1. اردو محفل بیس لاکھ عمومی پیغامات کے سنگ میل کی جانب تیز گام ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    اعلان ختم کریں

خیرالدین باربروسہ کی جنگیں (یادداشتیں )

ربیع م نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 11, 2018

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    974
    مختصر تعارف:

    خیرالدین باربروسہ مسلم بحری تاریخ کے عظیم امیرالبحر گزرے ہیں جن کی ذات سے بہت سے کارنامے وابستہ ہیں ،بدقسمتی سے ان کی زندگی ،کارناموں اور معرکوں کے بارے میں کم ازکم اردو میں بہت کم مواد دستیاب ہے ۔

    زیرنظر یادداشتیں خیرالدین باربروسہ نے اپنے بحری جہاد کے ساتھی رفیق کار ادیب اور شاعر"مرادی " کو سلطان سلیمان خان کے حکم سے لکھوائیں ۔

    یہ کتاب اپنے اسلوب ، موضوع اور مقصد میں بڑی منفرد سی ہے ، طرزتحریر انتہائی سادہ اور دلکش ہے یہاں تک کہ جو شخص شمالی افریقہ اور الجزائر کے اس دور کے تاریخی پس منظر سے واقفیت نہیں بھی رکھتا اسےلئے بھی اس روداد کو سمجھنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    یہ کتاب سلطان سلیمان خان کے زمانے میں اس وقت کی مروجہ ترکی زبان میں لکھی گئی ، اس کتاب کے مختلف نسخے بہت سی لائبریریز میں موجود ہیں جیسا کہ استنبول ، برلن ، قاہرہ ، میڈرڈ، پیرس ، ویٹی کن وغیرہ۔ان میں ویٹی کن کا نسخہ سب سے قدیم سمجھا جاتا ہے۔لیکن اس کے اولین نسخے کے بارے میں جو خیرالدین باربروسہ نے املا کروایا یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔

    جدید ترک زبان میں اس خودنوشت کو کئی بار شائع کیا جا چکا ہے جن میں سب سے اہم ترکی کے مشہور مورخ اور صحافی یلماز اوزتونا ہیں جنہوں نے اسے جدید ترکی زبان میں پہلی بار ساٹھ کی دہائی میں استنبول سے شائع ہونے والے تاریخی مجلے الحیاۃ میں شائع کیا ۔ اس کے بعد 1989 ء میں یہ یادداشتیں مستقل کتاب کی شکل میں شائع ہوئیں ۔

    اسی طرح ترک ادیب ارتوغرل دوزداغ نے 1975ء میں ان یادداشتوں کو ناول کی شکل میں شائع کیا۔

    1995ءمیں ترک بحریہ نے اسے خیرالدین باربروسہ کی جنگوں کے نام سے شائع کیا۔

    زیر نظر ترجمہ ترک ترجمہ کے بجائےالجزائر کے ڈاکٹر محمد دراج کے عربی ترجمہ کا اردو ترجمہ ہے ،جنہوں نے زیادہ تر ترک مورخ یلماز اوزتونا کی تحقیق سے استفادہ کیا ۔ کتاب میں موجود حاشیہ بھی ڈاکٹر محمد دراج کا ہے ۔ جبکہ کتاب میں عناوین کا اضافہ یلماز اوزتونا نے کیا ہے ۔

    یہ یادداشتیں باربروسہ نے اپنی وفات سے کافی عرصہ قبل لکھوائیں اور پھر انھیں اس میں مزید اضافے کا موقع نہ مل سکا چنانچہ اس میں ان کی فرانس کی مہم کا ذکر نہیں ۔

    میں اس کتاب کے مطالعہ سے یہ سمجھتا ہوں کہ خیرالدین باربروسہ کی زندگی کے بہت سے گوشوں ۔ ان کی بہادری ودلیری سے واقفیت کے باوجود ہم ان کے حقیقی مقام مرتبے اور کارناموں کا صحیح طرح ادراک اس وقت کے مکمل تاریخی پس منظر کو جانے بغیر نہیں کر سکتے ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    974
    سلطان سلیمان القانونی کے حکم پر اپنی یاداشتیں لکھنا شروع کیں

    سلطان سلیمان خان کے ساتھ ملاقات کے بعدمیرے پاس سلطانی فرمان آیا جس میں لکھا تھا ۔

    "تم اورتمہارا بھائی[1] عروج میڈیلی سے کس طرح نکلے اور الجزائر کو فتح کیا ،بحر وبر میں اب تک تم نے کون سی جنگیں لڑیں ان تمام واقعات کو بغیر کسی کمی بیشی کے ایک کتاب میں جمع کرو ۔ان کی تدوین سے فراغت کے بعد ایک نسخہ مجھے بھیجو تاکہ میں اسے اپنی لائبریری میں محفوظ کر سکوں "۔

    جب یہ حکم ملا تو میں نے اپنے ایک قلمکار ساتھی المرادی کو جو بہت سے غزوات میں میرے ہمراہ رہ چکا تھا بلوایا اور اسے سلطان کے حکم سے آگاہ کیا۔چنانچہ ہم نے فی الفور ان واقعات کی تدوین شروع کر دی میں لکھواتا اور المرادی لکھتا جاتا ۔

    میرے باپ یقوب آغا کا کامیڈیلی میں رہائش پذیر ہونا اور میری والدہ سے شادی

    جب سلطان محمد الفاتح نے جزیرہ میڈیلی کو فتح کیا تو ترکوں کو اس جزیرے میں رہائش اختیار کر نے کا حکم دیا ۔میرا باپ ان ابتدائی آباد کاروں میں ایک تھا ایک سپاہیSIPAHI [2]کا بیٹا جبکہ وہ خود بھی سپاہی تھا۔

    میرے باپ کے پاس SELANIKکے ہمسائے میں واردار VARDARکے علاقے میں زمین تھی ،جو اسے سلطان محمد الفاتح کےحکم پر اس جزیرے میں رہائش پذیر ہونے پر عطا کی گئی، اس طرح جب میرے والد کے کام نئے سرے سے منظم ہو گئے تو جزیرے کے باسیوں میں سے ایک کی بیٹی کے ساتھ شادی کی ۔میرے والد خوبصورت اور دلیر انسان تھے میری والدہ سے ہم چار بھائی ہیں۔ اسحاق جو ہم بھائیوں میں سب سے بڑا ہے ۔پھر میرا بھائی عروج پھر میں خضر، پھر الیاس۔ اللہ رب العزت نے سب کو لمبی عمر عطا فرمائی اور انھیں فتح ونصرت سے نوازا۔

    میرا بھائی اسحاق میڈیلی قلعہ میں مقیم تھا، جبکہ میں اور میرا بھائی عروج سمندر کے سفر کے شوقین تھے ،اسی وجہ سے میرے بھائی نے ایک کشتی لی اور اس کے ذریعے سمندر میں تجارت شروع کر دی ۔جب کہ میں نے ایک اٹھارہ نشستوں والی کشتی لی۔

    ابتدا ءمیں ہم سلانیک اور اغریبوذAGREBOZکے درمیان سفر کرتے وہاں سے سامان لاتے اور میڈیلی میں فروخت کرتے۔ لیکن میرا بھائی ان قریبی سفروں سے مطمئن نہیں تھا ۔وہ طرابلس شام جانا چاہتا تھا اور ایک دن میرے چھوٹے بھائی الیاس کے ساتھ میڈیلی سے طرابلس شام کا ر خ کیا ۔

    میرے بھائی عروج کی روڈوس کے کفار کے ہاتھوں گرفتاری اور کچھ سال قید میں گزارنا

    میرا بھائی عروج طرابلس شام تک نہ پہنچ پایا ،راستے میں ان کا ٹکراؤ روڈوس Rodusجزیرہ کے نائٹس سے ہوا۔دونوں کے درمیان سخت معرکہ بپا ہوا ،جس کے نتیجے میں میرا بھائی الیاس شہید ہو گیا جبکہ کفار نے ان کشتیوں پر قبضہ کر لیا ۔اور عروج کو اپنی کشتی میں قید کر کے زنجیروں میں جکڑ کر روڈوس لے گئے ۔جب یہ خبر میڈیلی پہنچی تو میں بے حد غمگین ہوا اور بہت زیادہ رویا ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ فی الفور اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کوشش شروع کر دی ۔

    میرا ایک کافر دوست کریغو KRIGOجزیرہ روڈوس کے ساتھ تجارت کرتا تھا میں نے اسے اپنے ساتھ کشتی میں لیا اور اسے اپنے ساتھ لے کر بود رومBODRUM چلا آیا اور اسے کہا: آج تمہاری دوستی کا علم ہو گا ۔یہ آٹھ ہزار اقجہ[3]لے لو ۔اور میرے بھائی کی رہائی میں میری مدد کرو ۔روڈوس جاؤ اور وہاں جا کر حالات کا جائزہ لو میں بود روم میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔

    کریغو : "تمہارا حکم سر آنکھوں پر" یہ کہہ کر وہ روڈوس چلا گیا جہاں اس کی ملاقات میرے بھائی عروج رئیس سے ہوئی اور اس نے کہا :

    "تمہارا بھائی خضر تمہیں سلام کہہ رہا ہے اور تمہارے لیے بہت زیادہ دعا گو ہے ۔کفار کے ہاتھوں تمہاری گرفتاری کی وجہ سے شدید غمگین ،دن رات شدت غم سے اس کے آنسو نہیں تھے اس نے مجھے تمہاری جانب بھیجا ہے اور بود روم میں تمہارے بارے میں کسی خوشخبری کا منتظر ہے" ۔

    جب عروج نے کریغو سے یہ سنا تو شدت فرح سے رو پڑا اور اسے کہنے لگا :

    میرے بھائی خضر کو میرا سلام کہو اور کسی کو اس جزیرہ پر تمہاری آمد کی وجہ کا علم نہ ہو ۔ہم پہلی دستیاب فرصت میں ملیں گے ۔

    عروج رئیس روڈوس کے ایک مشہور آدمی کو جانتا تھا ۔ جس کا نام سانٹرلواو غلوSANTURLUOGLU تھا وہ کبھی کبھار میرے بھائی کے پاس آتا اور اس کے حالات سے آگاہی حاصل کرتا، میرے بھائی نے ایک دن اسے کہا :

    روڈوس کے نائٹس مجھے میرے بھائی خضر کو کبھی بھی نہیں بیچیں گے لیکن تمہیں شاید بیچ دیں اگر تم مجھے اس جزیرے سے نکال دو تو میں تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔

    سانٹرلواو غلو:۔بڑی خو شی سے ،اگر وہ تمہیں بیچیں تو میں خرید لوں گا لیکن میں براہ راست ان سےیہ مطالبہ کروں تو انھیں یہ معاملہ مشکوک لگے گا ،بہتر یہ ہے کہ جب تو شہر آئے تو میری دکان کے سامنے سے گزرنا اور میری دکان کی جانب ٹکٹکی لگا کر مت دیکھنا تاکہ وہ کہیں یہ نہ جان لیں کہ میں تمہیں پہچانتاہوں ۔اور میں یہ ظاہر کروں گا کہ میں نے اچانک تمہیں گزرتے ہوئے دیکھا ہے اور ان کے سامنے تمہارے لیے اپنی پسندیدگی ظاہر کروں گا اور مجھے امید ہے کہ یہ نائٹس تمہیں میرے ہاتھوں بیچ دیں گے۔

    جب عروج نے یہ الفاظ سنے تو اتنا خوش ہوا گویا کہ اسے آزادی مل گئی ہو، قید کی زندگی اس کے لیے کتنی تکلیف دہ تھی ۔

    اور پھر ایک دن سانٹرلواو غلواپنی دکان کے سامنے بیٹھ کر جزیرہ روڈوس کے نائٹس کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔کہ اچانک عروج رئیس کو اپنی دکان کے سامنے سے گزرتے دیکھا گویا وہ اپنے کام پر جارہا ہو ۔تو اس نے اپنے ساتھ بیٹھےجہازرانوں سے کہا :

    یہ قیدی کس کا ہے میں اسے ہمیشہ یہاں سے گزرتا دیکھتا ہوں اور بڑی سر گرمی وچستی سے اپنا کام سر انجام دیتا ہے۔اگر اس کا مالک اسے بیچنا چاہے تو میں اسے خرید لوں ۔یہ سن کر اس کے پاس موجود کپتانوں میں سے ایک نے کہا :

    میں اس کا مالک ہو ں اگر تم اسے خریدنا چاہتے ہو تو میں اسے بیچنے کے لیے تیار ہوں ۔

    کتنے میں بیچو گے ؟

    ایک ہزار دینا ر میں(1000) ۔

    یہ تو بہت بڑی رقم ہے ۔

    اچھا تمہارے لیے میں اسے 800 دینا ر میں بیچ دیتا ہوں ۔

    اور پھر یہ سودا طے پائے جانے سے قبل ہی منسوخ کر دیا گیا ۔

    روڈؤس کے نائٹس کو معلوم ہو گیا کہ عروج ایک معروف تاجر ہے وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے :

    اس کا بھائی خضر رئیس بود روم میں موجود ہے اور اس کی رہائی کے بدلے 10000دینار دینے کے لیے تیار ہے۔اور ایسا قیدی جس کی قیمت دس ہزار دینار ہے اس کو 800 دینار میں بیچنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟

    انہوں نے سانٹرلواو غلوکو اسکی قیمت واپس کی اور عروج واپس لے لیا ۔انھیں کریغو سے سے میری حقیقی قیمت کا علم ہو گیا جس نے میرے دیئے ہوئے (8آٹھ ہزار ) اقجہ بھی ہڑپ کر لیے اور نائٹس کو عروج کی رہائی کے لیے میری تیاری سے بھی آگاہ کیا ۔

    اس حادثے کے نتیجہ میں روڈوسیوں نے عروج کو زیر زمیں ایک کوٹھڑی میں بند کر دیا تا کہ اس کی رہا ئی کے لیے کسی بھی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکوں ۔اور اسے پہلے سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنا نے لگے اس کے ہاتھو ں گردن اور پاؤ ں میں بیڑیا ں ڈال دی صرف اتنی ہی خوراک دی جاتی جس سے اس کا رشتہ سانسوں کے ساتھ قائم رہ سکے ۔

    عروج اس مشقت کوبہت زیادہ برداشت نہ کرپایا اوراس کوٹھری کے افسر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔ اس نے ملاقات کے لیے بلایا ۔

    افسر پوچھنے لگا :تم کس لیے آئے ہو ؟

    مجھے یہ سزا دے کر تم کیا حاصل کرنا چاہتے ہو ؟

    "اے ترکی میں جانتا ہوں:تم نے کس طرح 800 دینارکے بدلے اپنی جان بچانے کی کوشش کی تیرا بھائی خیر الدین رئیس دنیا کے مال متاع کے ساتھ بود روم میں تمہاری رہائی کا منتظر ہے ۔تمہارا کیا خیا ل ہے کیا ہمیں اس کاعلم نہیں یا احمق ہیں ؟"

    تم کیا چاہتے ہو اپنی آزادی کے لیے میں تمہیں کتنی رقم دوں ؟

    تم کتنی دےسکتے ہو ؟اپنی جان کی کیا قیمت لگاتے ہو ؟

    میں اپنی جان کی قیمت رومیلی کے "جو "کا تما م محصول اور انا ضول میں دیئے جانے والے تمام ٹیکس کے ساتھ ساتھ 1 لاکھ دینار تمہیں ادا کروں گا !!!

    اے مجنون اپنا استہزا ء جاری رکھ عنقریب تم اپنا انجام دیکھ لو گے ۔

    اس گفتگو کے بعد اس کینہ پرور افسر نے قیدیوں کے رئیس سے پہلے سے زیادہ سختی کرنے کا حکم دیا ۔ عروج اس صورتحا ل سے بہت گھبرا گیا ایک رات اپنی کوٹھڑی میں تنہا روتے ہوئے گڑگڑا کر د عا کرنے لگا:

    اے رب تو ہی عاجزوں کےلیے کشادگی پیدا کرتا ہے ۔چنانچہ اپنے اس کمزور بندے کی مدد فرما،مجھے ان ظالم کفار سے جلد رہا ئی عطا فرما ۔

    عروج نےیہ رات ذلت وانکساری کے ساتھ دعا کرتے گزاری یہاں تک کہ بخار کی شدت سے گر پڑا اور تھکاوٹ کی شدت سے نیند اس پر غالب آگی اس دوران اس نے خواب میں ایک روشن چہرے والے بزرگ کو دیکھا جو اسے کہہ رہے تھے :

    "اے عروج اسلام کے راستے میں پہنچنے والی تکلیف سے غم زدہ مت ہو ۔پس تمہاری رہائی بہت قریب ہے۔"

    عروج یہ خواب دیکھ کر انتہا ئی خوشی وفرحت سے بیدار ہوا، اس کے غم چھٹ چکے تھے، سینہ کھل چکا تھا ،اس صبح رڈوس کے تمام کپتان جمع ہو کر عروج کے بارے میں مشورہ کرنے لگے ۔ان میں سے ایک نے کہا۔

    سمندر کے حالات متغیر ہوتے رہتے ہیں ۔ آج عروج ہے تو کل ہم ہوں گے، میرے خیال میں اس ترکی کے ساتھ اس تشدد کو جاری رکھنا درست نہیں ۔

    اس بنیاد پر انھوں نے عروج کو اس تنگ کوٹھری سے نکال کر ایک کشتی میں قید کیا جہاں وہ قیدی کی حیثیت سے چپو چلاتا ۔اس کے باوجود وہ کہتا سمندر کی سطح پر چپو چلانا میرے لیے زیر زمین تکلیف اٹھانے کی نسبت بہت بڑی نعمت تھی ۔یا رب لک الحمد میں نے پھر سے دنیا کا چہرہ دیکھا لیا ۔

    روڈوس کے نائٹس کی کشتی سے عروج کا فرار اور نجات

    اس دوران شہزادہ قرقودKORKUT[4] انطالیہANTALYA کا والی تھا، ان کی یہ عادت تھی کہ ہر سال جزیرہ روڈوس کے نائٹس سے 100 ترکی قیدی خرید کر اللہ کے راستے میں آزاد کرتے۔ اس سال انھوں نے اپنے حاجب کو روڈوس قیدیوں کافدیہ اداکرنے کےلیے بھیجا ۔روڈوسیوں نے ان قیدیوں کی چھانٹی کی اور انھیں اس حاجب کے سپرد کر دیا۔ اس معاہدہ کے تحت یہ طے تھا کہ ان قیدیوں کو روڈوس کی کشتی میں بھر کر انطالیا کے سواحل تک لے جایا جائے گا اللہ رب العزت کی تقدیر یہ کہ قیدیوں کو منتقل کرنے کے لیے اس کشتی کا انتخاب کیا گیا جس پر عروج قید تھا ۔عروج کی قیمت کے پیش نظر روڈوسیوں نے اسے ان 100 قیدیوں میں شامل نہیں کیا تھا جنہیں آزاد کیا جانا تھا ۔

    عروج رئیس کھلے مزاج کا آدمی تھا اور بہت سی زبان میں گفتگو کر سکتا تھا بالخصوص رومی[5] زبان پر اسے بے مثال عبور حاصل تھا ۔

    اور اکثر اوقات وہ روڈوسی کپتانوں سے بات چیت کرتا رہتا تھا جو اس کی کشتی پر آتے جاتے رہتے تھے۔

    ایک دن کپتانوں نے عروج سے کہا:

    اے ترکی تو بڑی میٹھی باتیں کرتاہے بالخصوص ہماری زبان پر تجھے کافی مہارت ہے ۔توں نے اسلام میں کیا پایا ؟آؤہمارے د ین میں داخل ہوجاؤ،ہمارے درمیان تجھے بڑا مقام ملے گا!!!

    عرو ج نے انھیں جواب میں کہا :اے جنونیو: ہرشخص اپنے دین کو پسند کرتا ہے کیا کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہے کہ میں اس پر ایمان لاؤں؟

    پھر اسی حالت پر باقی رہ ،ہم دیکھیں گے کہ تجھے تیرا نبی ہمارے ہاتھوں سے کیسے رہائی دلاتا ہے ،اورچپو چلانے کا کام جاری رکھ …

    عروج سے بچ کر رہو

    جس کشتی میں عروج قید تھا ۔ اس کشتی کے راہب نے کپتانوں کو تنبیہ کرتے ہو ئے کہا :

    عروج جو کہتا ہے اس سے محتاط رہو، اس کے ساتھ زیادہ بات چیت مت کرو، یہ بہت ہوشیار اور اسلام کے بارے میں اس سے زیادہ واقف ہے جس قدر میں مسیحیت کے بارے میں جانتا ہوں ۔ایسا نہ ہو کہ تم غافل ہو جاؤ یہ ملحد تم سب کو گمراہ کرنے پر قادر ہے ۔

    روڈوسی کشتی انطالیہ کے قریب ایک ویران جگہ پر لنگر انداز ہوئی جہاں شہزادہ قرقود کا حاجب اور اس کے ساتھ 100 قیدی اتار دیئے گئے انھیں وہا ں چھوڑ دیا گیا ۔اس رات مخالف ہوائیں چل رہی تھیں ۔روڈوسیوں نے اسکی وجہ سے صبح کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پھر جہازسے چھوٹی کشتی اتاری اور مچھلی کے شکار کے لیے نکل پڑے ۔اس اثنا میں شدید تیز طوفان آگیا کشتی اس کی وجہ سے جہاز تک واپس نہ آسکی ،چنانچہ وہ ساحل سے دور ہی لنگر انداز ہو گئے ،عروج نے اس موقع سے فائدہ اٹھا یا ،شدید تاریکی چھائی ہوئی تھی، تاریکی کی شدت سے کوئی ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکتا تھا ،عروج نے اپنی بندشیں کھولیں اور سمندر میں "بسم اللہ الرحمنٰ الرحیم" کہتے ہوئے چھلانگ لگا دی تیر تا رہا یہا ں تک کہ ساحل تک پہنچ گیا ۔ساحل پر پہنچ کر اس نے سجدہ شکر ادا کیا اور پھر پیدل سفر شروع کر دیا۔یہاں تک کہ ایک ترک بستی پہنچا اس دوران جب وہ دائیں بائیں گھوم پھر کرکسی ایسی چیز کی تلاش میں تھا جہاں سے اپنی موجودگی کی جگہ کی نشاندہی کر سکے اس کو ایک بڑھیا ملی جو اسے کہنے لگی :

    بیٹا معلوم ہوتا ہے تم دور دراز کے سفر سے آئے ہو ۔آؤ میرے پاس یہ رات مہمان کے طور پر گزارو۔

    یہ بڑھیا عروج کو اپنے گھر لے گئی اسے کھانا کھلایا ،اس کا لباس تبدیل کروایا ۔ عروج نے اس بستی میں 10 دن گزارے ۔جس کے باسی اس کی میزبانی کے حصول کے لیےہر رات آپس میں جھگڑتے تھے ۔

    جبکہ روڈوسیوں نے صبح ہونے پر عروج کی جگہ کو خالی پایا تو انھیں علم ہوا کہ عروج فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے اور جب وہ اس پر قبضہ پانے میں ناکام ہوگئے ۔تو حیرت و قلق سے ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کس منہ سے روڈوس جائیں گے ؟

    حسرت بھرے دلوں سے وہ روڈوس واپس پلٹے ، جبکہ کشتی کا راہب انھیں بتلا رہا تھا کہ عروج کے پاس موجود جادو کےعلم نے فرار میں اس کی مدد کی۔

    عروج نے اس بڑھیا کو الوداع کہا اور بستی چھوڑ کر میڈیلی کا رخ کیا ۔3 دن بعد وہ انطالیہ پہنچا۔وہاں ایک مشہور آدمی علی رئیس سے ملا جس کے پاس قلیون [6]Kalyonنوعیت کی کشتی تھی جس کے ذریعے وہ اسکندر اور انطالیہ کے درمیان تجارت کرتا تھا اس تک عروج کی شہرت پہنچ چکی تھی ۔چنانچہ اس نے اسے مرحبا کہتے ہوئے کہا :

    اھلا وسھلا اے میرے بیٹے !یہ کشتی صرف میری ہی نہیں بلکہ تمہاری بھی ہے اور پھر عروج ،علی رئیس کی کشتی کا نائب کپتان بن گیا ۔

    اس اثنا میں بودوروم میں انتظار سے مایوس ہو گیا ۔چنانچہ میں میڈیلی واپس لوٹا جب میرا بھائی اسکندریہ پہنچا تو وہا ں سے اس نے میڈیلی خط بھیجا ۔جہاں اپنے اوپر بیتنے والے حالات سے آگاہ کیا ۔اپنے بھائی کی نجات اورقید سے رہائی کی خبر سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ۔


    [1] تمام ترک مصادر ومراجع میں اوروج نام لکھا گیا ہے –تاء کا شین میں ادغام یعنی پڑھنے میں اوروتش- لیکن میں نے عربی مصادر ومراجع میں مذکورعروج لکھنے کو ترجیح دی ، تاکہ کسی الجھن سے بچا جا سکے۔

    [2] یہ ایک اصطلاح ہے جن کا اطلاق ایسے سواروں پر ہوتا ہے جنہیں مملکت عثمانیہ مختلف علاقوں کی زمینیں ان کو دے کر بھرتی کرتی تھی ، جس کا سالانہ خراج یہ ادا کرتے تھے اس کے علاوہ ان پر لازم تھا کہ جنگ کے اخراجات اٹھانے میں یہ مدد کریں گے اور ضرورت پڑنے پر خود بھی جنگ میں شریک ہوں گے دیکھئے:

    M.Zeki Pakalm, Osmanh Tarikh Deyimleri ve Terimleri sozlugu Istanbul 1993, 3/92

    [3] چاندی کا سکہ جو کہ مملکت عثمانیہ میں استعمال ہوتا تھا اس کے بالمقابل اس زمانے میں درہم مستعمل تھا (بحوالہ سابقہ مصدر)

    [4] شہزادہ قورقود سلطان بایزید ثانی کا تیسرا بیٹا اور سلطان سلیم اول کا بڑا بھائی تھا ، جو ترک جہازرانوں کی حفاظت کیلئے مشہور تھا ، سلطان سلیم اول نے تخت نشین ہونے کے بعد اسے قتل کروا دیا ۔

    [5] شاید اس کی وجہ یہ کہ اس کی ماں رومی تھی جس کے بارے میں بابروسہ نے شروع میں تذکرہ کیا ، اور لازمی بات ہے کہ انسان اپنی ماں کی زبان میں مہارت رکھتا ہے۔

    [6] قلیون ہوائی بادبانوں والی جنگی کشتی ہے ، جسے جنگی قیدی چپو چلا کر چلاتے تھے اور دخانی کشتیوں کی ایجاد سے پہلے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    974
    میرا بھائی سلطان مصر کی خدمت میں

    سلطان مصر نے میرے بھائی کی شہرت سنی تو اسے اپنے پاس آنے کی دعوت دی ، جب اسے سلطان کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے اسے اپنی خدمت میں داخل ہونے کی پیشکش کی ،کیونکہ سلطان" ہند" [1]کے سواحل کی جانب ایک بحری بیڑہ بھیجنا چاہتا تھا ،جب عروج نے سلطان کی پیشکش پر موافقت ظاہر کی تو سلطان نے اسے اس بیڑے کا قائد مقرر کر دیا ۔

    سلطان نے اضنۃ ADANAکے والی کے نام حکومتی فرمان لکھا جس میں اسے حکم دیا کہ وہ خلیج اسکندریہ میں "پایاس" کی بندر گاہ پر لکڑی کے تختے بھیجے جو 40بحری جہاز بنانے کے لیے کافی ہو ں ۔ اضنۃ کے والی نے مطلوبہ لکڑی تیار کروائی اور اسے پا یا س کی بندر گاہ پر بھجوایا ،عروج 6 کشتیوں میں پاپاس کی بندر گاہ کی جانب روانہ ہوا تاکہ لکڑی کے ان تختوں کو لے کر مصر کا رخ کرے ۔

    روڈوسیو ں کو علم ہوگیا کہ عروج سلطان مصر کے بحری بیڑے کا قائد بن چکا ہے ۔چنانچہ وہ اس کا خاتمہ کرنے کے موقع کی تاک میں رہنے لگے جب ان تک اس کے پایاس آنے کی اطلاع ملی تو انھوں نے ایک بڑے بحری بیڑے کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا ۔

    عروج رئیس کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک ہو گیا چنانچہ وہ اپنی تمام کشتیوں کو نکال کر خشکی کی جانب لے گیا اور اپنے جہازرانوں کے ہمراہ عثمانی اراضی میں داخل ہو گیا ۔جہاں سے انھیں ان کے علاقوں میں لوٹا دیا ۔جبکہ اس دوران خود انطالیہ واپس لوٹا اور وہا ں 18 نشستوں والی کشتی کی تیاری کا حکم دیا ۔

    اور پھر اس کے ذریعے روڈوس کے سواحل پر حملے شروع کئے اور کافروں کو سکھ کا سانس لینے کا موقع نہ دیا ۔

    ان کے استاد اعظم [2]نے کہا :ایک بحری قزاق جس کا نا م عروج رئیس ہے نمودار ہواہے جس کے پاس 18 نشستوں کی کشتی ہے اس سے کوئی بھی بچ نہیں پاتا وہ ہمارے اموال پر قبضہ کر تا ہے ،ہمارے شہروں کو جلا تاہے ،ہمارے بچوں کو قید کر کے طرابلس وشام کے بازاروں میں بیچ دیتا ہے یہاں تک کے ہم اس کے شر سے سمندر میں سوار ہونے کی ہمت نہیں کر پاتے ۔ میں نے تمہیں پہلے بھی تنبیہ کی تھی اور کہا تھا کہ اس ترکی کو زیر زمین کوٹھڑی سے مت نکالو لیکن تم نے میری بات نہ سنی، اسے نکالا اور کشتی میں چپو چلانے پر لگا دیا ۔اب جاؤاور جتنی جلدی ممکن ہوسکے اس سے چھٹکارا حاصل کرو ۔

    روڈوسی عروج کے تعاقب میں 5 یا 6 بحری جہاز وں پر نکلے اور ہر جگہ اسے تلاش کرنے لگے اور بالآخر انھوں نے ایک بندر گاہ پر لنگر انداز حالت میں اس کی کشتی کو پا لیا چنانچہ انھوں نے اس کشتی کو جلا دیا مگر میرا بھائی اپنے ساتھ موجود جہازرانوں کے ہمراہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا اور انطالیہ لوٹ آیا ۔

    عروج کی کشتی روڈوس کی بندر گاہ پر لائی گئی ، روڈوس کی عوام میں اس کا شہرہ پھیل گیا مگر نائٹس کے عروج کو گرفتار نہ کر پانے نے روڈوس کے استاداعظم کو غضبناک کر دیا اور اس نے انھیں غصے سے چیختے ہوئے کہا :

    ہاں یہ عروج کی کشتی ہے لیکن وہ خود اس میں موجود نہیں !!

    عروج جس وقت انطالیہ لوٹا شہزادہ قرقود بن سلطان بایزید ثانی انطالیہ چھوڑ کر ساروخان جا چکا تھا اور وہاں کا والی تھا۔شہزادہ قرقود کا ایک خزانچی جس کا نام پیالی بائی تھا ،اسے عروج نے ایک افرنگی غلام تحفہ دیا تھا اس طرح ان دونوں کے درمیان گرم جوش دوستی پائی جاتی تھی ،عروج کو جب ان مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کشتی سے محروم ہوگیا تو پیالہ بائی نے اپنے آقا شہزادہ قرقود سے اس کا تذکرہ کیا اوراسے کہا :

    عروج ریئس آپ کے غلاموں میں سے ایک غلام ہے جو دن رات کفار کے ساتھ جہاد میں مصروف رہتا ہے ۔اور ان کے خلاف بہت سے معرکوں میں فتح حاصل کر چکا ہے ۔لیکن اب اپنی کشتی کھو بیٹھا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ آپ اس پر احسان کرتے ہوئے اے کشتی عطاکریں تاکہ وہ کفار کے خلاف جہاد کر سکے ۔

    شہزادہ قرقود تک عروج کی شہرت پہنچ چکی تھی چنانچہ اس نے بڑی خوشی سے عروج کی خواہش پوری کر نے پر آمادگی ظاہر کی اور اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا عروج کو جب شہزادے کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے بڑا پرجوش استقبال کیا اور تسلی دیتے ہوئے کہا :

    مایوس مت ہو، میں تمہیں کشتی کے بغیر نہیں چھوڑو ں گا اور فی الفور قاضی ازمیر کے نام خط لکھا جس میں کہا :

    جب تم تک میرا یہ خط پہنچے تو بلا تاخیر میرے بیٹے عروج کی خواہش کے مطابق ایک قالیتہ KALITE[3]کشتی کی تیاری کا حکم دو تا کہ وہ اس پرکفار کے خلاف جہاد کر سکے ۔

    اسی طرح پیالہ بائی نے ازمیر کے رئیس کے نام ایک خط میں لکھا :

    عروج دنیا وآخرت میں میرا بھائی ہے ،چنانچہ اسے اپنی مدد سے محروم مت کرنا ،ایک 22 نشستوں کی کشتی کی تیاری کا حکم دو اور خود اس کی تیاری کی نگرانی کرو۔اسی طرح تمہیں چاہیے کہ ہر ممکن قریب ترین وقت میں اسے عروج کے سپرد کرو کشتی کی تیاری اور اس کے سازوسامان کے تمام اخراجات آقا قرقود کے حساب میں لکھو۔

    عروج ازمیر آیا جہاں دونوں کشتیاں مقرر وقت میں اس کے سپرد کر دی گئیں جس میں سے ایک شہزادہ قورقود نے اسے تحفہ دی تھی جبکہ دوسری پیالہ بائی کی ملکیت تھی جسے اس نے عروج کےتصرف میں دے دیا۔

    عروج کی کشتی 24 نشستوں کی تھی جبکہ پیالہ بائی کی کشتی 22 نشستوں کی تھی یہ کشتیاں ساڑھے تیں ماہ میں تیا ر کی گئیں۔

    عروج نے دونوں کشتیوں کو تیا ر کیا اپنےجہاز رانوں کو اکھٹا کیا اور انھیں لیکر فوجا Focaبندر گاہ چلا آیا وہاں سے مانیسا کا رخ کیا جہا ں پیالہ بائی کے محل میں شہزادہ قورقود کے سامنے پیش ہونے سے قبل 3 دن ٹھہرا رہا ۔

    شہزادہ نے اس کی تعریف میں فراخدلی سے کام لیا اور جنگوں میں اس کے لیے نصرت وفتح کی دعاکی ۔

    عروج نےشہزادہ قورقود اور پیالہ بائی کو الوداع کیا اور پھر فوجا لوٹ آیا ،یہ رات دعا اور عبادت میں مصروف رہ کر گزاری ۔اگلے دن صبح سویرے اپنی کشتیوں کا لنگراٹھا یا ۔اور روانگی کے کچھ دن بعد کھلے سمندر میں اس کا سامنا وینس (VENEDIK)کی دوکشتیوں سے ہوا ۔عروج نے ان دونوں پر قبضہ کر لیا ان کشتیوں میں 24 ہزار دینا ر تھے ۔یہ مال ودولت اور اس کے علاوہ دوسرے غنائم جمع کر لیےگئے ۔جہاز راں اس مال کے ساتھ مال دار ہوگئے اور کیسے مال دار نہ ہوتے جبکہ وہ ابن عثمان شہزادہ قورقود کی دعا حاصل کر چکے تھے ۔اور جو کوئی بھی سلطان کی دعا پانے میں کامیاب ہو جائے اس کا انجام بہتر ہوتا ہے ۔اور جس کے خلاف سلطان دعا کر دیں ۔وہ مصائب کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے ۔جس سے اسے کوئی راہ نجات نہیں ملتی ۔

    عروج نے یہ معرکہ پو لیاPULYA[4]کے سواحل پر لڑا ،اس کے بعد روم کے سواحل کا رخ کیا ۔

    جہاں جزیرہ اغریبوز [5]کے پانیوں میں اس کا سامنا مزید 3 وینس کی کشتیوں سے ہوا ۔جب وینس کے کفار نے عروج رئیس کی کشتیوں کو دیکھا تو اس پر گولے باری شروع کر دی ،عروج نے اپنے جہازرانوں کو پر جوش نعروں کے ساتھ تحریض دلانی شروع کی اور انھیں ان کشتیوں پر حملہ کی جانب ابھارا۔جنہوں نے اپنی توپوں کے گولوں سے سمندر کو جہنم میں بدل دیا تھا ۔

    کشتیا ں ایک دوسرے کی نزدیک آئی تو جہازرانوں نے کفار کی کشتیوں پر چھلانگ لگا کر دھاوا بول دیا اور اس پر قابض ہوگئے ۔جس میں انہوں نے (285)افراد کو قید کیا اور (120 )جہاز راں مارے گئے ۔

    ان کشتیوں میں موجود مال و دولت عروج رئیس کی کشتیوں پر منتقل کیا گیا کشتیاں اپنے اوپر لدے غنائم کے بوجھ سے کچھوے کی مانند دکھائی دیتی تھیں ۔اور ان کشتیوں کے ہمراہ میڈیلی ایک بڑے جلوس کی شکل میں آئے ۔

    میں او ر میرے بھائی اسحاق نے اپنے تمام رشتہ داروں کے ہمراہ بندرگاہ میں عروج کا استقبال کیا ،ہم نے ایک دوسرے کو سلام کیا اور بڑی گرمجوشی اور وفور محبت سے معانقہ کیا۔کیونکہ عروج رئیس کو میڈیلی چھوڑے ہوئے کئی سال گذر چکے تھے ۔

    میرے بھائی عروج نے میڈیلی سے ازمیر جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے ولی نعمت شہزادہ قرقودا ور اپنے بھائی پیالہ بائی سے ملاقات کر سکے اس اثنا ءمیں ہمیں سلطان سلیم خان کے تخت نشین ہونے اور اپنے بھائی شہزادہ قرقود خان کے ساتھ دشمنی کی اطلاع ملی جو شدت خوف سے فرار ہوگیا تھا ۔

    میرابھائی عروج اس خبر سے بہت غمگین ہوا ،میرے بڑے بھائی اسحا ق نے اسے کہا :

    تجھے چاہیے کہ تو یہاں سے جلد از جلد نکل جاؤاور موسم سرما اسکندریہ میں گزارو ،پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا پیش آتا ہے ۔تمہارے پاس موجود کشتی شہزادہ قرقود کا احسان ہے جو تجھے نقصان پہنچا سکتی ہے ۔

    اور یوں ہماری محبت کی پیاس بجھنے سے قبل سے ہی عروج نے ہمیں الوداع کیا ۔اور میڈیلی سے روانہ ہوگیا ۔

    عروج نے جزیرہ کرپۃ KERPEپر دشمن کی 7کشتیوں پر قبضہ کیا اور انہیں ہانک کر اسکندریہ لے گیا ۔عروج جب وہاں پہنچا تو سلطان کو یحییٰ رئیس اور7سات غنائم سے بھری کشتیوں کے ساتھ اس کی آمد کا علم ہوا ۔ عروج رئیس سلطان مصر کی عطا کردہ کشتیوں کے کھوجانے کی وجہ سے جن پر پایاس کے قریب روڈوسیوں نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا سلطان مصر سے شدید شرمندہ تھا ۔ چنانچہ سلطا ن سے عفوو درگزر کے حصول کے لیے مال غنیمت سے لدی بہت سی کشتیا ں، 4 لونڈیا ں اور 4 غلام سلطان کی خدمت میں پیش کیے ۔سلطان ان تحائف سے بے حد خوش ہوا ۔اس کی اور اس کے رفقاء کی اچھی آؤ بھگت کی اور پھر کہا :

