دبئی کے حکمران اپنی ہی بیٹیوں کے اغوا میں ملوث ہیں: برطانوی عدالت

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 6, 2020

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,510
    دبئی کے حکمران اپنی ہی بیٹیوں کے اغوا میں ملوث ہیں: برطانوی عدالت
    سابق اہلیہ شہزادی حیا بنتِ الحسین سے بچوں کی حوالگی کے کیس میں برطانیہ کی عدالت نے دبئی کے حکمران شیخ محمد کو دوسری بیٹیوں کے اغوا میں ملوث پایا ہے۔
    ونسنٹ ووڈ دی انڈپینڈنٹ
    جمعہ 6 مارچ 2020 8:45

    [​IMG]
    فیصلے کی اشاعت کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں شیخ محمد نے کہا: ’اس کیس کا تعلق ہمارے بچوں کے انتہائی ذاتی اور نجی معاملات سے ہے۔‘ (اے ایف پی)

    برطانیہ کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اپنی سابق اہلیہ شہزادی حیا بنتِ الحسین کو ڈرانے اور دھمکانے میں ملوث رہے، جس کے باعث شہزادی حیا کو اپنے دو بچوں کے ساتھ لندن فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

    برطانیہ کے سینیئر ترین فیملی جج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں شیخ محمد بن راشد المکتوم پر اس الزام کو بھی درست قرار دیا گیا کہ انہوں نے دو عشروں قبل ختم ہونے والی شادی سے اپنی دو بالغ بیٹیوں کے اغوا کا حکم بھی دیا تھا۔

    یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے جب شہزادی حیا گذشتہ برس اپنے دو بچوں، 12 سالہ جلیلہ اور آٹھ سالہ زاید، کے ہمراہ متحدہ عرب امارات سے فرار ہو کر لندن پہنچی تھیں اور امارات کے 70 سالہ وزیر اعظم شیخ محمد نے اپنے دونوں بچوں کی حوالگی کے لیے برطانوی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    تاہم شہزادی حیا نے جواباً بچوں کو عدالت کے زیر نگہبانی رکھنے کا مطالبہ کر دیا جبکہ اپنی بیٹی کی زبردستی شادی سے متعلق تحفظ کے لیے درخواست بھی دائر کی۔

    شہزادی حیا نے ان حقائقی بیانات کو سلسلہ وار شائع کرنے کا مطالبہ بھی کیا، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ شیخ محمد نے دو موقعوں(2002 اور 2018) پر اپنی دو بالغ بیٹیوں 19 سالہ شیخہ شمسہ اور شیخہ لطیفہ کو اغوا کیا اور انہیں حراست میں رکھا۔

    فیملی ڈویژن کے صدر سر اینڈریو میکفرلین کو معلوم ہوا کہ شمسہ کو، جو اب 38 سال کی ہیں، کیمبرج کی گلیوں سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کو گذشتہ دو دہائیوں سے ’مکمل نہیں تو زیادہ تر آزادی سے محروم رکھا گیا‘ جبکہ 35 سالہ لطیفہ کو 2002 میں پہلی بار گھر سے بھاگنے کی کوشش کے بعد ان کے والد کی ہدایت پر تین سال سے زیادہ عرصے تک قید میں رکھا گیا تھا اور بلآخر اکتوبر 2005 میں رہا کیا گیا۔

    ان کی دوست ٹینا جوہائین نے عدالت کو بتایا کہ بھاگنے کی دوسری کوشش کے دوران بھارت کی خصوصی فورس نے گوا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں سے لطیفہ کو ایک کشتی میں سے زیر حراست لیا اور بعدازاں انہیں متحدہ عرب امارت کے حوالے کردیا۔

    جج کہا کہنا تھا کہ ٹینا جوہائین نے لطیفہ کے آخری الفاظ کے بارے میں جو بتایا ’ان سے بہت کچھ پتہ چلتا ہے۔‘

    سر اینڈریو میکفرلین نے مزید کہا: ’وہ (بھارتی) فوجیوں سے التجا کررہی تھیں کہ انہیں دبئی میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس بھیجنے کی بجائے مار دیا جائے۔ ان تمام معاملات کو ایک ساتھ جوڑتے ہوئے میں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ لطیفہ کی دبئی چھوڑنے کی خواہش حقیقت پر مبنی تھی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا: ’وہ اپنے اہل خانہ سے فرار ہونے کے لیے بے چین تھیں اور ایسا کرنے کے لیے وہ ایک خطرناک مشن پر بھی تیار ہو گئیں۔‘

    انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ 2000 اور آج کے درمیان رونما ہونے والے واقعات میں متعدد مشترکہ موضوعات کی تصویر کشی ہوتی ہے جس کا ’بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ریاست اور اس کی مشنری کو ڈرانے دھمکانے، ظلم اور جبر کے لیے استعمال کیا گیا جو قانون کی حکمرانی کی توہین ہے۔‘

    جج نے مزید کہا: ’میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ جب ان نتائج کو اکھٹا کیا گیا تو دو دہائیوں کے دوران روا رکھا گیا مستقل طرز عمل سامنے آیا جہاں اگر وہ ایسا کرنا ضروری سمجھیں تو ایک باپ خاص مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیار میں موجود طاقت استعمال کرے گا۔‘

    دوسری جانب فیصلے کی اشاعت کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں شیخ محمد نے کہا: ’اس کیس کا تعلق ہمارے بچوں کے انتہائی ذاتی اور نجی معاملات سے ہے۔‘

    ’یہ اپیل بچوں کے بہترین مفادات اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے کی گئی تھی۔ اس کیس کا فیصلہ میرے بچوں کو میڈیا کی توجہ سے اس طرح محفوظ نہیں رکھتا، جس طرح برطانیہ میں فیملی مقدمات میں کیا جاتا ہے۔‘

    ’حکومتی سربراہ کی حیثیت سے میں عدالت کے ’حقائق کی تلاش کے عمل‘ میں حصہ نہیں بن سکا، جس کے نتیجے میں وہ فیصلہ سامنے آیا جو لامحالہ کہانی کا ایک رخ بیان کرتا ہے۔‘

    ’میں میڈیا سے کہتا ہوں کہ وہ ہمارے بچوں کی پرائیویسی کا احترام کرے اور وہ برطانیہ میں ان کی زندگی میں دخل اندازی سے باز رہے۔‘
     

اس صفحے کی تشہیر