دھرنے کا ڈراپ سین

یوسف-2

محفلین
PakistaniLeaderSharifNearsPactWithMilitary_8-29-2014_158167_l.jpg

نوازحکومت فوج سےمعاہدہ کرنے کے قریب ہے،امریکی اخبار کا دعویٰ

کراچی....محمد رفیق مانگٹ.......امریکی اخبار”وال اسٹریٹ جرنل“نے سرکاری حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ پاک فوج حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے کے قریب ہے جس کے تحت وزیر اعظم سلامتی امور اور اسٹریٹجیک فارن پالیسی کا کنٹرول چھوڑ دیں گے۔فوج اب وزیر اعظم سے ضمانت مانگ رہی ہے کہ وہ ان معاہدوں کی پیروی کریں گے۔ فوج نے حکومت سے پرویز مشرف کی آزادی کا وعدہ لے لیا۔حکومتی معاون کا کہنا ہے احتجاجی رہنماؤں کے ذاتی سیاسی عزائم کی حوصلہ افزائی فوج نے کی جو نواز شریف کے اختیارات کم کرنا چاہتی ہے۔اسکرپٹ میں کبھی بھی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں تھا بلکہ اسے اس حد تک کمزور کرنا کہ وہ لٹکی رہے اور کچھ کرنے کے قابل نہ رہے۔اخبار لکھتا ہے کہ حکومت مخالف مظاہر ے جنہوں نے پاکستان کے دارالحکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔فوج نواز شریف پر سلامتی امور اور خارجہ پالیسی کا کنٹرول چھوڑنے کےلئے دباؤڈال رہی ہے ۔انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان تقریباً دو ہفتے سے جاری تصادم نے وزیر اعظم نواز شریف کو انڈر پریشرکر دیا،حکومت کا خیال ہے کہ ان مظاہروں کو فوج کی طرف سے حمایت حاصل ہے۔حکومتی معاونین کا کہنا ہے کہ فوج نے سیاسی بحران کے دوران نواز شریف کی کمزور حیثیت پر قبضہ کر لیا کہ وہ ایک معاہدہ کریں جس کے تحت وہ اسٹریٹجک پالیسی کو چھوڑ دیں گے جس میں امریکا ،افغانستان، اور بھارت کے ساتھ تعلقات بھی شامل ہیں جنہیں مسلح افواج کیطرف سے کنٹرول کیا جائے گا۔اخبار کے مطابق نوز شریف کے ترجمان اور دیگر وزراء اس پر تبصرے کے لئے دستیاب نہیں ہوئے اور فوجی ترجمان نے بھی ا خبار کی درخواست پر اس پر تبصرہ نہیں کیا۔16 ماہ قبل پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کی کامیابی کے بعد نواز شریف کی مسلح افواج پرسویلین کنٹرول کی کوشش نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کردیا ،نواز شریف نے ان پالیسیوں کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا جوروایتی فوج کی ڈومین تھیں۔ فوج کے ساتھ معاہدے سے نواز شریف کے اختیارات محدود ہو جائیں گے اور پاکستان کے بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کی وزیر اعظم کی اولین ترجیح کی صلاحیت پر شبہ کرے گا۔تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے اگر نواز شریف کی بقیہ مدت قائم رہتی ہے تو وہ ایک رسمی وزیر اعظم ہوں گے دنیا ان کو سنجیدگی سے نہیں لے گی۔ایک نرم بغاوت پہلے ہی رونماہوچکی،سوال یہ کہ اس میں سختی ہو گی یا نہیں۔پاکستان کی 67سالہ تاریخ میں نصف سے زائد مدت تک فوج نے حکومت کی ۔فوج اقتدار میں نہ بھی ہو تب بھی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی روایتی طور پر فوج ہی چلاتی ہے۔حکومتی معاونین کا کہنا ہے کہ فوج نے پرویز مشرف کی آزادی کا وعدہ لیا ہے جن پر غداری کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے یہ ایشو بھی مسلح افواج اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ ہے۔سیاسی اور سیکورٹی حکام کے مطابق نواز شریف حکومت نے مارچ میںمشرف پر غداری کی علامتی فرد جرم عائد ہونے کے بعد خفیہ طور پر مشرف کے بیرون ملک جانے پر اتفاق کر لیا تھا لیکن حکومت نے اس معاہدے پر عمل نہیں کیا۔ جس سے فوج اور نواز شریف کے درمیان عدم اعتماد پیدا ہوا۔حکومتی معاونین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ شہباز شریف سے وزارت اعلیٰ کا عہدہ لینے پر تیار تھی۔ واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے حکومت کی حمایت میں بیان دیا کہ پاکستان میںوہ آئینی اور انتخابی عمل کی حمایت کرتے ہیں۔
(بشکریہ جنگ تازہ ترین 29 اگست 2014)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکرپٹ کے مطابق دھرنے کا ڈراپ سین یہی تھا۔ اب عمران-قادری اور ہمنوا اپنا اپنا دھرنا اٹھا کر گھر لے جائیں۔ دو ہفتوں سے زائد تک ”شاندار دھرنا مظاہرہ“ کی اجرت اسی نواز حکومت سے انہیں دلا دی جائیگی۔ اب انہیں مزید اس قسم کے خطرناک دھرنا دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ البتہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے بے ضرر قسم کے دھرنے اور ہر قسم کی بیان بازی کی کھلی اجازات ہوگی، اگلے الیکشن یا اسکرپٹ ملنے تک ۔
 

