حدیث عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے میں چھپے کئی راز

Ahsan Ahmad

محفلین
عورت کی ٹیڑھی پسلی والی حدیث میں پوشیدہ حکمت ہمیں بہت پسند ہے ، اس لیے اس پر ایک مضمون نقل کر ہے ہیں امید ہے پڑھنے والوں کو پسند آئے گا ۔۔

۔۔۔۔۔

ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے جو امع الکلم عطا کئے گئے ہیں۱۳؎ یعنی مجھے اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے وہ طاقت اوروہ حکمت عطا فرمائی ہے کہ میرا کلام باوجود مختصر ہونے کے وسیع ترین معانی کاحامل ہوتا ہے اور میرے مونہہ سے نکلے ہوئے چھوٹے چھوٹے کلمات بھی بڑے بڑے علوم کا خزانہ ہوتے ہیں۔ آپ کا یہ دعویٰ ایک خالی دعویٰ نہیں ہے جو مونہہ سے نکل کر ہوا میں پہنچتا اور ختم ہوجاتا ہے بلکہ ہر شخص جو آپ کی زندگی اور آپ کے کلام کا مطالعہ کرے گا وہ اس دعویٰ کی صداقت کو اپنے دل کی گہرائیوں میں یوں اترتے دیکھے گا۔ جس طرح کہ ایک مضبوط فولادی میخ ایک لکڑی کے تختہ کے اند داخل ہوکر اس کے ساتھ ہمیشہ کے لئے پیوست ہوجاتی ہے۔ خاکسار راقم الحروف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وسوانح کا کسی قدر مطالعہ کیا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جب کبھی بھی آپ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی باتوں پر نظر ڈالی ہے تو خواہ آپ نے کوئی بات کیسی ہی سادگی اور کیسی ہی بے ساختگی کے ساتھ فرمائی ہوئی میں نے اس پر نظر ڈالتے ہی اسے علم کا ایک ایسا عظیم الشان سمندر پایا ہے جو اپنی حدود کی وسعت اور اپنے تموج کی رفعت میں یقیناً دنیا کے پردے پر اپنی نظیر نہیں رکھتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول صنف نازک کے متعلق
اس وقت میں نہایت اختصار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قول کا ذکر کرتا ہوں جو آپ نے بنی نوع انسان کی صنف نازک یعنی عورت کے متعلق ارشاد فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ہی میں مختصر طور پر آپ کی بعض دوسری حدیثوں پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ کے اس سلوک کا بھی ذکرکروں گا جو آپ نے جذباتی رنگ میں اس صنف لطیف کے ساتھ فرمایا۔ عورت کی فطرت کا نقشہ کھینچتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
’’وَاسْتَوْ صُوا بِالنَّسائِ خَیْرًا، فَاِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَاِنَّ اَعْوَجَ شَئیٍ فِی الضَّلَعِ أَعلَاہٗ، فَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہُ کَسَرْتَہُ ،وَ ان تَرَ کْتُہُ لَمْ یَزَ لْ أَعْوَجَ ،فَاسْتَوْصُوابِالنِّسَائِ خَیْرًا۔۱۴؎
یعنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو کیونکہ عورتیں ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ۔ یعنی ان کی فطرت میں کسی قدر ٹیڑھاپن رکھا گیا ہے اور ایک ٹیڑھی چیز کا سب سے اونچا حصہ وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ ٹیڑھاہوتا ہے۔ اس صورت میں اگر تم اس کے اس ٹیڑھے پن کو سیدھا کرنے کے درپے رہو گے تو چونکہ یہ کجی عورت کی فطرت کا حصہ ہے، تم اسے سیدھا تو نہیں کر سکو گے البتہ اسے توڑ کر ضرور رکھ دو گے۔ اور اگر تم اسے بالکل ہی اس کی حالت پر چھوڑدو گے تو ظاہر ہے کہ وہ ہر حال میں ٹیڑھی ہی رہے گی۔ ان حالات میں میری تمہیں یہ نصیحت ہے کہ عورتوں کے اس ٹیڑھے پن کی قدر و قیمت کو سمجھو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرواور اگر ان کا ٹیڑھا پن حداعتدال سے بڑھنے لگے تو اس کی مناسب طور پر اصلاح کرو‘‘