    یقینا اللہ رب العزت معاف کرنے والا ہے اور عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے عروج کپتان میں نے بھی تجھے معاف کردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ تو نے 16 جہازوں کو جلنے کے لیے تو چھوڑ دیا لیکن ان میں موجود جہازرانوں میں سے کسی ایک کو بھی کوئی تکلیف نہ آنے دی ۔ان سب کو بچالایا اورکسی ایک کو بھی نہ چھوڑا کہ وہ گرفتار ہوجائے مجھے اپنے کشتیوں کے جلنے کا افسوس نہ تھا ۔کیونکہ یہ دن تو بدلتے رہتے ہیں اور ہر چیز کا وقوع پذیر ہونا ممکن ہے ۔مجھے تیرےاپنے پاس نہ آنے کا افسوس تھا یقینا میں نے تجھے معاف کر دیا اور تیرا شکر گزار ہو ں کہ تو نےایک بار پھر میرا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کی ۔

    اس کے ساتھ میرے بھائی کی تکریم میں بہت مبالغہ کیا اور اور اس کے دئیے گئے تحائف سے کہیں زیادہ انعامات سے نوازا۔

    میرے بھائی نے اجازت طلب کی اور قاہرہ سے اسکندریہ لوٹ آیا سلطان نے گورنر سکندریہ کے نام خط لکھا جس میں اسے میرے بھائی اور اس کے رفقاء کے اکرام کا حکم دیا ۔ چنانچہ گورنر نے ان کاخوب اکرام اور اچھی مہمان نوازی کی ،جس کی وجہ سے میرے بھائی کا وہاں اچھا وقت گذرا۔

    موسم بہار آچکا تھا میرے بھائی نے سلطان کو خط لکھ کر جنگ پر جانے کی اجازت مانگی سلطان نے اجازت دے دی ، عرو ج نے سمندر پر سوار ہو کر سواحل قبر ص کا رخ کیا جہاں وینس کے 5 جہازوں پر قبضہ کیا اور وہاں سے مغرب کا رخ کیا اور تیونس کے قریب جزیرۃ جربۃ پہنچا جہاں جزیرہ کے تاجروں کے ہاتھوں اپنے غنائم فروخت کئے ، ہر جہاز راں کے حصے میں 25 گز وینس کا جوخ ( کپاس سے بنے گئے کپڑے کی قسم ) 4 بندوقیں ، 4 پستول اور 171 اور نصف دینا ر آیا۔

    عروج کو وہاں سکندریہ جانے والی ایک کشتی ملی جس کے ذریعے سلطان مصر کی خدمت میں گراں قسم کے جوخ ، بندوقیں ، پستول ، اور اس کے ساتھ 13 یا 14 سالہ غلام بھجوایا ، سلطان تک جب یہ تحائف پہنچے تو انھوں نے کہا: اگر اس دنیا میں کوئی ایسا شخص ہے جو حق نعمت کا خیال رکھتا ہے اور اہل فضل کی قدروقیمت سے واقف ہے تو وہ میرا بیٹا کپتان عروج ہے ۔

    سلطان نے اپنے بیٹے کو بہت سی دعائیں دیں، دونوں کے درمیان محبت کے رشتے مضبوط ہوئے ، جبکہ میرا بھائی "جربہ "کے ساحل پر دشمن کی کشتیوں کے شکار میں مصروف رہا ، جہاں مزید غزوات میں 5- 10 کے درمیان مزید کشتیوں کو بطور غنیمت چھینا ۔

    میں گویا پوری دنیا کا مالک بن گیا۔

    آئیے ذرا اس وقت کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں ، سلطان سلیم خان جب تخت نشین ہوئے تو ان کے اور ان کے بھائی شہزادہ قورقود کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ، سلطان سلیم نے اس کے تعاقب کیلئے ایک لشکر بھیجا ، جس نے ہر جگہ انھیں تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اس کے باوجود وہ شہزادے کو پا لینے میں کامیاب نہ ہوسکے ، اس دوران کپتان پاشا[6] سکندر پاشا انتہائی ظلم وستم ڈھاتا تھا ، کسی ایک کوسمندر میں سوار ہونے کی اجازت نہ دیتا ، اگرچہ وہ چھوٹی دو چپوؤں والی کشتی ہی کیوں نہ ہو ، اور اکثر جہازرانوں کو اس بہانے تکلیف پہنچاتا کہ وہ شہزادہ قورقود کے حامی افراد ہیں ، جب مجھ تک اس کے ظلم و جور کی خبریں پہنچیں تو میں نے میڈیلی کو چھوڑ نے کا فیصلہ کیا۔

    میں نےاپنی کشتی کو گیہوں سے بھرا پھر تیزی سے طرابلس شام کا رخ کیا، جہاں گیہوں کے بدلے جو حاصل کیا ، پھر میں پروزۃ کی جانب گیا جہاں میں نے جو بیچا اور کچھ گھوڑے اور خچر خریدے ، پھر پروزۃ کے سامنے " ایاماوری" جزیرہ میں لنگر انداز ہو گیا وہاں میں نے بندرگاہ میں 24 نشستوں والی کشتی لنگر انداز دیکھی جو مجھے بے حد پسند آئی ، میں نے اس کے مالک کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ایک ترک فتاح کپتان کی کشتی ہے ۔

    کپتان فتاح کچھ عرصہ قبل ہی فوت ہوا تھا اس کے ورثاء نے اس کشتی کو یہاں بیچنے کیلئے بھیجا تھا، میں اس پر بری طرح فریفتہ ہو چکا تھا، اس کے مالکا ن کی جانب سے طلب کردہ ہر رقم دینے کو تیا ر تھا ، اور بالآخر ان کے ساتھ چاندی کے 6 کیسہ[7] میں سودا طے پا گیا ۔ جب میں نے یہ کشتی خریدی تو مجھے یوں محسوس ہوا گویا ساری کی ساری دنیا میری ملکیت میں آگئی ہو ۔ میں اپنی کشتی میں سوار ہوا ، باقی کشتیوں کو ہمراہ لیا اور بحر متوسط کے طول وعرض میں گھومتا پھرتا جزیرۃ جربہ جا پہنچا۔ جہاں اپنے بھائی عروج سے ملاقات ہوئی ، اس دوران جب ہم اپنی نئی منزل کے بارے میں سوچ رہے تھے تو ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہمیں تیونس کا رخ کرنا چاہئے اور ہم نے کہا: " جب موت ہی ہر زندہ چیز کا انجام ہے تو پھر یہ اللہ کے راستے میں ہونی چاہئے "۔

    میں ، میرا بھائی اور یحییٰ رئیس ہم میں سے ہر ایک اپنی کشتی پر سوار ہوئے اور تیونس چلے آئے ،جہاں سلطان سے ملاقات کی ، ان کی خدمت میں تحائف پیش کئے اور پھر اسے کہا:

    ہم چاہتے ہیں کہ آپ مہربانی کرتے ہوئے ہمیں جگہ عطاء فرمائیں جہاں ہم اپنی کشتیوں کو محفوظ رکھ سکیں اور اس دوران ہم اللہ کے راستے میں جہاد کریں ، ہم اپنے تمام غنائم تیونس کے بازاروں میں بیچیں گے جس سے مسلمان مستفید ہوں گے اور تجارت پھلے پھولے گی ، اسی طرح ہم مملکت کے خزانے میں اپنے غنائم کا آٹھواں حصہ جمع کروائیں گے ۔

    تمہاری بات معقول ہے ، اہلا وسہلا یہ ملک تمہار ا ہی ہے ۔سلطان نے جواب میں کہا۔

    اللہ رب العزت تمہار غزوہ مبارک کرے

    سلطان نے حلق الوادی میں ہمیں لنگر انداز ہونے کی اجازت دے دی چنانچہ موسم سرما ہم نے وہاں گزارا، موسم بہار کی آمد پر ہم 5 بحری جہازوں میں سمندر پر سوار ہوئے ۔ میری کشتی ان سب میں تیز تھی۔ہم جزیرہ سرڈینیا پہنچے وہاں ہم نے قزاقوں کی ایک کشتی پر قبضہ کیا جس میں 150 قیدی تھے ۔

    اسی اثناء میں افق پر ایک جہاز نمودار ہو ا گویا وہ کشیش[8] پہاڑ ہو ، میرے دست راست دلی محمد نے جو ہماری ایک کشتی کا کپتان تھا اور اپنی شجاعت میں معروف تھا کہنے لگا:

    میرے آقا کپتان : مجھے امید ہے کہ آپ مجھے اس جہاز پر قبضہ کرنے کیلئے جانے کی اجازت دیں گے ۔

    دلی محمد کی دلجوئی کی خاطر میں نے اسے اجازت دی کہ وہ جا کر اس پر قبضہ کر لے ، اس کی کشتی دشمن کے جہاز کے سامنے انتہائی چھوٹی دکھائی دیتی ۔ جبکہ ہم نے بھی دلی محمد کی کشتی کا تعاقب کیا جب ہم اس جہاز کے قریب پہنچے تو اسے بالکل خالی پایا۔

    بحری قزاق ہماری کشتیاں دیکھ کر چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر فرار ہوچکے تھے ، ہم اس جہاز پر چڑھے تو اسے گیہوں سے بھرا پایا ، ہم نے یہ دلی محمد کے سپرد کیا اور اسے کہا : یہ غزوہ مبارک ہو ۔

    اگلی صبح ہم نے مزید دو کشتیوں پر قبضہ کیا جن میں سے ایک شہد ، زیتون اور پنیر سے بھری ہوئی تھی ، جبکہ دوسری کشتی جنیوا[9] کی تھی جو لوہے سے بھری ہوئی تھی۔ ہم توپوں کی گھن گرج میں پہاڑ جیسے مال غنیمت کے ساتھ تیونس پہنچے ، تمام جنگجوؤں نے اپنا حصہ الگ کیا ، سلطان کا حصہ الگ کیا گیا ،اور بہت سا مال ودولت فقراء پر صدقہ کر کے ان کی دعاؤں کے مستحق ٹھہرے ۔


    [1] اس دورانئے میں پرتگالی افریقہ کے گرد چکر کاٹ کر ہند کا راستہ دریافت کرچکے تھے ، پرتگیزی قزاق ہندوستان سے سامان لیکر آنے والے مسلمانوں کے جہازوں پر حملہ کرتے تھے ، اس کے ساتھ ساتھ وہ حجاج کی کشتیوں پر گھات لگاتے ، انھیں قتل کرنے کے بعد ان کی کشتیوں پر قبضہ کر لیتے یا انھیں غلام بنا لیتے ، اور انھوں نے اسی پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ ہندوستان اور مشرقی افریقہ کے بحراحمر اور بحر ہند پر پھیلے اسلامی سواحل پر بھی حملے شروع کر رکھے تھے ، جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کی جہاز رانی کیلئے بڑا خطرہ بنتے جارہے تھے ، جس نے مملکوک سلطان کو ایسا بحری بیڑہ تیار کرنے پر مجبور کیا جو کہ وہاں اسلامی سواحل کی حفاظت کرسکے اور اس کی قیادت کسی اہل کپتان کے سپرد کرسکے ، چنانچہ عروج کا انتخاب بھی اسی زمرے میں کیا گیا۔

    [2] استاذاعظم : یہ لقب اس زمانے میں روڈوس جزیرہ کے سربراہ پر بولا جاتا تھا ، دیکھئے : استاذ یلماز اوزتونا کا خیرالدین باربروسہ کی یادداشتوں کے حاشیہ پر تبصرہ ص :17

    [3] جنگی کشتیوں میں سے ایک جو دخانی کشتی کی ایجاد سے قبل استعمال کی جاتی تھیں ، یہ 20-25 نشستوں پر مشتمل ہوتیں جنہیں خاص طور پر دشمن کی کشتیوں کا پیچھا کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا۔

    [4] ترک اٹلی کے جنوب مشرق میں واقعہ صوبہ اپولیا کو پولیا کا نام دیتے ہیں ۔ دیکھئے: استاذ یلماز اوزتونا کا یادداشتوں پر تبصرہ ص 19

    [5] یونانی جزیرہ ہے جو کہ یونان کے جنوب مشرق میں بحر ایجۃ کے ساحل پرواقع ہے ۔

    [6] کپتان پاشا یا قبودان پاشا :عثمانی بحری افواج کا سربراہOsmanli Tarihi Deyimleri.c.

    [7] الکیسۃ اصل تحریر میں اسی طرح لکھا ہے ، یہ باربروس کے زمانے میں لین دین کیلئے استعمال ہونے والی نقدی کی اکائی ہے ، مملکت عثمانیہ کے دور میں مالی معاملات واضح کرنے والی مختلف تحقیقات کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ 16 ویں صدی میں الکیسۃ کا لفظ چاندی کی نقدی کی حفاظت کیلئے استعمال ہونے والے تھیلے پر بولا جاتا تھا، جبکہ سونے کی نقدی کی حفاظت کیلئے استعمال ہونے والے تھیلے کو "الصرۃ" کہا جاتا تھا ، اور یہ دونوں لفظ بڑے مالی رقم کیلئے استعمال کئے جاتے تھے ، الکیسۃ اور الصرۃ کی مقدار میں مختلف زمانوں میں اختلاف رہا ہے ، سلطان سلیم اول کے زمانے میں الکیسۃ کی مقدار 30 ہزار اقجۃ یعنی چاندی کا درہم ، یا 10 ہزار طلائی دینار تھی ، اورپھر 16 صدی کے وسط میں الجزائر میں دارالسکۃ قائم ہوگیا تو طلائی دینار ڈھالا گیا جسے سلطانی کا نام دیا گیا ، الکیسۃ کی مقدار اس وقت 30 ہزار سلطانی دینار مقرر کی گئی ، اس تاریخ کے بعد سے الکیسۃ اور الصرۃ کی قیمت میں یہ تبدیلی قائم رہی یہاں تک کہ 1877 میں اس نقدی کو ختم کردیا گیا۔

    [8] کشیش پہاڑ : ترکی میں مشہور پہاڑ ہے جو کہ بورسۃ شہر میں واقع ہے اورآجکل اولوداغ پہاڑ کے نام سے معروف ہے ، بلندی کیلئے اسے ضرب المثل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔

    [9] جمہوریہ جنیوا کے ماتحت جو اس زمانے میں اٹلی کی جمہوریتوں میں سے ایک تھی۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    1,717
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ان شا اللہ تسلی سے پڑھتے ہیں اسے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    974
    کفار ہم سے دہشت زدہ رہنے لگے ۔


    یہ موسم سرما بھی ہم نے تیونس میں ہی گزارا ، موسم بہار کی آمد پر ہم جنگ کیلئے نکلے ، 13 دنوں کے سفر کے بعد ہم جزیرہ مورۃ میں ناپولی بندرگاہ پہنچے ،جہاں ہمارا سامنا ایک بڑے جہاز سے ہوا جو اسپین کی جانب جا رہا تھا ۔ اس میں 300 سے 400 جنگجو تھے ، ہم نے اپنے سنہری پرچم بلند کئے اور ان پر گولہ باری شروع کردی ۔ ہم نے 7 بار اس جہاز کےقریب آنے کی کوشش کی 7ویں دفعہ ہم اس کے قریب آنے میں کامیاب ہوگئے ،ایک خوں ریز جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں ہم اس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ، اس معرکہ میں ہم نے 150 شہداء پیش کئے اور 86 رفقاء زخمی ہوئے ، معرکہ کے بعد علم ہوا کہ اس جہاز پر 525 افراد سوار تھے جن میں سے 183 افراد کو ہم نے قید کیا ، جبکہ باقی افراد مارے گئے ۔ مقتولین میں اسپین کے ایک بڑے علاقے کا گورنر بھی تھا ، اس کے بعد ہم نے ایک اور کشتی پر قبضہ کیا۔ اور ہم تیونس واپس لوٹ آئے جہاں میرے بھائی عروج کا علاج کیا گیا جو ان معرکوں میں زخمی ہوگیا تھا۔


    ان معرکوں میں حاصل ہونے والے غنائم میں 70 یا 80 طوطے اور 20 باز بھی شامل تھے جو ہم نے سلطان تیونس کو ہدیہ دئیے ۔


    اس معرکہ کے بعد تمام کفارممالک میں ہمارا چرچا پھیل گیا چنانچہ وہ ہمارا خاتمہ کرنے پر متفق ہو گئے اور کہنے لگے :


    دو ترکی جن کے نام عروج اور خیرالدین خضر ہیں ، نمودار ہوئے ہیں ان دونوں سانپوں کو اژدھا بننے سے قبل کچلنا ضروری ہے ، ہمیں چاہئے کہ ان کا نام تک روئے زمین سے مٹا ڈالیں ، اگر ہم نے انھیں پھلنے پھولنے کا موقع دیا تو یہ ہمارے لئے بہت سی مشکلا ت کھڑی کریں گے ۔


    اس طرح سے کفار نے 10 عدد قادرغہ[1] نوعیت کے جہاز تیار کئے انھیں اچھی طرح سے مسلح کیا اور ہماری گرفتاری کیلئے نکل کھڑے ہوئے ، لیکن ہم ان کے پہنچنے سے قبل ہی سمندر میں سوار ہو چکے تھے ، ہم جنیوا کا رخ کرنا چاہتے تھے ، مگر مخالف ہواؤں کی وجہ سے ہم نے الجزائر کے سواحل کا رخ کیا اور بجایہ قلعہ کے سامنے ہم لنگر انداز ہو گئے ۔ جبکہ ہسپانوی کشتیوں نے جب ہمیں جنیوا کے سواحل پر نہ پایا تو بجایۃ کا رخ کیا۔ ساحل پران کے ساتھ جھڑپ میں شدید خطرات تھے چنانچہ ہم تیزی سے سمندر پر سوار ہوئے ۔ کفار کی کشتیوں نے سمجھا کہ ہم ان کے خوف سے فرار ہو رہے ہیں ، چنانچہ وہ ہمارے تعاقب میں نکل پڑے ، جب ہم ساحل سے کافی فاصلہ طے کر چکے تو میرے بھائی عروج نے ہمیں واپس پلٹنے اور کفار کی کشتیوں کے قریب آنے کا حکم دیا ۔ کفار اس غیر متوقع ناگہانی حملے سے دہشت زدہ ہو گئے ، ایک بڑی جنگ چھڑی جس کے دوران ہم نے کمانڈ کشتی پر تابڑ توڑ حملے کئے اور اس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اس کے ساتھ ساتھ 3 دوسری کشتیاں بھی ہمارے قبضے میں آ گئیں ۔


    جبکہ باقی کشتیوں نے بجایۃ کا رخ کیا اور وہاں جا کر قلعہ بند ہو گئے ۔ میرے بھائی عروج نے قلعہ پر حملہ کرکے باقی جہازوں پر قبضہ کرنا چاہا ، میں نے صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے اسے اس کے ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی ۔ ہمارے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ ان 4 کشتیوں کو لیکر تیونس کارخ کریں اور باقی 6 جہازوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔


    4 کشتیاں 14 بن گئیں ۔


    میرے بھائی نے میری بات نہیں سنی بلکہ بجایۃ قلعہ پر حملہ کرنے کے احکامات دینے شروع کر دئیے ، جو کہ ہسپانوی سپاہ سے بھرا ہوا تھا ۔ اور اب ان کے ساتھ ان کے وہ ساتھی بھی آن ملے تھے جو کشتیوں سے فرار ہو کر قلعہ کی دیواروں میں پناہ لینے پہنچے تھے ۔


