دل بجھ گیا ہے دیکھ سرِ شام کسی کا

اساتذہ کرام جناب محمد یعقوب آسی صاحب ، جناب الف عین صاحب اور دیگر اہل علم حضرات سے غزل پہ اصلاحی نظر فرمانے کی گزارش ہے۔

برسوں میں نہ آیا ہو جو پیغام کسی کا
کیا آئیں گے! جو مچ گیا کہرام کسی کا

یوں چھیڑ نہ تو ذکر سرِ عام کسی کا
بدنام نہ ہو جائے کہیں نام کسی کا

ہم دیر تلک دیکھتے ہیں راہ کسی کی
دل دیر تلک ورد کرے نام کسی کا

دو پل تو ٹھہر جائیے اب گھر میں ہمارے
آ جائیے، ہو جائیے آرام کسی کا

وارفتہِ تحسین ہوں جب جانِ عنادل
پھر دیکھتا ہے کب کوئی پیغام کسی کا

روشن ہیں دیے یوں تو ہر اک طاق میں لیکن
دل بجھ گیا ہے دیکھ، سرِ شام کسی کا​

سید عاطف علی ، ادب دوست ، اوشو
 
آخری تدوین:
پہلی بات یہ کھل کر سامنے آئی کہ آپ نے لفظیات میں سادگی اختیار کی تو شعر کی تفہیم بھی بہتر ہوئی اور مضمون بندی میں لگتا ہے کہ آپ کو سہولت رہی۔
ذرا شعر بہ شعر بھی دیکھ لیتے ہیں۔
 
برسوں میں نہ آیا ہو جو پیغام کسی کا
کیا آئیں گے! جو مچ گیا کہرام کسی کا

’’برسوں‘‘ اور ’’برسوں میں‘‘ ۔۔۔ معانی کا فرق ہے۔ آپ کے شعر کا مفہوم ’’برسوں‘‘ کا متقاضی ہے ’’برسوں میں‘‘ کا نہیں۔
’’کہرام مچنا‘‘ اپنی جگہ مکمل مفہوم رکھتا ہے؛کسی واقعے پر شور و غوغا اٹھنا کہرام مچنا ہے۔ اس کے ساتھ اضافت (کا، کے کی) میں نے کہیں اور نہیں دیکھی اور نہ مجھے اندازہ ہے اضافت کے ساتھ اس کا کیا مفہوم بنتا ہے؛ اور بنتا بھی ہے یا نہیں!
 
ہم دیر تلک دیکھتے ہیں راہ کسی کی
دل دیر تلک ورد کرے نام کسی کا
اس میں ’’نام کسی کا‘‘ بمعنی ’’کسی نام کا‘‘ لیں تو درست ہے۔ اگر ’’کسی کا نام‘‘ مراد لیں تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس کا اسلوب پنجابی ہے، اردو نہیں۔
 
دو پل تو ٹھہر جائیے اب گھر میں ہمارے
آ جائیے، ہو جائیے آرام کسی کا
جب ’’ہمارے‘‘ کہہ دیا تو پھر ’’کسی کا‘‘ کی ایمائیت جاتی رہی۔ ’’ہمارے گھر میں‘‘ اس کو تھوڑا سا چھپا لیجئے۔ مثلا: آپ آ ہی گئے تو دو پل ٹھہر جائیے؛ شعر کا لطف بڑھ جائے گا۔
 
وارفتہِ تحسین ہوں جب جانِ عنادل
پھر دیکھتا ہے کب کوئی پیغام کسی کا
وارفتہء تحسین ہونا چہ معنی دارد؟ جانِ عنادل سے کون مراد ہے؟ پیغام کی رعایت کس کے ساتھ بن رہی ہے؟ ۔۔ ان باتوں کو اپنے قاری کے لئے کھول دیجئے نہیں تو وہ اس شعر تک پہنچنے میں دقت محسوس کرے گا۔
اس کے اوزان بھی دیکھ لیجئے گا۔
 
