جیون ساتھی

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
:)

او گاڈ ، شمشاد بھائی اتنا دلچسپ جملہ لکھا ہے کہ میری ہنسی نہیں رک رہی ، آج بوچھی نے فون پر بتایا اس دھاگے کے بارے میں ، تھینکس بوچھی :) بہت دلچسپ خیالات ہیں ، کچھ اراکین نے بہت اچھا لکھا ہے ۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
zzzbbbbnnnn.gif

حلنکہ آجکل میں ایسے آڈر پے بھی تیار نہیں ہوپاتے مشکل ہے ۔
zzzbbbbnnnn.gif



:) :)

:)
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ایک بزرگ لاری اڈے پر بڑی پریشانی کی حالت میں ٹہل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر سے ادھر ۔ادھر سے ادھر۔۔۔۔۔۔۔کسی نے پوچھا محترم آپ انتے پریشان کیوں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟

بابا جی نے کہا:: میری بیوی ہسپتال میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے لازمی سات بجے تک وہاں پہنچنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس شخص نے پوچھا ۔۔با با جی کیا سات بجے کو ئی آپریشن وغیرہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بابا جی نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں پتر ایسی کوئی بات نہیں اب تو وہ نیک بخت ٹھیک ہو گئی ہے ۔ایک دو دن تک گھر آ جائے گی۔۔۔۔۔
تو آدمی نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر آپ کو جلدی کاہے کی ہے ۔آدھا گھنٹہ لیٹ بھی ہو جائیں گے تو کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا جی نے کہا:: پتر مجھے اس کے ساتھ رہتے ہوئے 35 سال ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اللہ نے جس حال میں بھی رکھا اس کا شکر ہے۔۔۔۔۔۔میں نے آٹھ بجے دفتر جانا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔میری بیوی صبح 6 بجے اٹھتی اورنماز پڑھتی اور میرے کھانے (ناشتے)کے فکر میں لگ جاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔35 سال سات بجے ہر روز اس نے مجھے ناشتہ فراہم کیا۔۔۔۔۔کبھی دیر نہیں ہونے دی۔۔۔آج کچھ دن سے وہ بیمار ہے اور ہسپتال میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔35 سال میں مجھے یہ پہلا موقع ہے جب مجھے اس نیک بخت کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔اب میں اسے سات بجے ناشتہ دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم خود سوچو اگر آج مجھے دیر ہو گئی تو میں اپنی نظروں میں خود گر جاوں گا۔۔۔۔۔۔


کتنی اچھی بات ہے !
 

ماوراء

محفلین
تم نے کونسی خوبیاں گنوائی ہیں ۔ جو ڈانٹ پڑگئی ۔:confused:
zzzbbbbnnnn.gif
مذاق کر رہی تھی باجو۔۔! ویسے امی کو تنگ کرنے میں مزہ آتا ہے، اس لیے اکثر ان سے ایسی باتیں کرتی رہتی ہوں۔ ان کے سامنے خوبیاں گنوانا شروع ہی کروں تو امی اٹھ کر چلی جاتی ہیں۔ اور کہتی ہیں کہ خدا کا خوف کروں۔ اتنا اونچا اڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔:laugh:
امی کے خیال میں بس اچھا اور نیک بچہ ہونا چاہیے۔:rolleyes:

سات، آٹھ سال پہلے کی بات ہے، ہماری ٹیچر نے کہا تھا کہ آپ اپنے لائف پارٹنر کو کیسا دیکھتے ہیں، اس کی خوبیاں کیا ہونی چاہیں۔ وہ لکھنا تھا۔ میری کلاس میں ایک لڑکی تھی، اس کی شادی ہوئی ہوئی تھی، اس نے مجھے کہا کہ یہ کاغذ سنبھال کے رکھنا۔ جب تمھاری شادی ہو تو بعد میں دیکھنا کہ لائف پارٹنر ایسا ہی یا اس سے بالکل مختلف۔وہ کاغذ میں نے اب تک سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ :laugh:
 

زینب

محفلین
ویسے پا جی لوگ اپنے دیے ہوئے آرڈر کے انے کے انتظار مین‌ہے تو 35/40 سال کے ہو جاتے ہیں
 

