خود کش حملہ، پیٹرول کی قیمتیں اور فیس بک

arifkarim

معطل
x9044_52178082.jpg.pagespeed.ic.K6M2BVnY5W.jpg


قیصرانی
ایچ اے خان
لئیق احمد
ناصر علی مرزا
نایاب
کاشفی
حسینی
انیس الرحمن
محمود احمد غزنوی
زرقا مفتی
صائمہ شاہ
عبدالقیوم چوہدری
عباس اعوان
محمداحمد
ابن رضا
 

arifkarim

معطل
بہت سچ لکھا ہے جو سچ کے ساتھ ساتھ بہت تلخ بھی ہے
یہاں مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ مبینہ توہین رسالت پر مبنی ایک فلم جو یوٹیوب کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اپلوڈ کی گئی کے جواب میں حکومت پاکستان نے یوٹیوب بلاک کردی اور شاید ابھی تک بلاک ہی ہے۔ جبکہ فیس بک اور موبائل فونز جو ہمارے نوجوانوں اور نونہالان کے مابین تمام تر اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے کو آج تک کسی حکومتی ادارے نے چھو کر نہی دیکھا۔ :)
میں ایک دن پاکستانی چائلڈ اسٹارز پر کچھ پڑھ رہا تھا کہ اچانک یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فیس بک پر 6،7 سال تک کے بچوں کے باقاعدہ پروفائلز موجود ہیں جہاں واہیات اقسام کی تصاویر، فلمیں بکثرت پوسٹ ہوتی رہتی ہیں۔ جبکہ یہی کام یہاں ناروے جیسے نام نہاد "فحش اور آزاد" معاشرے میں سختی سے بین ہے۔ اسکول میں اگر کہیں کوئی پرائمری کا بچہ فیس بک استعمال کرتے پکڑا جائے تو والدین کی کھچائی کی جاتی ہے۔ اور کلاس رومز اور پبلک اسکولزمیں موبائل فون لیکر آنا سختی سے منع ہے۔ اساتذہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سے فون چھین کر لیجاتے ہیں اور چھٹی کے وقت واپس کرتے ہیں۔
 

عباس اعوان

محفلین
ویسے ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی ؟؟؟ کوئی ن لیگی شاید جواب دے پائے۔
حکومت جو ایسے انتہائی مضحکہ خیز بیانات دیتی ہے، جیسا کہ ڈیم بننے اور قیمتوں میں کم، کمی میں رکاوٹ دھرنے والے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ لوگ بھرپور سنجیدگی کے ساتھ بیانات دیتے ہیں کہ لوگ اس پر یقین کر لیں ؟؟ کیا ان لوگوں نے ہمیں اتنا ہی ×××× سمجھا ہوا ہے ؟؟؟ یا یہ لوگ جان بوجھ کر ایسے انتہا ئی مضحکہ خیز بیانات دیتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لو۔
 