    میرے بھائی نے قلعہ پر حملہ شروع کیا ، جو توپوں کے گولے بارش کی مانند ہم پر برسا رہا تھا ، اس دوران ہم نے 60 شہداء کھوئے ، بہت سے ساتھی زخمی ہوئے ۔ ہم قلعہ پر قبضہ کرنے کے قریب تھے مگر اس دوران جبکہ جنگ کے شعلے پوری شدت سے بھڑک رہے تھے میرا بھائی بائیں بازو میں گولہ لگنے کی وجہ سے زخمی ہو گیا۔


    جب ہسپانویوں نے یہ دیکھا تو انھوں نے قلعہ کے دروازے کھول دئیے اور ہم پر حملہ آور ہوئے ۔ میں اپنے بھائی کے شدید زخمی ہونے کی وجہ سے بیحد غمگین تھا او ر ہسپانویوں کے خلاف شدید کینہ وبغض کی وجہ سے میں نے اپنے 300 یا 400 جنگجوؤں کے ساتھ ان پر شدید حملہ کیا ، اور انھیں تلوار کی دھار پر رکھا ، ہم انھیں دھکیل کر قلعہ کی دیواروں تک لے گئے یہاں تک کہ مجبورا انھیں قلعہ کے دروازوں کے پیچھے جا کر جان بچانی پڑی اس حملے میں ہم نے 300 ہسپانویوں کو قتل کیا ، جبکہ 150 ان میں سے گرفتا ہوئے ۔


    قلعہ کے سامنے زیادہ عرصہ ٹھہرنا مناسب نہ تھا ، جبکہ میرا بھائی زخموں کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا ۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور جہازوں پر سوار ہونے کا حکم دیا ، جبکہ اس دوران ہم پر مسلسل گولہ باری جاری تھی۔ مگر اللہ کے خاص فضل وعنایت سے ہم میں سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچا اور اس طرح ہم تیونس واپس 14 بحری جہازوں میں پہنچے ۔


    جراحوں نے میرے بھائی کے زخم صاف کئے ، مگر دن بدن اس کی درد کی شدت بڑھتی گئی ۔ جرح آپس میں سر جوڑ کر مشورہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے : اگر تیرے بھائی کا بازو نہ کا ٹا گیا تو حالت زیادہ خراب ہو جائے گی اور اس صورت میں ہم ذمہ دار نہ ہوں گے ۔


    جبکہ اہلیان تیونس ہمیں دیکھ کر شدید خوش ہوئے ، ہم 4 کشتیوں میں روانہ ہوئے تھے اور 14 کشتیوں کے ہمراہ لوٹے لیکن جب انھیں میرے بھائی عروج کے زخمی ہونے کا علم ہوا تو وہ شدت غم سے ہچکیاں لے کر رونے لگے۔


    میں نے جراحوں سے کہا کہ جو میرے بھائی عروج کا بازو بچائے گا میں اس کے وزن کے برابر سونا اور اس کی پسند کے 10 غلام انعام دوں گا۔


    میرے بھائی عروج کا بازو کاٹ دیا گیا۔


    جراح ایک بار پھر مشاورت کیلئے اکٹھے ہوئے ، لیکن بازو کاٹنے کے علاوہ انھیں اس کا کوئی حل نظر نہ آیا ۔ چنانچہ میں نے انھیں اجازت دے دی ، اور انھوں نے میرے بھائی کا بازو کاٹ دیا ۔ اور میرے بھائی کے زخموں کا علاج کیا۔ میں اس نقصان پر رویا ، تو میرے بھائی نے کہا : تم کیوں روتے ہو یہ تو اللہ کا فیصلہ اور تقدیر ہے ، میں تو اللہ کی تعریف بیان کرتا ہوں کہ میں نے اس کے راستے میں جنگ کے دوران اپنا بازو کھویا مجھے یہی نعمت کافی ہے ۔


    اس موسم سرما میں میرا بھائی صحت یاب ہو چکا تھا ، موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی جب طبیعت میں پوری طرح نشاط آ چکی تھی ہم 8 جہازوں پر جنگ کیلئے نکلے اور اندلس کے سواحل جا پہنچے ، جہاں اسلامی شہر غرناطہ کا کچھ عرصہ قبل ہی ہسپانویوں کے ہاتھوں سقوط ہوا تھا۔


    ہسپانوی مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھاتے تھے ، وہاں کے مسلمان خفیہ مساجد میں جنہیں زیر زمین تعمیر کیا جاتا اللہ کی عبادت کرنے پر مجبور تھے ، ہسپانویوں نے تمام مساجد کو تباہ اور نذر آتش کر دیا تھا ، اور اگر کسی نماز پڑھنے والے یا روزہ دار کو پکڑ لیتے تو اسے اور اس کی اولاد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور جلنے کی سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس دوران ہم نے بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں سے نجات دلائی اور انھیں الجزائر اور تیونس منتقل کیا۔


    اس دوران جب ہم المریۃ کے سواحل پر تھے ہمارے سامنے کفار کی 7 کشتیاں نمودار ہوئیں ہم نے اس میں سے ایک کا پیچھا کیا اور اس پر قبضہ کر لیا جبکہ ہواؤں کی مخالفت کی وجہ سے دوسری کشتیوں کو نہ پاسکے ، جس کشتی پر ہم نے قبضہ کیا یہ ہالینڈ کی تھی جس پر ہندوستان سے لایا گیا سازوسامان لدا ہواتھا ، وہاں سے ہم نے جزیرہ مینورقہ کا رخ کیا ، جہاں ہم ایک خلیج میں داخل ہوئے ، تیونس سے ہمیں نکلے ہوئے 50 یا 60 دن گذر چکے تھے ، ہم جزیرۃ مینورقہ کے اندر داخل ہوئے ، اچانک ہمارا سامنا لگ بھگ 200 جنگجوؤں سے ہوا جو کہ مکمل طور پر مسلح ایک نہر کے کنارے بیٹھے تھے ۔ دنبے کا گوشت بھونا جار ہا تھا ، شراب کے جام لنڈھائے جارہے تھے ، ان میں سے اکثر اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھے ، ہم نے 70 یا 80 کفار کو قتل کیا ۔ 5 یا 6 ڈھیر مال غنیمت پر قبضہ کیا ، ان کے قائد کو میرے پاس لایا گیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کس سمت جانا چاہتے تھے ، اس نے کہا: میرے آقا ہمیں مینورقہ میں آپ کے لنگرا ندا ز ہونے کی خبر مل چکی تھی ، 10 عدد قادرغہ نوعیت کی کشتیاں آپ آپ کی جانب روانہ ہوئیں ، طے یہ پایا کہ وہ سمندر سے آپ پر حملہ آور ہوں گے جبکہ ہم خشکی سے آپ پر حملہ آور ہوں گے ، جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے قیدیوں کو باندھنے اور کشتیوں پر 2،2 کی شکل میں قیدیوں کو تقسیم کرنے کا حکم دیا ، پھر ہم مینورقہ سے جنیوا کی جانب نکلے ، اس دوران راستے میں سامنے آنے والے چار جہازوں پر ہم نے قبضہ کر لیا ۔ ان مہمات کےنتیجے میں سارے کفار ممالک میں ہمارا چرچا پھیل گیا اور ہم ان کی نظروں میں ڈرمائی کردار بن گئے ۔ ہم نے کورسیکا کے جزیرہ پر حملہ کیا اور پھر اپنے بھائی کے ساتھ 7 جہازوں میں میڈیلی کا رخ کیا۔


    وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ، صحیح عربی ضرب المثل ہے ۔جب ہم اپنے اہل وعیال سے ملے تو ہمارے قلوب و ارواح خوشی سے سرشار ہوگئے ، ہمارے تمام اقرباء اور دوست ہمارے پاس آ کر ہمارے حالات کے بارے میں دریافت کرنے لگے ۔ وہاں ہم نے ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا ، جو 7 شب وروز تک جاری رہی ۔ اس دوران ہم نے جزیرۃ کے فقراء کو کھانا کھلایا ، بچوں کے ختنے کئے ، کنواری لڑکیوں کی شادیاں کیں ، اور انھیں خوش کرنے کیلئے بڑی محفلوں کا انعقاد کیا گیا۔ ہمارے جہاز رانوں کی جیبیں سونے سے بھر گئیں یہاں تک کہ وہ ایک اقجہ کی کنیز 5 اقجہ میں خریدنے لگے ،تاکہ اطراف کے دور دراز کے تاجر زیادہ منافع حاصل کریں اور یہ ان کی دعا حاصل کرنے میں کامیاب ہوں ۔ میڈیلی کے باشندے ہمارا بھرپور اکرام کرتے ، ہمارا خیال رکھتے اور ہماری خدمت میں انھوں نے کسی قسم کی کسر نہ اٹھا رکھی ۔ ہمارے پاس انواع قسم کے کھانے اور پھل لیکر آتے کہ ہم انھیں قبول کریں ۔


    سمندر سے محبت ہمارے لئے ہر چیز سے بڑھ کر ہے ۔


    ہم چاہتے تھے کہ موسم سرما جزیرہ میں گزاریں ، اس دوران ہم نے مال غنیمت سے اپنے تمام اقارب کا اکرام کیا، خاص طور پر اپنے بڑے بھائی اسحاق[2] کو بڑی تعداد میں مال اور وینس کا سونا دیا او ر ان کی بابرکت دعاؤں سے فیضیاب ہوئے ۔ مگر جب اس نے عروج کا کٹا ہوا بازو دیکھا تو شدید غمگین ہوا ۔


    ایک بار میرے بھائی عروج نے ارادہ کیا کہ شادی کرکے میڈیلی میں رہائش اختیا ر کی جائے ، لیکن جلد ہی وہ اپنی اس سوچ سے باز آ گیا ، کیونکہ سمندر کیلئے اس کی محبت ہر چیز کی محبت پر غالب تھی ، بلکہ اس کے نزدیک اس کے برابر کوئی چیز نہیں ہو سکتی ۔


    اور ایک صبح وہ ہم سے کہنے لگا : کہ میں نے گزشتہ رات ایک خوبصورت خواب دیکھا ، میں نے وہی سفید ریش بزرگ جنہوں مجھے روڈوس میں قید کے دوران نجات کی خوشخبری سنائی تھی دیکھے جو مجھے مخاطب کر کے کہہ رہے تھے ، اے عروج : مغرب کا رخ کر بیشک اللہ رب العزت نے وہاں تیرے لئے بہت سے معرکے اور عزت و شرف لکھ دیا ہے ۔


    وہاں سے گزرنے والی تمام کشتیاں میڈیلی لنگرانداز ہوتیں ، کیونکہ کپتان یہاں سے قیدی خرید کر انھیں چپو چلانے کیلئے استعمال کر سکیں ۔ میں نے ایک دن ان کپتانوں میں سے ایک سے کہا:


    میرے پاس 827 خلاصی ضرورت سے زائد ہیں جنہیں میں تمہارے ہاتھ فروخت کرنا چاہتا ہوں ۔


    اس طرح سے میں نے یہ تمام تر خلاصی عثمانی تاجر کپتانوں کے ہاتھوں فروخت کردئیے ان میں سے کچھ کی قیمت 500 دینا ر بعض 300 دینا ر اور کچھ اس سے بھی کم قیمت کے تھے ۔


    میں نے قیدیوں سے متعلق تمام دستاویزی کاروائیاں جنہیں میں فروخت کرنا چاہتا تھا مکمل کیں اور بندرگاہ کے رؤساء کو ان کے حقوق بھیج دیئے ، اسی طرح اسلامی اوقاف کو کچھ غلام عطیہ کئے ۔


    اس طرح سے میں نے اپنے کمائے ہوئے مال کا نصف حصہ خرچ کر دیا اور اس میں سے باقی بچنے والے مال اپنے بھائی عروج کے ساتھ تقسیم کر دیا ، ہم مال ذخیرہ نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے ہم نے اپنے تمام مال کو کشتیوں کی بہترین تیاری پر خرچ کردیا اور باقی ماند اپنے جہاز رانوں پر تقسیم کردیا ان میں سے ہر ایک کے حصے میں 90 دینا رآئے ، جبکہ رؤساء کے حصے میں ہر رئیس کو 195 دینا ر پہنچے ۔


    جہاز راں اپنے کھانے پینے پر اپنی جیب سے خرچ نہیں کرتے تھے ۔ہر کشتی کا خاص مطبخ تھا اس طرح سے جہازرانوں کو ہفتہ میں دوبار گوشت دیا جاتا مگر اس کے باوجود وہ کھانے پر اپنے خاص مال میں سے خرچ کرتے کیونکہ کشتیوں میں دیا جانے والا کھانا انھیں پوری طرح سیراب نہیں کرتا تھا ۔


    موسم سرما آنے پر میں نے ان جہازرانوں کو جو اناضول اور رومیلی کے قریب بستے تھے یہ موسم سرما اپنے گھر گزارنے کی اجازت دی ، جبکہ جن کے گھر دور تھے انھوں نے یہ موسم سرما ہمارے ساتھ میڈیلی میں گزارا۔


    اس موسم سرما میں نے دارلصناعۃ کو 3 کشتیاں بنانے کا حکم دیا ، جن میں سے ایک 25 چپوؤں والی جبکہ باقی 2 عد د 24 چپوؤں والی تھیں ، اس طرح سے موسم بہار کی آمد تک ہمارے پاس 10 بحری جہاز ہوگئے ۔


    جب ہم نے اپنی کشتیوں کو اچھی طرح سے تیار کر لیا تو ان نئی کشتیوں میں سے ایک پر عروج اور دوسری کشتی پر میں سوار ہوا۔


    موسم بہار قریب آنے پر اناضول اور رومیلی کے بہادر نوجوان جوق در جوق ہمارے پاس میڈیلی آنے لگے جن تک ہماری شہرت پہنچ چکی تھی ۔ اس امید پر کہ ہم انھیں بطور جہاز راں قبول کریں گے ۔چنانچہ ہم نے ان میں سے جن میں دلیری و جارحانہ پن کی علامات دیکھیں ان کا انتخاب کر لیا۔


    وقت رخصت ہم نے اپنے بڑے بھائی اسحاق کے ہاتھ کا بوسہ لیا ، اپنے اقارب واحباب کو الوداع کہا اور اس موسم کی ایک مبارک گھڑی میں سمندر پر سوار ہو گئے ۔


    فقراء ہماری راہ تکتے تھے


    راستے میں ہم نے 15 یا 16 بحری جہازوں پر قبضہ کیا ان میں سے اچھی حالت کے جہازوں کو ہم نے اپنے پاس محفوظ رکھا اور جن کی حالت بری تھی انھیں ہم نے غرق کر دیا ۔ جو کشتیاں ہمیں غنیمت میں ملی تھیں ، ان میں سے پانچ پر گیہوں ، 2 پر زیتون کا تیل جبکہ ان میں سے پر ہاتھی دانت لدا ہوا تھا ، جبکہ باقی کشتیاں مختلف سازوسامان اور اموال سے بھری ہوئی تھیں ۔ قیدیوں کی مجموعی تعداد 471 عورتیں اور بے شمار مرد تھے ،


    میڈیلی سے نکلنے کے 29 دن بعد ہم 7 کشتیوں پر تیونس کی بندرگا ہ حلق الوادی میں داخل ہوئے تو ہم نے بندرگاہ کو وہاں کے باسیوں سے بھرا ہوا پایا جو ہمارا استقبال کرنے آئے رھے ، ہم نے ہوا میں توپوں کے گولے داغ کر ان کو سلامی دی ۔


    یہاں کے باسی ہم سے بے پنا ہ محبت کرتے تھے او ر ان کی محبت کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ ہمارے تیونس واپس نہ آنے پرشدید مضطرب تھے ، بالخصوص فقراء بڑے اشتیاق سے ہماری آمد کے منتظر تھے ۔ہم نے گیہوں فقراء اور محتاجوں پر تقسیم کی جبکہ باقی غنائم کو ہم نے فروخت کردیا ، اسی طرح سلطان تیونس کو اس کاحصہ جو کہ 5 ہزار وینس کا دوقہ دو لونڈیاں ، 4 جنیوا کے غلام ، غلاموں اور لونڈیوں کی عمریں 15-16 سال کے درمیان تھیں ، جو انتہائی خوبصورت تھیں ، جنہیں اگر فروخت کیا جاتا تو انتہائی مہنگے داموں فروخت ہوتے ۔


    جبکہ سلطان نے ہمیں خوبصورت گھوڑے تحفے میں دیئے ، میں اور عروج اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر سلطان کے محل گئے ، جس نے یہ کہتے ہوئے ہمارا استقبال کیا : تم نے میری مملکت کو شرف بخشا اللہ رب العزت دنیا و آخرت میں تمہارے چہرے روشن کرے ، تم ہمارے سردار ہو۔


    اس ملاقات سے فراغت کے بعد سلطان نے مجھے اور عروج کو خلعت عطا کی اسی طرح ہمارے ساتھ موجود جہازرانوں کا بھی بے حد اکرام کیا۔


    یہ موسم سرما ہم نے تیونس میں گزارا۔


    موسم بہار کی آمد پر ایک مبارک گھڑی میں ہم 12 کشتیوں میں نکلے اور جزیرہ صقلیہ کے ایک قلعہ پر حملہ کیا اور 300 کے قریب افراد کو قیدی بنایا انھیں ہم نے کشتیوں پر تقسیم کر دیا تاکہ وہ چپو چلانے کا کام کرسکیں ۔ ۔ اسی طرح دلی محمد رئیس نے بندرگا ہ میں لنگر انداز ایک تجارتی کشتی پر قبضہ کیا جوکہ چینی سے بھری ہوئی تھی ۔ جب ہم نے اس کشتی میں شمار کیا تو 650 صندوق شکر سے بھرے ہوئے تھے ۔ میں نے دلی محمد رئیس کو حکم دیا کہ وہ یہ غنائم تیونس کی جانب لے جائے ۔ اگلے دن ہم نے 4مزید جہازوں پر قبضہ کیا جن میں سے 2 اونی کپڑے سے بھرے ہوئے تھے ، جبکہ ایک بادبانی کشتیاں بنانے کیلئے لکڑی کے تختوں سے لدا تھا ، جسے فرانس بھیجا جارہا تھا ، جبکہ چوتھی کشتی بارود سے بھری ہوئی تھی مختصرا یہ کہ چاروں کشتیاں بہترین غنائم پر مشتمل تھیں ۔


    ہم 33 دن بعد تیونس واپس پہنچے اس دوران ہم نے بہت بڑی مقدار میں اونی کپڑا حاصل کیا ۔ یہاں تک کہ ہم نے کشتی پر اس سے فرش بچھا یا ، ہرجہازراں کو ساڑھے سات قنطار[3] شکر ، 12 تھا ن اونی کپڑا ، 125 تھان کپڑا آیا ، جبکہ غنیمت میں ملنے والی لکڑی کے تختے انتہائی عمدہ نوعیت کی لکڑی کے تھے ۔


    جو انتہائی مضبوط اور لمبے تھے اور لمبی کشتیوں کی تیاری کیلئے بہت مناسب تھے ۔ ہم نے ان تختوں کو اپنے سلطان معظم سلیم خان کی خدمت میں ہدیتا بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔ اس طرح ہم نے 200 غلاموں کا انتخاب کیا جنہیں ان تختوں کے ساتھ بھیجا جانا تھا ۔ اور یہ فیصلہ کیا کہ محی الدین پیری رئیس[4]Piri REIS انھیں لے کر استنبول جائے ۔پیری رئیس محیی الدین کمال رئیس[5] کا بھانجا تھا ، انتہائی باظرف علم دوست عالم اور سلطانی آداب سے واقف تھا ۔ پیری رئیس ایک مبارک گھڑی میں تیونس سے استنبول کی جانب روانہ ہو ا۔


