حجاب میری شناخت ہے۔۔۔

مہوش علی

لائبریرین
ایران میں حکومتی سطح پر پردہ کرایا جاتا ہے، اور بلا تفریق مسلم اور غیر مسلم خواتین کو کروایا جاتا ہے۔
مجھے انتہائی اختلاف ہے۔
اس لیے اس تھریڈ کو پھر سے تازہ کر رہی ہوں۔

اس سلسلے میں پہلے میں دو مراسلے اس تھریڈ میں پوسٹ کر چکی ہوں جو کہ آپ یہاں پر پڑھ سکتے ہیں۔

پردہ کا تعلق شرم و حیا یا معاشرے کے بگاڑ اور فحاشی سے نہیں ہے

یہ بالکل غلط دعوی کیا جاتا ہے کہ پردہ کا تعلق شرم و حیا سے ہے اور اگر کسی معاشرے میں خواتین کو پردہ نہ کروایا جائے تو اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
میں پہلے بیان کر چکی ہوں کہ اسلام میں پردہ کا حکم فقط ایک چیز کے لیے آیا تھا، اور وہ تھا "آزاد عورت کا تحفظ"
یہ چیز سننے میں کچھ عجیب ہے، مگر بہرحال حقیقت ہے۔

قرآن کی آیت یہ ہے:۔
[القرآن 33:59] اے نبی کہو! اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور اہلِ ایمان کی (آزاد) عورتوں سے کہ وہ لٹکالیا کریں اپنی چادر ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور (کنیز باندیاں سمجھ کر) نہ ستائی جائیں اور ہے اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا۔


اس آیت کی تفسیر میں تمام مفسرین ہی متفق ہیں کہ اُس زمانے میں جب عورتیں شام کو گھروں سے رفع حاجت وغیرہ کے لیے نکلتی تھیں، تو راستے پر بیٹھے مرد آوازیں لگاتے تھے۔ (عجیب چیز لگتی ہے، مگر سب نے یہی لکھا ہے)۔ چنانچہ "آزاد عورت" کے تحفظ کی خاطر فقط اور فقط یہ چادروں کا حکم نازل ہوا تاکہ راستے میں بیٹھے مرد "آزاد عورت" اور "کنیز باندی" میں فرق کر سکیں اور کسی آزاد عورت کو ستانے سے باز آئیں۔


اسلام میں "کنیز باندی" کے لیے سرے سے کوئی پردہ اور حجاب نہیں ہے

آج کے دور کے مسلمانوں کو اس بات کا علم نہیں ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی تیرہ سو سالہ تاریخ میں "کنیز باندی" کے لیے سرے سے کوئی پردہ یا حجاب تھا ہی نہیں۔
چنانچہ جو لوگ دعوی کرتے ہیں کہ پردے کا تعلق "شرم و حیا" اور "معاشرے میں فحاشی" روکنے سے ہے، وہ اپنے اس دعوے میں مکمل طور پر غلط ہیں۔

اگر واقعی ان لوگوں کا دعوی سچ مان لیا جائے، تو پھر الٹا دین اسلام پر الزام عائد ہو گا کہ یہ دین فحاشی و بے حیائی کا مذہب ہے اور یہ کنیز باندیوں کو بغیر حجاب کے رکھ کر معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی پھیلاتا ہے۔

چنانچہ، پہلے ان لوگوں کو اپنے اس دعوے سے تائب ہونا چاہیے، وگرنہ یہ اسلام کو بے حیائی کا مذہب بنوا دیں گے۔

اسلام میں شرم و حیا کی بنیادی کسوٹی "نظروں" کا نیچا رکھا جانا ہے

جی ہاں، شرم و حیا کی بنیادی کسوٹی "نظروں" نیچا رکھا جانا ہے، اور اسکا حکم مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔

[القرآن 24:31] آپ (آزاد) مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے خمار (ڈھانپنے کا کپڑا) اپنے گریبانوں پر ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا عورتوں یا اپنے غلاموں کے یا مردوں میں سے وہ نوکر جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ پوشیدہ کئے ہوئے ہیں۔


بہرحال، کنیز عورت کے معاملے میں پھر مسئلہ ہے، اور وہ یہ کہ کنیز عورت کے معاملے میں نظریں نیچی رکھنے کا حکم نہیں ہے، بلکہ یہ بھی صرف آزاد عورت کے لیے مختص ہے۔

غیر مسلم خواتین کو جبری پردہ کیوں؟

مسلم خواتین پر حکومتی سطح پر جبری پردہ عائد کرنا تو پھر کسی طرح بات کچھ سمجھ آ سکتی ہے، مگر یہ بتلائیں کہ "غیر مسلم" خواتین پر اسلامی حکومتیں کیوں جبری پردہ نافذ کر رہی ہیں؟ چاہے یہ ایران ہو، یا سعودیہ، یا پھر طالبان کا افغانستان۔
یہ لوگ اپنے اس فعل کی واحد دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگرچہ "غیر مسلم خواتین" کا دین انہیں پردہ کرنے پر مجبور نہیں کرتا، مگر اسلامی ریاست میں اس لیے ان سے جبری پردہ کروایا جائے گا کیونکہ نہ کرنے کی صورت میں معاشرے میں فحاشی اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
یہ عجیب و غریب منطق ہے۔
اگر تیرہ سو سال تک اسلامی ریاست میں کنیز باندیوں کے پردہ نہ کرنے سے فحاشی نہیں پھیلی تو پھر آج ان غیر مسلم خواتین کے پردہ نہ کرنے سے کیسے پھیل سکتی ہے؟
ملا حضرات کو بہرحال اس سوال کا جواب دینا ہو گا۔
اگر یہ انکی اپنی طرف سے بنایا گیا "نیا بدعتی قانون" ہے تو مجھے اس سے شدید اختلاف ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
ایران میں حکومتی سطح پر پردہ کرایا جاتا ہے، اور بلا تفریق مسلم اور غیر مسلم خواتین کو کروایا جاتا ہے۔

سعودی عرب میں بھی حکومتی سطح پر پردہ کرایا جاتا ہے۔ ایران میں تو پھر چہرہ کھلا رکھا جاتا ہے جبکہ یہاں کچھ علاقے ایسے ہیں کہ چہرہ تو کیا ہاتھ یا پاؤں کی انگلیاں تک ننگی نظر نہیں آنی چاہییں۔
 
چودہ سو تیس سال گذرنے کے بعد بھی ہم اس بحث وتمحیص میں‌لگے ہیں کہ چہرے کا پردہ ہے یا نہیں‌؟؟!!
جس کو ماننا ہے وہ مانے گا جس کو نہیں‌ماننا وہ نہیں‌مانے گا
میرا ذاتی خیال ہے کہ اس موضوع کو زیادہ طول دینے کی ضرورت نہیں‌ہے

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں‌ہے کہ میں‌پردے کے حکم کو نہیں‌مانتا
پردے کے حکم پر میرا کامل ایمان ہے اور یہ عین انسانی فطرت کے مطابق ہے

وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٥٥﴾ سورة الذارياتاور نصیحت کرتے رہیے۔ کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کو فائدہ دیتی ہے۔
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
سیدنا تمیم داری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین خیر خواہی کا نام ہے، ہم نے عرض کیا کس چیز کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے ائمہ کی، اور تمام مسلمانوں کی۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 198
 
وطنِ عزیز پاکستان میں میڈیا (ٹی وی چینلز ۔ اخبارات ۔ رسائل) ریٹنگ کی اندھی دوڑ میں حقائق پر پردہ ڈال کر ناظرین یا قارئین کو من گھڑت مفروضوں پر لگائے ہوئے ہیں ۔ ان کی مَن پسند خبر یا رپورٹ مل جائے تو درجنوں بار دکھائی جاتی ہے اور مذاکروں میں بھی اس کا بار بار ذکر ہوتا ہے ۔ ایسے مذاکرات کیلئے ڈھونڈ ڈھونڈ کر جانبدار لوگ لائے جاتے ہیں جو حقائق کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ۔ اشتہار ہوں ۔ اپنے ترتیب دیئے پروگرام یا کالم ہوں ۔ مذاکرے ہوں حتٰی کہ خبریں ہوں ننگ دھڑنگ یا لہراتی عورت کو دکھانا تعلیم و ترقی کی علامت بنا دیا گیا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کا کام فحاشی پھیلانا ہے ۔ میڈیا پرچار کرتا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عورت کیلئے پردہ ایک قید ہے اور پاکستانیوں کی اکثریت اسے رَد کر چکی ہے اور صرف چند جاہل پردے کے حق میں ہیں
پاکستان کا میڈیا جسے کسی ادارے کی بھی چھوٹی سے چھوٹی رپورٹ مل جاتی ہے وہ بڑے طمطراق سے نشر کی جاتی ہے چاہے وہ مستند بھی نہ ہو یا وہ ادارہ ہی غیرمعروف ہو ۔ مگر یہ میڈیا امریکا سے تعلق رکھنے والے پِیئُو تحقیقی مرکز (Pew Research Center) جس کی رپورٹس کو عمومی طور پر دنیابھر میں اہمیت دی جاتی ہے کی ایک اُس حالیہ رپورٹ کو پی گیا جس میں پردے کا ذکر ہے ۔ نہ ٹی وی چینلز ، نہ اخبار ، نہ کسی رسالے نے اس کا ذکر کیا کیونکہ یہ سروے رپورٹ ان کے جھوٹ کو پول کھول رہی ہے
پِیئُو تحقیقی مرکز کی اس سروے رپورٹ جو 7 مسلم ممالک (پاکستان، مصر، سعودی عرب، ترکی، عراق، لبنان اور تیونس) میں پردے کے سلسلہ میں ہے کے خلاصہ کا عکس ملاحظہ ہو

