دستِ آزر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے

محمد بلال اعظم

لائبریرین
واہ واہ واہ ابن رضا بھائی
کس کس شعر کو منتخب کروں
لاجواب غزل ہے
بے انتہا خوبصورت

بہت سی داد قبول کریں

دستِ آذر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
 

ابن رضا

لائبریرین
واہ واہ واہ ابن رضا بھائی
کس کس شعر کو منتخب کروں
لاجواب غزل ہے
بے انتہا خوبصورت

بہت سی داد قبول کریں

دستِ آذر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
اساتذہ کی عنقا تلخ نوائی کا حاصل ہے دوست. اللہ خوش رکھے. پسندآوری کا بہت شکریہ
 
واہ ۔۔۔ کیا کہنے ۔۔۔ابن رضا صاحب
دوست کرتے ہیں اِسے موجِ سمندر کے سپرد
کشتیِ دل ہے کہ ہر آن کنارا مانگے

مدتیں بیت گئیں ہیں مجھے آزاد ہوئے
حیف یہ خُوئے اَسیری ہے کہ آقا مانگے

ایک مدت سے ہے ویران صنم خانہِ دل
دستِ آذر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
بہت عمدہ اشعار ہیں۔ ماشا اللہ ۔
 
Top