خورشید رضوی خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی

نمرہ

محفلین

خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی

آنکھ سے آنسو گئے میری کہ بینائی گئی

صبح دم کیا ڈھونڈتے ہو شب رووں کے نقشِ پا

جب سے اب تک بارہا موجِ صبا آئی گئی

رو رہا ہوں ہر پرانی چیز کو پہچان کر

جانے کس کی روح میرے روپ میں لائی گئی

مطمئن ہو دیکھ کر تم رنگِ تصویرِ حیات

پھر وہ شاید وہ نہیں جو مجھ کو دکھلائی گئی

چلتے چلتے کان میں کس کی صدا آنے لگی

یوں لگا جیسے مری برسوں کی تنہائی گئی

ہم کہ اپنی راہ کا پتھر سمجھتے ہیں اسے

ہم سے جانے کس لئے دنیا نہ ٹھکرائی گئی
 

طارق شاہ

محفلین
خشک پتلی سے کوئی صُورت نہ ٹھہرائی گئی
آنکھ سے آنسو گئے میری، کہ بینائی گئی
صبح دم کیا ڈھونڈتے ہو، شب رَووں کے نقشِ پا
جب سے اب تک، بارہا موجِ صبا آئی گئی
رو رہا ہُوں، ہر پُرانی چیز کو پہچان کر !
جانے کِس کی رُوح میرے رُوپ میں لائی گئی
مطمئن ہو، دیکھ کرتم رنگِ تصویرِ حیات
پھر وہ شاید، وہ نہیں جومُجھ کو دکھلائی گئی
چلتے چلتے کان میں کِس کی صدا آنے لگی
یوں لگا، جیسے مِری برسوں کی تنہائی گئی
ہم کہ اپنی راہ کا پتّھر سمجھتے ہیں اِسے
ہم سے جانے کِس لئے دُنیا نہ ٹُھکرائی گئی

خورشید رضوی

۔۔۔۔
کیا ہی خوب اور بلا کی مربوط غزل کہی ہے رضوی صاحب نے

تشکّر شیئر کرنے پر نمرہ صاحبہ !

بہت خوش رہیں :)

 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
بہت خوبصورت انتخاب
ہم کہ اپنی راہ کا پتھر سمجھتے ہیں اسے
ہم سے جانے کس لئے دنیا نہ ٹھکرائی گئی
 

فلک شیر

محفلین
ڈاکٹرخورشید رضوی عربی ادبیات کے عالم ہیں........مگر شاعر خورشید رضوی بھی کیا آدمی ہے.........
سبحان اللہ
 
Top