بشیر بدر دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے

شمشاد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 30, 2020

  1. شمشاد خان

    شمشاد خان محفلین

    مراسلے:
    1,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے
    اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے

    وہ سادگی نہ کرے کچھ بھی تو ادا ہی لگے
    وہ بھول پن ہے کہ بے باکی بھی حیا ہی لگے

    یہ زعفرانی پلوور اسی کا حصہ ہے
    کوئی جو دوسرا پہنے تو دوسرا ہی لگے

    نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی
    یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے

    عجیب شخص ہے ناراض ہو کے ہنستا ہے
    میں چاہتا ہوں خفا ہو تو وہ خفا ہی لگے

    حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
    جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

    ہزاروں بھیس میں پھرتے ہیں رام اور رحیم
    کوئی ضروری نہیں ہے بھلا بھلا ہی لگے
    (بشیر بدر)
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر