1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

دہلی میں شاہی ضیافتوں سے محظوظ ہونے کا سامان

سید شہزاد ناصر نے 'کچن کارنر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 25, 2019

  1. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG]

    ہندوستان کے راجہ مہا راجہ اور نوابوں کے دسترخوان پربہار ہوا کرتے تھے۔ ہر ایک کے دسترخوان کا الگ مزاج تھا۔
    مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب ہر چھوٹا بڑا راجہ اور نواب اپنے دسترخوان پر فخر کرتا نظر آتا تھا۔ ہر ایک کے دسترخوان کی دو تین چیزیں اپنی مثال آپ ہوتی تھیں جن کے لیے وہ دسترخوان مشہور ہوتا تھا۔
    دسترخوان کی یہ خصوصیت پشت در پشت برقرار رکھی جاتی۔ ان کے مطبخ کا ہر باورچی نئے نئے پہلو نکال کر انواع و اقسام کے کھانے تیار کرتا تھا۔
    راجاؤں اور نوابوں کی سرپرستی اور قدر دانی کی بدولت بہترین باورچی پیدا ہوتے رہتے تھے لیکن کچھ ہی مدت بعد زمانہ ایسا بدلا کہ نہ وہ راجواڑے رہے اور نہ اب ہنرمند باورچیوں کا نشان باقی ہے۔
    'ڈائن ود رائلٹی' کی بانی سونل سکسینہ کی ان تھک محنت نے ہندوستان کے ہر حصے سے چھوٹے بڑے تقریباً دو درجن شاہی خاندانوں کو حال ہی میں دہلی میں یکجا کیا کہ وہ اپنے روایتی کھانوں کو ان لوگوں تک پہنچائيں جو نفیس اور لذیذ کھانوں کا ذوق رکھتے ہیں۔
    دارالحکومت دہلی میں بیلجیئم کے سفارت خانے کے وسیع لان میں ہر شاہی خاندان کے لیے الگ الگ خیمے لگوائے گئے جن کی سجاوٹ انھی کے ذوق کے مطابق عمل میں آئی۔ ہر خیمے کے متصل باورچی خانے کا انتظام تھا جہاں شاہی خاندان کے موجودہ باورچیوں نے اپنی ہنرمندی کے نمونے پیش کیے۔
    شاہی دعوت کے آغاز سے پہلے شاہی خاندان کے افراد نے پیش کیے جانے والے اپنے کھانوں کا مفصل ذکر کیا جن میں کھانوں کی تاریخی روایات، جغرافیائی محل وقوع، خارجی اثرات وغیرہ کا ذکر شامل تھا۔

    [​IMG]
    کئی ایک ایسے بھی گمنام شاہی خاندان تھے جن کے بارے میں جان کر ہمیں دلی مسرت ہوئی۔ ہندوستان کی وسیع و عریض مملکت ہے اور اس کے ہر گوشے و کنار میں کئی شاہی ریاستیں سالہا سال سے وجود رکھتی تھیں جو وقت کے ساتھ اب گمنام ہو چکی ہیں۔
    چار روزہ جشن کا لب لباب یہ رہا کہ اگلے وقتوں کے باورچی خانے وسیع ہوا کرتے تھے۔ شاہی دعوتوں کا سلسلہ شب و روز جاری رہتا تھا۔ باورچیوں کی تعداد کثیر ہوا کرتی تھی۔ باورچی خانہ کئی محکموں میں منقسم ہوا کرتا تھا۔ ان کا نگراں ایک تجربہ کار شخص ہوتا تھا جو داروغۂ باورچی کہلاتا۔ ہر باورچی اپنے فن میں ماہر ہوتا تھا کیونکہ نفیس غذاؤں کے ساتھ اچھا پکانے کے ہرنے واقفیت کا ہونا ضروری تھا۔ صفائی اور پاکیزگی کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔
    سفارت خانے کے وسیع و عریض لان میں ہندوستان کے راجہ اپنی اپنی رانیوں، شاہزادوں اور شہزادیوں کے ہمراہ براجمان تھے اور آزاد ہند کی تاریخ میں یہ نادر موقع تھا۔

    [​IMG]ت
    رام پور کے نواب کاظم علی خان اپنے روایتی شاندار لباس میں مہمانوں کی پذیرائی میں مصروف تھے۔ کوٹوارا کے راجہ سید مظفر علی اور رانی میرا، بھوپال کے نواب زادہ راشد علی خاں اور عائشہ علی خاں، راجستھان کے راجہ تیج سنگھ، پنجاب کے راجہ، محمود آباد، کانگڑہ، کشن گڑھ وغیرہ کے نوابوں اور راجاؤں نے اس میں شرکت کی۔
    جشن صرف کھانے کے متعلق بات چیت اور مہمان نوازی پر مشتمل نہیں تھا بلکہ موسیقی اور جام نے محفل کو اپنے رنگ میں شرابور کر رکھا تھا۔
    سونل کی اس کوشش سے نہ صرف بہت سی ریاستیں ایک بار پھر سے روشنی میں آئیں بلکہ ان کے خاندانی باورچیوں کی ہمت افزائی بھی ہوئي جنھوں نے اپنی میراث کو آگے بڑھانے میں حصہ بھی لیا۔

    [​IMG]ت
    ان کی کوششوں سے شاید علاقائی روایتی کھانے ناپید ہونے سے بچ جائیں۔ بیلجیئم کے سفیر جون لولک اور ان کی اہلیہ بيگم راکا سنگھ نے مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا اور جشن میں شرکت کی۔
    اس موقعے پر یہ بات سامنے آئی کہ علاقائی کھانوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اکثر ہم شمالی ہند کے ذائقوں کا لطف اٹھاتے ہیں اور ملک کے بقیہ حصے نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی تقریبات معلومات کے وہ خزانے پیش کرتے ہیں جن سے ہم عام طور پر نابلد رہتے ہیں۔
    ربط
    دہلی کے ہر دسترخوان کا مزاج الگ ہوا کرتا تھا
     

اس صفحے کی تشہیر