خود کو ڈھونڈتا پھر رہا ہوں۔۔۔۔۔

محمد بلال افتخار خان نے 'آپ کی نثری شاعری بحور سے آزاد' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 23, 2020

  1. محمد بلال افتخار خان

    محمد بلال افتخار خان محفلین

    مراسلے:
    46
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    دشت تنہائی میں

    مانند غزل پریشان

    ڈھونڈتا پھر رہاہوں

    خود اپنے آپ کو

    شب کی ظلمات

    وحشت نفس

    دل بے قرار

    اس پر میں

    چراغ اُٹھائے

    اُس کی لو سے بے خبر

    ڈھونڈتا پھر رہا ہوں

    خود اپنے آپ کو

    نفس کی سرکشی

    حوسِ آرزو

    بھُلا رہی ہے

    بھٹکا رہی ہے

    پھر بھی ڈھونڈتا پھر رہا ہوں

    خود اپنے آپ کو

    یا رب!

    یہ کیسی اختیار میں بے اختیاری ہے

    کیوں خیال میں اس قدر بے خیالی ہے

    روح کی منزل سے

    جو مجھے بھٹکا رہی ہے

    اور میں

    سامنے منزل پاتے ہوئے بھی

    ڈھونڈتا پھر رہا ہو

    خود اپنے آپ کو

    خود کو پائوں یہ کیونکر ممکن ہو

    تجھ کو پائوں تب ہی یہ ممکن ہو

    منزل خدی پر شاید

    اسی اک غلط فہمی میں

    خود اپنے آپ کو ابتک

    ڈھونڈتا پھر رہا ہوں

    سلگتا پھر رہا ہوں
     

اس صفحے کی تشہیر