خدا کا رستہ کبھی نہ چھوٹے ملے اگرچہ جہان سارا---برائے اصلاح

الف عین
عظیم
خلیل الرحمن
--------------
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مفاعلاتن
------------
خدا کا رستہ کبھی نہ چھوٹے ملے اگرچہ جہان سارا
بغیر دنیا کے ہو سکے گا بغیر رب کے نہیں گزارا
-----------
کرو گے نیکی اگر کسی سے خدا سے اس کی جزا ملے گی
نہ ہو گی محنت تری یہ ضائع بھلا کرے گا خدا تمہارا
--------------
ہیں زندگی کے یہ راستے تو بہت ہی مشکل بہت ہی ٹیڑھے
عمیق صحرا میں اس جہاں کے فقط خدا کا ہے اک سہارا
-----------------
بھٹک ہی جاتا میں راستے سے اگر وہ میری مدد نہ کرتا
وہی تھا رہبر مرا جہاں میں پڑی جو مشکل اسے پکارا
-----------------------
خدا کے رستے پہ چل کے دیکھو سکون دل کا ملے گا تم کو
چلا ہے رستے پہ جو بھی اس کے وہ زندگی میں کبھی نہ ہارا
-----------------
چلا رہے تھے مرے وطن کو جو بن کے دشمن مرے وطن کے
خدا سے اُن کو سزا ملی ہے جواب رب نے دیا کرارا
--------------------
گلے پڑیں گے گناہ ارشد بچو گناہوں سے اس جہاں میں
یہی ہے بہتر ترے لئے بس بغیر اس کے نہیں ہے چارا
--------------------
 
آخری تدوین:
الف عین
عظیم
خلیل الرحمن
--------------
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مفاعلاتن
------------
خدا کا رستہ کبھی نہ چھوٹے ملے اگرچہ جہان سارا
بغیر دنیا کے ہو سکے گا بغیر رب کے نہیں گزارا
-----------
کرو گے نیکی اگر کسی سے خدا سے اس کا اجر ملے گا
نہ ہو گی محنت تری یہ ضائع بھلا کرے گا خدا تمہارا
--------------
ہیں زندگی کے یہ راستے تو بہت ہی مشکل بہت ہی ٹیڑھے
عمیق صحرا میں اس جہاں کے فقط خدا کا ہے اک سہارا
-----------------
بھٹک ہی جاتا میں راستے سے اگر وہ میری مدد نہ کرتا
وہی تھا رہبر مرا جہاں میں پڑی جو مشکل اسے پکارا
-----------------------
خدا کے رستے پہ چل کے دیکھو سکون دل کا ملے گا تم کو
چلا ہے رستے پہ جو بھی اس کے وہ زندگی میں کبھی نہ ہارا
-----------------
چلا رہے تھے مرے وطن کو جو بن کے دشمن مرے وطن کے
خدا سے اُن کو سزا ملی ہے جنہوں نے یہ چمن اجاڑا
--------------------
گلے پڑیں گے گناہ ارشد بچو گناہوں سے اس جہاں میں
یہی ہے بہتر ترے لئے بس بغیر اس کے نہیں ہے چارا
--------------------
دوسرے اور ساتویں شعر کو استادِ محترم کی آمد سے قبل درست کرلیجے۔
 
الف عین
استادِ محترم--- اگر کچھ اشعار صحیح نہ ہوں تو چند متبادل اشعار پیشِ خدمت ہیں
------------
خطا کو اپنی وہ مان لیتا سزا نہ شیطان کو بھی ملتی
ہے خود پسندی گناہِ اکبر کیا ہے اس نے ہی سب بگھارا
-----------
خدا سے بچ کر نہ جا سکو گے حصار اس کا ہے سخت اتنا
خطا تمہاری وہ بخش دے گا اسی کی رحمت کا لو سہارا
------------
کرو گے کوشش تو بچ سکو گے خدا کی رحمت ہے ساتھ تیرے
خدا کے رستے پہ چل کے ارشد کرو گناہوں سے اب کنارا
-------------
خلیل بھائی دونوں اشعار میں غلطی کی نشاندہی کر دیتے تو اصلاح کی کوشش ضرور کرتا--
 
آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
خدا کا رستہ کبھی نہ چھوٹے ملے اگرچہ جہان سارا
بغیر دنیا کے ہو سکے گا بغیر رب کے نہیں گزارا

بھٹک ہی جاتا میں راستے سے اگر وہ میری مدد نہ کرتا
وہی تھا رہبر مرا جہاں میں پڑی جو مشکل اسے پکارا

خدا کے رستے پہ چل کے دیکھو سکون دل کا ملے گا تم کو
چلا ہے رستے پہ جو بھی اس کے وہ زندگی میں کبھی نہ ہارا
اس کلام کی فنی باریکیوں پہ تو اساتذہ ہی بتا سکیں گے لیکن مجھے سب ہی اشعار بہت اچھے لگے ہیں۔
 
ہماری صلاح۔
(اصلاح نہیں کہہ سکتے کہ ہم خود مبتدی ہونے کے ناطے اس کے مجاز نہیں)

خلیل بھائی دونوں اشعار میں غلطی کی نشاندہی کر دیتے تو اصلاح کی کوشش ضرور کرتا--

ارشد بھائی! پچھلی غزلوں میں استادِ محترم یا عظیم بھائی نے جو اصلاح فرمائی ہے اسے گاہے بگاہے دیکھتے رہیے۔ ایک غلطی بار بار نہ دہرائیے۔ غزل کے کسی ایک شعر میں تو، تم اور آپ کو جمع کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے جس کی جانب استادِ محترم باربار اشارہ کر کے ہیں۔ اس کا خاص خیال رکھیے۔

مزید یہ کہ الفاظ کے تلفظ پر خاص دھیان کیجیے۔مثال کے طور پر 'اجر'، 'غلطی' وغیرہ

اجاڑا، کباڑا کسی طرح بھی غزل کے اشعار کے ہم قافیہ لفظ نہیں۔

ارشد ترا ہے کام یہ سارے جہاں کے ساتھ چل
تنہا چلو گے تم اگر تو ناتواں ہے زندگی
------- شتر گربہ۔زندگی کا ناتواں ہونا بھی عجیب ہے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مطلع کا پہلا مصرع تو مجھے لگ رہا ہے کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کسی اور غزل میں،
دوسرے اور ساتویں شعر کا شتر گربہ اب بھی دور نہیں کیا گیا
اور اب، جب کہ آپ بحر و اوزان اور عام اغلاط سے واقف ہو گئے ہیں، اگرچہ ان کا ارتکاب پھر بھی کرتے ہیں!، اب اس پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو بار بار دہرایا نہ جانے۔ اس غزل کے ہر شعر کا خیال وہی ہے جو آپ کے پچھلے کم از کم چالیس فی صد اشعار کا ہے۔ کوشش کریں کہ ہر شعر میں ایک نیا خیال پیش کریں۔ ورنہ اسے شاعری نہیں کہا جا سکتا، صرف تک بندی کہا جائے گا
 
Top