اس سروے نے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی اسلام اور اسلامی شعائر سے محبت کو ثابت کر دیا ہے
سورت 24 النّور آیت 31
اور اے نبی ۔ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور وہ اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ۔ وہ اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں سوائے شوہر یا باپ یا شوہروں کے باپ اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا بھتیجے یا بھانجے کے یا اپنی میل جول کی عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے ۔ اور نہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی چلا کریں کہ ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حُکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں ۔ اے مومنو ۔ تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرو ۔ توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے

http://www.theajmals.com/blog/2014/01/زبان-زدِ-عام-؟-اور-حقیقت-؟/
 
کوئی پہلے یہ تو بتائے کہ جس پر بحث ہورہی ہے وہ والا حجاب ہے کیا ؟؟؟ نمبر 1 سے نمبر 6 تک کونسا والا حجاب، حجاب کہلاتا ہے؟

اللہ تعالی نے کس خاتون محترم کو سب سے برگزیدہ قرار دیا ؟
3:42 اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے

کیا ان خاتون محترم کو برگزیدہ ترین مسلمان خاتون قرار دیا جاسکتا ہے ؟ اگر اللہ تعالی حضرت مریم علیھا السلام کوسب سے برگزیدہ قرار دیتے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے کہ اس پر ہم اعتراض کریں؟

حضرت مریم علیھا السلام کی تصاویر نیٹ پر بہت ساری ہیں ۔۔ ان کی کوئی تصویر ، نمبر ایک سے نمبر 6 تک کی اپنی پسند کی پیش کریں۔

ان تصاویر میں خاتون محترم کا سر ڈھانپنے کا انداز۔ ان کی جلب (جلابیب) یعنی بیرونی لباس کا انداز سب واضح ہے

جب رب کریم اللہ تعالی نے واضح ہدایت فراہم کردی ہے تو پھر بحث کیسی؟
 
آخری تدوین:

حسیب

محفلین
حضرت مریم علیھا السلام کی تصاویر نیٹ پر بہت ساری ہیں ۔۔ ان کی کوئی تصویر ، نمبر ایک سے نمبر 6 تک کی اپنی پسند کی پیش کریں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ تصاویر کہاں سے آئیں؟؟؟ کیا اُس وقت کیمرہ موجود تھا؟؟؟
کیا پروف ہے کہ وہ اصلی تصاویر ہیں؟؟
 

گلزار خان

محفلین
ناعمہ بہنا جب کے آپ کی یہ تحریر بہت پرانی ہے لیکن میرا یہاں تبصرہ کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کے جو لوگ پردے سے اختلاف کرتے ہیں کیوں کے تقویٰ کے قریب اور افضل تو یہی ہے کے پردے چہرے کا بھی پردہ ہو کیوں کے چہرہ مرکز ہے ائٹریکش ہے چہرے کو دیکھ کر ہی انسان کو پتہ چل سکتا ہے کے اسکی شخصیت کیا ہے اور شریعت میں پیڑوں کے بھی چھوپانے کا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ عورتیں آئی اور پوچھا کے ہماری چاڈریں اتنی لمبی ہیں کے چلتی ہیں تو غلاظت میں لگ جاتی ہیں کہا کے پیشاب پاخانہ میں لگ جاتی ہیں گندگی ہوتی ہے کیا ہم اوپر اُٹھالیں اپنی چادروں کو تو آپ نے فرمایا نہیں اگر پیشاب پاخانہ بھی ہو تو اس میں سے بھی نہ اٹھاوُ اگر گندگی لگتی ہے تو دھول مٹی میں بھی جائے گا انہوں نے کہا ہاں تو آپ نے فرمایا کے جب دھول مٹی پر لگے گا تو پاک ہو جائے گا اُٹھاو مت اور پیڑوں کا معاملہ یہ ہے تو پھر چہرہ تو سب سے افضل ہوتا ہے وہ کشش اور خوبصورتی کو بتاتا ہے لیکن آج کل پردے کو فیشن بنالیا ہے اور پردے کو جسم چھوپانے اور اور ثواب کی نیت سے نہیں پہنا جاتا ایک صابیہ کا بیان یہاں لکھنا چاہوں گا لیکن نام نہیں پتہ مجھے انکا لیکن واقعہ کچھ یوں ہے کے وہ صحابیہ بیان کرتی ہیں کے کے جب میں ایمان لانے کے لیے نبی کے پاس گئی تو آپ نے مجھے سے بیعت لی وعدہ لیا
1زندگی میں کبھی شرک نہیں کروں گی
2چوری نہیں کروں گی
3زنا نہیں کروں گی
4چھوٹا اولاد کو قتل نہیں کروں غی
5دوسروں کی اولاد کو اپنی اولاد نہیں گراندوں گی
6جہالت کے دور کی طرح تبرج نہیں کروں گی
جہالت کے دور میں جیسے بن تھن سب سور کے عورتین نکلتی تھیں ویسا نہیں نکلوں گی مجھ سے وعدہ لیا تو پھر میرا ایمان قبول کیا
ہمیں اسلام میں پورا داخل ہونے کی ضرورت ہے آج
اللہ مردوں کی نظر میں شرم حیا پیدا کرے اور عورتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے مکمل پردہ کرنے کی ھدایت دےوے
 

جاسمن

لائبریرین
ناعمہ بہنا جب کے آپ کی یہ تحریر بہت پرانی ہے لیکن میرا یہاں تبصرہ کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کے جو لوگ پردے سے اختلاف کرتے ہیں کیوں کے تقویٰ کے قریب اور افضل تو یہی ہے کے پردے چہرے کا بھی پردہ ہو کیوں کے چہرہ مرکز ہے ائٹریکش ہے چہرے کو دیکھ کر ہی انسان کو پتہ چل سکتا ہے کے اسکی شخصیت کیا ہے اور شریعت میں پیڑوں کے بھی چھوپانے کا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ عورتیں آئی اور پوچھا کے ہماری چاڈریں اتنی لمبی ہیں کے چلتی ہیں تو غلاظت میں لگ جاتی ہیں کہا کے پیشاب پاخانہ میں لگ جاتی ہیں گندگی ہوتی ہے کیا ہم اوپر اُٹھالیں اپنی چادروں کو تو آپ نے فرمایا نہیں اگر پیشاب پاخانہ بھی ہو تو اس میں سے بھی نہ اٹھاوُ اگر گندگی لگتی ہے تو دھول مٹی میں بھی جائے گا انہوں نے کہا ہاں تو آپ نے فرمایا کے جب دھول مٹی پر لگے گا تو پاک ہو جائے گا اُٹھاو مت اور پیڑوں کا معاملہ یہ ہے تو پھر چہرہ تو سب سے افضل ہوتا ہے وہ کشش اور خوبصورتی کو بتاتا ہے لیکن آج کل پردے کو فیشن بنالیا ہے اور پردے کو جسم چھوپانے اور اور ثواب کی نیت سے نہیں پہنا جاتا ایک صابیہ کا بیان یہاں لکھنا چاہوں گا لیکن نام نہیں پتہ مجھے انکا لیکن واقعہ کچھ یوں ہے کے وہ صحابیہ بیان کرتی ہیں کے کے جب میں ایمان لانے کے لیے نبی کے پاس گئی تو آپ نے مجھے سے بیعت لی وعدہ لیا
1زندگی میں کبھی شرک نہیں کروں گی
2چوری نہیں کروں گی
3زنا نہیں کروں گی
4چھوٹا اولاد کو قتل نہیں کروں غی
5دوسروں کی اولاد کو اپنی اولاد نہیں گراندوں گی
6جہالت کے دور کی طرح تبرج نہیں کروں گی
جہالت کے دور میں جیسے بن تھن سب سور کے عورتین نکلتی تھیں ویسا نہیں نکلوں گی مجھ سے وعدہ لیا تو پھر میرا ایمان قبول کیا
ہمیں اسلام میں پورا داخل ہونے کی ضرورت ہے آج
اللہ مردوں کی نظر میں شرم حیا پیدا کرے اور عورتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے مکمل پردہ کرنے کی ھدایت دےوے

متفق
کبھی ایک اشتہار چلتا تھا۔
لوگ آپ کا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں۔
 
Top