عورت کی فطرت کا عجیب و غریب نقشہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام جس کا میں نے اس جگہ آزاد ترجمہ کیا ہے، عورت کی فطرت کا ایک ایسا عجیب و غریب نقشہ پیش کرتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے لطیف تر اور اس سے زیادہ دلکش اور پھر اس سے زیادہ مختصر نقشہ ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس پر نظر جماتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس تصویر نے جو بعض پردوں میں لپٹی ہوئی ہے ایک زندہ صورت اختیار کر لی ہے اور پھر اس کے پردے ایک ایک کر کے اُٹھنے شروع ہوتے ہیں اور ہر پردہ کے اُلٹنے سے ایک بالکل نیامنظر آنکھوں کے سامنے آنے لگتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے یعنی اس کی فطرت میں بعض ایسی کجیاں رکھی گئی ہیں جو گویا اس کی ہستی کے ساتھ لازم و ملزوم کے طور پر ہیں۔ اس کی ان کجیوں اور اس ٹیڑھے پن کو اس سے جدا کر لو تو پھر عورت عورت نہیں رہے گی کیونکہ یہ ٹیڑھا پن اس کی فطرت کا حصہ اور اس کے پیدائشی خط وخال کا جزولا ینفک ہے۔ پس اگرتم عورت کو عورت کی صورت میں دیکھنا چاہو تو تمہیں لازماً اس کے فطری ٹیڑھے پن کو بھی قبول کرنا ہوگا۔
لطیف مضمون
اب غور کرو کہ یہ ایک کیسا لطیف مضمون ہے جو آنحضرت صلے اﷲ علیہ وسلم نے ان مختصر مگر عجیب،وغریب الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ ’’عورت ٹیٹرھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے‘‘ ظاہر ہے کہ اس جگہ پیدا ہونے سے یہ مراد نہیں کہ جس طرح ماں باپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے، اس طرح عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے بلکہ عربی محاورہ کے مطابق اس سے یہ مراد ہے کہ عورت کی فطرت میں ٹیڑھا پن داخل ہے جو اس سے جدا نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے خُلِقَ الْاِ نْسَانُ مِنْ عَجَلٍ۱۵؎ ۔ُُُ یعنی انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے، جس سے یہ مراد نہیںکہ جلدبازی کے مواد سے انسان پیدا ہوا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ انسانی فطرت میں جلد بازی کا مادہ ہے۔ اسی طرح ٹیڑھی پسلی سے پیدا سے ہونے سے یہ مراد ہے کہ عورت کی فطرت میں بعض طبعی کجیاں پائی جاتی ہیں جو اس کی طبیعت کا حصہ اور اس کے ساتھ لازم و ملزوم کے طور پر لگی ہوئی ہیں اور اس سے جدا نہیں ہوسکتیں۔ بہر حال ان الفاظ میں فصاحت و بلاغت کا کمال دکھا کر نہایت مختصر صورت میں ایک نہایت وسیع مضمون کو ادا کیا گیا ہے۔
ملوک الکلام
مگر اسی پر بس نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ایک اور عجیب و غریب فقرہ فرماتے ہیں جو گویا اس سارے کلام کی جان ہے۔ فرماتے ہیں:-
’’اِنَّ أَعْوَجَ شَیْئٍ فِی الفَلَّحِ أَعْلَاہُ۔ ۱۶؎
یعنی ایک ٹیڑھی چیز کا وہ حصہ جو سب سے زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے وہی اس چیز میں سب سے زیادہ اونچا ہوتا ہے۔‘‘
یہ عبارت نہ صرف اپنی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے بلکہ اپنے اس عظیم الشان فلسفہ کے لحاظ سے بھی جو ان الفاظ کی گہرائیوں میں مرکوزہے، ملوک الکلام کہلانے کی حقدارہے۔ عورت کے فطری ٹیڑھے پن کا ذکر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ عورت کا یہ ٹیڑھا پن ایک نقص یا کمزوری ہے بلکہ اس کی یہ فطری کجی دراصل اس کے اندر ایک حسن اور خوبی کے طور پر رکھی گئی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جس طرح کہ ایک ٹیڑھی چیز کا سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ ہی سب سے زیادہ اونچا ہوا کرتا ہے مثلاً جب ایک کمان کے سیدھے حصہ کو جس طرف چلّہ ہوتا ہے زمین پر لگا کر کھڑا کریں تو لازماً اس کا سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ ہی سب سے زیادہ اونچا ہوگا…… اسی طرح جو کجی عورت کی فطرت میں رکھی گئی ہے وہ دراصل عورت کا مخصوص کمال اور اس کی انثیت ( یعنی عورت پن) کے حسن کا بہترین حصہ ہے اور یہ مخصوص ’’ٹیڑھا پن‘‘ جتنا جتنا کسی عورت میں زیادہ ہوگا اتنا اتنا ہی وہ اپنی انثیت یعنی جوہر نسوانی میں کامل سمجھی جائے گی ۔یہ وہ ابلغ اور ارفع فلسفہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖزوسلم کے ان مختصرا لفاظ میں جو اوپر درج کئے گئے ہیں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
صنف نازک کا کمال
اگر اس جگہ کسی شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ عورت کے اس ٹیڑھے پن سے وہ کونسی چیز مراد ہے جو اس کی انثیت کا کمال قرار دی گئی ہے تو ہر عقلمند انسان آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اس ٹیڑھے پن سے اس کی طبیعت کا جذباتی عنصر مراد ہے جو ایک عجیب و غریب اندازمیں ظاہر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں خالق فطرت نے مرد میں عقل کو غالب اور جذبات کو مغلوب ر کھا ہے وہاں عورت میں یہ نسبت ایک نہایت درجہ حکیمانہ فعل کے نتیجہ میں الٹ دی گئی ہے اور جذبات کو غیر معمولی غلبہ دے دیا گیا ہے اور یہی اس کا فطری ٹیڑھا پن ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ٹیڑھی پسلی کی پیدا وار قراردے کر فرماتے ہیںکہ یہ ٹیڑھا پن صنف نازک کا کمال ہے
عورت میں ٹیڑھا پن رکھنے کی وجہ
اب سوال ہوتا ہے کہ یہ ٹیڑھا پن عورت کے اندر کیوں رکھا گیا ہے۔ اس کا جواب خود قرآن شریف دیتا ہے جو ساری حکمتوں کا منبع اور ماخذ ہے فرماتا ہے:
’’خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓااِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً۔۱۷؎
یعنی خداتعالیٰ نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس میں سے تمہاری بیویاں بنائی ہیں تاکہ تم ان سے دل کی سکینت حاصل کر سکو اور اﷲ تعالیٰ نے اس رشتہ کو تمہارے لئے محبت اور رحمت کا ذریعہ بنایاہے ۔‘‘
یہ وہ حکمت ہے جس کے ماتحت خالق فطرت نے عورت میں جذبات کے عنصر کو غلبہ دے کر اسے مرد کی قلبی سکینت اور اس کی فطری محبت کی پیاس کے بجھانے کا ذریعہ بنایا ہے اور ظاہر ہے کہ جذبات کے ساتھ ٹیڑھا پن لازم و ملزوم کے طور پر ہے یعنی جہاں عقل عموماًسیدھے رستہ پر چلتی ہے وہاں جذبات میں ایک قدرتی ٹیڑھا پن ہے جس کے بغیر جذبات کی نزاکت اور ان کے بانکپن کا اظہار قطعاً ناممکن ہے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام ایک عظیم الشان حکمت اور فلسفہ کا حامل ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔
جذباتی سکینت کی ضرورت
اس جگہ آکر ایک اور سوال اٹھتا ہے اور وہ یہ کہ مرد کو اس قسم کی سکینت کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی حکیم ہستی نے انسان کو ایسی فطرت پر بنایا ہے کہ جب وہ اپنی گوناگوں ذمہ دار یوں میں گھر کر اور ان کے بوجھوں کے نیچے دب کر تکان محسوس کرتا اور تھک جاتاہے تو جس طرح خدا نے جسمانی لحاظ سے انسان کے لئے نیند کا انتظام مقرر کر رکھا ہے، اسی طرح اس کی روح کے اندر جذبات کی پیاس بھی رکھ دی گئی ہے اور اس قسم کی تکان اور کوفت کے لمحات میں وہ اپنی پیاس کو بجھا کر پھر اپنے کام کے لئے تازہ دم ہوجاتا ہے ورنہ اس کی نازک اور بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ اسے ہر وقت یکساں دبائے رکھے اور آرم اور سکون کا کوئی لمحہ بھی اسے نصیب نہ ہو تو یقینا اس کی ہستی کی مشین چنددن میں ہی ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جائے۔ پس جہاں خدا تعالیٰ نے انسان پر دینی اور دنیوی میدان میں بھاری ذمہ داریاں لگائی ہیں، وہاں اپنی ازلی حکمت اور رحمت کے نتیجہ میں اس کے اندر بعض خاص قسم کے جذبات پیدا کر کے اس کی دماغی تکان اور کوفت کے دور کرنے کا سامان بھی مہیا کر دیا ہے جو گویا جسمانی نظام میں نیند کے مشابہ ہے جو جسم کی طاقتوں کو بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ اس جگہ میری مراد جذبات سے شہوانی جذبات نہیں گو شہوانی جذبات کو بھی میں اصولاً بُرا نہیں کہتا کیونکہ وہ بھی انسانی فطرت کا حصہ ہیں اور اگر وہ جائز حدود کے اندر رہیں تو ان میں کوئی بُرائی نہیں بلکہ وہ بعض اہم فطری ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ ہیں مگر اس جگہ میری مراد محبت کے جذبات ہیں جو زخم خوردہ یا تھکے ہوئے دلوں کو سکینت پہونچانے میں عجیب قسم کا قدرتی خاصہ رکھتے ہیں گویا ان کے ذریعہ قدرت نے ایک زخمی اور دکھتی ہوئی جگہ پرمسکن اور ٹھنڈی مرہم کا پھایہ لگادیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ جیسی جیسی کسی انسان کی ذمہ داریاں زیادہ بھاری اور زیادہ نازک ہوں گی، اتنی ہی اسے اس قسم کی جذباتی سکینت کی زیادہ ضرورت ہوگی۔ دنیا کے نادان اور بے عقل لوگوںنے غور نہیں کیا اور اپنی بے سمجھی سے خدا کے پیارے بندوں کو اعتراض کا نشانہ بنایا ہے کہ انہیںبیویاں کرنے اور بیویوں کی محبت سے متمتع ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بے و قوف لوگ اس لطیف حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ دراصل قانون فطرت کے ماتحت یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اس قسم کی سکینت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ان لوگوں کے سپرد بہت بھاری ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور جب وہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تھک کر چور ہوجاتے ہیں اور ان کی محدود انسانی طاقت ان کے فرایض منصبی کے بوجھ کے نیچے دب کر گویا ٹوٹنے لگتی ہے تو ایسے اوقات میں انہیں تھوڑے سے وقت کے لئے جذباتی تسکین کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پس ان اوقات میں وہ اپنے اہل وعیال کے پاس بیٹھ کر قلبی سکون حاصل کرتے ہیں اور پھر تازہ دم ہوکر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ان حالات میں اگر غور کیا جائے تو دراصل اس قسم کی سکینت کی ضرورت ہی ان لوگوں کو ہوتی ہے جو بھاری ذمہ داریوں کے نیچے دبے ہوتے ہیں۔ اور اس کے مقابل پر عام لوگوں کو جوبے سمجھی سے اس جذباتی سکینت کو ہی اصل زندگی سمجھنے لگتے ہیں اس کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ایک طرف تو ان پر ایسی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا جوانہیں تھکاکرچورکردیں اور دوسری طرف وہ زندگی کی اصل غرض وغایت کی طرف سے غافل ہوکر ہروقت جذباتی ماحول میں ہی غرق رہتے ہیں۔ گویا وہ تسکین جس کا حق انسان کو تکان کے اوقات میں پیدا ہوتا ہے وہ اِن لوگوں کے لئے ہروقت کا مشغلہ ہوتی ہے مگر اُن لوگوں کا حال جن پر بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے بالکل جداگانہ رنگ رکھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیث میں آتا ہے اور اس حدیث کا ذکر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی ایک ڈائری سے ملا ہے کہ بعض اوقات جب آپ اپنے فرائضِ نبوت کی بھاری ذمہ داریوں میں تھک کرچور ہوجاتے تھے اور جسمانی قویٰ گویا ٹوٹنے کی حدتک پہونچ جاتے تھے تو آپ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لاکر فرماتے تھے۔ اریحینایاعائشۃ۱۸؎ ’’یعنی آئو عائشہ اس وقت ہمیں کچھ راحت پہونچائو‘‘ اور پھر تھوڑی دیر اپنی ازواج کے ساتھ محبت وپیار کی باتیں کرکے دوبارہ اپنے تھکادینے والے کام میں مصروف ہوجاتے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم گھر میں کس شان سے تشریف رکھتے مگر یہ گھر میں بیٹھنا بھی کس شان کا ہوتاتھا۔ اس کی تھوڑی سی جھلک ذیل کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے حدیث میں آتا ہے:-
’’قَالَتْ عَائِشۃَ رَضِیْ اللّٰہُ عَنْہَا کَانَ رَسُوْلٌ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَدِثُنَاوَنُحَدِّثُہُ فَاِذَاحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَکَاَنَّہُ لَمْ یَحْرِ فْنَاوَلَمْ نَعْرِفْہُ۔ ۱۹؎
یعنی حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لاکر اپنی ازواج کے ساتھ محبت کی باتوں میں مصروف ہوتے۔ آپ ہم سے باتیں کرتے اور ہم آپؐ سے باتیںکرتیں۔ مگر جونہی کہ اذان کی آواز کان میں پڑتی اور آپؐ یہ سمجھتے کہ میرے خدا نے مجھے بلایا ہے تو اس وقت ہمیں چھوڑ کر یوں اٹھ کھڑے ہوتے کہ گویا آپ ہمیں پہچانتے تک نہیں‘‘
اللہ اللہ! اللہ اللہ!! یہ وہ پاک اور مقدس زندگی ہے جس پر دنیا کے اوباش لوگ تعیش اور شہوت پرستی کا الزام لگاتے ہیں۔ خود ہزاروں لاکھوںگندوں میں مبتلا اور دن رات تعیش اور شہوت پرستی کے شغل میں مصروف اور اس تقدس وطہارت کے مجسمہ پر اعتراض جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمتِ دین اور خدمتِ خلق میں گزرتا تھااور جو اپنی اہلی زندگی سے اس سے زیادہ متمتع نہیں ہوتا تھا جتنا کہ ایک دھوپ میں چلنے والا مسافر جس کی منزل دور ہو دھوپ اور تکان کی شدّت سے چور ہوکر ایک گھڑی بھر کے لئے کسی درخت کے سایہ میں کھڑا ہوجاتا ہے۔ اور چند منٹ کے آرام کے بعد پھر کمر کس کر اپنے لمبے اور پُرمشقت سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہے اور جتنی دیر وہ درخت کے سایہ کے نیچے آرام کرتا ہے وہ وقت بھی اس کا اسی انتظار میں گزرتا ہے کہ کب قافلہ کی گھنٹی بجتی ہے اور کب مجھے اٹھ کر اپنا رستہ لینا پڑتا ہے۔۔۔۔

خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث جس میں عورت کو ٹیڑھی پسلی کی پیداوار قرار دیا گیا ہے اور پھر اس ٹیڑھے پن کو اس کی صنف کا کمال بتایا گیا ہے۔ ایک نہایت عجیب وغریب حدیث ہے۔ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی شان کا نہایت نمایاں ثبوت ملتا ہے۔ اور اس لطیف فلسفہ پر جو صنف نازک کی نفسیات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ایک ایسی لطیف روشنی پڑتی ہے جو کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔ اور کمال یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سارا مضمون صرف چندمختصر الفاظ میں ادا فرمادیا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت
مگر یہ لطیف حدیث صرف اس جگہ ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ اس فلسفہ کے میدان میں ہمیں اور آگے لے جاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:-
’’فَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہُ کَبَرْتَہُ، وَاِن تَرَکْتُہُ لَمْ یَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوْابِالِنّسَائِ خَیْرًا۔۲۱؎
یعنی جب کہ یہ ٹیڑھا پن جو جذبات کے غلبہ سے تعلق رکھتا ہے عورت کی فطرت کا حصہ ہے جو اس سے جدا نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہی ٹیڑھا پن صنف نازک کا کمال ہے۔ تو پھر اگر تم اسے سیدھا کرنے کے درپے ہوگے۔ تو لامحالہ وہ سیدھا تو ہرگز نہیں ہوگا ہاں فطرت کے خلاف دبائو پڑنے سے وہ ٹوٹ ضرور جائے گا۔ لیکن اگر اس کے مقابل پر تم عورت کو اس کی حالت پر بالکل ہی آزاد چھوڑ دو گے تو اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ وہ ہر حالت میں ٹیڑھی ہی رہے گی۔ پس تمہیں چاہیئے کہ ایک طرف تو عورت کے اس فطری ٹیڑھے پن کی قدروقیمت کو پہچانو اور اس سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھائو اور دوسری طرف اس بات کی بھی نگرانی رکھو کہ عورت کا یہ ٹیڑھا پن ہر وقت اس کے گلے کا ہار نہ بنارہے بلکہ جذبات کے ساتھ ساتھ عقل کی روشنی بھی قائم رہے اور تمہیں چاہیئے کہ بہرحال تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ وہ ایسے عناصر کامرکب ہیں جن میں دونوں طرف غلطی کا اندیشہ رہتا ہے۔‘‘
ان الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ وہ اس معاملہ میں فطرت کے دو انتہائی نقطوں میں سے درمیانی رستہ اختیار کریں۔ یعنی چونکہ عورت کا فطری ٹیڑھا پن جو اس کی صنف کا کمال ہے۔ انسان کی بہتری کے لئے رکھا گیا ہے۔ اس لئے آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھائو اور اس کے ذریعہ حسب ضرورت اور حسب موقع عورت کے جذبات میں سکینت اور محبت کی راحت حاصل کرو۔ مگر دوسری طرف چونکہ انسان بالعموم انتہاء کی طرف جھک جانے کا عادی ہوتا ہے۔ اس لئے اگر کوئی عورت صرف جذبات کا کھلونا بن کر ہی زندگی گزارنا چاہے اور ہر حالت میں ٹیڑھا پن ہی ظاہر کرے تو پھر تم اسے بالکل آزاد ہی نہ چھوڑدو بلکہ اس کے جذبات کے دھندلکے میں عقل کی شعاع میں ڈال کر مناسب اصلاح کی کوشش کرتے رہو۔ تاکہ ایک ہی طرف کا ناگوار غلبہ ہوکر دوسری طرف کو بالکل ہی نسیاً نسیاً نہ کردے۔ اور جذبات کے فطری غلبہ کے باوجود مناسب اعتدال کی حالت قائم رہے۔
یہ اس عجیب وغریب حدیث کی مختصر سی تشریح ہے جس کے ایک حصہ کا ترجمہ میں نے مضمون کے عنوان میں درج کیا ہے۔ اور اب ناظرین خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ چھوٹی سی حدیث کتنے وسیع معانی اور کتنے لطیف مفہوم پر مشتمل ہے۔ مگر افسوس ہے کہ میں اس مضمون میں اس حدیث کی پوری پوری تشریح نہیں کرسکا اور متعدد حدیثوں میں سے جو میں نے اس مضمون کے لئے نوٹ کی تھیں صرف ایک ہی حدیث درج ہوسکی ہے۔ اور اس کی بھی مکمل تشریح نہیں ہوسکی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی میں نے یہ مضمون لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ مجھے کچھ دل کی تکلیف شروع ہوگئی اور مضمون لکھنا مشکل ہوگیا۔ اس لئے میں نے جلدی جلدی چند سطور لکھنے پر اکتفا کی ہے لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ اگر ناظرین کرام ان چند سطور کو غور سے مطالعہ کریں گے تو وہ سمجھ جائیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کا کلام نہ صرف فصاحت وبلاغت بلکہ معانی کی دولت سے کس درجہ معمور ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے پُرحکمت کلام کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین یارب العالمین
 
آخری تدوین:
Top