دیکھا ہے جس کو آج مرے دل کو بھا گیا

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
---------
دیکھا ہے جس کو آج مرے دل کو بھا گیا
اس کا حسیں خیال ہی سوچوں پہ چھا گیا
-----------
دل میں مرے تو آج بھی اس کا خیال ہے
گزرا مرے قریب سے چہرہ چھپا گیا
-----------
اس نے کہی جو بات مرے دل کو چھو گئی
------
اس نے کہی جو بات وہ اپنی لگی مجھے
دل میں مرے مقام یوں اپنا بنا گیا
------------
بوڑھا فقیر بھوک سے اتنا نڈھال تھا
دستک دئے بغیر مرے گھر میں آ گیا
----------
بن کر مرا رقیب وہ غیروں سے جا ملا
ایسے مری نظر سے وہ خود کو گرا گیا
------------

جو کچھ ملا جہان میں رب نے دیا مجھے
مرا نصیب چل کے مرے پاس آ گیا
----------
جو بھی مرے قریب تھے سب دور ہو گئے
-------
سب لوگ جو قریب تھے اب دور ہو گئے
دشمن بنے ہیں دوست بھی یہ وقت آ گیا
----------
مانگا تھا جس کا پیار وہ ارشد کے پاس ہے
من میں لگی تھی پیاس جو آ کر بجھا گیا
------------
 

عظیم

محفلین
دیکھا ہے جس کو آج مرے دل کو بھا گیا
اس کا حسیں خیال ہی سوچوں پہ چھا گیا
----------- روانی کی کمی ہے مطلع میں، دوسرا یہ کہ خیال کا سوچوں پر چھانا اچھا نہیں لگ رہا، کسی اور انداز سے کہا جا سکتا ہے مطلع، جیسے
دیکھا ہے جس کو آج وہ دل کو لبھا گیا
دیکھا ہے جس کو آج وہ دل میں سما گیا
کیسا حسین شخص تھا سوچوں پہ چھا گیا
کیا شخص تھا کہ ذہن پہ بادل سا چھا گیا
وغیرہ

دل میں مرے تو آج بھی اس کا خیال ہے
گزرا مرے قریب سے چہرہ چھپا گیا
-----------'لیکن' کے بغیر ربط قائم نہیں ہوتا دونوں مصرعوں میں، اس کے علاوہ روانی کی بھی کچھ کمی محسوس ہوتی ہے مجھے
## دل میں تو میرے آج بھی ....
###لیکن وہ آج مجھ سے ہی...
یہ محض مثالیں دے رہا ہوں تا کہ آپ بھی غور کر کے اس طرح ایک ہی خیال کو مختلف انداز سے کہنے کی کوشش کیا کریں

اس نے کہی جو بات مرے دل کو چھو گئی
------
اس نے کہی جو بات وہ اپنی لگی مجھے
دل میں مرے مقام یوں اپنا بنا گیا
------------ یہاں بھی روانی کا مسئلہ ہے
#اس نے جو بات کی..
##یوں دل میں اک مقام وہ/سا....
وغیرہ

بوڑھا فقیر بھوک سے اتنا نڈھال تھا
دستک دئے بغیر مرے گھر میں آ گیا
----------بہت خوب ، یہ نیا خیال ہے آپ کی جانب سے ماشاء اللہ
ٹھیک لگتا ہے شعر مجھے

بن کر مرا رقیب وہ غیروں سے جا ملا
ایسے مری نظر سے وہ خود کو گرا گیا
------------'مرا' میرا خیال ہے کہ گڑبڑ پیدا کر رہا ہے اس مصرع کی روانی میں بھی
##بن کر رقیب میرا ..
مگر دوسرا مصرع پسند نہیں آ رہا، کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوتی شعر میں


جو کچھ ملا جہان میں رب نے دیا مجھے
مرا نصیب چل کے مرے پاس آ گیا
----------میرا نصیب چل کر خود میرے پاس آ گیا سے بات مکمل ہوتی ہے، دونوں مصرعوں کو بہتر انداز میں کہنے کی کوشش کریں


جو بھی مرے قریب تھے سب دور ہو گئے
-------
سب لوگ جو قریب تھے اب دور ہو گئے
دشمن بنے ہیں دوست بھی یہ وقت آ گیا
----------
یہاں بھی میں وہی کہوں گا کہ شاید الفاظ کی نشست کو بدل بدل کر نہیں دیکھا گیا، حالانکہ ایک متبادل پیش کیا تو ہے آپ نے!
دوسرا متبادل قدر بہتر معلوم ہوتا ہے اولی کا، دشمن بنے کو البتہ دشمن ہوئے کر دیں تو اچھا رہے
اچھا تو یہی ہو کہ ایک بار اور کوشش کر کے مزید کوئی اچھی ترکیب لائیں اسی بات کو کہنے کی

مانگا تھا جس کا پیار وہ ارشد کے پاس ہے
من میں لگی تھی پیاس جو آ کر بجھا گیا
------------وہ ارشد کو مل گیا، کیسا رہے گا؟ من کی جگہ 'دل' آ سکتا ہے تو یہی لے آئیں، ہاں، دل کو لگی تھی پیاس... بہتر ہو گا، اس کے باوجود کچھ ربط کی کمی رہتی ہوئی محسوس ہوتی ہے
مانگا تھا جس کا پیار وہ ارشد کو جب ملا
دل میں تھی جو بھی پیاس... سے میرا خیال ہے کہ درست ہوتا ہے مقطع
 
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
-----------------
اصلاح
-------------
دیکھا ہے جس کو آج وہ دل میں سما گیا
کیسا حسین شخص تھا سوچوں پہ چھا گیا
-----------
دل میں تو میرے آج بھی اس کا خیال ہے
لیکن وہ آج مجھ سے ہی چہرہ چھپا گیا
----------یا
لہکن ملا وہ آج تو چہرہ چھپا گیا
----------
اس نے جو بات کی وہ مرے دل کی بات تھی
یوں دل میں اک مقام وہ اپنا بنا گیا
-----------
بوڑھا فقیر بھوک سے اتنا نڈھال تھا
دستک دئے بغیر مرے گھر میں آ گیا
-----------
بن کر رقیب میرا وہ غیروں سے جا ملا
میری نظر سے آج وہ خود کو گرا گیا
-----------
جو کچھ ملا جہان میں رب نے دیا مجھے
میرا نصیب چل کے مرے پاس آ گیا
---------
رہتے تھے میرے پاس جو اب دور ہو گئے
دشمن ہوئے ہیں دوست بھی کیا وقت آ گیا
----------
مانگا تھا جس کا پیار وہ ارشد کو جب ملا
دل میں تھی جو بھی پیاس تھی آ کر بجھا گیا
--------------
 

عظیم

محفلین
دیکھا ہے جس کو آج وہ دل میں سما گیا
کیسا حسین شخص تھا سوچوں پہ چھا گیا
-----------
مطلع تو آپ نے میرے مشوروں کے مطابق ہی کر دیا ہے تو مجھے تو ٹھیک ہی لگے گا، کوئی اور شاید کوئی اعتراض کر سکے
دل میں تو میرے آج بھی اس کا خیال ہے
لیکن وہ آج مجھ سے ہی چہرہ چھپا گیا
----------یا
لہکن ملا وہ آج تو چہرہ چھپا گیا
----------
یہ محض مثالیں دی تھیں میں نے، کچھ بات نہیں بن رہی، صرف یہ تھا کہ 'لیکن' کس طرح ربط پیدا کرے گا یہ واضح ہو جائے آپ پر
پہلا مصرع کچھ ٹھیک ہے مگر دوسرے میں کوئی بات نہیں بن رہی، سادہ سا مفہوم ہے سیدھی سی بات میں، کچھ شعریت ٹائپ چیز نہیں ہے
اس نے جو بات کی وہ مرے دل کی بات تھی
یوں دل میں اک مقام وہ اپنا بنا گیا
-----------
تکنیکی اعتبار سے تو ٹھیک ہے میری رائے میں، مگر مفہوم کچھ خاص نہیں نکلتا، چھو گئی کے ساتھ میرا خیال ہے کہ کچھ بہتری آئے گی، یعنی اس نے جو بات کی وہ مرے دل کو چھو گئی...

بوڑھا فقیر بھوک سے اتنا نڈھال تھا
دستک دئے بغیر مرے گھر میں آ گیا
-----------
اس کے بارے میں تو بات ہو ہی چکی ہے کہ خوب ہے
بن کر رقیب میرا وہ غیروں سے جا ملا
میری نظر سے آج وہ خود کو گرا گیا
-----------
یہ شعر نکال ہی دیں، ایک تو رقیب بن کر پھر غیروں سے مل جانا کچھ عجیب سا ہے، دوسرا دو لخت بھی ہے

جو کچھ ملا جہان میں رب نے دیا مجھے
میرا نصیب چل کے مرے پاس آ گیا
---------
اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی گئی
رب نے دیا مجھے کا ٹکڑا بدلنے کی ضرورت ہے، کسی خوبصورت انداز میں کہیں، مثلاً 'رب کی ہی تھی عطا' وغیرہ
دوسرے میں وہی بات کہ بات مکمل نہیں ہوتی، یعنی جو کچھ نصیب میں لکھا ہوا تھا وہ خود ہی میرے پاس آتا گیا، یہ مفہوم آپ کے الفاظ سے ادا نہیں ہو پا رہا
رہتے تھے میرے پاس جو اب دور ہو گئے
دشمن ہوئے ہیں دوست بھی کیا وقت آ گیا
----------
قابل قبول لگتا ہے مجھے، صرف پہلے مصرعہ کی روانی کچھ کم لگ رہی ہے
#دل میں جو رہ /بس رہے تھے وہی دور ہو گئے
سے کچھ بہتر ہوتا ہے میرے نزدیک،
مانگا تھا جس کا پیار وہ ارشد کو جب ملا
دل میں تھی جو بھی پیاس تھی آ کر بجھا گیا
--------------
اگرچہ میرے ہی مشورے کے مطابق ہے مگر میں مطمئن نہیں
مانگا تھا جس کا پیار جب ارشد کو مل گیا
دل کو تھی جو بھی پیاس، وہ آ کر بجھا گیا
میرا خیال ہے کہ ٹھیک ہو
 
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
---------------
اصلاح
------------
جس کا خیال دل سے بھلایا نہ جا سکا
جس دم ملا وہ مجھ سے تو چہرہ چھپا گیا
----------یا
مجھ سے ملا وہ آج تو چہرہ چھپا گیا
-----------
کی اس نے بات جو وہ مرے دل کو چھو گئی
دل میں مرے مقام وہ اپنا بنا گیا
-------
اس نے وفا کے نام پہ دھوکہ دیا مجھے
اپنا مقام آج وہ خود کو گرا گیا
-----------
سب کچھ ملا جہان میں رب کی جناب سے
چل کر مرا نصیب مرے پاس آ گیا
------
دل میں جو بس رہے تھے وہی دور ہو گئے
دشمن ہوئے ہیں دوست بھی کیا وقت آ گیا
----------
مانگا تھا جس کا پیار جب ارشد کو مل گیا
دل کو تھی جو بھی پیاس، وہ آ کر بجھا گیا
--------
 

عظیم

محفلین
جس کا خیال دل سے بھلایا نہ جا سکا
جس دم ملا وہ مجھ سے تو چہرہ چھپا گیا
----------یا
مجھ سے ملا وہ آج تو چہرہ چھپا گیا
----------- خیال بھلانا پسند نہیں آ رہا
#جس کو نہ بھول پایا کبھی چاہ کر بھی میں
اسی طرح دوسرے مصرع کی صورت بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے، مثلاً
#دیکھا جب اس نے مجھ کو تو چہرہ چھپا گیا


کی اس نے بات جو وہ مرے دل کو چھو گئی
دل میں مرے مقام وہ اپنا بنا گیا
-------
اس نے جو بات کی وہ مرے دل کو چھو گئی
یوں دل میں اک مقام سا اپنا بنا گیا
__ یوں درست تو ہوتا ہے مگر کوئی خاص شعر نہیں بنتا، پھر بھی آپ رکھنا چاہتے ہیں تو چل سکتا ہے


اس نے وفا کے نام پہ دھوکہ دیا مجھے
اپنا مقام آج وہ خود کو گرا گیا
-----------دوسرا مصرع؟ مقام خود "ہی" گرا گیا بھی ہو تو بے معنی ہی لگ رہا ہے، اگر ٹائپو بھی سرزد ہوئی ہو آپ سے تو!

سب کچھ ملا جہان میں رب کی جناب سے
چل کر مرا نصیب مرے پاس آ گیا
------بات بنتی ہوئی نہیں لگتی اب بھی
نصیب کا معاملہ اب بھی وہی ہے کہ بات مکمل نہیں ہو رہی
میرے ذہن میں بھی اس وقت کوئی متبادل یا کوئی صورت نہیں آ رہی اس شعر کی، آپ ہی کوشش کریں دوبارہ

دل میں جو بس رہے تھے وہی دور ہو گئے
دشمن ہوئے ہیں دوست بھی کیا وقت آ گیا
----------چل سکتا ہے میرے خیال میں

مانگا تھا جس کا پیار جب ارشد کو مل گیا
دل کو تھی جو بھی پیاس، وہ آ کر بجھا گیا
--------تقابل ردیفین کا سقم کل بھی نظر آ گیا تھا مجھے، مگر پھر تدوین نہیں کی
دونوں مصرعوں کا اختتام 'گیا' پر ہو رہا ہے، اس کو بدلنے کی ضرورت ہے، ورنہ چلنے بھی دیا جا سکتا ہے، مجھے تو کوئی متبادل سمجھ میں نہیں آ رہا فی الحال
 
Top