عباس اعوان

محفلین
یہاں مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ مبینہ توہین رسالت پر مبنی ایک فلم جو یوٹیوب کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اپلوڈ کی گئی کے جواب میں حکومت پاکستان نے یوٹیوب بلاک کردی اور شاید ابھی تک بلاک ہی ہے۔ جبکہ فیس بک اور موبائل فونز جو ہمارے نوجوانوں اور نونہالان کے مابین تمام تر اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے کو آج تک کسی حکومتی ادارے نے چھو کر نہی دیکھا۔ :)
میں ایک دن پاکستانی چائلڈ اسٹارز پر کچھ پڑھ رہا تھا کہ اچانک یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فیس بک پر 6،7 سال تک کے بچوں کے باقاعدہ پروفائلز موجود ہیں جہاں واہیات اقسام کی تصاویر، فلمیں بکثرت پوسٹ ہوتی رہتی ہیں۔ جبکہ یہی کام یہاں ناروے جیسے نام نہاد "فحش اور آزاد" معاشرے میں سختی سے بین ہے۔ اسکول میں اگر کہیں کوئی پرائمری کا بچہ فیس بک استعمال کرتے پکڑا جائے تو والدین کی کھچائی کی جاتی ہے۔ اور کلاس رومز اور پبلک اسکولزمیں موبائل فون لیکر آنا سختی سے منع ہے۔ اساتذہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سے فون چھین کر لیجاتے ہیں اور چھٹی کے وقت واپس کرتے ہیں۔
یقین کریں مجھے تو ارضِ پاکستان میں تھری جی اور فور جی کے اجراء نے مزید پریشان کر دیا ہے۔ اگر آپ کے کوئی جاننے والے چھوٹے/ٹین ایجر ہیں جو پرائیویٹ کالجز میں پڑھتے ہیں اور آپ سے کچھ بے تکلفی رکھتے تو شاید آپ جان پائیں کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ سب ہی خراب ہے، لیکن حالات تسلی بخش نظر نہیں آ رہے۔ پہلے تو صرف فون تھا، اب تو سمارٹ فون کے ساتھ ساتھ تھری جی، فور جی نے نیا اندیشہ کھڑا کر دیا ہے۔
 

زیک

مسافر
یقین کریں مجھے تو ارضِ پاکستان میں تھری جی اور فور جی کے اجراء نے مزید پریشان کر دیا ہے۔ اگر آپ کے کوئی جاننے والے چھوٹے/ٹین ایجر ہیں جو پرائیویٹ کالجز میں پڑھتے ہیں اور آپ سے کچھ بے تکلفی رکھتے تو شاید آپ جان پائیں کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ سب ہی خراب ہے، لیکن حالات تسلی بخش نظر نہیں آ رہے۔ پہلے تو صرف فون تھا، اب تو سمارٹ فون کے ساتھ ساتھ تھری جی، فور جی نے نیا اندیشہ کھڑا کر دیا ہے۔
پاکستان میں فوری طور پر انٹرنیٹ پر پابندی لگا دینی چاہئیے
 

عباس اعوان

محفلین
پاکستان میں فوری طور پر انٹرنیٹ پر پابندی لگا دینی چاہئیے
فوری نہیں ہنگامی بنیادوں پر۔۔۔
بس تھوڑی ریگو لیشن کریں والدین۔ والدین کا اتنا فرض تو بنتا ہی ہے۔
http://www.ibtimes.com/president-obama-does-not-let-his-daughters-use-facebook-383512
ذیل میں ایک اور مثال ملاحظہ کریں۔
یہاں مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ مبینہ توہین رسالت پر مبنی ایک فلم جو یوٹیوب کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اپلوڈ کی گئی کے جواب میں حکومت پاکستان نے یوٹیوب بلاک کردی اور شاید ابھی تک بلاک ہی ہے۔ جبکہ فیس بک اور موبائل فونز جو ہمارے نوجوانوں اور نونہالان کے مابین تمام تر اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے کو آج تک کسی حکومتی ادارے نے چھو کر نہی دیکھا۔ :)
میں ایک دن پاکستانی چائلڈ اسٹارز پر کچھ پڑھ رہا تھا کہ اچانک یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فیس بک پر 6،7 سال تک کے بچوں کے باقاعدہ پروفائلز موجود ہیں جہاں واہیات اقسام کی تصاویر، فلمیں بکثرت پوسٹ ہوتی رہتی ہیں۔ جبکہ یہی کام یہاں ناروے جیسے نام نہاد "فحش اور آزاد" معاشرے میں سختی سے بین ہے۔ اسکول میں اگر کہیں کوئی پرائمری کا بچہ فیس بک استعمال کرتے پکڑا جائے تو والدین کی کھچائی کی جاتی ہے۔ اور کلاس رومز اور پبلک اسکولزمیں موبائل فون لیکر آنا سختی سے منع ہے۔ اساتذہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سے فون چھین کر لیجاتے ہیں اور چھٹی کے وقت واپس کرتے ہیں۔
 