    سلطان کی دعا پا کر ہم دنیا وآخرت میں غالب ومعزز ٹھہرے ۔


    پیری رئیس نے 6 بحری جہازوں میں تیونس چھوڑا ، روانگی کے 21 دن بعد استنبول پہنچا جہاں سلطان کو توپوں کی سلامی دیتے ہوئے سرای بورنو کے سامنے لنگر انداز ہوا۔ سلطان نے پیری رئیس کا استقبال کیا اور میرا خط خود پڑھ کر مجھے عزت بخشی ، سلطان کو میرے اور عروج کے غزوات سے بے حد خوشی پہنچی ، میرا خط پڑھنے کے بعد انھوں نے اپنے مبارک ہاتھ ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے حق میں دعا کیلئے اٹھا ئے :


    اے اللہ میرے دونوں خادموں عروج اور خیرالدین کے چہرے دنیا وآخرت میں روشن فرما، اے اللہ ان کا نشانہ کر ، ان کے دشمنوں کو رسوا کر اور بر وبحر میں ان کی نصرت فرما۔


    اس طرح سے ہم سلطان معظم کی دعا حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہرے ، اور اس کے دن کے بعد کبھی بھی مغلوب نہ ہوئے ۔ دنیا وآخرت میں معزز ٹھہرے ، سلطان نے ہمارے ساتھی پیری رئیس کا خوب اکرام کیا، اسے 12 عدد صندوق اقجہ کے دئیے ، اور بنفس نفیس خلعت سلطانی پہنائی ، ہمارے بھیجے گئے تحائف قبول فرما کر ہمیں عزت بخشی ، اور ہر ایک کا خود معائنہ کیا۔


    باوجوداس کے کہ آج تک کسی کشتی نے محل کے بالمقابل ساحل پر آنے کی جرات نہیں کی ، سلطان معظم نے پیری رئیس کی کشتیوں کو محل کے قریب لنگر انداز ہونے کا حکم دیا ۔ پیری رئیس نے 200 غلاموں کو سلطان کی جانب بھیجے گئے تحائف اٹھانے کا حکم دیا کہ وہ اپنے کندھوں پر منظم قطار کی شکل میں پیش کیا ان کے ساتھ 200 جہاز راں چاندی کے تاروں سے منقش لباس میں ساحل سے عسکری پریڈ کی شکل میں سلطان کے سامنے پیش ہوئے ، سلطان سلیم خان نے ان میں سے ہر ایک کو 50 سونے کے دینا ر دیئے اور مملکت کے خزانے سے ان کی رہائش کا انتظام کر نے کا حکم دیا۔


    جبکہ محیی الدین کی رہائش کیلئے ایک بڑا گھر مخصوص کیا گیا۔


    سلطان نے کشتیوں کو دارلصناعۃ بھجوانے کا حکم دیا جہاں ان کی رنگائی اور مرمت کے ساتھ ساتھ انھیں ضروری عسکری سازوسامان کے ساتھ لیس کیاگیا، اسی طرح دو عدد 27 نشستوں والی قادرغہ کشتیوں کی تیاری کا حکم دیاجو سلطان کی جانب سے ایک میرے لئے اور دوسری میرے بھائی عروج کیلئے تحفہ بھیجی جانی تھی ۔ ان کشتیوں کا نچلا حصہ سونے کے طلاء سے مزین کیا گیا تھا ، جبکہ ان کشتیوں پر بڑی مقدار میں گولے لدے تھے ، جو دارلصناعۃ سے ابھی ابھی تیار ہونے کی وجہ سے چمک رہے تھے ۔ اسی طرح پیری رئیس نے تمام وزراء سے ملاقات کی اور انھیں ہمارے بھیجے گئے تحائف پیش کئے ۔ اور ایک دن سلطان سلیم خان نے نے پیری رئیس کو بلوایا ، جب وہ سلطان کے سامنے پیش ہوا تو سلطان نے اسے 2 تلواریں عطاء کیں جن کی مٹھی الماس سے مزین تھی ، ان میں سے ہر ایک کی قیمت بلاد روم کے خراج[6] کے برابر تھی ۔ اسی طرح خلعت سلطانی اور دو نیشان عطا کئے اور کہا: ان دونوں کشتیوں میں سے ایک پر خیر الدین اور دوسری پر عروج سوار ہو ۔ اور ایک نیشان خیرالدین زیب تن کرے اور دوسرا عروج ، تلواروں میں سے ایک خیرالدین کیلئے اور دوسری عروج کیلئے ۔ اور انھیں بتلا دو کہ ہم نے ان کے بھیجے گئے تحائف قبول کر لئے ہیں ، میں تمہیں اللہ کے سپر د کرتا اور اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تم پر اپنی مضبوط نصرت قائم رکھے ، تمہیں جس چیز کی بھی ضرورت ہو تم اسے بلاجھجک ہمارے سامنے پیش کرسکتے ہو ۔


    پیری رئیس نے خط ہمایوں[7] لیا ، اس کا 3 بار بوسہ لیا سر پر رکھا ، پھر جھک کر احتراما 7 بار سلام کیا ، سلطان کے مبارک ہاتھوں کا بوسہ لیا اور انتہائی خوشی و سرور میں سلطا ن سے رخصت ہوا۔


    پیری رئیس سلطان کی عطاکردہ کشتیوں میں سے ایک پر سوار ہوا اور باقی کشتیوں کو اپنے ہمراہ آنے کا حکم دیا ، پھر 8 بحری جہازوں کے ساتھ "سرای بورنو " کے قریب لنگر انداز ہوا ، سلطان کو سلام پیش کیا، اس دوران سلطان ہمارے جہازوں کا معائنہ کرنے کیلئے ساحلی محل پر موجو د تھے ، پھر پیری رئیس نے استنبول سے تیونس کا رخ کیا ۔


    اس دوران جب پیری رئیس استنبول تھا میں اور میرا بھائی دس بحری جہازوں میں نکلے ، ہمار ا ارادہ آبنائے سبت[8]ہ جانے کا تھا ، جو کہ بحر متوسط کے آخر میں واقع ہے کہ وہاں سے گذر کر ہم اندلس جائیں اور جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے دینی بھائیوں کو نجات دلائیں ۔


    اس اثناء میں الجزائری شہر بجایۃ سے ایک وفد ایک خط لیکر آیا ، جس میں تحریر تھا :


    اگر ہمارے لئے امید کی کوئی کرن باقی ہے تو مجاہدین ابطال وہ تمہاری جانب سے ہونی چاہئے ، ہسپانویوں کے ظلم وستم کی وجہ سے ہم نہ تو نماز ادا کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دے سکتے ہیں۔اب ہم اپنا معاملہ تمہارے سامنے رکھتے ہیں ، اللہ رب العزت تمہیں ہماری رہائی کا سبب بنائے ، ہمارے شہر کا رخ کرنے میں جلدی کرو اور ہمیں جلد ازجلد ان کفار کے ظلم سے نجات دلاؤ۔


    جب ہم "بجایۃ " کی جانب سفر کا ارادہ کر رہے تھے اس وقت پیری رئیس تیونس کے سواحل میں داخل ہوا ، ہم اسے فورا اپنی کشتی میں لے آئے اور بڑے اشتیاق سے استنبول کا احوال پوچھنے لگے ، پیری رئیس جس کشتی پر سوار تھا اسے دیکھتے ہی تعجب وپسندیدگی کی شدت سے مجھے یو ں لگا کہ میری عقل پرواز کر جائے گی ، اس کی ضخامت اور عمدگی بتا رہی تھی کہ وہ سلطان کا ہم پر انعام واکرام ہے ، چنانچہ میرا دل سرور سے بھر گیا۔


    اور جب میں نے سلطان معظم سلیم خان کا بھیجا گیا خط ہمایوں پڑھا تو میری خوشی کئی گنا بڑھ گئی اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔


    میں نے خط ہمایوں کو سات بار بوسہ دیا ، اسے اپنے سر پر رکھا اور اللہ کی بہت زیادہ حمد بیان کی ، جس نے مجھے اس طرح سلطان کی خدمت میں آنے کی توفیق دی جبکہ میرے بھائی عروج نے جب سلطان کی عطا کردہ کشتی دیکھی تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ، سلطان کیلئے اتنی شاندار کشتی کا انعام دینے پر بہت زیادہ دعائیں کیں ۔


    سلطان سلیم خان نے سلطان تیونس کی جانب بھی ایک خط ہمایوں روانہ کیا تھا ، جسے میں خود اس کے پاس لیکر گیا ، اور اس کے سپرد کیا ، اس نے 7 بار اس کا بوسہ لینے کے بعد اپنے سر پر رکھا اور پھر کھولا ، جس میں تحریر تھا : امیرتیونس کی جانب ، جب تم تک یہ خط پہنچے تو تجھے چاہئے کہ اس پر عمل کر ، اور اس کی مخالفت کرنے سے بچو، اور ہمارے خادموں عروج اور خیر الدین کی مدد کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی مت کرو۔


    اور ایک بڑی محفل میں جہاں اشراف تیونس سلطان کی خدمت میں حاضر تھے پیری رئیس نے مجھے سلطان سلیم کی عطا کردہ تلوار باندھی اور سلطان کی عطا کردہ خلعت پہنائی ، جبکہ مشائخ کی زبانوں پر سلطان کیلئے دعا اور تعریف رواں تھی ۔


    سلطان تیونس نے ہمیں سلطان سلیم خان کی جانب سے ملنے والی محبت وتکریم دیکھی تو اسے ادراک ہو گیا کہ سلطان سلیم خان نے باوجود اس کے کہ بڑے بڑے سلاطین کو تعریف وعزت افزائی سے محروم رکھا ہے مگر اس کے باوجود ہمارے لئے اپنی خصوصی توجہ واکرام کا مظاہرہ کیا ، چنانچہ اس کا ہمارے ساتھ معاملہ تبدیل ہو گیا : یقینا تیرا اور تیرے بھائی عروج رئیس کے راستے کا اختتام مملکت عثمانیہ کی بحریہ کی قیادت پر ہو گا ، چنانچہ تمہیں یہ سب مبارک ہو ۔


    اس وقت سے سلطان کا ہمارے ساتھ موقف بدل گیا ، اور ہمارے خلاف دل میں حسد وکینہ چھپانے لگا، اسے ادراک ہو گیا کہ ہم محض مایوس قسم کے بحری قزاق نہیں جو ہر قسم کی مدد سے محروم ہوں ، بلکہ ہم سلطان معظم کی خدمت وحفاظت میں ہیں ۔ چنانچہ اس وقت سے وہ ہمارے بارے میں تحفظات کا شکار ہو گیا اور ہم سے اس خوف سے دور ہوتا چلا گیا کہ کہیں ہم اس کی مملکت سلطان سلیم خان کے نام پر چھین نہ لیں ۔




    [1] قادرغۃ : جنگی بادبانی کشتیوں میں سے ایک جسے دخانی کشتیوں کی ایجاد سے قبل استعمال کیا جاتا تھا، یہ 25 نشستوں پر مشتمل ہوتی تھی ، ہر چپو کو 4 سے 5 خلاصی (چپو چلانے والے) دھکیلتے تھے ، اپنی لمبائی اور ہلکے وزن کی وجہ سے ممتاز تھیں ، اس کا عملہ 35 ملاحوں 196 خلاصیوں اور 100 جہازرانوں پر مشتمل ہوتا ، اسی طرح اس پر 13 توپیں نصب ہوتیں ۔


    [2] اسحاق رئیس خیرالدین بابروس کے بڑا بھائی ، جو الجزائر میں ان سے آملا اور اپنے بھائیوں کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شرکت کی ، اور قلعہ سیدی راشد الجزائر میں 1518 کو ہسپانویوں کے خلاف شہید ہوئے ۔


    [3] قنطار: وزن کی اکائی ہے جس کا وزن جگہ اور وقت کے اعتبار سے مختلف رہا ہے عثمانی قنطار 56.452 کلو گرام کے برابر ہے جسے ترکی میں Kantar کہا جاتا ہے ،


    [4] پیری رئیس ترک جہاز راں اور ماہر جغرافیہ تھے ، جو اپنے چچا کمال رئیس کے ساتھ بحرمتوسط کے مغربی حصے میں مسلمانان اندلس کی مدد کیلئے آئے تھے ، اپنی کتاب "کتاب البحریۃ " کی وجہ سے شہرت پائی جس میں انھوں نے بحرمتوسط کے سواحل بندرگاہوں اور شہروں کے تفصیلی نقشہ جات بنائے ۔


    [5] کمال رئیس ترک جہاز راں جنہوں نے سقوط غرناطہ کے اہل اندلس کی مدد کے خط کے بعد سلطان بایزید دوم کےحکم سے ہسپانیہ کے سواحل پرحملہ کیا، اسی طرح پیری رئیس نے بہت بڑی تعداد میں اندلس کے مسلمانوں اور یہودیوں کو وہاں سے نکال کر اناضول میں آباد کیا۔


    [6] شاید یہاں یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ وہ بے حد قیمتی تھی ، چنانچہ اس میں مبالغہ کیلئے یہ تعبیر استعمال کی ۔


    [7] خط ہمایوں : شاہی یا سلطانی حکم جسے رعایا یا مملکت کے افراد کیلئے صادر کیا جاتا۔


    [8] یعنی آبنائے جبل الطارق جو کہ مراکش اور اندلس (ہسپانیہ)کے درمیان حد فاصل ہے ۔

     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    8,871
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    زبردست شراکت
    بک مارک کر لیا ہے
    سکون سے پڑھنے والی چیز ہے
    شراکت کا شکریہ
    سلامت رہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    974
    دشمن کی کشتیوں پر شدید حملہ


    اگلے دن میں اور میرا بھائی سلطان کی عطا کردہ کشتیوں پر سوار ہوئے ، ان میں سے ایک کشتی 27 نشستوں اور 16 توپوں پر مشتمل تھی ، ہم 12 جہازوں کے ہمراہ روانہ ہوئے ، اور شمع سے لدی ایک کشتی پر قبضہ کیا ، جس پر 25 کافر سوار تھے ۔ اس کشتی میں 40 ہمارے اندلسی بھائی قید تھے ۔ ہم نے انھیں آزاد کروا کر دلی محمد رئیس کے ہمراہ ایک کشتی پر تیونس بھجوا دیا۔ میں دلی محمد سے بہت محبت کرتا تھا ، یہ نوجوان بے حد دلیر اور خوف سے حد درجہ ناآشنا تھا ۔ اگر 15 یا 20 افراد سے تنہا مقابلہ کرے تو ان پر غالب آجائے ۔ ہم الجزائر کے شہر "بجایۃ "کی بندرگاہ پر آئے ۔ ہمارے ہمراہ 2333 جہازراں ، 10 عدد قادرغہ کشتیاں ، 150 توپیں اور ہزاروں قیدی تھے جو خلاصیوں کا کام کرتے تھے ۔


    بجایہ قلعہ ہسپانویوں کے ہاتھ میں تھا، ہماری ان سے جھڑپ شروع ہوگئی ، جو ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہی۔ جس میں بہت سے کفار مارے گئے ، جب اطراف کے بدوؤں کو ہماری فتح کا علم ہوا تو 20 ہزار افراد ہماری مدد کیلئے ساتھ آملے ، مگر وہ فنون قتال سے اچھی طرح واقف نہ تھے ، کفار کی ایک ٹولی قلعہ بند ہو گئی اور انھوں نے 29 دن تک مزاحمت جاری رکھی ، ہم پر قلعہ پر قبضہ کے قریب تھے مگر قلعوں کے خلاف بمباری کیلئے استعمال ہونے والی توپوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہم قلعہ میں بڑا شگاف بنانے میں ناکام رہے ۔


    اس دوران ہم تک اطلاع پہنچی کہ ہسپانویوں کی ایک بڑی سپا ہ جزیرہ مینورقہ سے ہماری جانب رواں ہے ، چنانچہ ہم نے"بجایہ " کو چھوڑا اور "جیجل" کی جانب نکل پڑے تاکہ مینورقہ سے آنے والی سپاہ کی راہ میں گھات لگائی جاسکے ۔ اور بالآخر ہمارے سامنے افق پر 10 عدد بڑی قادرغہ کشتیاں نمودارہوئیں ، جو اسلحہ اور عسکری سازوسامان سے لدی ہوئی تھیں ، میرا بھائی عروج کہنے لگا کہ یہ اللہ کی نعمت ہے جو ہماری جانب ہانک کر لائی جا رہی ہے ۔


    ہمارے جہازرانوں نے ہسپانوی کشتیوں پر تہلیل وتکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے حملہ کیا ، دشمن کے خلاف شدید جھڑپ چھڑ گئی ، جس کے نتیجے میں بالآخر ہم نے ان 10 کشتیوں پر قبضہ کر لیا ، ہسپانوی سپاہیوں میں سے 78 سپاہیوں کے علاوہ کوئی بھی زندہ نہ بچا ، جنہیں ہم نے گرفتار کرکے چپو چلانے کیلئے قید کر لیا۔


    ہسپانیہ کے خلاف جنگ


    ہم نے 10 ہسپانوی کشتیوں پر صلیبی پرچم لہرائے اور 500 جہازرانوں کو اس میں چھپنے کا حکم دیا اور واپس "بجایہ" کا رخ کیا ، ہسپانوی کفار "بجایہ " میں قلعہ بند "مینورقہ" سے اپنی کمک کیلئے آنے والے جہازوں کے منتظر تھے ، جب انھوں نے ہمیں دور سے دیکھا تو یہ سمجھا کہ ہم ان کے دینی بھائی ہیں ، چنانچہ وہ اپنے چمکدار خود ہوا میں لہرا کر خوشی کا اظہار کرنے لگے ، اس طرح سے ہم جھوٹی خوشی میں غرق قلعہ کے قریب تر ہوتے چلے گئے ۔


    کفار نے قلعہ کے دروازے کھولے اور اپنی کمک کیلئے آنے والی کشتیوں کے استقبال کیلئے ساحلی محلات پر چڑھ گئے ، اور اچانک میں نے اپنے جہاز رانوں کو ساحل کی طرف نکلنے کا حکم دیا اور جونہی کفار نے تکبیر وتہلیل کے نعرے سنے ان کی صفوں میں اضطرا ب پیدا ہو گیا اور وہ شکست خوردہ انداز میں پیٹھ پھیر کر بھاگے ، اور ہم قلعہ فتح کرنے میں کامیاب ٹھہرے ۔ اس دوران ہسپانوی سپاہی امان طلب کرنے کیلئے "ماینا سینیور" چلاتے رہے ۔


    قلعہ کی فتح کے بعد تمام شیوخ اور ہمسایہ علاقوں کے سردار " بجایہ " آئے اور ہماری بیعت کی ، یہاں سے میں اور میرا بھائی ان علاقوں کے حاکم بن گئے ۔


    میں اپنے بھائی عروج سے ملاقات کیلئے جیجل لوٹا ، جب میں اس سے ملا تو اس نے میری آنکھوں پر بوسہ دیتے ہوئے مجھے "بجایہ " کی فتح کی مبارک باد دی جو کہ انتہائی اہمیت کا حامل قلعہ تھا[1]۔


    اس حملے میں ہم نے 800 بارود کے ڈرموں کے ساتھ ساتھ بے شمار غنائم حاصل کئے ، ہمیں خاص طور پر بارود حاصل کرنے پر بے پناہ خوشی ہوئی ، کیونکہ ہمارے پاس موجود بارود ختم ہونے کے قریب تھا اور سلطان تیونس نے ہمیں مزید بارود نہ دیا ، بلکہ ہم دن بدن اس کا ہماری جانب سے اعراض کئے جانا دیکھ رہے تھے ۔ چنانچہ ہم نے طے کیا کہ اپنی مشکلات کو خود ہی حل کیا کریں گے ۔ یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ اس اجنبیت میں ہمارے لئے ایک نئی مملکت کی بنیاد رکھنا لازم ہے ۔


    ہسپانیہ میں کفار تک جب ہمارے ہاتھوں قلعہ کے فتح کی خبر پہنچی تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی وہ غم وپریشانی کے سمندر میں ڈوب گئے ، جبکہ شاہ اسپین" کارلوس[2]" نے بجایہ کو چھڑوانے اور ترکوں کے ہاتھوں ہسپانوی قیدیوں کو آزاد کروانے کے احکامات جاری کر دئیے ۔


