1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

حیات بادِ صبا ہے، اور آنی جانی ہے

زیرک نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 17, 2020

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    حیات بادِ صبا ہے، اور آنی جانی ہے (غیر سیاسی)
    یہ جانکاہ خبر پڑھ کر از حد افسوس ہوا کہ نئے دور کی ہمہ جہت شخصیت پاکستانی شاعر، ادیب، محقق، نقاد، مترجم، ریڈیو ٹی وی لکھاری اور اینکر پرسن علی یاسر 44 سال کی عمر میں رضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون، اللہ پاک ان کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔ خبر کے مطابق ان کا انتقال برین ہیمرج کے باعث پیش آیا۔ یاسر کے سانحہ ارتحال پر انتہائی سوگوار ہوں مجھے خاص طور پر ان کے ساتھ گزارا ہوا وہ خاص وقت یاد آتا ہے جب چند سال پہلے اسلام آباد میں میں نے ایک اور فورم کے پلیٹ فارم سے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا تھا، جس میں علی یاسر نے جز وقتی کمپیئرنگ کے فرائض بھی انجام دئیے تھے، وہیں میری ملاقات سید شہزاد ناصر سے بھی ہوئی تھی جو اردو محفل کے بھی ممبر ہیں، مجھے ان دونوں حضرات سے مل کر یقین کرنا پڑا کہ گوجرانوالہ میں صرف پہلوان اور کھابے ہی نہیں ہوتے بلکہ وہاں ادب کے قدآور شجر بھی پروان چڑھتے ہیں۔ پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے علی یاسر(غلام علی یاسر) میں اپنی عمر سے زیادہ سنجیدگی پائی جاتی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو میں ایم فل کرنےکے بعد ابھی ایک سال قبل ہی انہوں نے اردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی تھی۔ علی یاسر نے انتہائی کم وقت میں پاکستانی اور بیرون ملک ادبی حلقوں میں اپنی ایک الگ سنجیدہ سی پہچان بنائی، اس دوران وہ ادبی تقریبات، مشاعروں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مختلف پروگراموں میں میزبانی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ علی یاسر نے پاکستان ٹیلی ویژن(پی ٹی وی) کے لیے بھی خدمات سرانجام دیں، علی یاسر نے کئی دستاویزی فلموں کے اسکرپٹ رائٹنگ کی اور نغمے بھی تحریر کیے۔ علی یاسر نےشاعری کا آغاز 1990 میں کیا، 2007 میں ان کی غزلوں کا مجموعہ “ارادہ” کے نام سے منظر عام پر آیا جبکہ 2016 میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ “غزل بتائے گی” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔علی یاسر علامہ اقبال یونیورسٹی سے بھی منسلک رہے جہاں وہ جز وقتی استاد کے طور پر بھی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ علی یاسر کم و بیش دو دھائیوں سے اکادمی ادبیات اسلام آباد سے منسلک تھے اور بطور ڈپٹی ڈائریکٹر اکادمی ادبیات کے عہدے پر فائز تھے۔ اردو ادب کی دنیا بلاشبہ علی یاسر کی جواں سالہ مرگ پر اداس رہے گی، رب کائنات علی یاسر کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے، آمین۔
    اسے میں غنچۂ دل میں اسیر کیسے کروں
    حیات بادِ صبا ہے، اور آنی جانی ہے
     

اس صفحے کی تشہیر