گلزار خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

مقدس

لائبریرین
نہیں سمجھیں گے صرف ڈاکٹر ۔۔۔ ۔کہیں گے بھی ڈاکٹر ۔۔۔ ۔۔
اور آپ نے ٹیکے شیکے نہیں لگانے ہسپتال کو سرورق پر ہمہ وقت موجود رکھنا ہے اس کو ٹیگ کر اُس کو ٹیگ کر ٹھیک ہے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
یہ والی نرسنگ تو محسن بھیا اچھی کرتے ہیں۔۔ سچی میں
ہی ہی ہی ہی ہی ہی
مجھے تو ٹیکے لگانا اچھا لگتا ہے :rollingonthefloor:
 
یہ والی نرسنگ تو محسن بھیا اچھی کرتے ہیں۔۔ سچی میں
ہی ہی ہی ہی ہی ہی
مجھے تو ٹیکے لگانا اچھا لگتا ہے :rollingonthefloor:
ایسی سرینج سے نا:rolleyes:

young-woman-doctor-with-big-syringe-in-hands-1db9a4.jpg
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
ہمیں ایک عدد نرس کی ضرورت جو ہر وقت ہسپتال کو سرورق پر رکھے ۔۔۔ ۔۔۔
اور ڈاکٹر ناراض ہو گئی اُسے منائیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ اُسے ڈاکٹرڈاکٹرکہنا ہے لیکن ڈیوٹی اُس کی نرسوالی ہی رکھنی۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ یہ بات اُسے نہ پتے چلے۔۔۔
:(:unsure:
میں کوئی نہیں مان رہی بھیا :nottalking:
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
سچ کہا شاعر نے خوشبو جیسے لوگ اب یا تو افسانوں میں ملتے ہیں یا پھر اردو محفل میں۔
اور اب تو یہ حال ہے کہ لوگ پرانے کیا نئے خط بھی جان بوجھ کر کھول لیتے ہیں۔
 

عمراعظم

محفلین
اس خط کے بارے میں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔ یوں بھی آج کل انٹر نیٹ کی وجہ سے خط لکھنے کا رواج بہت کم ہو گیا ہے۔البتہ گزرے وقتوں میں مندرجہ ذیل حادثات رونما ہو جاتے تھے۔

اک یار روز لکھتے تھے اک مہ جبیں کو خط
لکھتے تھے شب کے پردہ میں پردہ نشیں کو خط

پہنچے وہیں تھا چاہے لکھیں کہیں کو خط
دیتا تھا روز ڈاکیہ ’اس نازنیں کو خط

آخر نتیجہ یہ ہوا اتنی بڑھی یہ بات
ًمعشوق ’ان کا بھاگ گیا ڈاکیے کے ساتھ۔

محسن وقار علی
 

محمداحمد

لائبریرین
خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں​
ایک پرانا خط کھولا انجانے میں​

واہ۔۔۔۔! بہت ہی خوب انتخاب ہے۔​
 
Top