    اور دوسری جانب اہل الجزائر نے دیکھ لیا کہ ترک ہسپانویوں کی کمر توڑنے کی قوت رکھتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ وہ عدل قائم کرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں ۔


    جب میں اپنے بھائی کے ساتھ "جیجل " میں مقیم تھا تو الجزائری شہروں سے مختلف وفود ہم تک آتے ۔ ان میں اہم ترین وفد الجزائر شہر کا وفد تھا جو ان علاقوں کیلئے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ اہل الجزائر ہسپانویوں کے ظلم وجور کی شکایت کرتے اور اپنی آزادی کیلئے ہم سے مداخلت کے طلبگار تھے ، چنانچہ میرے بھائی عروج نے مجھے " جیجل " میں اپنا قائم مقام مقر ر کیا اور 500 جہازرانوں کے ہمراہ الجزائر شہر روانہ ہوگیا۔


    جب میرا بھائی عروج رئیس الجزائر فتح کرنے کیلئے روانہ ہوا تو میں نے "جیجل سے "تیونس " کا رخ کیا جہاں کا سلطان ہماری دشمنی میں بہت آگے تک جا چکا تھا ، مگر جب اس نے مجھے 10 بحری جہازوں کے ہمراۃ آتے دیکھا تو خوفزدہ ہو گیا اور اسے اپنی جان اور سلطنت کے لالے پڑ گئے ، بظاہر وہ ہماری تعریف کرنے لگا اور ہمارے حق میں اپنی کوتاہی پر معذرت خواہ ہوا۔


    میں نے اسے کہا: تمہیں بارود فراہم کرنے سے کس چیز نے روکا ؟


    اس نے جوابا کہا : مجھے بارود کیلئے تمہاری ضرورت کا علم نہ تھا اور نہ ہی میرے معاون نے مجھے اس کی اطلاع دی اور اس کوتاہی کی وجہ سے میں نے اس کی گردن مارنے کا حکم جاری کیا ہے ۔


    سلطان نے واقعتا اس کی گردن مارنے کا حکم دیا لیکن اس وجہ سے نہیں کہ اس نے اسے بارود کی ہماری ضرورت سے آگاہ نہیں کیا تھا ، بلکہ کسی اور وجہ سے ۔


    میں نے اسے اس مسئلہ پر رسوا کرنا پسند نہ کیا ، بلکہ یہ ظاہر کیا کہ میں اس کی بات سے مطمئن ہو گیا ہوں ، میں نے سلطان کے ہمراہ گھوڑے کی پشت پر تیونس شہر کاچکر لگایا اور پھر بندرگاہ لوٹ آیا ، میرے ساتھ میرا بڑا بھائی اسحاق رئیس ، مصلح الدین ، کورداوغلو ، ولی محمدرئیس اور دوسرے مشہور سالار تھے ۔ میں نے ان رؤساء کو بحر متوسط کےمشرق کی جانب قبرص کے نواح میں جنگ کیلئے جانے اور پھر واپس الجزائر آنے کا حکم دیا ، جبکہ خود اپنے بھائی اسحاق کےہمراہ الجزائر لوٹ آیا۔


    ان رؤساء[3] بحر نے 7 بحری جہازوں پر مشرق کا رخ کیا ، راستے میں ان کا سامنا عثمانی بحری بیڑے سے ہوا جو مصر اور قبرص کے درمیان رواں تھا بحری بیڑے کی کشتیوں نے سمندر کے پانیوں کو ڈھک رکھا تھا ، جہازراں اس اتفاقیہ ملاقات سے بے حد خوش ہوئے ۔ مصلح الدین رئیس بیڑے کے قریب ہوا اور بیڑے کے سالار کے جہاز پر چڑھا ، جہاں اسےقبطان داریا[4]( امیر البحر)" جعفر بای "کے سامنے پیش کیا گیا ، جس نے اسے مخاطب ہو کر کہا : کیا تم جانتے نہیں کہ سلطان مصر میں موجود ہیں ؟تمہیں کس چیز نے ہمایوں بحری بیڑےکے ساتھ شریک ہونے سے روکا ؟


    مصلح الدین بڑا عقلمند شخص تھا اس نے جواب میں کہا: میرے آقا کپتان : معاذ اللہ کہ ہم سلطان کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برتیں ، ہم جیسا کہ آپ جانتے ہیں دوردراز کے صوبے میں ہیں اور ہمیں جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کسی بات کا علم نہیں تھا ، اگر آپ یہ اطلاع دینے کیلئے اپنے کتوں میں سے کوئی کتا بھی ہمارے پاس بھیج دیتے تو ہم فی الفور بغیر کسی تاخیر کے پوری سمع وطاعت کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے ، مملکت کی خدمت کرنا ہمارے لئے عظیم شرف ہے ۔


    امیر البحر کو مصلح الدین رئیس کا جواب پسند آیا اور اس نے اس کے حسن جواب پر اسے خوش ہو کر کہا: اللہ تمہار چہرا کبھی رسوا نہ کرے ۔


    مصلح الدین اپنے سات بحری جہازوں کے ہمراہ ہمایوں بحری بیڑے کے ہمراہ روانہ ہو گیا ، اور اسکندریہ بندرگاہ میں داخل ہوا ، اس اثناء میں سلطان فتح مصر کے بعد اپنی فوج کے ہمراہ قاہرہ میں مقیم تھے ، جب انھیں اسکندریہ میں اپنے بیڑے کے پہنچنے کی اطلاع ملی تو بندرگاہ آئے اور اس کا معائنہ کیا۔


    سلطان نے مصلح الدین کو بڑی گرم جوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا اور سپاہیوں اور سامان حرب کے ساتھ اس کی مدد کی ، مصلح الدین یہ سب لیکر الجزائر لوٹ آئے ۔


    عروج رئیس کی فتح


    مصلح الدین کا سفر 2 ماہ پر مشتمل تھا ، میرا بھائی اپنے جہازوں کی واپسی اور ان کےہمراہ سلطان کی جانب سے بھیجے گئے سپاہیوں ، توپوں اور سامان حرب کو پا کر بہت خوش ہوا ۔ عروج کی الجزائر شہر میں موجودگی کے دوران میں "جیجل " میں مقیم تھا ۔


    ہم نے الجزائر کا بہت سا حصہ زیرنگیں کر لیا تھا ، ساحلی قلعوں میں موجود ہسپانوی اس صورتحال سے شدید مضطرب تھے ، چنانچہ انھوں نے 40 بحری جہاز تیا رکئے ،اور تیونس چلے آئے ، حلق الوادی میں لنگرانداز ہوئے ، مگر جب انھیں ہمارے علاوہ اور کوئی ملااور انھیں ادراک ہو گیا کہ وہ ہم پرحملہ کرنے سے عاجز ہیں تو ہم سے رخ پھیر کر الجزائر بندرگاہ کا رخ کیا ، ان کا مقصد الجزائر شہر کی سب سے بڑی بندرگاہ کو عروج سے چھیننا تھا ۔


    میرے بھائی عروج نے یہ رات اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدے کی حالت میں گڑگڑا کرگزاری کہ اللہ رب العزت اپنی خاص نصرت وفتح کے ذریعے احسان فرمائے ، سورج طلوع ہونے پر اس نے اپنے تمام جہازرانوں کو اکٹھا کیا ، اس کے پاس کافی تعداد میں عرب بربر اور اندلسی مجاہدین بھی تھے ۔ مگر وہ ترکوں کی طرح فنون قتال سے واقف نہ تھے بلکہ مشکل صورتحال پیش آنے پر راہ فرار اختیارکر لیتے ۔ ان کی تعداد 5 سے 6 ہزار کے درمیان تھی ، دشمن نے لگ بھگ 10 ہزار سپاہی ساحل کی جانب اتارے اس کے علاوہ کافی تعداد میں 40 بحری جہازوں پر بھی سپاہ موجود تھی ۔


    میرے بھائی عروج نے شہر کے برجوں پر اپنے پرچم لہرانے کا حکم دیا اور دشمن کو پیسنے کیلئے ایک مضبوط عسکری دستہ تشکیل دیا ۔ جب رات کی تاریکی پھیل گئی تو عروج خفیہ طور پر 3 ہزار مجاہدین کے ہمراہ الجزائر کےقلعہ کے ایک دروانے سے نکلے اور پہاڑوں[5] کے گرد چکر کاٹ کر ہسپانویوں کے پیچھے معسکر زن ہوئے ۔ یہ شدید طوفان والی سخت تاریک رات تھی ، اللہ رب العزت نے اپنے مجاہدین اولیاء کی مدد میں عجلت کی ، ہسپانویوں کو 2 مشکلات کا سامنا تھا ، طوفان کی ہولناکی اور سخت تاریکی ۔ چنانچہ وہ عروج رئیس کی نقل وحرکت کا بالکل بھی اندازہ نہ لگا پائے ، جس نے اچانک حملہ کر کے ان پر ناگہانی وار کیا اور ان کا صفایا کرنا شروع کر دیا ۔ اس دوران شدید طوفان کے ساتھ ساتھ شدید ژالہ باری بھی شروع ہو گئی ۔ ہسپانوی ناگہانیت کی ہولناکی کا شکارہو کر ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے ، تھوڑی ہی دیر میں انھوں نے بحری جہازوں پر موجود تمام سپاہ کو بھی خشکی پر اتار لیا ۔ چنانچہ ان کی تعداد 20 سے 30 ہزار کے درمیان تک جا پہنچی لیکن تاریکی کی شدت سے ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کو دیکھ نہیں پا رہا تھا ، عروج رئیس نے ان کے فوجی دستوں کا خاتمہ کرنا جاری رکھا ۔ یہ انتہائی خوں ریز جنگ تھی جو دشمن کی ہزیمت پر اختتام کو پہنچی ۔ رات کے آخر میں الجزائر کے قلعہ سے مزید ایک ہزار مجاہد نکلے اور انھوں نے بھی ہسپانوی سپاہ کا صفایا کرنا شروع کر دیا، چنانچہ ان تمام کفار کا خاتمہ کر دیا گیا جبکہ باقی ماندہ کو گرفتار کر لیا گیا۔


    غازی عروج نے قیدیوں کو شمار کرنے کا حکم دیا تو ان کی تعداد 2700 تک جا پہنچی ، جبکہ ہمارے شہداء کی تعداد 300 تھی ، جنہیں دفن کر دیا گیا۔ عساکر اسلام غالب رہے ، ترکوں کاپرچم بلند ہوا ، ہسپانیہ جو کہ اپنے وقت کی سب سے بڑی کافر مملکت تھی اسے میرے بھائی عروج کے سامنے ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا، کارلوس کا ناک خاک آلود ہو ا، اللہ رب العزت نے کفار کا چہرہ سیاہ آلود کیا۔


    عروج نے مجھے خط لکھ کر اس فتح مبین کی خوشخبری سنائی ، جب مجھے یہ خط ملا تو میرا بڑا بھائی اسحاق بھی میرے ہمراہ تھا ، ہم 10 بحری جہازوں میں الجزائر اپنے بھائی عروج کی مدد کیلئے جانے کو تیار تھے اور جب ہمارے جانے کی ضرورت باقی نہ رہی تو ہم جنگ کیلئے نکل پڑے ۔ ہم نے کفار کی 16 کشتیوں پر قبضہ کیا جن پر بارود ، سکہ ،تختے ، تارکول ،تیل چاول ، گیہوں لدے ہوئے تھے ۔ 29 دن کے بعد ہم "جیجل" واپس پلٹے ۔ جہاں مال غنیمت میں سے ایک گیہوں کی کشتی میں نے فقراء پر تقسیم کی۔


    پھر مجھے عروج رئیس کا ایک اور خط ملا جس میں اس نے مجھے عرب شیوخ منافقین میں سے ایک کی گرفتاری کا حکم دیا ، چنانچہ میں فورا 500 جہازرانوں کے ہمراہ پہاڑوں کی جانب نکلا ، جہاں اس منافق شیخ کو گرفتار کیا ، اور اس کی گردن مارنے کا حکم دیا جبکہ اس کی جگہ دوسرے شیخ کو متعین کیا ۔ کچھ دن آرام کرنے کے بعد ہم 20 کشتیوں پر سوار ایک مبارک گھڑی میں الجزائر بندرگاہ پہنچے ، جہاں میرا بھائی عروج ، اسحاق اور میں اکٹھے ہوئے ، ہم بہت دیر تک آپس میں باتیں کرتے رہے ، اس طرح ہم نے یہ موسم سرما یہیں گزارا۔


    موسم بہار آچکا تھا ، زمین مختلف انواع کے پھولوں سے مزین ہو چکی تھی ، کشتیوں نے بندرگاہ کو چھوڑ کر سمندر کے پانیوں کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا۔ الجزائر کا ایک شہر "تنس" تھا ، جس پر امراء عرب میں سے ایک شخص حاکم تھا۔باہمی اختلاف ، جھگڑوں کی وجہ سے شہر کی صورتحال بہت ابتر تھی اور اس کی تلخی شہر کے عام باسیوں کو برداشت کرنا پڑتی ، چنانچہ ہسپانویوں کیلئے اس شہر پر قبضہ کرنا بے حد آسان تھا ۔ میرابھائی غازی عروج اس شہر کو اپنی حکومت میں شامل کرنا چاہتا تھا ، اس اثناء میں اسپین کےبادشاہ کارلوس نے 10 بحری جہاز بھیجے ، بظاہر ان کا مقصد امیر تنس کی حفاظت کرنا تھا لیکن حقیقی مقصد وہاں کے مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانا تھا ۔ تنس کے سلطان کی حفاظت کیلئے ہسپانوی دستہ متعین تھا ، مگر وہ اس کے زیر تسلط علاقے میں وہاں کے باسیوں کی ملکیت ہر چیز لوٹنے کھسوٹنے اور اسے ہسپانیہ بھیجنے میں مصروف رہتا ۔


    میرے دونوں بھائی اسحاق اور عروج الجزائر شہر میں ٹھہرے جبکہ میں نے 10 جہازوں کے ہمراہ تنس کا رخ کیا ، جہاں ہمارا سامنا 4 ہسپانوی جہازوں سے ہوا جو بندرگاہ پر لنگرانداز تھے ، جونہی ہسپانویوں نے ہمیں دیکھا شدت دہشت سے ان کے دل پھٹ گئے ، اور اپنے جہاز چھوڑ کر انھوں نے قلعہ کی مضبوط دیواروں کے پیچھے پناہ لی ۔ ہم نے ان کے جہازوں ، توپوں اور بندوقوں پر قبضہ کیا وہ ہر چیز چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے ۔ جبکہ میں 1500 سپاہیوں کے ہمراہ خشکی پر اترا اور ہم قلعہ کے گرد صف آراءہوگئے ، مجھے شدید مزاحمت کی توقع تھی مگر مجھے قلعہ کے دروازے کھلے ملے ، سینکڑوں مسلمان ہمیں خوش آمدید کہنے ہمارے استقبال کو نکلے ۔


    اے مجاہدین : تمہیں خوش آمدید!ہسپانویوں نے اپنے حلیف امیر کے ساتھ رات کو یہ قلعہ چھوڑ دیا ، ان کی تعداد 11ہزار کے لگ بھگ تھی امیر کے حامی تمام افراد بھی نکل چکے ہیں ، جبکہ شہر میں موجود باقی ماندہ لوگ آپ اور آپ کے بھائی سلطان عروج کے علاوہ اور کسی پر راضی نہیں ۔


    جونہی میں نے یہ خبر سنی میں نے ہسپانویوں اور ان کے حلیف امیر کے تعاقب میں 2 ہزار غازی بھیجے تاکہ وہ مفرورین کا تعاقب کریں ، انھوں نے اگلے دن انھیں پالیا اور چیخ کر انھیں کہنے لگے:


    اے ملحدو! لٹیرو : کہاں بھاگے جارہے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ آج تمہارے لئے کوئی راہ فرار نہیں ۔


    آپس میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں فریق تلواروں کے ذریعے آپس میں لڑنے لگے ، دشمن ہماری تلواروں کی ضرب اور اور بندوقوں کی آگ کو برداشت نہ کر پایا جس نے انھیں چڑیوں کی طرح شکار کیا ، معرکے کا اختتام 350 کفار کی گرفتاری پر ہوا ، جبکہ باقی تلوار کی دھار سے کٹ گئے ، ہم نے 70 یا 80 شہداء کھوئے ، اللہ رب العزت انھیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔


    تنس قلعہ کی فصیل پر میں نے غازیوں کا استقبال کیا ، اور انھیں فتح کی خوشخبری سنائی ، شہداء کیلئے دعا کی ، اس جنگ میں ہر غازی کے حصے میں 500 دینار آئے ، جبکہ مجموعی طور پر ہمیں ملنے والا مال غنیمت 150 کیلا (100 کلو گرام ) سیاہ مرچ ، 75 کیلا دارچینی ، 25 ہزار گز کپڑا اور اتنا ہی ریشم ، 400 کیلا شہد ، 600 کیلا چھتوں میں موجود شہد ، ایک ہزار تھا ن کپڑا ، اور اس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں عسکری سازوسامان ہاتھ آیا۔


    میں نے اپنے افسروں میں سے ایک کو تنس پر نائب مقرر کیا ، اور پھر ایک مبارک گھڑی میں 16 کشتیوں پر سوار ہو کر الجزائر چلا آیا ، جہاں اپنے بھائیوں سے ملاقات کی ، ہم نے بڑی گرمجوشی اور اشتیاق سے معانقہ کیا ، رئیس الغزاۃ عروج نے مجھے مبارکباد دیتے ہوئے کہا:


    اللہ تمہاری جنگ میں برکت دے اے میرے بھائی


    امیر تنس جو کہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا سلطان تلمسان کا بھتیجا تھا ، اس نے ہم سے کھائی چوٹ سے کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ ان الفاظ کے ساتھ بکواس کرتا ہوا سنا گیا۔


    شاہ ہسپانیہ کو خوش آمدید ! عنقریب وہ ان ترکوں سے انتقام لے گا ۔


    ہمارے لئے یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ اس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی اسلام باقی نہ رہا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ ہسپانوی ہمارے ہاتھوں سے الجزائر چھین لینے کی قوت رکھتے ہیں اور اسے الجزائر کا سلطان بنائیں گے ۔ اس طرح سے وہ اپنی تصوراتی دنیا کے خیالات بنتا رہتا۔


    پھر ہمیں علم ہوا کہ سلطان تلمسان کا بھتیجے نے اپنے گرد کے اعراب اور ہسپانویوں کی مدد سے "تنس " پر قبضہ کر لیا ہے اور اہل تنس جنہیں ہم نے ہسپانویوں کے ظلم سے نجات دلائی تھی اس بات پر راضی ہو گئے ہیں کہ وہ ان کا امیر بن جائے ۔


    جب عروج تک یہ خبر پہنچی تو اس کے دل میں انتقام نے جوش کھایا اور اس نے خود جانے کا فیصلہ کیا ، چنانچہ اس نے الجزائر کے علماء کو جمع کیا اور ان سے پوچھنے لگا :


    معزز ین کرام : شریعت میں ایسے شخص کا کیا حکم ہے جو ہسپانوی کفار سے دوستی کرے ، اسلامی زمین شاہ ہسپانیہ کو بیچ ڈالے جو کہ ہمارے دینی بھائیوں کے قتل کیلئے نکلے ہیں ۔ اور ہماری نصیحت و خیرخواہی کو طنز واستہزاء اور ناشکری کی نظر سے دیکھے ۔


    علماء کا جواب تھا: اس کو قتل کرنا واجب ، اس کا خو ن رائیگاں اور مال مباح ہے ، پھر انھوں نے یہ فتویٰ لکھ کر عروج کے حوالے کیا۔




