خواب نگر

الف عین

لائبریرین
جانوروں کا بازار

دیکھا بیوپاری بننے کا جانوروں نے سپنا
لے کر اک بازار میں پہنچے خوانچہ اپنا اپنا

ہُد ہُد لال ٹماٹر لایا ،ہرنی گاجر مولی
بندر لے کر آیا چقندر ، لکّڑ بگّا ککڑی

اونٹ نے پیٹھ پہ گنّے لادے، ہاتھی لایا آلو
پالک لے کرآئی بلّی ،بیگن لے کر بھالو

لیموں لاد کے ٹٹّو لایا ، اروی عربی گھوڑا
سر پر میتھی لائی بکری ، بکرا دھنیا تھوڑا

گیدڑ نے حلوائی بن کر جوں ہی تھال سجائے
چیونٹا چیونٹی گاہک بن کر دوڑے دوڑے آئے

لومڑیاں بھی لائیں اپنے انگوروں کے خوانچے
تاجر بن بیٹھے تھے چوہے بیچ رہے تھے کپڑے
 

الف عین

لائبریرین
استاد ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
ان ہی سے ہیں افراد ضیاءبار ہمارے
جینے کا سلیقہ بھی ہمیں ان سے ملا ہے
احساسِ عمل ،فکر بھی ان ہی کی عطا ہے
ان ہی کی ہے تعلیم جو عرفانِ خدا ہے
ان ہی سے معطّر ہوئے افکار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
تاریک ہوں راہیں تو یہی راہ سجھائیں
اسرارِ دو عالم سے یہ پردوں کو اٹھائیں
سوئی ہوئی قوموں میں یہ ہمّت کو جگائیں
رہبر بھی یہ ،ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
اک نور کا مینار لبِ ساحلِ دریا
اک مشعلِ بیدار سرِ وادیِ صحرا
ہے ظلمتِ آفاق میں بس ایک ستارہ
ہے دستِ نگر ان کے بھی شہکار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
ان ہی سے ہیں افراد ضیاءبار ہمارے
 

الف عین

لائبریرین
دروازے

گر نہ ہوتے مکاں میں دروازے
ہم بھلا گھر میں کس طرح جاتے
روشنی اور ہوا یہ لاتے ہیں
دھوپ سردی سے یہ بچاتے ہیں
گھر کے سامان کے ہیں رکھوالے
ورنہ ہم ڈالتے کہاں تالے
ان سے گھر میں ہمارے راحت ہے
چور اچکّوں سے یہ حفاظت ہے
آنے والوں کا راستہ دیکھیں
جانے والوں کو الوداع کہہ دیں
ان سے گزرے ہوا لئے خوشبو
روشنی ، تازگی ،کھنک ہر ُسو
گھر میں چین و سکوں محبّت ہے
ان سے محفوظ گھر کی عزّت ہے
رونقیں ان کے دم سے گھر بھر میں
آنکھ روشن ہے جیسے اک در میں
 

الف عین

لائبریرین
مرزاغالب اورآم


مرزا غالب، اردو کے شاعر
آموں کے بھی رسیا تھے
اک دن
اک صاحب کے ساتھ
جنھیں آموں سے
اتنی ہی چڑ تھی
بیٹھے گفتگو فرمارہے تھے
غالب
آموں کی خوبیاں اور
وہ خامیاں گنوا رہے تھے
تبھی سڑک سے
گزرتے ہوئے
چند گدھوں نے
وہاں پڑے ہوئے
آم کے چھلکوں کو سونگھا
اور یہ دیکھ کر
کہ آم ہیں (کچھ خاص نہیں)
آگے نکل گئے
وہ صاحب
اچھل کر بولے
: دیکھا غالب
پتہ نہیں تمہیں آم ہیں
کیوں اتنے بھاتے
ارے !
آم تو گدھے تک نہیں کھاتے
مرزا غالب نے
سر ہلا کر فرمایا
ہاں حضور !
آپ سچ ہی ہیں فرماتے
بے شک،
گدھے آم نہیں کھاتے !
 

الف عین

لائبریرین
میری گڑیا

میری گڑیا سندر پیاری
پہنے لال کلر کی ساری

ہونٹ نہ اپنے کبھی ہلائے
پلکیں بھی نہ جھپکائے
پاس نہ آئے ، دور نہ جائے

پھر بھی ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے چہرہ بول رہا ہے
آنکھ بھی اسکی زندہ ہے

