حصول تحفہِ ایمان

تفسیر

محفلین

حصول تحفہِ ایمان
ایک انسان کی اخلاقی جدوجہد
سید تفسیر احمد


میں نےگھر کال کی اور ماں نے فون اُٹھایا۔
“ ماں“ ۔ میں نے کہا۔
“ بیٹا تم کہاں ہو! ابھی میں سادیہ سے کہہ ہی رہی تھی کہ تم کئی دن سے نہیں آے۔ تمہاری بہن منہ بنا کر کہنے لگی ان کی بات مت کرو کہ اب وہ میرے بھیا نہیں ہیں وہ سُہانہ کے دوست ہیں “۔ ماں نے ہنس کر کہا۔
“ ماں بس مصروفیت ہوگی۔ مجھے آپ کے ہاتھ سے بنائے ہوئے بکری کے پائے کھائے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا۔“ میں نے کہا۔
“ تو آج شام آجا۔ میں ابھی بازار جاتی ہوں۔“ ماں نے خوش ہوکر کہا۔
“ سادی تیرے بھیا شام کو آرہے ہیں“۔ ماں نے یہ خوش خبری سادیہ کو دی۔
“ بھائی جان سے کہہ دیں میرا کوئی بھیا نہیں ہے۔ اپنی سُہانہ کے پاس جائیں“۔ سادیہ دور سے چلائی۔
“ پگلی سے کہنا بھیا تیرے لیے ایک تحفہ لے کر آ رہے ہیں۔
جب میں پہنچا توماں ہمیشہ کی طرح باورچی خانہ میں تھیں۔
میں نےآگے بڑھ کرماں کا ماتھا چوما ۔
اباجان کہاں ہیں؟
ماں نے پیار سےمیرے سر پرچپت لگائ۔ “ میرے منے وہ بھلا کہاں ہوں گے ، کتب خانے کےعلاوہ“۔
میں کتب خانے کی طرف چلا۔
________________________________________

جب اباجان کو کمرے میں میری موجودگی کا احساس ہوا تو انہوں نےکتاب رکھ کرمیری طرف توجہ دی ۔ آنکھوں سے چشمہ اُتارا ۔
آج کل آپ کیا پڑھ رہے ہیں اباجان۔ میں نے پوچھا ۔
“ تصوف وطریقت“ ۔ اباجان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
“ تمہیں پتہ ہے کہ انسان کو اشرف المخلوقات کیوں کہتے ہیں؟ “ اباجان نے مجھ سے سوال کیا۔
“ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا کی اور جانوروں کو نہیں“ ۔ میں نے بے سوچےسمجھے جواب دیا۔
“ اور ۔“ اباجان نے مسکرا کر کہا۔
“ مجھے نہیں پتہ“۔ میں نےہار مان لی۔
“ اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو تخلیق کیا تو انہیں شہوات سے پاک پیدا کیا، حیوانوں کو محض شہوات عطا کیں اور عقل عطا نہیں کی۔ انسان کو عقل و خرد اور شہوات دونوں عطا کیں ہیں “۔ اباجان نے کہا۔
“ اور پھر اچھائی اور برائی کی ہدایت عطا فرمادی کہ وہ چاہے تو عقل کے ذریعے شہوات پر غلبہ پالےاور فرشتوں سے افضل ہوجائے اور چاہے تو شہوات کے ذریعے عقل کو مغلوب کرکےجانوروں سے بدتر ہوجائے“۔
“ تمہارا کیا خیال ہے“۔ اباجان نے کہا۔
“ صحیح کہا آپ نے“۔ میں نے کہا۔
“ لیکن تم تصوف وطریقت نہیں سیکھنے آئے ہو۔ کیا تم؟ اباجان نے مجھے شفقت بھری نظروں سے دیکھا۔
“ اباجان مجھے اب کسی بات پراعتقاد نہیں رہا۔ میرا ایمان کمزور ہوگیا ہے۔“ میں نے نظریں جھکا کر کہا۔
“ ھمم “ اباجان نے اپنا چشمہ لگا کر میری طرف دیکھا۔
“ ہم اپنا ایمان کس طرح مضبوط کرسکتے ہیں؟“ ۔ میں نےدھیرے سے پوچھا۔
" میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں“۔ میں نے میرے ایمان کے اُٹھ جانے کی وجوہات بیان کرنا شروع کیں۔ میں نے بولتا گیا۔۔۔
________________________________________