    [1] یاد رہے کہ بجایہ کو مکمل طور پر فتح اورہسپانویوں کو پوری طرح یہاں سے نہیں نکالا جاسکا ، ایسا صالح رئیس بیلربای کے دور حکومت میں 1545 کو ممکن ہو سکا ، خیرالدین کی تحریر سے مراد صرف شہر کا قلعہ فتح کیا گیا۔




    [2] کارلوس: ترکی مصادر میں اسی طرح معروف ہے ، جبکہ عربی مصادر میں یہ شارل خامس(چارلس پنجم) یا شارلکان کے نام سے معروف ہے ، ہسپانیہ اور جرمنی کا بادشاہ ، سلطان سلیمان القانونی کا ہم عصر، 16 ویں صدی کے نصف اول میں اس کا شمار یورپ کےسب سے بڑے بادشاہ کے طور پر ہوتاتھا۔


    [3] رئیس لفظ عموما ترک عسکری جہازرانوں پر بولا جاتاہے ، چاہے یہ مملکت کی خدمت میں ہوں یا خودمختار حیثیت سے سمندر میں جنگ لڑ رہے ہوں ۔ انھیں ترکی میں (Levent) کہا جاتا ہے ، مؤرخین اور محققین نے عثمانی تاریخ میں اس کا استعمال کیا ہے ، ہم دوسرے عسکری عہدوں سے تمیز کیلئے اس کا استعمال کریں گے ۔


    [4] قبطان داریا: عثمانی بیڑے کا قائد عام ، یہ عثمانی بحریہ میں سب سے اعلیٰ رتبہ تھا۔


    [5] الجزائر شہر کے گرد موجود پہاڑ

     
    • زبردست زبردست × 1
  8. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    974
    خائن کی گردن زنی

    میرے بھائی عروج نے ہمیں الوداع کہا اور تنس کی جانب روانہ ہو گیا ، جب اہل تنس نے دیکھا کہ عروج شہر کے قریب آگیا ہے تو وہ معاملے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سلطان تلمسان کے بھتیجے کو گرفتار کرکے عروج کے پاس لے آئے اور کہنے لگے : آپ سلطان اور ہم آپ کے غلام ہیں ، ہم سے غلطی ہوئی اورہم معافی کے طلبگار ہیں ۔اور اس طرح سے منافقانہ جملے بولنے لگے ، میرا بھائی رقیق القلب شخص تھا ، منافقت اور دوغلے پن کو ناپسند کرنے والا ، احسان ودرگزر کرنے والا ، کشادہ دل کا مالک ، چنانچہ اس نے اہل تنس کو معاف کردیا ۔

    پھر ان کے امیر کو بلایا اور اسے ڈانٹتے ہوئے کہنے لگا : اے گھٹیا انسان ، تو نے وہ کام کیا ہے جس کے کرنے کی جرات آج تک کسی انسان کو نہیں ہوئی ، مجھے تیری ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں جو تو نے میرے بارے میں پھیلارکھی ہیں کہ میں قزاق ہوں ، سمندروں میں ڈاکہ زنی کے علاوہ اور مجھے کوئی کام نہیں ۔ لیکن اے ملعون تو نے اپنے آپ کو ہسپانیہ کے بادشاہ کا غلام بنا رکھا ہے ۔کیا تو نہیں جانتا کہ تیرے بادشاہ نے اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل کیا ۔ ہم قزاق نہیں بلکہ مجاہد ہیں اور اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں ۔ واللہ الحمد

    پھر جلاد کو حکم دیا کہ اس خائن کی گردن مار دی جائے ، پھر اس کے بعد رؤساء عرب کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا اور انھیں کہا کہ تمہیں چاہئے تھا کہ جب یہ تمہارے پاس آیا اس ملعون کی مشکیں کس کر میرے پاس بھیج دیتے ۔

    اور مجھے دیکھنے کے بعد تم نے جو کچھ کیا اس سے تمہاری ذمہ داری معاف نہیں ہو جاتی ، کیا تم نے بطور سلطان میری بیعت نہیں کی تھی ؟ کیوں تم نے اپنی قسموں کو توڑا، پھر ان کی بھی گردنیں مارنے کاحکم دے دیا۔

    جب اہل تنس نے دیکھا کہ معاملہ حد درجہ سنگین ہے تو ان سب نے عروج رئیس کی دوستی اور امارت کا حلف اٹھایا اور وعدہ کیا کہ وہ اس کے علاوہ کسی سلطان پر راضی نہ ہوں گے ۔

    میرا بھائی عروج جانتا تھا کہ تلمسان ہی تمام فتنوں کا مرکز ہے ۔ یہ بہت بڑا شہر تھا جو الجزائر کے مغرب کی آخری حدود میں " فاس" کی سرحد کے قریب واقع ہے ، اس کے اوپر عرصہ دراز سے ایک خاندان کی حکومت تھی[1] ۔

    عروج رئیس کی شہادت

    سلطان تلمسان انتہائی حقیر وعاجز ہسپانیہ کے کفار کا تابع بادشاہ تھا، جبکہ وہاں کے باسیوں کو ہسپانویوں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے سلطان کے ظلم وستم کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ عرصہ دراز سے اہل تلمسان "الجزائر " میرے بھائی کے پاس اپنی فریادیں لے کر آتے کہ وہ ظالموں سے ان کا حق چھین کر دے جبکہ میرے بھائی کا ارادہ " تلمسان " پر قبضہ کرنے کا تھا ،لیکن وہ انتہائی دور فاس کی حدود پر واقع تھا ، اسی طرح وہ کوئی ساحلی شہر بھی نہ تھا کہ جہاں تک کشتیوں کے ذریعے پہنچا جا سکے ۔اس کے ساتھ ساتھ وہاں کے سلطان کے پاس عربوں اور ہسپانویوں پر مشتمل ایک بڑی فوج تھی ، تلمسان الجزائر کا سب سے بڑاشہر تھا ، اور اس کی فتح انتہائی مشکل تھی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی طے تھی کہ جب تک تلمسان کو فتح نہ کرلیا جاتا الجزائر میں استحکام نہیں آسکتا تھا ۔

    اس دوران اہل تلمسان نے بغاوت کی جس کے نتیجے میں سلطان وہاں سے فرار ہوگیا ، اورانھوں نے میرے بھائی عروج کی جانب وفد بھیجا اور سلطان کے طور پر اس کی بیعت کی ، میرا بھائی بغیر کسی جنگ وجدل کے اسے اپنی سلطنت میں شامل ہونے پر بے حد خوش ہوا۔

    اہل تلمسان کی عروج کو سلطان بننے کی دعوت نے ہسپانیہ میں لرزہ طاری کر دیا ،افریقہ میں ہسپانیہ کا سب سے بڑاسالار" وہران " قلعہ میں مقیم تھا جوکہ مغربی الجزائر کی سب سے بڑی بندرگاہ تھی ۔ اسی طرح وہ ہسپانیہ کے بالمقابل واقع تھی ، اس کے ساتھ ساتھ وہاں ایک مضبوط قلعہ تھا جہاں ہزاروں سپاہی رہ سکتے تھے ۔ اس وقت تک تلمسان وہران میں موجود ہسپانوی سپاہیوں کے زیر تسلط تھا ، جب میرا بھائی تلمسان کا حاکم بن گیا تو اس نے وہران سے تمام تعلقات ختم کرنے کاحکم دیا۔

    دوسری جانب وہران میں ہسپانوی سالار کے پاس کافی تعداد میں سپاہ موجودتھی مگراس کے باوجود اس نے ہسپانیہ سےمزید کمک طلب کی ۔

    عروج نے فیصلہ کیا کہ یہ موسم سرما تلمسان میں گزارے گا اس کے ساتھ 4 ہزار سپاہی تھے ، مگر یہ بات بھی قابل قبول نہ تھی کہ الجزائر کا قلعہ جو ابھی کچھ عرصہ پہلے فتح ہوا تھا پورے موسم سرما میں سپاہیوں سے خالی چھوڑا جائے ، کیونکہ الجزائر شہر کو کھودینے کا مطلب ہے پورا الجزائر کھو دینا ۔

    چنانچہ اس نے تلمسان میں اپنے ہمراہ محض ایک ہزار سپاہ رکھی ، میرا بھائی چاہتاتھا کہ موسم بہار کی آمد پر تلمسان سے وہران کا رخ کرے اور جس وقت وہ اپنی فوج کے ساتھ تلمسان میں تھا میں الجزائر میں تھا ، اس نے میری جانب 15 حملا چاندی کے سکے اور 3 ہزار سپاہی بھیجے ۔

    تلمسان میں عروج کو محض ہسپانوی خطرے کا ہی سامنا نہ تھا بلکہ شہر سے مفرور سلطان کا خطرہ بھی درپیش تھا جس نے اپنے گرد بہت سے اوباش جمع کرلئے تھے جو اس کے پاس لوٹ مار اور نوچ کھسوٹ کیلئے جمع ہوئے تھے اور پھر وہ ایسے موقع کی تلاش میں رہنے لگے جب میرے بھائی کا خاتمہ کرسکیں ۔

    دوسری جانب سلطان تلمسان نے وہران میں موجود قابض کافر سالار کو خط لکھ کر اسے عروج کے خلاف مدد کرنے پر تحریض دلائی اور کہا:

    میں ترک قزاقوں کے ہاتھ لگ گیا ہوں اور اپنے اموال ان سے چھڑوانے کی قوت نہیں رکھتا ، کہاں ہے تمہارے بادشاہ کی عظمت اور شان وشوکت ، کیا کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ تم مٹھی بھر قزاقوں کے خوف سے اپنا سر بھی نہیں اٹھاسکو گے ۔

    وہران میں موجود ہسپانوی سالار نے سلطان تلمسان کی جانب 20 ہزار دینار بھیجے اور اسے آگاہ کیا کہ وہ ایک بڑا لشکر تیار کررہا ہے ۔

    یہ بات طے تھی کہ یہ سالار موسم بہار کی آمد پر وہران سے ایک بڑا لشکر (عرب اورہسپانوی سپاہ پر مشتمل ) لے کر عروج کے خلاف جنگ کیلئے نکلے گا ۔ جبکہ سلطان تلمسان نے بہلا پھسلا اور جھوٹے سچے خواب دکھا کر اپنے گرد 20 ہزار کے قریب بربر جمع کر لئے ، پھر وہران سے ہسپانوی سالار کی قیادت میں 10 ہزار افراد پر مشتمل ایک اور لشکر بھی ان سے آملا، یہ ہسپانوی کتا انتہا درجے کا مغرور اورشیخی خور تھا!!

    عروج نے کھلی فضاء میں اس لشکر کا مقابلہ کرنا مناسب نہیں سمجھا ، چنانچہ شہر کو خالی کرنے اور قلعہ بند ہونے کاحکم دے دیا، کفار تلمسان شہر میں داخل ہوئے اور ایسے مظالم ڈھائے جنہیں عقل تسلیم کرنے سے عاجز ہے ۔ پھر قلعہ کا محاصرہ کر لیا ۔ میں الجزائر شہر میں تھا مجھے اطلاع مل رہی تھی کہ تلمسان کی صورتحال برابر بگڑتی جارہی ہے ،چنانچہ میں نے 2 ہزار ترک سپاہی اور 2 ہزار عرب سوار اپنے بھائی اسحاق کی قیادت میں دئیے اور اسے تاکید کی کہ وہ جلد ازجلد عروج تک پہنچنے کی کوشش کرے تاکہ اس کی مدد کی جائے ، میرا بھائی اسحاق اس سپاہ کے ساتھ نکلا ، اس کے ساتھ اس کا وکیل اور معاون سکندر رئیس بھی تھا ۔

    جب عروج کو علم ہواکہ اسحاق ہسپانویوں کےخلاف جنگ کیلئے اس کی مدد کو نکل کھڑا ہوا ہے تو دونوں سپاہ کو یکجا کرنے کیلئے قلعہ سے نکلا ، تلمسان شہر سلطان کے ہاتھ میں جا چکا تھا ۔ عروج اور اسحاق رئیس کی سپاہ آپس میں مل گئی اور میرا بھائی تلمسان شہر کی واپسی کیلئے سوچنے لگا۔

    سلطان تلمسان اس خاندان کاآخری بادشاہ تھا جس نے کئی سو سال اس شہر پر حکومت کی ، بلکہ بسا اوقات کچھ عرصہ کیلئے ان کی حکومت پھیل کر پورے الجزائر پر محیط ہو گئی ۔ ان باتوں کے پیش نظر میرا بھائی عروج اس خاندان کو ان کی سلطنت اور تاج سے محروم نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ وہ محض یہ چاہتا تھا کہ کہ سلطان ہسپانویوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے سے باز آجائے اور ہماری عظیم سلطنت کا مطیع بن جائے ، پس اگر وہ دونوں شرائط قبول نہیں کرتا تو ہم اس کا وجود مٹانے کیلئے مجبور تھے ۔

    عروج 2 ہزار سپاہ کے ساتھ تلمسان لوٹا جہاں اس کا سامنا 10 ہزار افراد پر مشتمل ہسپانویوں اور عرب بدوؤں کے لشکر سے ہوا۔ دونوں کے درمیان شدید جنگ چھڑگئی جو ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہی ، تلواریں خون سے رنگین ہوگئیں اس خوں ریز معرکہ کے نتیجے میں زیادہ تر کفار مارے گئے اور محض 300 یا 400 باقی بچے جنہیں قید کرکے الجزائر لے جایا گیا۔

    شاہ ہسپانیہ کارلوس نے وہران میں موجود اپنے گورنر کے نام حکم بھیجا جس میں اسے کہا: اگر تم اپنا سر سلامت رکھنا چاہتے ہو تو عروج رئیس اور اس کے ساتھ موجود تمام ترکوں کا خاتمہ کرو ، عروج رئیس کو زندہ گرفتار کرکے میری جانب بھیجو ، میں قتل کے ایسے اذیتناک طریقوں سے واقف ہوں جو کہ صرف اسے ہی چکھانا چاہتا ہوں ۔

    اس حکم کی بنیاد پر وہران کا حاکم 30 سے 40 ہزار کے لشکر کے ہمراہ میرے بھائی کی جانب روانہ ہوا، ان دونوں کے درمیان 3 ماہ تک شدید جھڑپیں چلتی رہیں مگر میرے بھائی نے ہتھیار نہ ڈالے ۔ چنانچہ گورنر نے اپنے تمام سالاروں کو اکٹھا کیا اور کہا: ترک سخت ضدی قوم ہیں اور کبھی بھی ہتھیار ڈالنے پر راضی نہ ہوں گے اگرچہ یہ سب کے سب مارے جائیں ، ہم کب تلک قلعہ کی دیواروں تلے انتظار کرتے رہیں گے ، ہم ان کی جانب قاصد بھیج کر انھیں یہ پیشکش کرتے ہیں کہ وہ اپنا اسلحہ ہمراہ لے جائیں اور یہ قلعہ ہمارے لئے چھوڑ دیں ، یقینا جب ان کی رسد کے ذخائر ختم ہو جائیں گے تو وہ یہ پیشکش قبول کرلیں گے ۔جبکہ اگر ان کی رسد ختم نہیں ہوئی تو یہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے جب تلک ان کا ایک شخص بھی زندہ باقی ہے ۔

    اگلی صبح ہسپانوی قاصد عروج کے سامنے پیش کیا گیا ، اس سے ملاقات کے بعد میرے بھائی نے اپنے ہمراہ موجود سپاہ سے کہا: اے بیٹو! اس قاصد کی بات تم نے سن ہی لی ہے ، تمہاری کیا رائے ہے ؟

    سپاہیوں نے جواب میں کہا: یقینا زندگی موت سے زیادہ بہتر ہے ، ہم الجزائر نکل جاتے ہیں اور پھر دوبارہ اس قلعہ کو واپس لینے کیلئے لوٹیں گے ، یہ ہماری رائے ہے لیکن فیصلے کا اختیار تیرے پاس ہے تم ہم سے زیادہ معاملہ فہم ہو۔

    عروج قلعہ کفار کے حوالے کرنے پر راضی ہو گیا ، کفار کو اس سے بے حد خوشی ہوئی ، کیونکہ ان کا مقصد مذاکرات میں طے شدہ باتوں پر عمل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ عروج اور اس کے ہمراہ موجود ساتھیوں کا قلعہ سے نکلنے پر خاتمہ کرنا چاہتے تھے ۔ ان کے دل میں ذرہ بھر بھی ایفائے عہد کی نیت نہ تھی ، اگر شاہ کارلوس کو علم ہو جاتا کہ انھوں نے ترکوں کو زندہ نکل جانے دیا ہے تو وہ گورنر وہران کا سر قلم کرنے کا حکم صادر کرتا۔

    عروج اپنے ساتھ موجود سپاہ کے ساتھ قلعہ سے نکلا، جن میں سے اکثریت یا تو زخمی تھی یا بھوک کی شدت اور طویل عرصہ کی مسلسل بیداری کی وجہ سے شدید تھکاوٹ کا شکار تھی ، ان کے موجود اسلحہ اور ذخیرہ ختم ہو چکا تھا ۔ ابھی انھوں نے تھوڑا ہی راستہ طے کیا تھا کہ ہسپانوی فوج ٓکا ایک دستہ جو کہ 15 سے 20 ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا سے ان کا سامنا ہو ا، اس لشکرکے سالار نے انھیں کہا : اپنا اسلحہ ہمارے حوالے کر دو ،کیاتمہارے لئے اتنا ہی کافی نہیں کہ تمہیں زندہ سلامت واپس جانے دیا جارہاہے ؟

    عروج نے جواب دیا: اسلحہ تمہارے حوالے کرنے سے موت زیادہ افضل ہے ، ہم موت سے نہیں ڈرتے ، انسان ایک بار ہی مرتاہے لیکن اس کا نام ہمیشہ باقی رہ جاتا ہے ۔ اس طرح سے یہ معرکہ شروع ہوا ، ترک سپاہیوں نے کفار کے خلاف اپنا دفاع شروع کیا ، میرا بھائی اپنے سامنے آنے والے ہر کافر کوکاٹ رہا تھا ، لیکن ہر حملے میں بہت سے شہداء گرتے ، ترکوں کی تعداد 300 یا 400 افراد سے زائد نہ تھی ، میرا بھائی اور اس کے ساتھ موجود سپاہی دریا تک پہنچے اور دریا عبور کرنے کا ارادہ کیا ، نصف ترکوں نے دریا عبور کر لیا مگر ہسپانوی انھیں آلینے میں کامیاب ہو گئے ۔میرا بھائی اپنے ساتھیوں کی پکار کو برداشت نہ کر سکا جو اسے مدد کیلئے بلا رہے تھے ، وہ ان سے ایک والد کی اولاد کی طرح محبت کرتا تھا چنانچہ اس کیلئے واپسی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔

    حزم کاتقاضہ یہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ موجود سپاہیوں کے ہمراہ جان بچا کر الجزائر کارخ کرتا اور پھر اپنی قوتوں کو مجتمع کرکے اپنے بھائیوں کا انتقام لینے کیلئے دوبارہ واپس آتا ۔ لیکن ترک جہازراں عروج رئیس کو بابا کے نام سے پکارتے تھے ، اور کیا کسی باپ کیلئے ممکن ہے کہ وہ اپنی اولاد کو تلوار کی دھار پر چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرے ۔

    عروج واپس پل کی جانب پلٹا اور دشمن کی صفوں میں گھس گیا ، ہر سامنے آنے والے دشمن کو نوک شمشیر پر رکھا ، مگر جہازرانوں کے اندر لڑنے کی قوت باقی نہ رہی ، بلکہ انھیں اتنی شدید تھکاوٹ پہنچ چکی تھی کہ ان میں سے کئی ایک تلوار اٹھانے کی قوت بھی نہیں رکھتے تھے ، یہ شدید گرم دن تھا ، پیاس کی شدت سے ہونٹ پھٹ چکے تھے ۔

