حضرت نعمت اللہ شاہ ولی رحمتہ اللہ علیہ کی آٹھ سو پچاس سالہ پیشن گوئیاں۔۔

حاتم راجپوت نے 'تاریخ اسلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 23, 2013

  1. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    کافی لوگوں نے اپنے اپنے مقاصد کیلئے حضرت نعمت شاہ ولی سے منسوب اشعار تاریخ کے مختلف مرحلوں میں پیش کئے ہیں ہیں۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ انکا انتساب اُن سے کہاں تک درست ہے۔ میں نے تو مرزا غلام احمد قادیانی کی بھی ایک کتاب میں اسکے حوالے دیکھے ہیں جس میں کچھ اشعار کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کیا گیا تھا۔۔۔یہ بھی مشہور ہے کہ انگریزوں کے دور میں شاہ نعمت علی شاہ کے اس قصیدے پر پابندی تھی۔۔۔واللہ اعلم
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  2. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    یہ سارا دھاگہ پڑھنے کے بعد میں نے اپنے والدین کے ساتھ اس کا ذکر کیا تو دونوں حضرت شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے واقف تھے۔ اور میری والدہ نے بتایا کہ 65ء کی جنگ کے بعد انہوں نے یہ پیشین گوئیاں سن رکھی تھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. واجدحسین

    واجدحسین معطل

    مراسلے:
    678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    السلام علیکم

    بھائی میرے خیال میں اس مراد ، انگلستان پھر روس اور اب امریکہ کی باری انشاء اللہ
     
  4. فرخ

    فرخ محفلین

    مراسلے:
    1,722
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    پہلے میری معلومات صرف اٹک تک ہی محدود تھیں اور میں نے کبھی اس موضوع کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ مگر انٹرنیٹ پر تلاش کرنےسے پتا چلا کہ بات اس سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔۔۔ ذرا یہ لنک ملاحظہ فرمائیے:
    http://www.afghanistans.com/information/history/durandline.htm
    اور افغان صدر کا بیان کہ وہ اس ڈیورنڈ لائن کی سرحد کو نہیں مانتے:
    http://www.tolonews.com/en/afghanistan/10381-karzai-afghanistan-never-recognised-the-durand-line
    اور افغانستان کے اصل نقشے اور ڈیورنڈ لائن کی تفصیل یہاں سے ملاحظہ کیجئے
    http://en.wikipedia.org/wiki/Durand_Line
    اور ساتھ ساتھ "دی ہندو" کا یہ لنک بھی پڑھئیے:
    http://www.thehindu.com/news/international/pak-afghanistan-clash-over-durand-line/article4031545.ece

    جنگوں کی بنیاد ایسی چیزیں بھی بنتی ہیں اور اوپر جو میں نے بات کہی کہ مستقبل میں ایسی جنگ کا امکان ہے، تو وہ انہی خبروں کی بنیاد پر تھی۔۔ تو اگر نعمت اللہ صاحب کی پیشن گوئیاں درست ثابت ہو رہی ہیں تو آنے والی جنگوں میں سے شائید ایک یہ بھی ہو جس کی بنیاد دراصل یہ ڈیورنڈ لائن ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 2, 2014
  5. نوید حسین

    نوید حسین محفلین

    مراسلے:
    2
    یہاں یہ شعر (" از خاص و عام آیند جمع تمام گردند
    درکار آں فزایند صد گونہ غم افزانہ
    ترجمہ: عام و خاص سب کے سب لوگ جمع ہو جائیں گے۔اس کام میں سینکڑوں قسم کے غم کی زیادتی ہو گی۔)
    مجھے پشاور سکول حملے کے متعلق لگ رہا ھے جبکہ اوپر کے یہ دو اشعار مجھے ضرب عضب کی نشاندھی کرتے لگ رہے ہیں "شمشیر ظفر گیرند با خصم جنگ آرند
    تا آنکہ فتح پابند از لطف آں یگانہ
    ترجمہ: یہ (پاک فوج) فتح والی تلوار پکڑ کر دشمن کے ساتھ جنگ کریں گے۔حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فتح حاصل کر لیں گے۔

    از قلب پنج آبی خارج شوند ناری
    قبضہ کنند مسلم بر شہر غاصبانہ
    ترجمہ: پنجاب کے قلب سے ناری (جہنمی) لوگ بھاگ جائیں گے۔ مسلمان شہر پر غاصبانہ قبضہ کر لیں گے۔
    " حالانکہ پہلے جب ضرب عضب پنجاب تک نہیں پہنچا تھا تب مجھے اس بات کا یقین نہیں تھا مگر اب صد فی صد یقین ھوگیا ھے کہ یہ ضرب عضب کا ہی زکر کرتے تھے اس بارے میں حاتم صاحب کی رائے کا منتظر رھوں گا
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. امجد میانداد

    امجد میانداد محفلین

    مراسلے:
    4,970
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dead
    بہت مفصل اور باریک بینی سے واقعات کا بتایا گیا ہے جو کہ حیرت انگیز ہے اور یہ بھی کہ یہ اتنی زیرِ بحث کیوں نہیں رہیں، جبکہ ان کی نسبت کافی مبہم ناسٹرا ڈیمس کی پیشگوئیاں کافی زیرِ بحث رہیں۔ بہرحال اللہ سب سے زیادہ اور تمام کا تمام علم رکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اور جتنے چاہے اپنے راز دکھا دے اور جتنا چاہے علم دے دے، اور اس کے دوستوں یعنی ولیوں کا حق تو بے شک زیادہ ہے۔
    اللہ ہمیں ہدایت دے آفات اور حادثات سے بچائے اور ایمان کی حالت میں اپنے پاس بلائے۔
    اتنی مفصل تحریر شئیر کرنے کا بہت شکریہ حاتم لیکن آپ نے یہ کسی کتاب سے خود ٹائپ کی یا کوئی آن لائن سورس بھی تھا۔ معافی چاہتا ہوں مجھے نظر نہیں آسکا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,590
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    امجد بھائی یہ ایک پرانی کتاب جو کچھ خستہ سی حالت میں میرے پاس تھی اسے ٹائپ کر دیا تھا۔ یہ محفل میں میرے پہلے مراسلوں میں سے ایک ہے۔
    ویسے مصنف نے بھی اس کتاب میں سند کے طور پر کچھ پیش نہیں کیا اور اس کتاب یا اس میں موجود مختلف اشعار کو بہت دفعہ کئی موقعوں پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن چونکہ حضرت نعمت شاہ ولی کا ذکر و زمانہ کافی پہلے کا ہے اور وہ کوئی بہت نامی گرامی بزرگ بھی نہ تھے لہذا لازمی سی بات ہے کہ ان کے اشعار میں بھی تحریف ہوئی ہو گی۔ اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ سارا مواد درست ہے یا نہیں ۔ ہاں البتہ اسے دیکھ کر اندازے لگائے جا سکتے ہیں۔ جو کہ اب میں بالکل نہیں لگاتا :D کہ اینا فالتو ٹائم بالکل نئیں ہے :)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. عظیم اللہ قریشی

    عظیم اللہ قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,581
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    جس نے اس کتاب کو لکھا ہے نقل مار کر لکھا ہے یعنی پرانی کتابوں سے بعینہ ہی لکھ دیا ہے اگر یہ مؤلف پشاور کا ہی ہے تو میں اس پاگل اور خبطی کو جانتا ہوں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. عظیم اللہ قریشی

    عظیم اللہ قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,581
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    ناسٹرے ڈیمس کے بارے میں اردو زبان میں میرے خیال میں شائد اس سے بہتر مضمون آپ کو نی مل سکے
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. عظیم اللہ قریشی

    عظیم اللہ قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,581
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. عظیم اللہ قریشی

    عظیم اللہ قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,581
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. امجد میانداد

    امجد میانداد محفلین

    مراسلے:
    4,970
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dead
    یعنی پرانی کتابوں میں بھی یہ من و عن ایسا ہی تحریر ہے؟
     