اباجان کی ہمیشہ سے یہ عادت ہے کہ جب ہم بچے ان سے کوئی اہم بات پر مشورہ لے رہے ہوتے ہیں تو اباجان آنکھیں بند کر کے سنتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ سوگئے ہیں۔ جب میں اپنی بیتی بیان کرچکا تو انہوں نے آنکھیں کھولیں۔
“ بیٹا تمہیں یاد جب تم نے بائیسکل چلانا سیکھی تھی“۔ اباجان نے مسکرا کر کہا۔
“ جی ہاں“۔ میں نے حیرت سے کہا۔
“ کیسے سیکھی تھی؟“۔
“ جی پہلے میں نے ٹرینگ والی بائیسکل چلانا سیکھی “ میں نے بتانا شروع کیا۔
“ اس ٹرینگ والی بائیسکل سے تم نے کیا سیکھا؟“۔ اباجان نے مجھے آگے بتانے سے روک دیا۔
“ جی کیوں! ٹرینگ والی بائیسکل کے تین پہیوں کی وجہ سے میں گِر نہیں سکھتا تھا اس لئے میں نے بائیسکل کو چلانا ، روکنا ، چیزوں اور لوگوں سے بچا کر چلانا سیکھا“۔
“ اس کے بعد ؟“ اباجان نے بات آگے بڑھائی۔
“ آپ نے مجھے دو پہیوں والی بائیسکل دلائی ، مگر اس میں پچھلے پہیہ کے ساتھ ایک ٹریننگ پہیہ تھا اور سیٹ میری عمر کے مطابق اونچی تھی“۔
“ تو ؟“
“ دو پہیہ والی بائیسکل چلانے کے بعد میں بائیسکل چلانے میں اطمینان محسوس کرنے لگا۔ میری حوصلہ بڑا“۔
“ اور پھر“۔
“ایک دن بغیر مجھے بتائے آپ نے ٹریننگ پہیہ نکال دیا ۔ میں بائیسکل مزے مزے میں چلاتا رہا۔ لیکن جب رکنے کے لیے میں نے بریک لگائے تو مجھے ہمیشہ کی طرح بھروسہ تھا کہ بائیسکل متوازن رہےگی ، مگر میں دھڑام سےگرا اور میں بہت رویا۔ اماں سے آپ کی شکایت بھی کی۔ اماں آپ پر بہت غصہ ہوئیں“۔ میں نے ہنس کر کہا۔
“ یہ بات تو صحیح ہے۔ اس دن میری پٹائی ہوتے ہوتے بچی“۔ اباجان بھی ہنس پڑے۔
________________________________________

“ اگرتم بائیسکل چلانا سیکھنا چاھتے ہو، تیرنا سیکھنا چاہتے ، بندوق چلانا سیکھنا چاہتے ہو ، تو کرسی پر بیٹھےاس بات کی امید نہیں کرتے رہتے ہو کہ یہ تمام چیزیں تمہیں آجائیں گی۔
تم بائیسکل پر سوار ہوتے ہو اور کئی بارگرتے ہو۔
تم پانی میں داخل ہوتے ہو۔ یہ پتہ نہ ہونے کہ باوجود کہ تم تیرنے میں کامیاب ہوگے؟
تم کسی شخص کو تلاش کرتے ہو جو تم کو بندوق چلانا سیکھائے۔ اور اس سے بندوق چلانا سیکھتے ہو۔
“اگر تم کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو تم اس کی شروعات کرتے ہو۔ تم اس کے ساتھ اس وقت تک تجربات کرتے ہو، جب تک کہ اس میں تھوڑی سی مہارت حاصل نہ کرلو“۔ اباجان نے سانس لیا۔
“ اگر تم اپنی زندگی میں ایمان کو شامل کرنا چاہتے ہو تو تم کو بھی ایمان چاصل کرنے کے لیے یہی کرنا ہوگا۔ تم کو بھی ایمان سے خود جاکر ملنا ہوگا اور اس کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ تجربہ کرنا ہوگا“۔ اباجان نے اپنا جملہ پورا کیا۔
“ تجربہ! “ میں تقریباً اپنی کرسی سےگرگیا۔ “ کس قسم کا تجربہ؟“۔
“ تم نے کبھی چھ بھائیوں “ کھلّو ، وجّہو ، پرکھو، واقفیتو ، اظہارو، فراختو “ کے نام سنے ہیں؟ “ اباجان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“ نہیں اباجان “ کیا یہ ہمارے رشتہ دار ہیں“۔ میں نے معصومیت ظاہر کی۔
“ اگر نہیں ہیں تو تم ان کو فوراً اپنا بھائی بنالو “ اباجان نے قہقہ لگایا۔
________________________________________

“بغیر بائیسکل کا سامنا کیے تم بائیسکل چلانا نہیں سیکھ سکھتے تھے۔ تم نے اپنے آپ کو کھولا ۔ خود کو پیش کیا، ظاہر کیا۔ کیسی چیز کو سیکھنے کے لیے کُھلا رہنا یا اسکا سامنا کرنا پہلا قدم ہے۔ یہ تمہارا بھائی کھلّو ہے ۔

بائیسکل چلانے کے دوران تم نے مجھ سے پوچھا، سوالات کیے ؟ ابو ہمارے پہیہ میں ریفلیکٹر کیوں ہے ؟ ابو یہ ہارن کیوں استعمال کرتے ہیں؟ ابو آپ سادی کو میرے ساتھ بائیسکل پر بیٹھنے سے کیوں منع کرتے ہیں؟ ۔ یہ تمہارا دوسرا بھائی وجّہو ہے۔

میں نے تم کو دو پہیوں والی بائیسکل دلائی ، جس میں پیچھے ایک ٹریننگ پہیہ تھا۔ جب تم نے اس بائیسکل کو چلانا شروع کی تو تم بائیسکل چلانے میں اطمینان محسوس کرنے لگے۔ تمہاری تقویت بڑی اور تم نےاس کےساتھ کچھ کرتب کرنے شروع کیے وہ تمہارا تیسرا بھائی پرکھو تھا۔

اور جب آخیر میں ، ٹرینگ پہیہ نکل گیا اور تم بغیر گرے بائیسکل چلانے سے واقفیت ہوگی۔ تمہارے بھیا واقفیتو کو تم پر ناز ہوا۔

اور تم اپنے بھیا اظہارو کے ساتھ دنیا بھر میں یہ راز افشا کردیا کہ مجھے بائیسکل چلانا آ گی۔

اب تم نے اس حاصل کی ہوئی صلاحییت میں پھیلاوٹ، وسعت اور کشادگی کی۔ یعنی بائیسکل چلانے میں مہارت پیدا کی۔ یہ تمارا چھٹا بھائی فراختو تھا“ ۔ اباجان نے مجھے ایمان حاصل کرنے کا طریقہ بتانا شروع کیا۔
________________________________________

کیسی بھی چیز کو سیکھنے کے چھ بنیادی اصول ہیں

1 ۔کھلا رہنا، سامنا کرنا ( کھلّو )
2 ۔وجہ جانا۔ ( وجہُو )
3 ۔پر کھنا یاجانچنا ( پرکھُو )
4۔ واقفیت حاصل کرنا ( واقفیتُو)
5۔اظہار کرنا یا کرکے دکھانا ( اظہارُو)
6۔فراخت کرنا ۔ مہارت حاصل کرنا ( فراخُتو)

“ تو ایمان کو رکھنے اور سیکھنے کے لیے ان اصولوں کو کیوں نا استعمال کیا جائے“۔ اباجان نے سانس لیا۔

“ مگر ہم ان اصولوں کو ایمان کے لیے کیسے استعمال کرسکتے ہیں“۔ میں نے اباجان سے پوچھا۔

“ایمان وبائی ہے۔ مگر اس کے لگنے کے لیےتم کو اس کے قریب آنا پڑے گا۔ تمہیں جان کر ان مواقعوں پر موجود ہونا ہوگا جہاں ایمان رہتا ہے۔ یہ مت سمجھو کہ اگر تم اس سےدور رہو گے تو یہ تمہارے پاس آئے گا۔ اس لئے تمہارا پہلا قدم اُس سے آمنا سامنا کرنا ہے“۔
________________________________________

“ واقعی ، مگر کیسے اباجان ۔ میں مسجد جاؤں ، قران پڑھوں ؟ “۔

“ فطری طور پر ان جگہوں پر جانا جہاں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے یا قرآن کا پڑھنا یا کسی ایسی کتاب کا پڑھنا جو تمہاری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف دلائے ایمان کے حصول میں مدد کرے گا۔ لیکن میں تم کو اس سے بھی آسان طریقہ بتاتا ہوں۔ اپنےاردگرد دیکھو۔ تمہارے اردگرد ہزاروں لوگ بغیر کسی ثبوت کے اللہ پر یقین رکھتے ہیں کہ “ وہ ہے“ ۔ جتنا تم دیکھو گے اتنا ہی تم کو پتہ چلے گا کہ یہ لوگ عظیم ہیں وہ رنج و غم اور درد کو کتنے تحمل سےبرداشت کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی کوتاہیوں پرصبر کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ ان میں ایک قوت ہے۔ لیکن انہیں پتہ ہے اور وہ تمہیں بھی بتائیں گے کہ یہ وہ خود قوت نہیں ہیں بلکہ وہ اس قوت کا ذریعہ ہیں ۔ اگر وہ تمہارے نزدیک آتے ہیں اور جب وہ تمہارے نزدیک آئیں گےتو تم ان کو ان کی ان خصوصیات کی بنا پر فوراً پہچان لوگے۔ تم میں بھی “ ان جیسا“ ہونے کی خواہش پیدا ہوگی“۔

“ چلیں میں ایسے لوکوں کی تلاش میں نکلتا ہوں۔ کیا مجھے ڈھنگ و طرز اختیار کرنے ہوں گے“۔

“ تم کو ان راستوں پر چلنا ہوگا جہاں خدا کی شان ہے۔ نیکی ، پرہیزگاری اور تقویٰ ہے“ ۔ اس لیے تم کو اپنی نیت کو صاف رکھنا ہوگا۔ دنیا ایسے لوگوں سے بھری ہے۔ جو دکھاوے کے لیےمسجد جاتے ہیں ، پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، زکواہ دیتے ہیں اور حج کو جاتے ہیں۔ مگر ان کے دل برائیاں سے بھرے ہیں، وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو ربڑ کے کپڑے اور جوتے پہن کرنہا رہے ہیں“۔
________________________________________

“ اباجان ۔ جب میرا ایمان مجھے ملےگا تو کیا میں اس کو پہچان لوں گا“۔

“ بعض دفعہ تم نہیں پہچان پاؤ گے۔ اگر تمہارے دل میں صداقت ہے تو تم جان لو گے کہ ابھی تم وہاں نہیں پہنچے۔ اس میں کوئی برائی نہیں۔ تم اپنے ایمان سے کہہ سکتے ہو، تم اس کو بتا سکتے کہ تم اس کی تلاش میں ہو۔ یہ کہہ کر خاموشی سے سنو ۔ ایک دن وہ تم پرظاہر ہوگا۔“
“ اگر وہ نہیں آیا تو؟“
“ ایمان آئے گا ۔ اس کو صبر ، تحمل اور یقین سے محبت ہے“۔
“ غصہ ، نفرت ، حسد اور بغض سے بچو۔ ایمان ان کو پسند نہیں کرتا“۔ اباجان نے کہا۔
“ جانتے ہو ایک کامیاب اسٹج ایکٹر کا سب سے بڑا کمال کیا ہے؟“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔
“ اگر اس کو بادشادہ کا کردار دیا جائے تو وہ اس کردار کو اس طرح ادا کرتا ہے جیسے وہ واقعی میں بادشاہ ہو۔ اگر اس کو ایک بھکاری کا کردار دیا جائے تو وہ تم کو یقین دلادیتا ہے کہ وہ بھکاری ہے “۔ اباجان بولے۔
“ ایمان تمہارا ڈائرکٹرہے ۔اس نے تم کو ایک کردار ادا کرنے کو دیا ہے۔ معلوم کرو کہ وہ کردار کیا ہے؟ اور تم خود وہ کردار بن جاؤ “۔
________________________________________

اچانک کسی نے پیچھے سے میری گردن کے اردگرد اپنے بازو لپیٹ دیے۔ اورگرم جوشی سے بھینچا اور اباجان سے کہا۔“ ابا۔ کھانا تیار ہے۔“
اباجان نے کہا۔ “ تم دونوں جاؤ ۔ میں بھی ہاتھ دھو کر آتا ہوں“
“ میرا تحفہ کہاں ہے؟“۔ سادیہ نے شرارت سے پوچھا
“ وہ اس وقت تمہارے ہاتھ میں ہے“۔ میں نے ہنس کر کہا۔
“ ماں“۔ سادیہ پورے پھیپڑوں کا زور لگا کر چیخی ۔
“ ارے ارے وہ تمہارے کمرے میں ہے“۔

 
Top