خود کی پہچان

تفسیر

محفلین

خود کی پہچان

بعض دفعہ ایسا لگتا ہے کے زندگی میں گناہگاروں کی طرح ہمارے ہاتھ ایک اجنبی سے بند ھے ہیں۔ وہ اجنبی کون ہے؟
ہم!
یہ کون ہے جو ہروقت ہمارے ساتھ ہوتا ہے؟ اس کا رویہ کیوں اس طرح ہے؟
وہ کیوں غلط قدم اُٹھاتا ہے؟
وہ کیوں اتنی غلطیاں کرتا ہے؟
اس کی پسند یا ناپسند کیوں ناسمجھدارنا ہیں؟
اس کا مزاج کیوں لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتا ہے ؟
ان کا جواب آسان نہیں۔ خود کو سمجھنا کتنا مشکل ہے!
کبھی کبھی ہم اپنے آپ کو آئینہ میں نظر آتے ہیں۔آئینہ میں ہمارا لباس اُتر جاتا ہے۔ اُس لحمہ ہم ننگے ہوتے ہیں!
اُس لحمہ نہ صرف ہم اپنےآپ کو پہچانتے ہیں بلکہ ہم دوسروں کے متعلق بھی تھوڑا سا جان لیتے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ کیا خود کی پہچان کے لئے ایک خصوص گردو نواح یا سماں ضروری ہے!
یقیناً۔۔۔ میرے لئے یہ لمحات ہمیشہ ساحل سمندر پر ہوئے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسروں کےلیے یہ وجدان پہاڑوں کےنزدیک یا ریگیستان میں ہو۔
ضروری یہ ہے کہ آپ ان جگہ پر موجود ہوں جہاں آپ کو سکون ملے!
میں نےمحسوس کیا ہے کہ جب آپ راضی اور خوش ہوں تو یہ لمحہ نہیں آتا۔
مگر جب آپ اداس یا غمگین ہوں تو وہ آپ اپنے آپ کو آئینہ میں برہنہ دیکھتے ہیں!
غم کا اجر !
شاید!

مجھ کو ایسا لگتا ہے!
 
Top