مجموعی طور پر ایک قابلِ قبول غزل ہے جس کو نکھارا جا سکتا ہے۔
استادِ محترم بہت بہت شکریہ اتنے مفصل انداز میں اصلاح فرمانے کے لیے۔۔اصل میں یہ غزل بہادر شاہ ظفر کی زمین میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔جسکا ایک شعر ہے کہ
وہ کرتے ہیں آرام سدا غیر کے گھر میں
کیا کام انہیں جائے ہو آرام کسی کا
قافیہ کی قلت تھی اور ردیف بھی کافی کچھ طلب کر رہی تھی۔۔۔ اور ویسے بھی ابھی شعر کہنے کی نوبت آئی نہیں۔۔۔شعر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔۔
آپ سے قابلِ قبول کی سند ملنا میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ اور میرے لیے انتہائی مسرت کا باعث ہے۔۔جو کوتاہیاں آپ نے بتائیں ان کو درست کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔آخر میں ایک دفعہ پھر سے شکریہ۔۔
والسلام
 
استادِ محترم بہت بہت شکریہ اتنے مفصل انداز میں اصلاح فرمانے کے لیے۔۔اصل میں یہ غزل بہادر شاہ ظفر کی زمین میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔جسکا ایک شعر ہے کہ
وہ کرتے ہیں آرام سدا غیر کے گھر میں
کیا کام انہیں جائے ہو آرام کسی کا
قافیہ کی قلت تھی اور ردیف بھی کافی کچھ طلب کر رہی تھی۔۔۔ اور ویسے بھی ابھی شعر کہنے کی نوبت آئی نہیں۔۔۔شعر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔۔
آپ سے قابلِ قبول کی سند ملنا میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ اور میرے لیے انتہائی مسرت کا باعث ہے۔۔جو کوتاہیاں آپ نے بتائیں ان کو درست کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔آخر میں ایک دفعہ پھر سے شکریہ۔۔
والسلام

قافیے تو خیر بہت ہیں۔ تاہم وہ جو ایک طریقہ ہے نا؛ قوافی جمع کر کے مضامین سوچنا، اس میں مشق اچھی ہو جاتی ہے، شعر کم کم ہی نکلتا ہے۔ اپنے اندر سے جو چیز پھوٹتی ہے وہ گھڑنتو شعر میں نہیں ہو سکتی۔ ردیف کا آپ نے درست کہا۔ یہ خاصی پابند کر دینے والی ردیف ہے۔ تاہم اس "کسی" کے دو نمایاں پہلو ہیں: ایک کو ضمیرغیرشخصی کہہ لیجئے یا تعمیم کہہ لیجئے (رسمی نصابی اصطلاحات سے میں بہت زیادہ مانوس نہیں ہوں)۔ دوسرا پہلو رمز یا ایماء کا ہے کہ جس سے بات کی جا رہی ہے یا جس کی بات کی جا رہی ہے اس کا نام ارادی طور پر نہ لینا، تاہم کوئی نہ کوئی اشارہ ایسا دے دینا کہ قاری کا ذہن اس طرف چلنے لگے۔ اس کو آپ چاہیں تو نزاکت کہہ لیں۔ میں نے کل ہی ایک دوست سے کہا کہ غزل کا وہ شعر اچھا لگتا ہے جو قاری کو کچھ بتانے سے زیادہ کچھ سجھائے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
قافیے تو خیر بہت ہیں۔ تاہم وہ جو ایک طریقہ ہے نا؛ قوافی جمع کر کے مضامین سوچنا، اس میں مشق اچھی ہو جاتی ہے، شعر کم کم ہی نکلتا ہے۔ اپنے اندر سے جو چیز پھوٹتی ہے وہ گھڑنتو شعر میں نہیں ہو سکتی۔ ردیف کا آپ نے درست کہا۔ یہ خاصی پابند کر دینے والی ردیف ہے۔ تاہم اس "کسی" کے دو نمایاں پہلو ہیں: ایک کو ضمیرغیرشخصی کہہ لیجئے یا تعمیم کہہ لیجئے (رسمی نصابی اصطلاحات سے میں بہت زیادہ مانوس نہیں ہوں)۔ دوسرا پہلو رمز یا ایماء کا ہے کہ جس سے بات کی جا رہی ہے یا جس کی بات کی جا رہی ہے اس کا نام ارادی طور پر نہ لینا، تاہم کوئی نہ کوئی اشارہ ایسا دے دینا کہ قاری کا ذہن اس طرف چلنے لگے۔ اس کو آپ چاہیں تو نزاکت کہہ لیں۔ میں نے کل ہی ایک دوست سے کہا کہ غزل کا وہ شعر اچھا لگتا ہے جو قاری کو کچھ بتانے سے زیادہ کچھ سجھائے۔
زبردست
 
Top