملک کی ایمبیسی تک مسجد سے مارچ جمعہ کی نماز کے بعد کیا جائے گا اور شرکت کی دعوت دی۔ میں نے اس کو بلکہ سب کو جواب میں لکھ دیا کہ توہین رسالت اصل میں وہ لوگ کررہے ہیں جو روز حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف کام کرتے ہیں ۔ حکم کے برخلاف نماز نہیں پڑھتے ہیں ۔ جھوٹ بولتے دھوکہ دیتے ہیں۔ اس پر وہ رہنما برانگیختہ ہوگیا۔ مجھے کہنے لگا تم یہودی ہو۔ قادیانی ہو۔ یہ ہو وہ ہو۔

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
 

الف نظامی

لائبریرین
بہت ہی عمدہ، نظامی بھائی!
خان صاحب سے متعدد موضوعات پر بحث ہوچکی ہے اور انہیں ہمیشہ اپنی ڈھائی اینٹ کی الگ مسجد بنا کر کوئی نئی بانگ دیتے ہی سنا ہے۔ اللہ ہم سب پر اپنی رحمت نازل کرے اور ہمیں اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے نمٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
فورم پر کسی کا اعتبار کرنا بہت مشکل ہے ، ان صاحب کے مراسلوں کا تجزیہ کرنے پر میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ شخص مابین المسلمین انتشار پھیلانے اور نفسیاتی پروپگنڈا پر مامور ہے۔

”وہ“ نفسیاتی و نظریاتی تخریب کاری و سازش کے بہت ماہر ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ہمارے لوگوں کی اکثریت صرف جذباتی۔ ”وہ“ باتیں بڑے خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر سناتے ہیں اور ہمارے لوگ بغیر سوچے سمجھے جذبات کی رو میں بہہ کر ”ان“ کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں یا کم از کم ”ان“ کا کام آسان کر دیتے ہیں۔
 
ائیے ایک اور نشان دکھاوں۔ یہودیوں کا نشان
hamsa2.jpg


یہ کیا ہے؟ ادھردیکھیے
 

الف نظامی

لائبریرین
ایک پروپگنڈا ٹول سےآگاہی حاصل کیجیے
Name Calling:-
Say something nasty about someone.
Use broad strokes and never fill them in.
Get your audience rushing to judgment without providing any evidence
.
"He's a pen-pushing bureaucrat." "He's a liberal." (That didn't used to be a bad name!) "He's a terrorist." (Ah, we don't want to admit it, but that's name calling. One person's terrorist is another person's "freedom fighter.")
 

عاطف بٹ

محفلین
میر ی ڈھائی اینٹ کی مسجد پختہ ہے اور وہاں باجماعت نماز بھی ہوتی ہے
اپ لوگوں کی مسجد ضرار نہیں ہے
خان صاحب، محاورے کے مطابق اصل میں تو مسجد ڈیڑھ اینٹ کی ہوتی ہے مگر میں نے آپ کو ڈھائی اینٹیں اس لئے دیں تاکہ آپ سہولت سے کھڑے ہوسکیں مگر آپ نے تو جماعت کا بھی انتظام کرلیا۔ بھئی، کمال ہے!
اور مسجد ضرار کا طعنہ ہمیں دینے سے پیشتر ذرا اپنے سابقہ مراسلوں کا ریکارڈ چھانٹ لیجئے کہ کہیں وہیں سے مسجد ضرار کی بنیاد فراہم کرنے والی باتیں برآمد نہ ہوجائیں!
 
خان صاحب، محاورے کے مطابق اصل میں تو مسجد ڈیڑھ اینٹ کی ہوتی ہے مگر میں نے آپ کو ڈھائی اینٹیں اس لئے دیں تاکہ آپ سہولت سے کھڑے ہوسکیں مگر آپ نے تو جماعت کا بھی انتظام کرلیا۔ بھئی، کمال ہے!
اور مسجد ضرار کا طعنہ ہمیں دینے سے پیشتر ذرا اپنے سابقہ مراسلوں کا ریکارڈ چھانٹ لیجئے کہ کہیں وہیں سے مسجد ضرار کی بنیاد فراہم کرنے والی باتیں برآمد نہ ہوجائیں!

کرلیجیے
میں جو با ت کی ہے اس کی کوئی بنیاد ہے۔
قبول کریں یا نہ کریں اپ کی مرضی ہے۔ ظاہر ہے اچھا برا بتانا ہمارا کام ہے۔ ہم کوئی یہاں گارڈ تو نہیں لگے ہیں
 

سید ذیشان

محفلین
ساجد بھائی کی کافی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے خان صاحب کو کافی حد تک کنٹرول میں رکھا ہوتا تھا۔ اب تو ان کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔
 

عاطف بٹ

محفلین
کرلیجیے
میں جو با ت کی ہے اس کی کوئی بنیاد ہے۔
قبول کریں یا نہ کریں اپ کی مرضی ہے۔ ظاہر ہے اچھا برا بتانا ہمارا کام ہے۔ ہم کوئی یہاں گارڈ تو نہیں لگے ہیں
خان صاحب، یہ بالکل ممکن ہے کہ ہم کسی شخص کو اچھا سمجھتے ہوں اور وہ برا نکل آئے اور معاملہ اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے کہ بہرطور ہماری بصارت اور بصیرت دونوں ہی لامحدود نہیں ہیں، تاہم جس طرح آپ ہر بار لکیر کے دوسری طرف جا کر کھڑے ہوجاتے ہیں وہ بات کسی بھی معقول شخص کو حیرت و استعجاب میں ضرور مبتلا کردیتی ہے۔
 
خان صاحب، یہ بالکل ممکن ہے کہ ہم کسی شخص کو اچھا سمجھتے ہوں اور وہ برا نکل آئے اور معاملہ اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے کہ بہرطور ہماری بصارت اور بصیرت دونوں ہی لامحدود نہیں ہیں، تاہم جس طرح آپ ہر بار لکیر کے دوسری طرف جا کر کھڑے ہوجاتے ہیں وہ بات کسی بھی معقول شخص کو حیرت و استعجاب میں ضرور مبتلا کردیتی ہے۔


میں کب ایک لکیر کی طرف کھڑا رہاہوں۔ البتہ اک موقف ضرور اپناتا ہوں۔ عموما یہ موقف بہت دیر کے بعد اپناتاہوں۔
 
Top