جب بھی اسکی یاد آئی ہے
تب وہ میرے پاس کھڑی ہے
کتنی اس کی عمر بڑی ہے؟

میری گڑیا سندر پیاری
پہنے لال کلر کی ساری
 

الف عین

لائبریرین
ناؤ

پانی آیا ، پانی آیا ، آؤ ناؤ بنائیں
کاغذلاؤ، موڑ کے اس کو
چھوٹی سی اک ناؤبنائیں
ناؤ میںرکھ کر خواب سلونے
دور سفر پر جائیں
ہوا ہ بہی ہے ناؤ چلی ہے ؛
دور دور تک پانی پانی ،
تن اس کا پتلے کاغذ کا
ڈگ مگ ڈگ مگ ڈول رہی ہے
اے پانی کی چنچل لہرو!
رحم کرو کچھ ، یہ تو دیکھو ،
سندر سندرسپنے اس میں
سپنوں ہی سے جیون ہے یہ
دیکھو ڈوب نہ جائے ۔۔۔۔
کوئی نہیں جو دوڑ کے آئے
اے رب! ہم ہیں ہاتھ اٹھا ئے
ناؤ کو تو ہی پار لگائے !
 

الف عین

لائبریرین
عید

دلوں میں پیار جگانے کو عید آئی ہے
ہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کو عید آئی ہے

مسرّتوں کے خزانے دئے خدا نے ہمیں
ترانے شکر کے گانے کو عید آئی ہے

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے
چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے

خوشا کہ شیر و شکر ہو گئے گلے مل کر
خلوصِ دل ہی دِکھا نے کو عید آئی ہے

اٹھا دو دوستو! اس دشمنی کو محفل سے
شکا یتوں کے بھلا نے کو عید آئی ہے

کیا تھا عہد کہ خوشیاں جہاں میں بانٹیں گے
اسی طلب کے نبھا نے کو عید آئی ہے
 

الف عین

لائبریرین
کچھوا دھیرے چلتاکیوں
بچّہ
کچھوے بابا! کچھوے بابا!
پیٹھ پہ پیالہ الٹا کیوں ؟
اک ٹوپی کے اندر ہی
سر رہتا ہے دُبکا کیوں ؟
دھیرے دھیرے چلتے ہو
ڈرے ڈرے سے رہتے ہو

کچھوا
اوپر والے ہی نے مجھ کو
جیسا بھی ہوں بنایا ہے
خول حفاظت کی خاطر یہ
آسمان سے آیا ہے
میرا جرم ہے دھیرے چلنا
کوئی اسکی سزا نہ دے
راہ کا روڑا کہہ کر مجھ کو
رستے ہی سے ہٹا نہ دے

اسی لئے میں ڈرتا ہوں
خول میں دبکا رہتا ہوں
 

الف عین

لائبریرین
گیت نیا سا
نئی رتوں کی خاطر ہم سب
آؤ کوئی گیت بنیں

بارش کا اک گیت لکھا تو
پانی چھم چھم برسا
گرمی کا جو راگ الاپا
ٹھنڈی ٹھنڈی ہو اچلی
سردی میںجو تان لگائی
پائے اونی کپڑے ؛

پھر دھرتی پر
کوئی نیا موسم ہے آیا
ہر موسم کی شدّت سے بھی
سخت ہے اس کی سفّاکی

آؤ دعا کا کوئی نغمہ
ہم سب مل کر گائیں

امن، شانتی اور اخّوت
ہمدردی ،ایثار ،محبّت،
سب جذبوں کو انسانوں کے
سینے میں جو بیج بنا کر بو دے
پیڑ بنے پھر اس کا ایسا
جس کی ٹھنڈی ،گھنی چھاؤں میں
دہشت ،خون خرابہ اور
نفرت کی اس دھوپ میں جھلسی
زخمی دنیا
پل دو پل تو سستائے ؛
صدیوں سے جاگی آنکھوں میں
خواب سہانا سا لہرائے

آؤ !ایسا گیت بنیں جو
پیاسی تپتی سرخ زمیں پر
سوندھی مٹّی سے مہکا اک
سرد ہوا کا جھونکا لائے !
 

الف عین

لائبریرین
گرمی
گرمی کا موسم ہے آیا
ساتھ میں لا یا
کولر، پنکھے، اے ۔سی۔
شربت ، لسّی
آئس کریم، چھٹّی اور آم
تربوز اور خربوزے
ٹھنڈے پانی کے مٹکے

گھبرائے چکرائے سارے
لوگ ہیں گھر کے اندر
اور اک گرم ہوا ہے،
گھر سے باہر

دو پہر میں
بھوکی پیاسی دھک دھک کرتی
سڑکوں پر پھرتی دیوانی
کون اسے سمجھائے؟
دشمن جیسا گرم ہے موسم
تیز دھوپ کی چم چم کرتی

پھرتا ہے تلوار سنبھالے
اس سے اگر تم
بچنا چاہو
کچھ ہتھیار سنبھالو خود بھی

نہتھے ہو کر
گھر سے باہر
اس طرح نہ قدم نکالو
اپنے سر اور کانوں پر
کچھ اوڑھو اور لپیٹو
پانی پی لو
دھوپ کا کالا چشمہ پہنو
جان کا دشمن موسم ہے یہ
پھر بھی نہ گھبراؤ!

