دانا

گلزیب انجم نے 'افسانے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 20, 2018

  1. گلزیب انجم

    گلزیب انجم محفلین

    مراسلے:
    48
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Cool
    دانا :-
    گل زیب انجم
    سیاست سے پاک لوگوں کا اکثر بسیرا ریلوے پھاٹک کے ساتھ بنی جھگیوں میں ہوتا ہے شاید اسی لیے مکھیوں اور مچھروں کے بیکٹیریا سے ان کو کوئی بیماری نہیں لگتی ۔ بنا جلی کی کھاٹ پر پڑی بچیاں بجائے کھلونوں کے انہی مکھیوں مچھروں سے کھیلتی نظر آتی ہیں مجال ہے کبھی ان کو ہیضہ ہوا ہو۔ بغیر ختنے کے پھاٹک کے دائیں بائیں گھومتے ننگے بچے دین مذہب اور ذات پات سے بے خبر اپنا ہی کوئی کھیل کھیلتے ہیں ۔ جو چلنے کے قابل نہیں وہ بھی مٹی میں کھیلتے نظر آتے ہیں ۔ کوئی ٹیٹنس ان کے پاس تک نہیں آتا ۔ کپڑے شاید ان کو اپنے کسی بڑے دن پر ہی پہنائے جاتے ہوں وہ بھی کب سالم ہوتے بس ایک شرٹ سی ہوتی جس کے گندے ہونے کی فکر ماں کو اتنی لاحق رہتی کے وہ آگے پیچھے سے پکڑ کر ایک گرہ لگا دیتی یوں بچہ نہ تو ننگوں میں شمار ہوتا نہ ہی لباس والوں میں ۔
    جھگیوں کی بستی کی کوئی چار دیواری نہیں ہوتی اور نہ ہی جھگیوں کے آہنی دروازے ہوتے ہیں لیکن وہاں کے کبھی ہتک عصمت کے کیس کسی عدالت میں نہیں سنے کسی پرنٹ یا الیکٹرونکس میڈیا میں نہیں دیکھے یا پڑھے۔ شاید وہاں کے لوگ ان باتوں سے بھی بے خبر ہیں جیسے وہ اپنے لباس سے بے خبر ہیں۔
    وہ جھگیوں کی بستی میں نو دس سال سے رہ رہی تھی دوسرے بچوں کی بانسبت وہ ابنارمل سی تھی وہ دس سال کی ہو کر بھی اس چیز سے بے خبر تھی کہ شلوار کے نام پر لگے پاجامے میں آزار بند بھی ہے کہ نہیں ۔ کہیں کچرے کے ڈھیر پر پڑی بریزی کی بیک سٹرپ اس کی ماں کو ملی تو اس نے وہی سٹرپ درمیان سے کاٹ کر دو بنا لی پھر دونوں کے سرے جوڑتے ہوئے گرہ باندھ کر لمبائی میں اتنی کر دی کے وہ کمر کے گرد باندھی جا سکے لیکن اتنی محنت کرنے کے باوجود بھی وہ یہ نہ سمجھ سکی کہ اس لاسٹک سٹرپ میں سکھڑنے کی قوت نہیں رہی ورنہ کون اس کو کچرے میں پھینکتی ۔ ڈھیلے سے لاسٹک والی شلوار اس کی کمر کے دبلے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کولہوں پر اتر آتی تو پونچوں کی طرف سے اتنی پاوں کے نیچے آ جاتی کہ وہ جوتے اور موزے پہنے بغیر بھی ایسے محسوس کرتی کے پاوں کے نیچے کوئی اچھی سی فٹ ویر آ گئی ہے ۔ وہ بس اسی لطف میں مگن رہتی لیکن یہ نہ سمجھ سکتی کے جتنا شلوار نے پاوں کو ڈھانپ لیا ہے اتنی ہی کولہوں سے بھی نیچے آ گئی ہے قمیص بھی کون سی لمبی ہوتی بس دیکھنے میں ایسی ہی لگتی کہ اپنے سے پانچ سال چھوٹے بھائی کی بنیان پہن رکھی ہو۔ اپنی بستی میں تو اس جھلی پاگل کو کبھی کسی نے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ شلوار کتنی پاوں کے نیچے آ گئی ہے لیکن جب کبھی عالم دیوانگی میں کچھ ہی فاصلہ پر بنی عالی شان کوٹھیوں والی کالونی میں چلی جاتی تو وہاں کی صاف ستھری لڑکیاں تو اسے گلی میں سے بھی نہ گزرنے دیتی البتہ صاف شفاف لباس لڑکے بہت ہی دلچسپی سے دیکھتے بلکہ کئی تو چاکلیٹ اور ڈرنکس کی پیشکش بھی کرتے جنھیں وہ خوشی سے قبول کر لیتی ۔ ایک زیر تعمیر کوٹھی کا چوکیدار بھی اس کو ہنسانے کے لیے پانی پھینک دیتا تو وہ چھوٹی سی قمیص کو اوپر اٹھاتے ہوئے منہ صاف کرتی یہ سوچ تو اس کے ذہن میں آتی ہی نہ کہ پیٹ کتنا ننگا ہو رہا ہے ۔
    وہ اکثر اس وقت جھگی سے نکل جاتی جب اس کے ماں باپ کہیں پیٹ کا ایندھن اکٹھا کرنے بس سٹاپوں ریلوے اسٹیشن یا پھر سبزی فروٹ کی منڈی کے عقب میں لگے ڈھیر پر گھوم رہے ہوتے وہ کالونی کی آلودگی سے شفاف گلیوں میں گھوم رہی ہوتی وہ جگہیں اس کی نگاہوں کا خاص محور ہوتی جہاں سے اسے کھانے پینے کے لیے کچھ مل جاتا ۔ فروٹ والا بھی کوئی نہ کوئی پھل دے دیتا تو وہ کچھ کھا کر باقی کا ساتھ لے جاتی ایک دن اس کے باپ نے ایک کیلا اس کے ہاتھ میں دیکھ کر اس کی ماں سے پوچھ لیا یہ کیلا کہاں سے لایا ہے اس نے کچھ ماووں والا اور کچھ اپنا روایتی انداز اپناتے ہوئے ہاتھ نچلا کر کہا کہاں سے لائے گی بیچاری بس پورا دن ہی تے منجے تے پئی رہیندی اے۔ یہ سن کر وہ پھر بولا دانا دی ماں میں تے کیلے دا پھچیا سی ۔ کوئی راہگیر سٹ گیا ہو گا ۔ ٹھیک ہے مگر خیال رکھنا جمانا وڈا ہی کھراب اے۔ اللہ خیر کرے گا اس کملی نوں کسے کی آخنا ۔
    اولاد جتنی بھی بڑی ہو جائے والدین کو نھنی منی ہی لگتی ہے جسمانی اور طور طریقے کی جو تبدیلیاں ان کو بہت دیر سے دکھتی ہیں وہ زمانہ بہت پہلے کا دیکھ چکا ہوتا ہے والدین کی کملی سی بچی کہیں نگاہوں اور خیالوں کا مرکز بن چکی تھی۔ آج اس کی ماں کو کہیں سے کپڑے ملے اس نے پوٹلی بنائے ہوئے گھر لائے تو اس کے ناپ کی ایک بٹنوں والی شرٹ ملی جو تھی تو لڑکوں کی لیکن اس نے ضد کر کے خود پہن لی ۔ والدین نے یہی سوچا بس کچھ دیر بعد اتار دے گی۔ وہ کام کاج کی غرض سے گے تو دانا کو بھی گھومنے کی یاد آ گئی وہ بھی باہر چلی گئی ۔ بٹن کھلے ہیں یا بند کب اس نے دیکھے لیکن آج ان بٹنوں کو دیکھنے والوں کی تعداد کچھ زیادہ ہی تھی وہ اپنی انہی راہوں دوکانوں اور گلیوں سے گزرتی زیر تعمیر اس کوٹھی کی طرف جا رہی تھی جہاں اس پر کوئی پانی پھینکا کرتا تھا ۔ اسے کچھ معلوم نہیں تھا کہ شلوار کا لاسٹک کتنا ڈھیلا ہے شرٹ کے بٹن کتنے کھلے ہیں جو بند ہیں کیا وہ سینہ ڈھانپ رہے ہیں کہ نہیں وہ تو تھی معصوم دماغ کی ماں باپ کو چھوڑ کر باقی ساری بستی ہی تو اسے پاگل کہتی تھی بھلا پاگلوں کو کب لباس کی پروا ہوتی ہے ۔ یا وہ کب زمانے کی اونچ نیچ سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں ۔آج اسے پھر کسی نے چاکلیٹ دیے ابھی ایک ہی چاکلیٹ کھایا ہو گا کہ دل میں متلی سی اٹھی وہ پہلے ہی ڈھگمگاتے ہوئے چل رہی تھی کہ کچھ اور ڈھگمگانے لگی ابھی وہ کوٹھی کے قریب پہنچی ہی تھی کہ چکر کھا کر گر گئی ۔
    دانا کے ماں باپ کب سے گھر بہنچ چکے تھے ۔ بستی کے بچے ابھی تک کھیل رہے تھے باپ نے حقہ میں تمباکو ڈال کر آگ رکھ کر کش لینے شروع کیے تو ماں نے آٹا گوندھنا شروع کر دیا ۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی یکبارگی دونوں کی زبان سے نکلا آج دانا کتھے اے ۔پھر باپ نے ایک دو لڑکوں کو آواز دے کر کہا اوئے چھیمے اوئے ساجھے ساڈی دانا نوں اندر ٹور دیو ۔ انہوں نے آواز سن کر کہا چاچا او ساڈے نال نہی اے۔ یہ سنتے ہی اس نے اونچی اونچی آوازیں دی یہ آواز اتنی ہی اونچی تھی جتنی کہ بستی کی ساری جھگیوں والے سن لیا کرتے تھے۔ ہر جھگی سے آواز واپس آئی آج او ساڈے ولے نہی آئی۔ یہ سن کر دونوں میاں بیوی اٹھ کھڑے ہوئے سورج غروب ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا اس لیے وہ کسی روشنی کا بندوبست کیے بغیر ہی چل نکلے ساتھ بستی کے دوسرے مرد عورتیں بھی چل پڑے اب بستی میں بوڑھے تھے مریض یا وہ بچے جو کہیں آ جا نہیں سکتے تھے باقی ساری بستی ہی تلاش میں نکل گئی ۔ ادھے گھنٹے کی تگ و دو کے بعد اس کی ماں کچرے کے اس ڈھیر پر پہنچ چکی تھی جہاں سے اس نے دو سال پہلے ایک پرانی بریزر اٹھا کر لاسٹک سٹرپ کاٹ لائی تھی ۔ آج بھی وہ کسی انجانے خدشے کے تحت جو یہاں پہنچی تو کیا دیکھتی ہے کہ بٹنوں والی شرٹ کے سارے بٹن ٹوٹے پڑے تھے اور ڈھیلے لاسٹک والی شلوار حد نگاہ کہیں نظر نہیں آ رہی ۔ بستی کی دوسری عورتیں زور زور سے مردوں کو کہہ رہی تھیں پاگل دانا ادھر پڑی ہے ۔ ۔۔ ۔۔ ان کی اونچی اونچی آوازیں سن کر ایک راہگیر سب کچھ بھول کر سوچ رہا تھا یہ پہلی پاگل ہے جسے دنیا دانا بھی کہہ رہی ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر