دانیال طریر کا معنی فانی

نایاب

لائبریرین
" برائے فروخت "
روح چاہیے تم کو
یا بدن خریدو گے
موت سب سے سستی ہے
سامنے کے شیلفوں میں
رنگ رنگ آنکھیں ہیں
ساتھ نیند رکھی ہے
خواب اس طرف کو ہیں
سب سے آخری صف میں
حسن کی کتابیں ہیں
خیر کے فسانے ہیں
فرسٹ فلور پر سائنس
میگزین فیشن کے
اور علم دولت ہے
آج کی ضرورت ہے
سب سے بیش قیمت ہے
فرش پر جو رکھا ہے
دین ہے تصوف ہے
فلسفہ ہے منطق ہے
باعثِ تپ دق ہے
ڈسک کاؤنٹر کے پاس
شیش داں میں رکھی ہیں
جیسے قیمتی چیزیں
آسماں میں رکھی ہیں
آسمان والا بھی
کیا یہاں پہ ملتا ہے
کیسے بھاؤ بکتا ہے
پہلے خوب چلتا تھا
لوگ لینے آتے تھے
اب خدا نہیں بکتا
جانے کس زمانے سے
اس زماں میں آئے ہو
یہ جہاں نہیں صاحب
تم دکاں میں آئے ہو
 

طارق شاہ

محفلین
دانیال کی تحریر!
لطف دے گئی صاحب
کیا نہیں ہے پڑھنے کو
غور سے اگر دیکھیں
زندگی کا ہر شعبہ
کردیا عیاں اُس نے
وہ دکاں سجائی ہے
آئینہ دکھایا ہے
کچھ رہا نہ کہنے کو
سب کیا بیاں اُس نے

تشکّر نایاب صاحب، ایک اچھی شیئرنگ کے لئے
بہت خوش رہیں :)
 
دانیال کی تحریر
یوں تو خوب ہے صاحب
آپ نے جو لکھا ہے
بس وہی غضب کا ہے
یوں تو آپ محفل میں
روز روز آتے ہیں
شاعروں کی غزلوں سے
کچھ ہمیں سناتے ہیں
لیکن اپنی غزلوں سے
کچھ نہیں سناتے ہیں
ہم کو روز ہی صاحب
تشنہ چھوڑ جاتے ہیں
العطش پکاریں گے
ہم تو روز ہی صاحب
آپ کی محبت میں
ہم ہیں چاہنے والے
کچھ تو دھیان کرلیجے
بس ہماری خاطر ہی
کچھ بیان کرلیجے
ہم کو روز ہی صاحب
تشنہ چھوڑ جاتے ہیں
روز یوں ستاتے ہیں
العطش پکاریں گے
ہم تو روز ہی صاحب

طارق شاہ بھائی کی خدمت میں۔
استادِ محترم جناب محمد یعقوب آسی بھائی ! آپ ہی کچھ سفارش کردیجیے
 
استادِ محترم جناب محمد یعقوب آسی بھائی ! آپ ہی کچھ سفارش کردیجیے
از: محمد خلیل الرحمٰن

در جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امتحان میں ڈالو گے؟
اس ضعیف جثے کو
بات چل رہی ہے کیا
یہ جو جان لوں کچھ کچھ
عرض تب کروں کچھ کچھ
وہ دکان بھی کیسی
حیرتوں کا مرکز ہے
بیچنے کو رکھی ہے
ایک ایک شے نایاب
بات سوچنے کی ہے
قدر ہی نہ ہو جس کو
علم ہی نہ ہو جس کو
یاں سے کیا خریدے گا
گاہکوں کو بتلاؤ
مال یا نہیں چلتا
حیرتوں کی نقدی بھی
کام کچھ نہیں دیتی
گر خریدنا ہے کچھ
تو کہیں سے لے آؤ
کچھ شعور کی نقدی
ہاں مگر، بتا ہی دوں
وہ شعور کی نقدی
قرض میں نہیں ملتی
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی سمجھے بغیر فی البدیہہ کاوش
 

طارق شاہ

محفلین
خلیل الرحمان صاحب
کیوں شرمندہ کرتے ہیں صاحب ۔
میری شاعری، میری پیش کردہ شعرا کی شاعری کی طرح یا اس سے مِلتی جُلتی بھی کبھی ہوئی تو انشاللہ ضرورپیش کرونگا
یا کم از کم میں جس سے مطمئن ہوا تو ۔ تک بندی یا مصرعے موزوں، کبھی جی کرتا ہے تو کر لیتا ہوں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا کہ جسے
خاص طور سے پیش کیا جائے :)

ابھی کچھ دن قبل ابن سعید صاحب نے قرۃالعین بہنا کی شادی کی خبر جب سُنائی
تو کچھ دُعائیہ اشعار ہوئے یا لکھے، اُسے دوبارہ دیکھنے کی نیّت سے کہیں رکھ کر
بُھول گیا۔
دو شعر حافظہ پر زور دے کر لکھ رہا ہوں۔

ہے دُعا بات خدا تیری بنائے رکھے
دل میں ساجن کے تِرے، تُجھ کو بسائے رکھے

قرۃالعین، ہو شادی یوں مبارک بہنا !
رب تِری زیست کو پُھولوں سے سجائے رکھے

طارق شاہ
اصغر صاحب کی کلیّات مکمل ہونے کو ہے، کیا صاف شفاف اور خُوب شاعری ہے
اِس میں ہم سب کے سیکھنے کے لئے بہت کچُھ ہے ۔ الله کرے سب مستفید ہوں

تشکّر، بہت خوش رہیں صاحب
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت خوب نایاب بھائی۔۔۔۔!

کیا اچھی نظم ہے۔

دانیال طریر بلوچستان کے بہت اچھے شاعر ہیں اور یہ خوبصورت نظم اس بات کی دلیل ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
Top