گرمی کے ہیں مزے نرالے
اس کی اپنی رنگینی
اس کو گر تم سمجھ سکو تو
لطف بھری ہے گرمی!
 

الف عین

لائبریرین
برسات آ گئی ہے
گرمی کے ظلم سے یہ دنیا دہک رہی تھی
پیاسی زمین کب سے آکاش تک رہی تھی
موسم کو کیا ہوا ہے پل میں بدل گیا ہے
لُو بن کے چل رہی تھی یہ تو وہی ہوا ہے

دیکھو چلی ہوائیں چلّائیں سائیں سائیں
بادل کو ساتھ اپنے ہر سمت لے کے جائیں
تھم تھم چلے ہیں بادل ڈم ڈم بجے ہیں بادل
کھولی ہے آسماں نے بادل کی اپنی چھاگل

پانی برس رہا ہے موسم یہ ہنس رہا ہے
بارش میں بھیگتا ہے کیچڑ میں پھنس رہا
بستے اٹھائے بچّے اسکول کو چلے ہیں
کھیتوں کی سمت اپنے دہقاں نکل پڑے ہیں

ہر سمت پانی پانی ندیوں میں ہے روانی
پنچھی چہک رہے ہیں خوشیوں کی ہے نشانی
گرمی کو کھا گئی ہے ہر سمت چھا گئی ہے
دل کو لبھا گئی ہے برسات آگئی ہے
 

الف عین

لائبریرین
برس رہا ہے پانی چھم چھم
موسم نے کروٹ ہے بدلی
آسمان پر چھائی بدلی
سر سر سر سر ہوا چلی

بادل کے رتھ گھوڑے دوڑے
بجلی نے ہتھ گولے چھوڑے
برسے سب کے سر پہ ہتھوڑے

کڑکڑ کڑ کڑ بجلی چمکی
منّی ڈر کر گھر میں دبکی
اب تو سٹّی گم ہے سب کی

سوندھی سوندھی مہک اٹھی ہے
پیڑ پہ چڑیا چہک اٹھی ہے
ساری دھرتی لہک اٹھی ہے

پل بھر میں بدلاہے موسم
گرمی کا اب ہوا قہر کم
برس رہا ہے پانی چھم چھم
 

الف عین

لائبریرین
جاگو پیارے

چڑیا اپنی چونچ میں تھامے
دال کا دانہ لائی
ننّھی تتلی پر سے اپنے
رنگ لپیٹے آئی
سورج اپنے کاندھے پر
کرنوں کا بھنڈار اٹھا کر لایا
پھولوں کے دامن کو چھو کر
ہوا معطّر ہو آئی
پیڑ بھی اپنی شاخ شاخ پر
لایا ہے پھل رنگ برنگے
ذرّہ ذرّہ سر پر رکھ کر
چیونٹا چیونٹی فوج بنا کر نکلے ،
ہاکر ڈال گیا اخبار
اس میں بھی یہ خبرچھپی ہے؛
بھری پری اس دنیا میں
دن چڑھ آیا
صبح ہوئی تو ساری دنیا
اپنے کام پہ نکلی !
بس اک تم ہو
بستر ہی میں سوئے پڑے ہو
 

الف عین

لائبریرین
ٹوپی

ٹوپی سے عزّت ہے ملتی
کام سے لیکن باقی رہتی
بھانت بھانت کی رنگ برنگی
جیسے لوگ ہیں ویسی ٹوپی
 

الف عین

لائبریرین
سردی
تھر تھر کرتی آئی سردی
اب کے برس تو حد ہی کردی
اس کے اپنے الگ ہیں کپڑے
اس کی اپنی وردی
بوٹ کوٹ اور سویٹر مفلر
سبھی پہن کر نکلے باہر
تھر تھر تھر تھر کوئی کانپتا
بیٹھ کے کوئی آگ تاپتا
کٹ کٹ کٹ کٹ دانت بجاتے
بچّے ہیں اسکول کو جاتے
کانپے ڈر کر سردی سے ہم
بھایا پھر بھی یہ موسم
 