    • متفق متفق × 1
  13. محمد ثاقب صدیقی

    محمد ثاقب صدیقی محفلین

    مراسلے:
    13
    شاہ نعمت اللہ والی کی پیشین گوئیاں تو گو کہ معروف ہیں لیکن ان کے اشعاروں میں تحریف کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ۔ بض اشعار کی تشریح مختلف لوگوں نے اپنے حساب سے کی ہے۔ کچھ بھی کہیں یہ ان کے الہامات ہی ہیں بعض دفعہ الہام سمجھنے میں خود صاحب الہام کو بھی غلطی ہو جاتی ہے پیشین گوئیوں کے حوالے سے اگر اھادیث کی تمام پیشین گوئیاں یکجا کی جائیں تو وہ زیادہ مستند کام ہوگا۔ تاہم صحیح احادیث کا التزام ضروری ہے۔
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    میرے علم کے مطابق یہ اشعار وہ ہیں جنہیں جان بوجھ کر محفوظ رکھا گیا ہے کہ وہ تاریخی اعتبار سے درست ثابت ہوتے تھے اور بہت بڑا حصہ جو کہ غلط ثابت ہوا، کے بارے رائے دی جاتی ہے کہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ ضائع ہو گئے۔ دوسرا یہ اشعار ہمیشہ اس انداز سے لکھے گئے کہ اس کے کئی مطالب نکل سکتے تھے۔
    یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ ہرگز خاندانِ مغلیہ کا نام نہیں لیا گیا مگر مصنف نے اس چیز کو اپنی طرف سے ثابت کر دیا۔ جب تاریخی واقعات پیش آ چکے ہوں تو پھر ان کو اشعار کی مناسبت سے ثابت کرنا بہت سہل ہو جاتا ہے
    پھر یہ دیکھیے
    اہلِ حرفہ سے مراد ماہرین ہیں، سائنس دان اپنی طرف سے تشریح کی گئی اور اسے ترجمہ کہہ کر ظاہر کیا گیا۔ اب ذرا یہ نکتہ دیکھیے کہ سائنس دان بے شک ماہرین ہوتے ہیں مگر ہر ماہر سائنس دان نہیں ہوتا۔ ترجمے میں یہ ڈنڈی ماری گئی
    یہ اشعار قابلِ غور ہیں
    یعنی ہر جگہ ایک ہی کام یعنی سیکس ہوتا رہے گا اور دنیا جہان کے دیگر کام ٹھپ ہو جائیں گے
    یہ بھی ایک لطیفہ ہے کہ 1965 کی جنگ پاکستان نے جیت لی تھی
    سب سے مضحکہ خیز ترجمہ اور تشریح دیکھیے
    اب ذرا ترجمہ اور تشریح کو پڑھیے، دونوں کا مقابلہ کیجیے، پھر انہیں سمجھیے اور سر دھنیے۔ اس سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  15. کاشف سعید

    کاشف سعید محفلین

    مراسلے:
    68
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Torn
    کم از کم خاندان مغلیہ اولاد گورگانی تو تھا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,184
    سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئیوں پر مشتمل کسی کتاب کا قدیم ترین نسخہ تلاش کیا جائے۔ میری رسائی تو ایک ایسے نسخے تک ہوئی ہے جو 1972ء میں طبع ہوا (تالیف از حافظ محمد سرور نظامی) اور معروف صحافی جناب ندیم ملک کے بلاگ میں اس کتاب کے صفحات کا عکس ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ رہا ربط
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    سب 1971 کی جنگ کی وجہ سے تھا
     
    • متفق متفق × 1
  18. خرم شیراز میر

    خرم شیراز میر محفلین

    مراسلے:
    1
    بہت خوب ! میرے خیال میں دریائے سندھ کا تین بار کافروں کے خون سے بھرنا لداخ اور کشمیرمیں جنگ کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ دریائے سندھ پاکستان کے شمال مشرقی علاقوں سے شروع ہوتا ہے۔
     
  19. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  20. یاز

    یاز محفلین

    مراسلے:
    18,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    ہم نے بھی یہ پیش گوئیاں مختلف مضامین اور نیٹ پر موجود پی ڈی ایف کتب میں پڑھیں تو خاصی حیرانی ہوئی۔
    یہ ایک حقیقت ہے کہ احادیث اور بعد کی کتب میں موجود پیش گوئیوں کو ہر عہد میں اسی دور کی مناسبت سے جوڑا گیا۔ جیسے یاجوج ماجوج وغیرہ کو تاتاریوں کے ساتھ بھی منسوب کیا گیا۔ آج ان کو چینیوں کے ساتھ بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ کسی دور میں شاید کسی اور قوم کو بھی اسی پہ محمول کیا گیا ہو۔
    اسی طرح کلام میں حسبِ ضرورت تحریف وغیرہ بھی بالکل خارج از امکان نہیں ہے۔