یوسف-2

محفلین
نہ فوج نے ثالثی کا کردار مانگا ، نہ ہم نے درخواست کی ،وزیر اعظم
===================================
اسلام آباد.......وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ نہ فوج نے ثالثی کا کردار مانگا ہے نہ ہم نے درخواست کی ہے ۔فون آیا کہ عمران اورقادری آرمی چیف سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا عمران اور قادری کی درخواست ہے تو آرمی چیف مل لیں ۔ فوج نے چند دن پہلے کہا تھا کہ ان تمام عمارتوں کی ذمے داری ہماری ہے ۔اگر کل فوج کے سربراہ سے میری ملاقات نہ ہوتی تب بھی انھوں نے کردار ادا کرنا تھا۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی جماعتیں نظریات قربان نہیں کرتیں،حکومتیں ٹھکرا دیتی ہیں۔ میرے نظریےہیں،اصول ہیں انھیں میں کسی صورت قربان نہیں کرسکتا ۔اصولوں اور نظریے کو قربان نہیں کرسکتا یہ منصب اور حکومتیں آنی جانی ہیں۔ خورشید شاہ نے میرے دلی جذبات کی ترجمانی کی۔محترمہ بے نظیربھٹو کے ساتھ مل کرجمہوریت کے لیے جدوجہد کی تھی ہم نے جمہوریت کے لیے کوششیں کیں۔ جمہوریت کے لیے اتنی صعوبتیں برداشت کیں، کیا مجھ سے کوئی یو ٹرن کی توقع کر سکتا ہے؟عہدے آنی جانی چیز ہیں، یو ٹرن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سب جانتےہیں جولوگ مجمع لگائےبیٹھےہیں وہ روزکتنا سچ اورکتنا جھوٹ بولتےہیں ۔بچوں اور عورتوں کو انسانی ڈھال بنایاگیاہے ۔ (جنگ)
 

