دل میں طوفان سا بپا کرکے۔۔۔۔ فی البدیہہ غزل برائے اصلاح و تبصرہ

شاہد شاہنواز

لائبریرین
اس بحر سے ملتی جلتی ایک اور بحر ہے اور میں اکثر یہ غلطی کرتا ہوں کہ غزل کے کچھ مصرعے دوسری سمت نکل جاتے ہیں اور مجھے پتہ نہیں چلتا۔۔۔
دل میں طوفان سا بپا کرکے ۔۔۔۔کوئی اپنا گیا دغا کرکے
ساری دنیا کو منانے نکلے۔۔۔۔۔ساری دنیا کو ہم خفا کرکے
کیا مجھے مل سکا وفا کرکے اس نے کیا پالیا جفا کرکے
خار جلتے رہے تھے ساتھ مگر۔۔۔۔ گل چلے گل مرا دیا کرکے
حوصلہ اس سے ٹوٹ جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ہم جو کرتے تھے حوصلہ کرکے
راستوں سے بھی منزلیں گزریں ۔۔۔منزلوں کو بھی راستہ کرکے
کوئی سنتا نہ تھا تو جاں دے دی۔۔۔۔ بات کرتے ہم اور کیا کرکے
چل نکل اپنی ذات سے آگے۔۔۔۔۔ جیت کو دیکھ ہار سا کرکے
جاں سے جانا ہی جب مقدر تھا۔۔۔۔ کیا کریں ہم کوئی گلہ کرکے
اس کا صرف ایک ہی شعر تھا جس کے لیے یہ پوری غزل کہی گئی اور اسے ڈھونڈنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے کہ وہ سارے اشعار سے مختلف ہے۔۔۔ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں۔۔۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
اس سے پہلے بھی ایک غزل جو میں نے یہاں پوسٹ کی ہے، فیس بک پر پوسٹ کی گئی تھی، اس میں مصرع تھا خود کشی ہو نہیں پائی ہم سے۔۔۔ آئیے حوصلہ بڑھانے کو۔۔۔
ایمان گونڈوی نے کہا یہ دوسری بحر میں ہے یعنی مصرع اول۔۔۔
اسے یوں کر لیں: خودکشی ہم سے ہو نہیں پائی۔۔۔
میں نے کہا مجھے دونوں میں کوئی فرق نہیں لگتا لیکن آپ کہہ رہے ہیں تو دوسرا ٹھیک ہے۔ میں یہ رکھ لیتاہوں کیونکہ مجھے بحروں سے زیادہ اپنی بات پہنچانے سے سروکار ضرور ہے لیکن جو کہا جائے وہ درست بھی ہونا چاہئے۔
اب یہ جو دوسری بحرہے، کیا اس میں کوئی غزلیات آپ کی نظر میں ہیں جن کو دیکھتے ہوئے میں اس فرق کو سمجھ سکوں اور اس بحر میں بھی لکھوں تاکہ اس غلطی سے بچا جاسکے۔۔ اس فی البدیہہ غزل کو لکھنے کا اور کوئی مقصد نہیں تھا کیونکہ فن کے جس مقام پر میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں، وہاں فی البدیہہ کی صلاحیت ہونے کے باوجود اسے استعمال کرنا میری نظر میں بے وقوفی ہے۔۔۔ خیال تو سب کے پاس ہوتے ہیں، اصل چیز بحر کو سمجھنا اور اس کے اندر رہنا ہے، جب تک یہ نہیں آئے گا، شعر کہنا ہی غلط ہے۔۔۔
 

اسد قریشی

محفلین
اس سے پہلے بھی ایک غزل جو میں نے یہاں پوسٹ کی ہے، فیس بک پر پوسٹ کی گئی تھی، اس میں مصرع تھا خود کشی ہو نہیں پائی ہم سے۔۔۔ آئیے حوصلہ بڑھانے کو۔۔۔
ایمان گونڈوی نے کہا یہ دوسری بحر میں ہے یعنی مصرع اول۔۔۔
اسے یوں کر لیں: خودکشی ہم سے ہو نہیں پائی۔۔۔
میں نے کہا مجھے دونوں میں کوئی فرق نہیں لگتا لیکن آپ کہہ رہے ہیں تو دوسرا ٹھیک ہے۔ میں یہ رکھ لیتاہوں کیونکہ مجھے بحروں سے زیادہ اپنی بات پہنچانے سے سروکار ضرور ہے لیکن جو کہا جائے وہ درست بھی ہونا چاہئے۔
اب یہ جو دوسری بحرہے، کیا اس میں کوئی غزلیات آپ کی نظر میں ہیں جن کو دیکھتے ہوئے میں اس فرق کو سمجھ سکوں اور اس بحر میں بھی لکھوں تاکہ اس غلطی سے بچا جاسکے۔۔ اس فی البدیہہ غزل کو لکھنے کا اور کوئی مقصد نہیں تھا کیونکہ فن کے جس مقام پر میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں، وہاں فی البدیہہ کی صلاحیت ہونے کے باوجود اسے استعمال کرنا میری نظر میں بے وقوفی ہے۔۔۔ خیال تو سب کے پاس ہوتے ہیں، اصل چیز بحر کو سمجھنا اور اس کے اندر رہنا ہے، جب تک یہ نہیں آئے گا، شعر کہنا ہی غلط ہے۔۔۔


جناب شاہد شاہنواز صاحب، یوں تو بحُور کی بابت میں بھی اتنا علم نہیں رکھتا لیکن آپ کے پیش کردہ اشعار کو کچھ اس طرح سمجھنے میں کامیاب ہوا ہوں ممکن ہے درست ہو، ممکن ہے غلط ہو، اس کی تصدیق تو اعجاز صاحب، محمد وارث صاحب اور فاتح صاحب ہی کر سکتے ہیں۔

آپ کا مطلع اس بحر میں ہے،

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں
(کرشن بہاری نُور لکھنوی)
بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(بشکریہ جناب محمد وارث http://muhammad-waris.blogspot.com/2012_01_01_archive.html )
دل م طو فا، ن سا ب پا ، کرکے​
کو ئ اپ نا، گ یا د غا، کرکے










آپ کا دوسرا مصرع
عشق مجھکو نہیں وحشت ہی سہی،
میری وحشت تری شہرت ہی سہی
(مرزا غالب، بحرِرمل کی کوئی ضحافات میں سے)
فاعلاتن، فعلا تن، فعلن

ساری دنیا کو منانے نکلے
سا ر دن یا، ک م نا نے، نک لے

اب آگے آپ جیسے چاہیں اپنی غزل کو منزل دے سکتے ہیں۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
بہت شکریہ جناب اسد قریشی اور محمد اظہر نذیر صاحبان۔۔۔ مجھے جو ایک شعر اچھا لگا، وہ کون سا ہوسکتا ہے، حد یہ ہے کہ میری نظر میں یہ پوری کی پوری غزل بے کار ہے۔۔۔ صرف وہ ایک شعر کام کاہے۔۔۔
 
Top