    میرے بھائی نے شہید ہونے سے قبل تقریبا 100 ہسپانویوں کو قتل کیا ، شہادت کے بعد انھوں نے اس کا مبارک سر کاٹ کر شاہ کارلوس کو بھیجا ، جبکہ میرا بڑا بھائی اسحاق اس سے کچھ ماہ قبل "القلاع" قلعہ میں شہید ہو چکاتھا۔

    ہم چار بھائی تھے ، ان میں سے 3 اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ، اللہ رب العزت کی ذات کتنی حکمت والی ہے میں وہ تنہا بچا تھا جس کے مقدر میں شہادت نہیں تھی ، جس کا مطلب یہ کہ میرے 3 بھائی اللہ کے نزدیک مجھ سے زیادہ افضل ہیں ، اللہ رب العزت ان تمام کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔

    جب میرے بھائی کی شہادت کی خبر الجزائر پہنچی تو میں نے فیصلہ کیا کہ صرف ایک ہی مقصد کیلئے زندگی گزاروں گا اور وہ ہے اسی راہ پر گامزن رہنا جس پر میرا بھائی چلتارہا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے افریقہ اور بحر متوسط میں کفار کا جینا حرام کرناہے ، میرے بھائی کی شہادت کے بعد زندگی کی کیاقیمت؟

    یہ کمزوری اور اظہار غم کا موقع نہ تھا ، بلکہ ہمارے پاس تو رونے کا بھی وقت نہ تھا ، ہم افریقہ میں محض چند مٹھی بھر ترک تھے ، پلک جھپکنے کی غفلت میں ہمارا خاتمہ ہو سکتا تھا ، میں نے بہت سی احتیاطی تدابیر اختیار کیں ،لیکن دشمن کو الجزائر کی جانب پیشقدمی کرنے کی ہمت نہ ہو سکی ۔

    یہ موسم سرما میں نے پوری تیاری حالت میں گزارا ، میں اپنے آپ کو فرصت کا ایک لمحہ بھی نہ دیتا تاکہ اپنے بھائی کے بارے میں سوچنے کا موقع نہ مل سکے ۔ جبکہ رات کے وقت وہ خواب میں دکھائی دیتا ، میں بیدار ہوجاتا ،اور میرادل غم سے بھر جاتا، میں اپنے آپ کو کام میں مصروف کر لیتا تاکہ اپنی توجہ کو ہٹا سکوں ۔اس دوران میں نے اپنی تمام کشتیوں ،توپوں ، اورسامان کی مرمت کی ، ان میں بہتری پیدا کی ۔

    ہسپانوی کہتے تھے : عیسی ٰ کا شکر ہے کہ ہم ایک بڑی آزمائش سے راحت پا گئے ، اب ہمیں چاہئے کہ جلد ازجلد اس چھوٹی مصیبت سے چھٹکارہ پالیں ، اس سے پہلے کہ یہ سانپ اژدھے میں بدل جائے ۔

    میرے پاس شاہ ہسپانیہ کا قاصد آیا اور کہنے لگا: تیرا بھائی مرچکا اور اس کے اکثر سپاہی مارے جاچکے ، تیرا ایک بازو کٹ گیا، تو کس گھمنڈ میں ہے کہ اپنے بھائی کے بغیر سب سے طاقتور مسیحی بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوسکے ؟ تو کیا کر سکتاہے ؟ اپنی کشتیاں اور آدمی سنبھالو اور فی الفور الجزائر سے نکل جاؤ، اور خبردار کبھی تمہارے قدم دوبارہ افریقا کی سرزمین پر لگیں ، یہ آخری تنبیہ ہے جو میں تمہیں کررہا ہوں ، عنقریب میں سمندر کو کشتیوں سے بھر دوں گا اور جلد الجزائر لوٹوں گا ، پس اگرمیں نے تمہیں یہاں پا لیا تو جان لو کہ تمہارا انجام بہت حسرتناک ہو گا۔

    میں الجزائر کا سلطان ، اور کے ساتھ الجزائر کے بیلر بائی کے منصب کے طور پر آل عثمان کا ایک خادم ، مگر مجھے یورپ میں الجزائر کے بادشاہ کے نام سے جانا جاتا تھا، جب ہسپانیہ کے بادشاہ نے مجھے اس قدر حقارت بھرے لہجے میں مخاطب کیا تو اسے اس کی حد میں رکھنا لازم ہو چکا تھا، اس لئے میں نے اس کی جانب انتہائی سخت لہجے میں خط بھیجا۔

    جب اس تک میرا جواب پہنچا تو اس نے اپنے بحری بیڑے روانہ کئے ، جنہوں نے افق کو ڈھانپ لیا ، جس میں شاہان ناپولی ، صقلیہ جرمنی ، بلجیکا شریک تھے ، جو کہ کارلوس کے تابع تھے ، ان کے جہاز الجزائر کے گرد لنگرانداز ہوئے ، جہاں سے انھوں نے اپنی فوج خشکی پر اتاری ۔

    میں موسم سرما سے ہی اس کیلئے اچھی طرح تیاری کر رہا تھا، کیونکہ مجھے ان کے ردعمل کا اندازہ تھا ، چنانچہ جونہی انھوں نے اپنی سپاہ کو اتارا ،ہم نے انھیں تلوار کی کی دھار پر رکھا ، ان میں سے بہت سے مارے گئے ،جبکہ 20 ہزار میں سے 700 سے 800 کے درمیان کفار نے ہتھیار ڈال دئیے ، جبکہ باقیوں نے فرار ہو کر اپنی کشتیوں میں پناہ لی ۔ کارلوس کے بھیجے گئے بادشاہ اور سالار ہزیمت کی دم گھسیٹتے ہوئے الجزائر کی سرزمین میں ناک خاک آلود کر کے واپس لوٹے ، اس معرکہ کے نتیجے میں افریقہ میں ترکوں کی شان وشوکت میں اضافہ ہوا ، اور یورپ کے کونے کونے تک ہمارا چرچا پھیل گیا۔

    الجزائر میں 13 ہزار قیدی تھے جن میں سے 24 بڑے کپتان تھے جو فرنگیوں کے ہاں ایڈمرل کے نام سے جانے جاتے تھے ، ان کو کنٹرول میں رکھنا انتہائی مشکل کام تھا ،ایک مرتبہ انھوں نے اپنی بیڑیاں توڑیں اور فرار کی کوشش کی اور ہم ایک بڑی جنگ کے بعد ہی ان پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے جس کے نتیجے میں ان میں سے 300 افراد مارے گئے۔

    میں نے سکے ڈھالنے اور سلطان سلیم خان کے نام کا خطبہ پڑھنے کا حکم دیا ،میرا مقصد یہ تھا کہ سلطان سلیم خان کے نام کے علاوہ کسی اور سلطان کے نام کے سکے نہ ڈھالے جاسکیں اور نہ ہی ان کےعلاوہ کسی اور کے نام کا خطبہ پڑھایا جائے۔

    اس دوران مراکش کا حکمران افریقا میں عرب حکمرانوں میں سب سے بڑا سمجھا جاتا تھا ، میرا یہ خیال تھا کہ جب تک مراکش کے حکمران کو تابع نہیں کیا جاتا تب تلک افریقا پر ترکوں کا اقتدار مضبوط کرنا مشکل ہے ، اور ایک دن میں نے امراء عرب کو اپنے پاس الجزائر میں طلب کیا اور انھیں مخاطب کر کے کہا:

    سلطان معظم سلیم خان اب خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، چنانچہ تمہارے لئے کس طرح یہ لائق ہے کہ تم خلیفۃ المسلمین اور سلطان عالم کو چھوڑ کر مراکش کے سلطان کا سکہ چلاؤ اور اس کے نام کا خطبہ پڑھو…؟!

    یقینا تمہارا اور تمہارے علاقوں کا مستقبل سلطان معظم کےنام کا سکہ جاری کرنے کے ساتھ وابستہ ہے اور اگر تم نے مخالفت کی یا نافرمانی کی تو تمہارے لئے ہلاکت ہو …

    میں نے حاجی حسین آغا جو میرے آدمیوں میں سے معتمد ترین شخص تھا اس کی قیادت میں ایک وفد سلطان سلیم خان کی جانب روانہ کیا ، 21 دن کے سمندری سفر کے بعد حسین آغا دنیا کے قیمتی ہیرے اتنبول شہر پہنچے ، سلطان نے ساحلی محل میں ان کا استقبال کیا ، حسین آغا نے سلطان کی خدمت میں میرے بھیجے گئے متواضع تحائف پیش کئے ، ان تحائف کو 20 افرنگی غلام اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے ، سلطان نے ان تحائف کو قبول کر کے ہمیں عزت بخشی اور اپنی خصوصی مہربانی و عزت افزائی کے ساتھ ان کیلئے اظہار پسندیدگی کیا،

    سلطان نے آغا کوخلعت سلطانی پہنائی اور میرے کپتانوں کے اکرام اور شاہی مہمان خانے میں کو ٹھہرانے کا حکم دیا ، آغانے سلطان سے ملاقات کے بعد بقیہ مملکت کے ارکان سے ملاقات کی اور ان کی جانب ہمارے بھیجے گئے عاجزانہ تحائف پیش کئے۔

    آغا دنیا کے اس دارلحکومت استنبول میں 41 دن ٹھہرا ، میرے کپتانوں نے یہ دن کھانے پینے آرام و عیش میں گذارے ، اور جب ان کے سفر کی گھڑی آن پہنچی تو سلطان نے حکم دیا کہ الجزائری کشتیاں اس کے ساحلی محل کے قریب سے گذریں تاکہ وہ ان کا معائنہ کر سکے ، چنانچہ کشتیاں ان کے سامنے سے پریڈ کرتی ہوئی سلامی کے گولے داغتی ہوئی گذریں ۔ استنبول چھوڑنے سے قبل آغا سلطان سے الوداعی ملاقات کیلئے ملا ، جب وہ سلطان کے سامنے پیش ہوا تو اس کے سامنے زمین کو 7 بار بوسہ دیا ، اس ملاقات میں سلطان نےاسے شاہی فرمان عطاء کیا جو سلطان نے خود تحریر کیا تھا جس میں میری الجزائر کے بیلربائی کے طور پر تعییناتی کا حکم تھا ، پھر اسے ایک مرصع تلوار، طلائی خلعت اور پرچم امارت حوالے اور اسے کہا:

    سنو اے رئیس: یہ تلوار خیرالدین پاشا کے سپرد کرو تاکہ وہ اسے پوری عزت و شرف کے ساتھ باندھے ، یہ خلعت سلطانی زیب تن کرے اور میرا یہ پرچم ہمیشہ اس کے ساتھ ہو اس سے کبھی جدا نہ ہو ، میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں کہ اللہ رب العزت تمہاری نصرت فرمائے اور الجزائر میں موجود میں خادم مجاہدین کے چہرے روشن کرے ۔ آمین

    آغا حسین نے جب استنبول چھوڑا تو اس کی کشتیاں جنوب مورۃ میں واقعہ قورون بندرگاہ میں لنگرانداز ہوئیں ۔بندرگاہ میں وینس کے 8 جہاز اور بے شمار ترک کشتیاں کھڑی تھیں ،حسین آغا نے وینس کے جہاز کے ایڈمرل سے ملاقات کی اور اسے کہا:

    الجزائر سلطان سلیم کے تابع ہو چکا ہے اور ہمارے آقا خیرالدین پاشا الجزائر کے بیلر بائی ہیں ، اسی طرح ہمار بیڑہ عثمانی بحری بیڑے کا ایک حصہ ہے ، اس لئے اب ہم استنبول سے آنے والے احکامات کے مطابق چلیں گے اگر تو تم ہمارے سلطان کے حلیف ہو تو الجزائر کی کشتیوں سے تمہیں کوئی خوف نہیں ، جبکہ اگر تم سلطان کے دشمن ہو تو ہم یہ سمندر تمہارے لئے تنگ کر دیں گے ۔

    حسین آغا قورون سے 8 دن بعد الجزائر پہنچا ، اس طرح سے اس کا استنبول سے الجزائر کا سفر 16 دنوں پر مشمل تھا۔

    میں نے فی الفورحسین آغا اور اس کے ساتھ استنبول سے لوٹنے والے کپتانوں کو بلایا جب وہ میرے سامنے پیش ہوئے تو میں نے پورے عزت واحترام سے سلطان کے بھیجے گئے تحائف وصول کئے ، ان کا بوسہ لیا ، اور انھیں اپنے سر پر رکھا ۔ تلوار باندھی ، خلعت سلطانی زیب تن کی ، پرچم امارت اپنے قریب ایک بلند جگہ پر نصب کیا ، مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا میں مسرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوں ، آج کے بعد ہسپانوی مجھے کسی پریشانی میں مبتلا نہیں کر سکیں گے ، کیونکہ سلطان معظم سلیم خان میری پشت پر ہیں ، اور میں ان سے جو طلب کروں گا وہ اپنے کرم وعنایت سے میرے مطالبے کو پورا کرنے میں بالکل بھی متردد نہیں ہوں گے ۔

    اس رات میں نے ایک بڑی محفل کا انعقاد کیا ، حسین آغا کو اس کی حسن سفارت اور اس کے ذمہ سپرد کی گئی مہم کی بطریق احسن ادائیگی پر بطور انعام الجزائر میں ایک بڑے منصب پر متعین کیا ۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں تھا ہمارے سب سے بڑے دشمن ہسپانوی کافر ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ دوسری کافر اقوام مثلا جنیوا سے بھی ہم حالت جنگ میں تھے ، مگر جب سے ہم الجزائر میں ٹھہرے تھے ہم الجزائر ، تیونس ومراکش کے مقامی امراء اور ان جیسے افراد کے ساتھ مشغول ہونے پر مجبور تھے ۔

    مراکش پر ایک قدیم شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والا سلطان حاکم تھا، مگر آخری ایام میں اندرونی جنگوں کے سبب وہ اپنی قوت واستحکام کھو بیٹھا تھا اور شمالی افریقہ میں مراکش کی مملکت کے علاوہ اور کوئی مملکت باقی نہ بچی تھی ، جبکہ تیونس اور تلمسان جہاں الحفصیوں اور بنو عبدالوادی حاکم تھے ان کی بالکل کوئی اہمیت باقی نہ رہی تھی۔

    تیونس اور تلمسان کے امراء نے ہسپانیہ کے کفار کے ساتھ ہمارے خلاف اتحاد قائم کرنا اور خفیہ واعلانیہ ہمارے خلاف سازشوں کاسلسلہ شروع کر دیا ، وہ جانتے تھے کہ ہم پہلی میسر فرصت میں ان سے چھٹکارہ پائیں گے ، کیوں ؟

    میں اس کی وضاحت کرتا ہوں :

    جب ہم بحرمتوسط کے مشرق سے مغرب میں آئے اور تیونس کے حفصی سلطان کے ساتھ معاہدہ کے مطابق وہاں رہنے لگے ، ہماری مہربانی سے اہل تیونس مالدار ہو گئے ، تیونسی شہر بربادی کے بعد پھلنے پھولنے لگے ، اور ہماری مہربانی سے سلطان تیونس ہسپانویوں اور اہل جنیوا کے شر سے محفوظ ہو گیا، خزانہ ہمارے دئیے گئے خراج کی وجہ سے مال ودولت سے بھرنے لگا ، ہم اس پر بہت خوش تھے ، اللہ گواہ ہے ہمارے لئے اس کے مال ومملکت میں کوئی طمع نہ تھی ، وگرنہ اگر ہم ایسا کرنا چاہتے تو ہمیں ایسے بہت سے مواقع میسر آئے جس میں ہم اس کا خاتمہ کرسکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہ کیا۔

    ان حالات میں ہم نے الجزائر فتح کیا، اور ہمارے قبضے میں تیونس سے بڑی مملکت آگئی اور ہم نصرانی مملکت کے خلاف جنگ کے ایک ایسے دور میں داخل ہو گئے جس میں سستی وکوتاہی کی کوئی گنجائش نہ تھی ،اسلام کے ناطے سے سلطان تیونس پر لازم تھا کہ وہ اس جنگ میں ہماری مدد کرتا لیکن وہ عثمانیوں کی حمایت میں داخل ہونے اور سلطان سلیم خان سے اعلان وفاداری کرنے سے پہلے ہی ہم سے خوفزدہ تھا۔

    ہم جانتے تھے کہ آل عثمان ایک عالمی مملکت کا حاکم خاندان ہے اور سلطان سلیم خان نے چند سالوں میں وہ ملک فتح کئے جو تیونس سے رقبہ میں 100 گنا بڑے تھے ، سلطان تیونس کا گمان تھا کہ ہمارے سلطان معظم سلیم خان اس کی حقیرسلطنت میں طمع رکھتے ہیں اور وہ اس بات سے ناواقف تھا کہ ہمارے سلطان کے بیلر بای تیونس سے زیادہ سرسبزوشاداب علاقوں کے مالک ہیں اور ان کی عسکری فوج اس کی افواج سے کہیں بڑی ہیں اور میں سلطان سلیم خان کا بیلر بای جو ہسپانیہ کے بادشاہ پر غالب رہا جو نصف یورپ پر حکومت کرتاتھا ۔ اس طرح سے ہمارے اور سلطان تیونس کے درمیان دوری بڑھتی گئی ۔

    یہ سلطان تنہا میرا مقابلہ کرنے کی قوت نہیں رکھتا تھا ، اس لئے کبھی ہسپانویوں سے میرے خلاف مدد طلب کرتا اور کبھی مقامی امراء کو میرے خلاف بھڑکاتا ، اس کی تحریک پر لبیک کہنے والوں میں سرفہرست تلمسان کا معزول سلطان تھا جسے ہم نے بنوزیان کےعرش سے محروم کیا تھا ۔ یہ سلطان میرے ماتحت تھا مگر اس کے باوجود وہ ہسپانویوں کے ساتھ رابطہ کرنے اور ان کے ساتھ خفیہ اتحاد قائم کرنے میں متردد نہ ہوا۔ میرے ہاتھ میں سلطان تیونس کا سلطان تلمسان کی جانب بھیجا گیا خط لگا ، اس خط کا خلاصہ یہ تھا:

    یہ خیرالدین نامی شخص انتہائی طاقتور ہے بلکہ اپنے بھائی عروج سے بھی بڑی آزمائش ہے اور اب اسے سلطان سلیم خان کا بھی سہارا مل چکا ہے ، چنانچہ اس کے غرور کی کوئی حد نہ رہی ، اس کے ذہن میں عالمی مملکت کے قیام کے افکار پرورش پارہے ہیں ، جس میں ہسپانیہ بھی شامل ہو ۔ سلطان سلیم خان اسے اپنی مملکت کا حقیقی خیرخواہ سمجھتے ہیں چنانچہ انھوں نے اسے بیلر بای اور پاشا کا منصب عطاکیا ، مرصع تلوار خلعت سلطانی اور سلطانی سنجق اس کی جانب بھیجا اور اسے اس بات کی اجازت دی کہ اناضول سے جتنے افراد، اسلحہ اور عسکری سازوسامان کی ضرورت ہو طلب کر سکتا ہے ۔ ہمارے لئےسب سے مناسب یہ ہے کہ ہم اکٹھے ہو جائیں اور افریقہ میں کسی بھی ترک کو نہ چھوڑیں ۔یہ شمالی افریقہ میں داخل ہونے کے 10 سال بعد ہم پر آقا بن بیٹھے ہیں۔


    [1] اس سے مراد خاندان بنو زیان ہے جس کی بنیاد یغمراسن نے رکھی اور ان کی حکومت لگ بھگ 300 تک جاری رہی اور بالآخربیلربای صالح رئیس نے 1555 میں ان کا خاتمہ کر دیا ، جبکہ یہ فساد وشر کی انتہاء کو پہنچ چکے تھے ، مملکت ہسپانویوں کے ہاتھ میں کھلونا بن چکی تھی اور اس کی سیاست اپنی مرضی کے مطابق چلاتے تھے ۔
     

اس صفحے کی تشہیر