حالات نے گرایا---

مظفرمحسن

محفلین
حالات نے گرایا میں اٹھ کے چل پڑا--
پھر بھی میری پیشانی پہ کوی نہ بل پڑا--

دیکھا مجھے نگاہ گرای چلے گیے--
میں دیکھتا رھا،محسن کھڑا کھڑا---

---حافظ مظفر محسن----
 

الف عین

لائبریرین
مظفر۔۔ آپ میں تخلیقی سر چشموں کی کمی نہیں لگتی۔ بس تکنیک ذرا سیکھ لیں۔ یوں بھی اس فورم میں محض تعریف ہی کی جائے گی، شعر چاہے کتنا ہی ناموزوں ہو۔۔ ہاں۔ اصلاحِ سخن میں پوسٹ کریں تو احباب مشورے دئ سکتے ہیں۔ یہاں دو ایک مشورے تو دے ہی دوں۔۔ غزل اور نظم میں کیا فرق ہے، اس پر غور کریں۔ دو ایک شعر کی غزل نہیں ہوتی۔ چار مصرعوں کا قطعہ ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں سیکھ لیں اور بتائیں کہ کس تخلیق کو کس زمرے میں رکھا جائے تاکہ بات آگے چلے۔
اب ان دو اشعار کو ہی دیکھیں۔
پہلا شعر لگتا ہے غزل کا مطلع ہے۔ جس میں ردیف ’پڑا‘ ہے اور قوافی ’چل‘ ’بل‘ آ چکے ہیں۔ مزید ممکنہ قوافی ہوں گے۔ نکل۔ بدل، خلل، وغیرہ
لیکن دوسرے شعر میں یہ ’کھڑا کھڑا‘ کہاں سے آگیا؟
اگر بغیر ردیف کے غزل کے اشعار سمجھے جائیں تو قوافی ممکن ہیں کھڑا، پڑا، سڑا، بڑا وغیرہ۔۔ لیکن پھر مطلع غلط ہو جاتا ہے کہ اس کے دونوں مصرعوں میں ایک ہی قافیہ ہے ’پڑا‘۔
میرا مشورہ ہے کہ پہلے خوب پڑھیں اور غور کریں کہ کس شعر میں کیا ردیف اور قافیہ ہے، اور کس فارم میں شاعری کی گئی ہے۔ پابند نظم، معریٰ نظم، آزاد نظم، نثری نظم، غزل، آزاد غزل، قطعہ، رباعی وغیرہ۔ شاعری اور عروض کی کوئی ابتدائی کتاب بھی پڑھنے کی کوشش کریں۔
امید ہے برا نہیں مانیں گے۔ یہ بہتری کے لئے ہی کہہ رہا ہوں۔
 
Top