یوسف-2

محفلین
صرف مقدمے کے اندراج سے کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا جاسکتا،چوہدری نثار
========================================
اسلام آباد...... چوہدری نثار نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی ایوان میں سبھی جماعتوں کے لیڈرز نے انتخابات اور وزیرِ اعظم پر اعتماد کا اظہار کیا ۔پاکستان اہم دور سے گزر رہا ہے، اہم وقت حکومت نہیں، پاکستان کے لیے ہے۔چند ہزار لوگ ایک گروہ کی شکل میں جمہوری آزادی کا لبادہ اوڑھ کر پارلیمنٹ اور نظام لپیٹنے کی بات کر رہے ہیں ۔احتجاج کرنے والوں کا ایجنڈا صرف غیر جمہوری نہیں، اس ملک کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کوکہاکہ اگرجلسہ کرنےکی درخواست نہیں دینگےتواجازت نہیں ملے گی۔ پارٹی رہنماؤں کی رائےتھی کہ عوامی تحریک کےبیشترمطالبات غیرآئینی ہیں۔ دھرنے والوں کا مطالبہ مان لیا تو کل کوئی اور گروہ ایسا کرےگا۔ پارلیمانی سیاسی جماعتوں کےکہنے پر دھرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالی ۔ ماڈل ٹاؤن واقعے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجارہاہے۔ ساری قوم ایک طرف اور2گروہ دوسری طرف ہیں ۔ کسی بھی معاملے پر حکومت اور پارٹی کی رائے اہم ہوتی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کا ایک ہی موقف تھا، آواز پر قدغن نہیں لگانی چاہیے۔ یہ لوگ غیرذمے داری، گولی کی سیاست کررہے ہیں۔ ڈھائی ہزار خواتین 200 بچوں کے ہمرا حصار بناکر بیٹھی ہیں۔ گولی کی سیاست کی جارہی ہے ۔ پارلیمان کے سامنے اجتماعی قبریں کھود دی ہیں۔ یہ اپنے ہی ساتھیوں کی لاشیں گراکر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ جمہوری تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ احتجاج کرنےوالوں کا ایجنڈا افراتفری پھیلانا ہے۔ لشکر کشی کرنےوالوں کا ایجنڈا نظام لپیٹنا ہے۔حکومت سیاسی معاملات پربات کرنے کے لیے تیارہے۔عمران خان نے تحریری طورپرکہا کہ وہ ریڈزون میں داخل نہیں ہوں گے ۔ہم نے عوامی تحریک کو خیابان سہروری میں جلسے کی اجازت دی۔عوامی تحریک نےایک اوردرخواست دی کہ خیابان سہروردی میں جلسےکی اجازت دیجائے۔عوامی تحریک کو زیروپوائنٹ پرجلسہ کرنے کی درخواست دی تھی۔پی ٹی آئی کو کشمیر ہائی وے پر پڑاؤ کرنےکی اجازت دےدی ۔جب یہ قافلےروکےتوہمیں پی ٹی آئی اورپی اےٹی کیطرف سے درخواست آئی۔جلوسوں کے روکنےپر خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ ناراض بھی ہوئے۔خیبرپختونخوا سے آنےوالے جلوسوں کو روکا گیا ۔دونوں جماعتوں کےقافلوں کوروکاتو دونوں جماعتوں نےجلسہ کرنےکی درخواست دی۔دونوں جماعتوں کوکہاکہ اگرجلسہ کرنےکی درخواست نہیں دینگےتواجازت نہیں ملے گی۔حکومت سیاسی معاملات پربات کرنے کے لیے تیارہے۔میرے شدید تحفظات کے باوجود حکومت نے دونوں کو جلسے کی اجازت دی۔عوامی تحریک کو جلسےکی اجازت نہ دینےکی رائےآئی، وزیراعظم کےحکم پراجازت دی۔پارٹی کی رائے تھی کہ بطور سیاسی جماعت تحریک انصاف کو جلسہ کرنے دیں۔ مظاہرین پراگرفوج گولی چلاتی توبڑے سوال اٹھتے ۔دھرنا دینے والوں کا مطالبہ مان لیا تو کل کوئی دوسرا گروہ آجائے گا۔ پاکستان اہم ترین دور سے گزر رہا ہے ۔فخرالدین جی ابراہیم کا نام مجھے عمران خان نے دیا، جو میں نے پیپلز پارٹی کو دیا ۔مذاکرات میں پی ٹی آئی کے 6 میں سے 5 مطالبات پر مکمل اتفاق ہوا۔صرف وزیراعظم کے استعفے کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوا ۔حکومت سیاسی معاملات پربات کرنے کے لیے تیارہے ۔مظاہرین پراگرفوج گولی چلاتی توبڑے سوال اٹھتے۔دھرنا دینے والوں کا مطالبہ مان لیا تو کل کوئی دوسرا گروہ آجائے گا۔وزیراعظم کہہ چکے،کمیشن فیصلہ دےکہ بڑی دھاندلی ہوئی،ہم گھرچلےجائینگے۔بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتے تھے صرف مقدمے کے اندراج سے کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ (جنگ، تازہ ترین۔ 29 اگست 2014)
 
Top