    خیر اس ضمن میں مزید حقائق کی کھوج جاری رہنی چاہئے۔
    "ہم سب" کی ویب سائٹ پہ عدنان کاکڑ نے دو کالم میں نعمت اللہ صاحب کی پیش گوئیاں شائع کی تھیں۔ تیسرے کالم میں کچھ ایسا تجزیہ بھی شامل کیا ہے۔ ذیل میں اس کو کاپی کر رہا ہوں۔
    ----------------------------------------------------
    ربط: کیا شاہ نعمت اللہ ولیؒ کی پیش گوئیاں ایک فراڈ ہیں؟ - ہم سب

    گزشتہ دنوں ہم نے شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی کشمیری کی پیش گوئیوں پر مبنی دو مضامین لکھے تھے۔ پہلے مضمون میں درج حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئیوں کو دیکھ کر تو امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ہنسی آتی تھی کہ ہمارے بابے تو صدیوں پہلے امریکہ کی زبردست تباہی کی پیش گوئی کر گئے ہیں اور امریکہ ایسے تباہ ہو گا کہ اس کا صرف نام ہی تاریخ میں بچے گا۔ ٹرمپ کو دیکھ کر ان پیش گوئیوں پر ہمارا یقین پختہ ہو گیا اور ہمیں یہ بھی یقین ہو گیا کہ امریکہ کی یہ تباہی ضرور پاکستان کے ہاتھوں ہی ہو گی۔

    اسی بارے میں مزید پڑھنے پر ہمیں ہندوستان کی مکمل فتح کا بھی علم ہوا کہ اٹک کی خونریز جنگ کے بعد بھارت مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضے میں آ جائے گا اور ادھر چالیس برس تک مسلمانوں کی حکومت رہے گی حتی کہ اصفہان میں دجال کا ظہور ہو گا۔


    ان مضامین پر کچھ بدعقیدہ قسم کے لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ حضرت شاہ نعمت اللہ ولی، نوسٹرے ڈیمس اور ایسے دوسرے لوگوں کی پیش گوئیاں محض پروپیگنڈے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں اور بوقت ضرورت یا تو ان پیش گوئیوں کا نیا ترمیم و اضافہ شدہ ایڈیشن شائع کر دیا جاتا ہے یا پھر کوئی گنجلگ سی پیش گوئی پکڑ کر اس کے نئے مفہوم پیدا کر دیے جاتے ہیں۔ خاص طور پر حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئیوں میں فارسی زبان میں ٹ نہ ہونے کے باجود اٹک کا نام لکھا جانا، نانگا پربت وغیرہ جیسے جدید نام اور قدیم نام سارگن یا گلت کی بجائے گلگت کہنا بعض ضعیف العقیدہ اذہان میں ان پیش گوئیوں کے متعلق شبہات پیدا کرتا ہے۔

    رودِ اٹک نہ سہ بار از خوں اہل کفار
    پر مے شود بہ یکبار جریان جاریانہ
    چترال، ناگا پربت، باسین ، ملک گلگت
    پس ملک ہائے تبت گیر نار جنگ آنہ
    ترجمہ: دریائے اٹک (دریائے سندھ) کافروں کے خون سے تین مرتبہ بھر کر جاری ہو گا۔ چترال، نانگا پربت، چین کے ساتھ گلگت کا علاقہ مل کر تبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا

    ایسے میں جب ہمیں محدث میگزین کے فروری 1972 کے شمارے میں آغا شورش کاشمیری صاحب کے جریدے ہفت روزہ چٹان مورخہ 10 جنوری 1972 کا ایک نقل شدہ مضمون دکھائی دیا تو ہم نے مناسب سمجھا کہ توازن برقرار رکھنے کی خاطر اسے بھی اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔ یہ مضمون جناب احسان قریشی صاحب صابری نے ”حقیقت حال کیا ہے؟ “ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ آپ نے پہلے شاہ صاحب کی پیش گوئیاں پڑھیں۔ اب احسان قریشی صابری صاحب کا مضمون بھی پڑھیں اور خود فیصلہ کر لیں کہ کس کی بات آپ کے دل کو لگتی ہے۔