الف عین

لائبریرین
سالِ نو مبارک

مبارک مبارک نیا سال سب کو
نہ چاہا تھا ہم نے تو ہم سے جدا ہو
مگر کس نے روکا ہے بہتی ہوا کو
جو ہم چاہتے ہیں وہ کیسے بھلا ہو
اے جاتے برس! تجھ کو سونپا خدا کو
مبارک مبارک نیا سال سب کو
مبارک گھڑی میں یہ ہم عہد کر لیں
بصد شان ہم زندگی میں سنور لیں
گلوں کی طرح گلستاں میں نکھر لیں
بنیں ہم بھی سورج گگن میں ابھر لیں
مبارک مبارک نیا سال سب کو
اندھیروں نے لوٹی اجالوں کی دولت
اڑا لے گیا وقت اک خوابِ راحت
نہ لوٹے گی بیتی ہوئی کوئی ساعت
جو اب بھی نہ جاگے تو ہوگی قیامت
مبارک مبارک نیا سال سب کو
امیدیں ہیں راہیں عزائم سواری
خبر دے رہی ہے یہ بادِ بہاری
مہکتی ہوئی منزلیں پیاری پیاری
کہ صدیوں سے تکتی ہیں راہیں ہماری
مبارک مبارک نیا سال سب کو
مبارک مبارک نیا سال سب کو
 

الف عین

لائبریرین
تارے بن کر چمکے ہم

چمک چمک کر بولے رات ستارے
’ڈوبا ہے اندھیارے میں
دنیا کا ہر اک گوشہ
تم ہو کیوں چپ چاپ پڑے
ہم جیسا تم چمکونا !
چمکونا ، چمکونا ، چمکونا !‘

نکلے تارہ بن کر ہم
چمکے ہم ، چمکے ہم

باغ میں ننھا پھول کھلا
بولا ہم سے :’ مہکو نا
تیز سواری ہے یہ ہوا
خوشبو اس پر لدوا دو
گھر گھر خوشبو پہنچا دو
تم بھی ہم سا مہکو نا ‘

ہاں بھائی ہاں! کہہ کے ہم
پھولوں جیسے مہکے ہم

چوں چوں کرتی اک چڑیا
دیکھ کے ہم کو یہ بولی :
’ٹوٹے دل کو نہ غم دو
تم لوگوں کو مرہم دو
بات ہمیشہ بھلی کہو
تم بھی مجھ سا چہکو نا ‘

کب تک چپ چپ رہتے ہم
چڑیا جیسے چہکے ہم

چڑیا جیسے چہک اٹھے
پھول بنے اور مہک اٹھے
بن کر تارا چمک اٹھے !
 

الف عین

لائبریرین
آگے بڑھتے جائیں گے

آکاش کھلا ہے آؤ چلو
مٹّھی میں سورج بھرلو
چاند ستاروں کو چھولو
ہم یہ کر کے دکھائیں گے
آگے بڑھتے جائیں گے
مشکل سے گھبرائیں کیا
خطروں سے ڈر جائیں کیا
ہارے تو شرمائیں کیا
آگے بڑھتے جائیں گے
جیون ہے اک بار ملا
جینے کو سنسار ملا
ہر اک سے ہے پیار ملا
ہم قرض بھی یہ لوٹائیں گے
آگے بڑھتے جائیں گے
جینا ہے بے مقصد کب
کہتا ہے یہ ہم سے رب
وہ راضی تو اپنا سب
اس کو خوش کر جائیں گے
آگے بڑھتے جائیں گے
جیت کے اک دن آئیں گے
 

الف عین

لائبریرین
پتنگ

دھرتی کا پیغام لئے
چلی ہوا میں
اڑی گگن میں
دیکھنے والے رہ گئے دنگ!

اتنی سی تو جان ہے یہ
اڑنے کا ارمان ہے یہ
آسمان کو چھونے کا
کرتی ہے سپنا پورا
دھرتی سے لو دورہوئی
پھر بھی نہیں توڑے اس نے
مٹّی سے اپنے بندھن
اک دھاگے کے بل پر یہ
دھرتی سے ہے جڑی ہوئی

دھرتی کو آکاش سے میں
ملواتا ہوں اس کے سنگ
دیکھو دیکھو اڑی پتنگ!
 

الف عین

لائبریرین
ممّی پاپا
٭
گاڑی کے دو پہیوں جیسے
میرے ممّی پاپا
سائیکل جیسا چلتا پھرتا لگتا ہے یہ گھر ؛
برسوں ان کے ساتھ رہے ہم
ان سے سیکھا
مل جل کر سب کو اپنانا
کام سبھی کے آنا
آگے بڑھتے جانا
٭
چندا سورج جیسے دونوں
روشن ان ہی سے ہے
میرے گھر کا یہ آکاش
سکھ دکھ میں یہ بڑا سہارا ،
ایک بڑا آدھار
بارش جیسا ہم پر برسے
ان کا پیار دلار
٭
باغ کے جیسا گھر ہے اپنا
ممّی پاپا مالی
اس کے پیڑوں کی کرتے ہیں
دھیان سے یہ رکھوالی
ممّی پاپا سے ہے ہم نے
پیار بہت سا پایا
ان ہی کے سائے میں رہ کر ہم کو جینا آیا !
 
Top