حافظ حاجی وارث علی شاہ اور سرسید احمد خان

الف نظامی نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 5, 2020

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,822
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    جس زمانہ میں سر سید احمد خاں پر کفر کے فتوے لگائے جا رہے تھے اور مسلمانوں کی اکثریت ان کے خلاف ہو چکی تھی۔ اسی زمانے میں حاجی وارث علی شاہ علی گڑھ تشریف لائے۔ سرسید نے حاجی صاحب قبلہ سے تنہائی میں ملنے کی اجازت چاہی جو منظور کر لی گئی۔ چناں چہ رات گئے سر سید آئے۔ دروازہ پر دستک دی۔ خادم نے اندر سے پوچھا کون؟
    سر سید نے جواب دیا
    شیطان!
    سرکارِ عالی وقار نے فرمایا
    آنے دو
    چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا۔
    سر سید اندر داخل ہوئے جیسے ہی سرکار وارث پاک پر نظر پڑی سرسید اپنے آپ کو سنبھال نہ سکے۔ بیٹھتے ہی سر سید پر گریہ و زاری کا عالم طاری ہو گیا۔ رو کر عرض کرنے لگے کہ
    "لوگ مجھے کافر کہتے ہیں"
    آپ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
    "غلط کہتے ہیں ، سید کبھی کافر نہیں ہوتا"
    اس کے بعد آپ نے سر سید سے تفصیلی طور پر باتیں سنیں اور ارشاد فرمایا
    مجھے انگریزی تعلیم سے اختلاف نہیں مگر محبت ، اخلاص اور طلبِ روحانیت شرط ہے
    (آفتابِ ولایت از پروفیسر فیاض کاوش ، صفحہ 102)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    22,008
    یہ مسلمانوں کی 1400 سالہ تاریخ ہے۔ ہر کام کے بندے کے خلاف علما دین نے کفر کے فتوے صادر کئے تاکہ مسلمان کہیں غلطی سے ترقی نہ کر جائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مسئلہ یہ ہے کہ آج بھی "سکہ بند" مسلمان سر سید احمد خان کو کافر ہی سمجھتے اور کہتے ہیں اس وجہ سے کہ انہوں نے قرآن کی ایک نئی ،مختلف ا ور منفرد تفسیر کر دی تھی جو کہ ظاہر ہے کہ ان کی غلطی تھی لیکن ان کی نیت درست تھی سو میرے نزدیک ان کا درجہ ایک مجتہد کا ہے اور مجتہد کی غلطی بھی صائب سمجھی جاتی ہے اور اس کا اجر مانا جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  4. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,822
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    نیت کا حال اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور علما ء نے تو ظاہر کے مطابق فتوی دینا ہوتا ہے جب کہ صوفیا کی اپروچ مختلف ہوتی ہے وہ گناہ گار سے نفرت نہیں کرتے اور محبت سے اصلاح کرتے ہیں۔

    متعلقہ:
    سرسید اپنے کاغذات "لائل محمڈنز آف انڈیا" میں یہاں تک کہہ جاتا ہے کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اب مسلمانوں میں ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ جیسے غدار وطن اور قوم دشمن افراد پیدا ہونے بند ہوگئے اور میر جعفر اور صادق جیسے محب وطن اور اقوام کے بہی خواہ پیدا ہو رہے ہیں جو سرکار برطانیہ کے وفادار ہیں ، بلکہ اس کے راج کو مستحکم کرنے والے ہیں
    ( بحوالہ :-شمیم احمد مصنف زاویہ نظر صفحہ 33)
     
    آخری تدوین: ‏جون 6, 2020
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بالکل درست بات ہے، وقت نے ثابت کیا ہے کہ سر سید استنجے کے ڈھیلے ڈھونڈنے کے طریقے بتانے والے اسلامی ٹھیکیداروں سے زیادہ کام کے آدمی تھے!
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,822
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    اس بات سے اختلاف کیا جا سکتاہے۔ لیکن اگر آپ صرف سر سید ہی کی افادیت کے قائل ہوں تو
    مشین کا ایک پرزہ ، مشین تو نہیں ہوتا۔ ہر پرزے کی اپنے حیثیت اور جگہ ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 6, 2020
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    22,008
    میرا اس نظریہ سے مکمل اختلاف ہے۔ قرآن کی کونسی تشریح صحیح یا غلط ہے کا فیصلہ یہ بات بات پر فتوے صادر کرنے والے علما دین کیسے کر سکتے ہیں؟
    سر سید احمد خان نے قرآن پاک کی مختلف یا منفرد تشریح کرکے کوئی غلطی نہیں کی۔
     
    • متفق متفق × 1
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,822
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    موجودہ فلسفہ ، نفسیات ، بائیالوجی ، کیمسٹری ، فزکس وغیرہ پڑھنے یا پڑھانے والے کتنے ایسے ہیں جو فکری ظلمات سے محفوظ ہوں۔ اسلام کا نام چھوڑنا یعنی کھلم کھلا اسلام ترک کرنا آسان نہیں تھا تو کسی نے دل کو خوش کرنے کے لئے نیچری مذہب ایجاد کر لیا۔ کسی نے اہلِ قرآن یا پرویزی نام اختیار کیا۔ یہ سب کیوں تھا؟
    معجزات کی عقلی توجیہہ نہیں مل رہی ، فرشتوں کا وجود کیوں کر ثابت کریں۔ حالاں کہ بد نصیب اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکے کہ حقائقِ غیبیہ کا عقل سے ادراک ہمارے بس سے باہر ہے۔ عالم غیب کا تعارف صرف نبی (علیہ السلام) ہی کرا سکتا ہے اور یہ اسی کی منصبی ذمہ داری ہے۔
    ( پروفیسر محمد حسین آسی )
     

اس صفحے کی تشہیر