    حقیقت حال کیا ہے؟ از احسان قریشی صابری
    تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں پر ابتلاء اور مصائب کا کوئی دور آیا تو کسی نہ کسی اہلِ قلم نے شاہ نعمت اللہ ولیؒ کا قصیدہ ترمیم کے ساتھ شائع کر دیا تاکہ انہیں تسلی اور تشفی ہو۔ بجائے اس کے کہ ہم زوال اور نکبت کے اصل اسباب قرآن و سنت کی روشنی میں تلاش کریں، اور اپنا اور اپنی قوم کا انفرادی اور اجتماعی جائزہ لیں اور ان اسباب کا ازالہ کریں۔ نیز اپنی عملی قوتوں کو بروئے کار لا کرنامساعد حالات کا مردانہ وار مقابلہ کریں۔ ہمیں اس کی معرفت اور ان پیش گوئیوں کے پیش نظر خوش آئندہ توقعات قائم کرنا پڑتی ہیں۔

    سب سے پہلے یہ قصیدہ 1857ء کے ابتلاء کے بعد شائع ہوا تھا۔ دوسری بار چند ترامیم کے ساتھ پہلی جنگِ عظیم ختم ہونے کے بعد کسی صاحب نے شائع کر دیا، جس میں سلطان ترکی کی یلغار اور خلافتِ عثمانیہ کی نشاۃِ ثانیہ کے متعلق پیشین گوئیاں موجود تھیں۔ تیسری بار یہ قصیدہ 1948ء میں شائع ہوا تھا۔ جب بھارت نے حیدر آباد دکن پر حملہ کیا تھا اس میں چند ایسے اشعار بھی درج تھے، جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ سلطنتِ آصفیہ کا جھنڈا لال قلعہ دہلی پر عنقریب لہرائے گا۔ چوتھی بار یہ قصیدہ اب موجودہ دورِ ابتلاء میں شائع ہوا ہے تاکہ ہم اپنی کوتاہیوں بد اعمالیوں اور سہل کوشیوں کا جائزہ لیے بغیر پیشین گوئیوں کے سہارے خوش آئند توقعات قائم کرتے رہیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، حالانکہ ہمارے ابتلاء کے اسباب خود ہمارے پیدا کردہ ہیں۔ حق تعالیٰ نے ہمیں 1947ء میں ایک وسیع و عریض ملک اپنے فضل و کرم سے بطور انعام عطا کیا تھا۔

    قرآن حکیم کی آیات کے مطابق عادتِ الٰہی یہ رہی ہے کہ انعام کا شکر ادا کیا جائے تو نعمت میں زیادتی ہوتی رہتی ہے اور اگر ناشکری کی جائے اور مسلمان بد اعمالیوں میں مبتلا ہو جائیں تو حق تعالیٰ ناراض ہو کر تھوڑی بہت سزا یہیں دے دیا ہے۔ ہمارے لئے اس انعام کے شکر کی صورت یہی تھی کہ ہم اپنی زندگیاں منشاء الٰہی کے مطابق ڈھالتے۔ اپنا نظامِ سلطنت اس فرمان کے مطابق بناتے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی روایات قائم کرتے۔ اس کے بجائے ہم نے جو کچھ کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اللہ اپنا انعام کسی قوم سے اس وقت تک واپس نہیں لیتا جب تک وہ قوم خود اس کا استحقاق نہ گنوا دے۔ جو کچھ ہم نے بویا ہے وہی ہم کاٹ رہے ہیں۔


    شاہ نعمت اللہ ولیؒ کا نام گرامی نور الدین سید شاہ نعمت اللہ ولیؒ ہے۔ ان کا دیوان برٹش میوزیم لندن رائل ایشیاٹک سوسائٹی لائبریری لندن اور پبلک لائبریری بانکی پور میں موجود ہے۔ ہجری 1276ھ میں طہران (ایران) کے ایک بک سیلر نے بھی یہ دیوان جو تمام کا تمام فارسی زبان میں ہے، شائع کیا تھا۔ یہ قصیدہ جواب اخبارات میں شائع ہوا ہے اس دیوان میں کہیں موجود نہیں ہے۔ نیز شاہ صاحب کے حالات زندگی عام فارسی تذکروں مثلاً مجمع الفصحاء، مراۃ الاسرار، ریاض الشعراء، تذکرہ دولت شاہ سمر قندی، اخبار الاخیار، خزینۃ الاصفیاء مرتہ مفتی غلام سرور لاہور، تذکرۃ الکرام اور تاریخ فرشتہ میں پائے جاتے ہیں۔ برٹش میوزیم لندن میں جو نسخہ دیوانِ شاہ نعمت اللہ ولیؒ ہے وہ 1939ء میں پٹنہ کے کسی پریس کا شائع شدہ ہے۔ نیز طہران، (ایران) والا نسخہ رائل ایشیاٹک سوسائٹی لندن کی لائبریری میں محفوظ ہے۔ (1276ھ) اس دیوان میں مناقب شاہ نعمت اللہ ولی کے عنوان سے شاہ صاحب کی مختصر سی سوانح عمری بھی درج ہے۔ اس کے مطابق شاہ نعمت اللہ ولیؒ کبھی برصغیر پاک و ہند میں تشریف لائے اور نہ ہی ان کا مزار بھارت یا پاکستان میں کہیں موجود ہے۔ البتہ ان کی اولاد سلطان احمد شاہ بہمنی کی دعوت پر ہند میں آئی تھی۔

    شاہ نعمت اللہ ولیؒ 730ھ میں حلب میں پیدا ہوئے، عراق میں نشوونما پائی۔ 24 سال کی عمر میں مکہ معظمہ گئے یہاں سات سال قیام پذیر رہے اور شیخ عبد اللہ یافعیؒ (متوفی 728 ہجری) کے حلقہ ارادت میں داخل ہو کر تصوف اور سلوک کی راہ طے کی اور ان کے مجاز بیعت (خلیفہ) مقرر ہوئے۔ اس کے بعد شاہ صاحب سمر قند ہرات اور یزد میں مقیم رہے اور ہر جگہ ان سے بڑی تعداد میں افراد بیعت ہوئے، آخر قصبہ امان میں جو کرمان سے 87 میل دور ہے، مستقل سکونت اختیار کی اور اپنی زندگی کے آخری 25 سال وہیں بسر کیے اور 834ھ میں 104 برس کی عمر میں وفات پائی۔

    شاہ صاحب خود کبھی برصغیر میں تشریف نہیں لائے۔ البتہ ان کے کشف و کرامات کی شہرت دور دور تک پھیلی۔ جس سے وہ مختلف سلاطین کے حلقہ میں بڑے احترام اور عقیدت سے دیکھے جاتے تھے۔ انہی سلاطین میں دکن (اصل مضمون میں دہلی لکھا ہے) کا حکمران احمد شاہ بہمنی بھی تھا۔ اسی کی درخواست پر شاہ صاحب کے پوتے میر نور اللہ دکن آئے۔ سلطان نے مخدوم کی حیثیت سے بڑی عزت و تکریم کی۔ شاہ نعمت اللہ ولیؒ کا اصل قصیدہ اس شعر سے شروع ہوتا ہے۔ ؎

    قدرت کردگارمی بینم حالتِ روزگارمی بینم


    اور وہ قصیدہ جو اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس کا اصل قصیدہ سے کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ قصیدے کے فرضی ہونے کی داخلی شہادتیں خود اس قصیدہ میں موجود ہیں جو کہ شاہ صاحب کے زمانے میں موجود نہیں تھے۔ مثلاً جاپان کا ذِکر بار بار اس قصیدے میں آیا ہے حالانکہ اس ملک کا نام ”جاپان“ 1295ء میں پڑا تھا۔ اس سے پہلے (شاہ صاحب کے وقت میں) اس ملک کا نام ’چی نیکو‘ (نیپون یا نیہون؟) تھا۔ البتہ سرور کائنات نبی اکرم ﷺ نے پاک و ہند جنگ کے متعلق ذکر فرمایا ہے۔ (نسائی شریف کتاب الجہاد۔ باب غزوۃ الہند۔ جلد نمبر 6 ص 43 مطبوعہ مصر)

    حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسولِ مقبول ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہوں کو حق تعالیٰ خاص طور پر جہنم کی آگ سے بچائیں گے۔ ایک گروہ جو ہندوستان سے جنگ کرے گا اور دوسرا گروہ جو اس کے بعد آئے گا اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا ساتھ دے گا۔

    رسول مقبول ﷺ کے اس فرمان کے مطابق فتح آخر میں ہماری ہو گی۔ کیوں کہ ان دونوں کے لئے آگ سے برأت اور فتح کی بشارت موجود ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر