حرمتِ رسول ﷺ

جاسم محمد

محفلین
بالفرض اگر تمام مسالک کا اس بات پر اجماع بھی ہو کہ ایک گستاخِ رسول کی سزا موت ہے اور اسے توبہ یا اصلاح کا کوئی موقع نہیں دیا جا سکتا، تو پھر بھی ایسا کرنے کا اختیار صرف اور صرف قانون نافذ کرنے والوں اداروں کےپاس ہی ہونا چاہیے۔
زبردست۔ پوری تحریر کا نچوڑ اس ایک جملے میں ہے۔ ملک کا آئین و قانون ہر حال میں سپریم ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی بھی بنیاد پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
 

سیما علی

لائبریرین
عشق رسول پاک ﷺ سچے اور پکے مومن اور مسلمان کی معراج ،پہچان اور نشانی ہے۔ غازی علم دین شہید کا شمار بھی ان ہی عاشقان رسول میں ہوتا ہے۔۔دوسری طرف خالد خان
نے کمرۂ عدالت میں فائرنگ کرکے ملزم کو قتل کردیا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔پھر بھی خیبر پختونخواہ کے مذہبی حلقو ں نے پشاور میں
خالد خان کے حق ریلیاں نکالیں اور گستاخ رسولﷺ کی رہائی۔ کا مطالبہ کیا ہے ۔یہاں میں صرف یہ کہنا بہتر سمجھتی ہوں کہ اس بحث کو یہیں تمام کیا جائے کیونکہ اپنی ناقص علمی کو تسلیم کرتے ہوئے بحث کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی۔۔۔اللہ مجھےایمان کے اس کمزور درجہ پر بھی قائم رکھے تو میری بقا ہے اور پروردگار ہمارا خاتمہ بالخیر اور ایمان پر کرے۔۔۔۔آمین الہی آمین


بحث کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس پر سوچیں اور غور کریں کہ ان تمام کیسز میں علم دین کی مثال کیوں سامنے آتی ہے[/QUOTE]
درست کہا آپ نے :)
 

سیما علی

لائبریرین
زبردست۔ پوری تحریر کا نچوڑ اس ایک جملے میں ہے۔ ملک کا آئین و قانون ہر حال میں سپریم ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی بھی بنیاد پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
بالکل درست ،کسی کو بھی قانون ہاتھ لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔۔۔۔۔۔
 
Top