حسینی

محفلین
سختی کر کے آپ کسی کو مسلمان تو نہیں بنا سکتے البتہ منافق ضرور بنا دیتے ہیں :)
یقینا ایسے مواقع پر حکومت وقت کی بھی کچھ نہ کچھ ذمہ داری بنتی ہے۔۔۔ کہ وہ ان جرائم اور برائیوں کے سد باب کے لیے کچھ کرے۔۔۔ لوگوں کو سستی اور جائز ومفید تفریح کے مواقع فراہم کرے۔۔ تاکہ لوگ فضولیات اورواہیات کی طرف نہ جائیں۔
جب تک آپ نعم البدل نہیں دیتے۔۔۔ پانی کو جب تک راستہ بنا کر نہیں دیں گے وہ اپنا کوئی اور راستہ ضرور بنائے گا۔
یقینا سختی اصل علاج نہیں ہے۔۔۔ ابھی یوٹیوب کو بند کرنے کی بات کریں۔۔۔ لوگوں کے پاس ایسے ایسے طریقے ہیں کہ وہ منٹوں میں ہر سائٹ کھول لیتے ہیں۔۔۔ جب تک اخلاقی تربیت نہیں ہوتی۔۔ اور ان کو یہ یقین نہیں دلایا جاتا کہ یہ چیزیں مضر ہیں۔۔ اور ذاتا وہ لوگ خود سے قائل نہ ہوں۔۔۔ ساری سختیاں بے کار ہیں۔۔۔
انٹرنیٹ ، ٹی وی اور چھری کی مانند اک آلہ اور وسیلہ ہے۔۔ چھری کےذریعے آپ حلا ل کام بھی کرسکتے ہیں۔۔ یا داعش کی طرح زندہ انسانوں کو بے دردی سے ذبح کرسکتے ہیں۔۔۔اب استعمال آپ کے ہاتھ میں ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
یقینا ایسے مواقع پر حکومت وقت کی بھی کچھ نہ کچھ ذمہ داری بنتی ہے۔۔۔ کہ وہ ان جرائم اور برائیوں کے سد باب کے لیے کچھ کرے۔۔۔ لوگوں کو سستی اور جائز ومفید تفریح کے مواقع فراہم کرے۔۔ تاکہ لوگ فضولیات اورواہیات کی طرف نہ جائیں۔
جب تک آپ نعم البدل نہیں دیتے۔۔۔ پانی کو جب تک راستہ بنا کر نہیں دیں گے وہ اپنا کوئی اور راستہ ضرور بنائے گا۔
یقینا سختی اصل علاج نہیں ہے۔۔۔ ابھی یوٹیوب کو بند کرنے کی بات کریں۔۔۔ لوگوں کے پاس ایسے ایسے طریقے ہیں کہ وہ منٹوں میں ہر سائٹ کھول لیتے ہیں۔۔۔ جب تک اخلاقی تربیت نہیں ہوتی۔۔ اور ان کو یہ یقین نہیں دلایا جاتا کہ یہ چیزیں مضر ہیں۔۔ اور ذاتا وہ لوگ خود سے قائل نہ ہوں۔۔۔ ساری سختیاں بے کار ہیں۔۔۔
انٹرنیٹ ، ٹی وی اور چھری کی مانند اک آلہ اور وسیلہ ہے۔۔ چھری کےذریعے آپ حلا ل کام بھی کرسکتے ہیں۔۔ یا داعش کی طرح زندہ انسانوں کو بے دردی سے ذبح کرسکتے ہیں۔۔۔اب استعمال آپ کے ہاتھ میں ہے۔
کاش یہی بات مذہب کے نام لیوا/جان لیوا جان لیں تو کیا ہی بات ہے :)
 
Top