دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

عمر سیف

محفلین
آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر
خوف آ رہا ہے سایۂ دیوار دیکھ کر
آنکھیں کُھلی رہی ہیں مری انتظار میں
آئے نہ خواب دیدۂ بیدار دیکھ کر

اگلا حرف بیدار
 

شمشاد

لائبریرین
میں تری چاندنی راتوں میں رہا ہوں بیدار​
راز داں کوئی ترا ماہِ مبیں اور بھی ہے؟​
(ضیا فتح آبادی)​


چاندنی
 

عمر سیف

محفلین
پھول مہکے، چاندنی تھی ، کیا نہ تھا
تم نہ تھے تو ہر کوئی بیگانہ تھا

اگلا حرف بیگانہ
------------------------------------
رات اس نے پوچھا تھا
تم کو کیسی لگتی ہے
چاندنی دسمبر کی ؟
میں نے کہنا چاہا تھا
سال و ماہ کے بارے میں
گفتگو کے کیا معنی ؟
چاہے کوئی منظر ہو
دشت ہو ، سمندر ہو
جون ہو ، دسمبر ہو
دھڑکنوں کا ہر نغمہ
منظروں پر بھاری ہے
ساتھ جب تمہارا ہو
دل کو اک سہارا ہو
ایسا لگتا ہے جیسے
ایک نشہ سا طاری ہو
لیکن اس کی قربت میں
کچھ نہیں کہا میں نے
تکتی رہ گئی مجھ کو
چاندنی دسمبر کی
 

سارہ خان

محفلین
مجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دن
مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن

اب میں بس رہ گیا ہوں راتوں میں
مر گئے جون ! مر گئے مرے دن
جون ایلیا

راتوں
 

شمشاد

لائبریرین

وہی گیسو مری راتوں پہ ہیں بکھرے بکھرے
وہی آنکھیں مری جانب نگراں ہیں اب تک
(ساحر لدھیانوی)


گیسو
 

صائمہ شاہ

محفلین
بی بی اس شعر میں لیلیٰ نظر نہیں آ رہی
پردہ کرنے لگی ہے کیا؟؟
شعر اب لیلیٰ کا آنا تھا، کون والا شعر میں پوسٹ کر چکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا نام بی بی نہیں ہے لیکن آپ شائد مجھ ہی سے مخاطب ہیں آپ کا مراسلہ میری نظر سے نہیں گذرا ( جیسے میرا نام آپکی نظر سے نہیں گذرا ) کیونکہ میں یہ دھاگہ کھول کر کسی اور کام میں مصروف ہو گئی بہر حال معذرت خواہ ہوں۔
 
Top