تیشہ

محفلین
مذاق کر رہی تھی باجو۔۔! ویسے امی کو تنگ کرنے میں مزہ آتا ہے، اس لیے اکثر ان سے ایسی باتیں کرتی رہتی ہوں۔ ان کے سامنے خوبیاں گنوانا شروع ہی کروں تو امی اٹھ کر چلی جاتی ہیں۔ اور کہتی ہیں کہ خدا کا خوف کروں۔ اتنا اونچا اڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔:laugh:
امی کے خیال میں بس اچھا اور نیک بچہ ہونا چاہیے۔:rolleyes:

سات، آٹھ سال پہلے کی بات ہے، ہماری ٹیچر نے کہا تھا کہ آپ اپنے لائف پارٹنر کو کیسا دیکھتے ہیں، اس کی خوبیاں کیا ہونی چاہیں۔ وہ لکھنا تھا۔ میری کلاس میں ایک لڑکی تھی، اس کی شادی ہوئی ہوئی تھی، اس نے مجھے کہا کہ یہ کاغذ سنبھال کے رکھنا۔ جب تمھاری شادی ہو تو بعد میں دیکھنا کہ لائف پارٹنر ایسا ہی یا اس سے بالکل مختلف۔وہ کاغذ میں نے اب تک سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ :laugh:




تم نے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی خوبیاں گنوا دی ہونگیں ناں :confused: اسلئیے ڈانٹ سننی پڑگئی ۔ :music:
لائف پارٹنر کا جو کچھ لکھ رکھا ہے کاغذ سنبھالے رکھنا ، شادی کے آٹھ ، نو سال بعد اس کاغذ کو نکال کر چیک کرنا ، :grin::grin:
کیونکہ شروع شروع کے وقتوں میں پتا نہیں چلا کرتا ، یہ لائف پارٹنر کا اصلی روپ ، اور خوبیاں ، خامیاں سب کچھ سات ، آٹھ سال میں گزرنے کے بعد سامنے آتا ہے ۔
اس لئے کاغذ سنبھالے رکھنا ، :music: چاہو تو میرے پاس امانت کے طور پے رکھوا جاؤ
zzzbbbbnnnn.gif
 

تیشہ

محفلین
کم گو ہو (کیوں کہ میں خاصا باتونی ہوں) ، درگزر کرنے والی (کیوں کہ مجھے غصہ بڑی جلدی آتا ہے) ،
بڑی خواہشیں بڑے خواب نہ ہوں (کیوں کہ میں خاصا قناعت پسند ہوں) ، سچ بولتی ہو (کیوں کہ مجھے جھوٹ سے نفرت ہے)
مطالعے کا شوق ہو (تاکہ تحفتاََ صرف کتب ملیں) ، شکی نہ ہو (کیوں کہ شک انسان کے لیئے ایسے ہے جیسے سوکھی لکڑی کے لیئےآگ)
میک اپ اور فیشن کی رسیا نہ ہو (کیونکہ سادگی میرے لیئے سب سے بڑی خوبصورتی ہے) ،
سوپ ڈرامے نہ دیکھتی ہو (مجھے چڑ ہے اس قسم کی چیزوں سے) ، اچھا کھانا بناتی ہو (کیونکہ میں بھی نوڈلز اچھے بنا لیتا ہوں :blush:)

میرا خیال ہے کافی ہیں ۔۔۔۔۔
اتنی خوبیاں بھی مل جائیں تو وہ اس دنیا کی تو نہ ہو گی ۔۔۔۔
پر اگر ہو بھی تو کیا ، ماں باپ کی فرمانبرداری کے جواز پیش کر کے بحیثیت مسلم ایک اہم حق چھین لیا جاتا ہے ۔۔۔
جذباتی طور پر بلیک میل کیا جاتا ہے ، اپنی اولاد کو اپنی انا اور خواہشوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے ۔۔۔۔
ذات برادری ، مرتبہ و حیثیت اور شکل و صورت کا لالچ کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
کیوں بھئی میاں پرنس تسلی ہو گئی آپ کی یا کچھ اور بھی بیان کروں ؟ :)
وسلام




بھانجے :music: ، بیوی نا ہوئی کوئی کٹھ پتلی ہوگئی پھر تو ۔ جو اپنے آپکو آپکی پسند نا پسند میں ڈھالے ۔
 

طالوت

محفلین
بھانجے :music: ، بیوی نا ہوئی کوئی کٹھ پتلی ہوگئی پھر تو ۔ جو اپنے آپکو آپکی پسند نا پسند میں ڈھالے ۔
بوچھی خالہ ! آپ بھی کمال کرتیں ہیں مجھ جیسے نکمے کو ایسی بیوی کہاں ملنے کی ؟ یہ تو بس ایک خواہش تھی بیان کر دی ۔۔ اور ویسے بھی میں شمشاد سے متفق ہوں کہ اسے آڈر پر بنوانا پڑے گا :) ویسے ان میں کوئی قابل اعتراض بات تو نہیں ماسوائے فیشن والی کے ؟ ہیں نا :confused:
وسلام
 

تیشہ

محفلین
ذرا سب ادھر آکر ، مجھے اس سوال کا جواب تو دیں ۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ پاکستان میں تو شادی سے پہلے بیوی کی جھلک تک نہیں دیکھنے کی اجازت :confused: ۔ بات کرنا تو بہت دُور کی بات ہے ۔ تو جب سب کے رشتے طے ہوتے ہیں تو ، انکو نہیں لگتا کہ ہم اپنی فیانسی سے بات چیت کریں ، فون پے سہی ، مگر اس سے ایک دوسرے کا پتا چلتا ہے ۔ ذہنی ہم آہنگی کا پتا چلتا ہے ۔ پسند نا پسند کے بارے میں ، مزاج ، طبعیت ، شوق ، ایسے ہی تو ایکدوسرے سے انڈرسٹینڈ ہوتے ہیں ، مگر کیا آپ سب کو نہیں لگتا اپنا جیون ساتھی جو کچھ عرصے میں ساری زندگی کا ساتھی بننے جارہا ہو ، اس سے ملا جائے ، بات چیت کی جائے ۔ :confused: ،
دوسری بات ،
ہمارے پاکستانی ، جو روزگار کیوجہ سے بیرون ممالک ہوتے ہیں ، اور شادیاں کرکے بیویاں ، اپنے ماں باپ کے ہاں چھوڑ آیا کرتے ہیں کیا یہ صیح ہے ۔؟ :confused: اور خود اپنے جیون ساتھی کو جیون ساتھی بنا کر بھی ، سال ، دو سال بعد جاکر پاکستان مل آنا ۔ کیا یہ صیح ہے :confused:
شادیاں کرکے بھی بچارے مارے مروت ، کھلُ کر خوش نہیں ہوسکتے ۔ :music: نا ہی پاکستان میں جوائنٹ سسٹم رہتے ہوئے اپنی بیوی کو کہیں گھومانے پھرانے لے جاسکتے ہیں کہ امی ، ابا بہنیں کیا سوچیں گیئں ۔؟ :music:
کیا فائدہ ہے ایسے جیون ساتھیوں کا ۔؟ اور کیا فائدہ ہے ایسی شادیوں کا ۔؟ جو پہلے تو ملنے پر پابندیاں ، بآت تک نا کرنے کی اجاژت ، اور پھر شادی کے بعد جب وقت آتا ہے تو اکدوسرے کا پتا چلنا شروع ہوتا ہے ۔ تب اپنے فیصلے غلط محسوس ہوتے ہیں کہ ہماری تو آپس میں انڈرسٹینڈنگ ہی نہیں ۔ مگر تب تک بچے اس دنیا میں آنکھ کھول چکے ہوتے ہیں ۔ اور شوہر سر پیٹتا رہتا ہے کبھی اپنی بیوی سے یہ شکایت کہ پھوہڑ ہے ، کبھی یہ شکایت کے میرے مزاج کی نہیں بنی ہی نہیں آجتک اس سے ۔ فلاں فلاں بلا ۔ ۔ بلا ۔۔ بلا ۔ ۔۔

میں بھی تو سنوں آپ سبکی رائے ۔ :music:
جیون ساتھی پے ۔ :music:
 

تیشہ

محفلین
بوچھی خالہ ! آپ بھی کمال کرتیں ہیں مجھ جیسے نکمے کو ایسی بیوی کہاں ملنے کی ؟ یہ تو بس ایک خواہش تھی بیان کر دی ۔۔ اور ویسے بھی میں شمشاد سے متفق ہوں کہ اسے آڈر پر بنوانا پڑے گا :) ویسے ان میں کوئی قابل اعتراض بات تو نہیں ماسوائے فیشن والی کے ؟ ہیں نا :confused:
وسلام




یہ میری بات کاغذ پے لکھ کر آپ بھی سنبھال لیں ماورہ کے جیسے ۔
شوہر کو بیوی سادہ ہی چاہئیے ہوتی ہے جو اپنی سادگی کے ساتھ وقت بے وقت شوہر سے جوتے کھاتی رہے ۔ اور ساتھ ساتھ ماں باپ (اپنے شوہر کے ماں باپ کی خدمت بھی جی جان سے کرے ۔ بچے بھی پیدا کرے ۔ انکی دیکھ بھال بھی کرے ساتھ شوہر کی بھی ۔ اور خرچے کی بات تک نا کرے ۔ :grin: نا کپڑوں کی فرمائش ، نا ہی کبھی بھولے سے اسکو فیشن کی یاد ستائے ۔
مگر یہی شوہر ۔ ۔۔ اپنی بیوی کو دیکھ دیکھ دیکھ اتنے فیڈاپ ہوئے ہوتے ہیں کہ انکو اس سادگی کے بعد جب تلاش ہوتی ہے تو وہ کسی فیشن ایبل ، اور تیزطرار سی کی تلاش میں ہوتے ہیں ، یہ میں آپکو لکھکر دینے کو تیار ہوں ۔ :music: ، گھر کی مرغی دال برابر ۔
 
بوچھی اپیا کی کئی باتیں انتہائی تلخ پر اتنی ہی سچی ہیں۔ میں ان کے قوت اظہار کو سلام کرتا ہوں۔ ورنہ مجھ میں اس کا حوصلہ نہیں ہوتا گر چہ ان معاشرتی مسائل کو اچھی طرح سمجھتا ہوں پر جانے کیوں اظہار سے ڈرتا ہوں۔ کبھی کبھی ہمت جٹا پاتا ہوں تو والدہ، بڑے بھائی اور قریبی دوستوں تک کسی نہ کسی انداز میں انھیں رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں پر مجھے لگتا ہے کہ یہ ہر سطح پر اپنی جڑیں جما چکے ہیں۔ اور ان کو کھرچ پھینکنے میں ہمارے معاشرے کو وقت لگے گا۔
 

طالوت

محفلین
خالہ ! اب ایسی حالت نہیں رہی کہ آج کے لڑکوں لڑکیوں کے دیدوں کا پانی جو مر گیا ہے ۔۔۔
ویسے اب کافی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور یہ تو بڑی سادہ سی سمجھنے والی بات ہے کہ بیوی کا حق اسے دو اور والدین و عزیز و اقرباء کا حق انھیں ! شہروں کی حد تک تو میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کے مزاج میں واضح تبدیلی آئی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید آئے گی لیکن ہماری یہ تبدیلی متوازن نہیں اور مجھے لگتا ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستان میں "اولڈ ہومز" کا اضافہ ہو جائے گا ۔۔۔
باقی شادی کے بعد سال دو سال تک پاکستان نہ جانا ایک کل وقتی مسلہ ہے جو قریب مستقبل میں حل ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ زیادہ تر پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں وہ کم پڑھے لکھے اور غیر ہنر مند ہوتے ہیں اور ان کی آمدن نہ صرف قلیل ہوتی ہے بلکہ انھیں بہت سی سہولیات (جیسے فیملی فیملی ویزہ وغیرہ )بھی میسر نہیں ہوتیں ، پھر گھر کی ساری ذمہ داری ان پر ہوتی ہے بلکہ یورپ و امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے عزیزوں کی ساری عیاشی ان کے سر ہوتی ہے اور وہ کولہو کے بیل کی مانند ساری زندگی اس میں گزار دیتے ہیں ۔۔۔
شادی سے پہلے ملنے کو تو میں ذاتی طور پر پسند نہیں کرتا تاہم بات چیت کے اور بہت سے ذرائع ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور یہ نہایت ضروری ہے ۔۔۔ ہمارے یہاں جو بزرگوں کے فیصلوں کی بھینٹ چڑھنے کی روایت ہے یہ کچھ اچھی نہیں کیوں اب نہ تو وہ شرم و لحاظ باقی رہا ہے اور نہ تربیت ۔۔۔ ہم ہوا میں معلق ایک ایسی قوم ہیں جو جوانی میں آزادی مانگتی ہے اور بڑھاپے میں پابندیاں لگاتی ہے ۔۔۔ ابھی سالوں درکار ہیں ہمیں کسی ایک طرف کے ہونے میں
وسلام
 

طالوت

محفلین
یہ میری بات کاغذ پے لکھ کر آپ بھی سنبھال لیں ماورہ کے جیسے ۔
شوہر کو بیوی سادہ ہی چاہئیے ہوتی ہے جو اپنی سادگی کے ساتھ وقت بے وقت شوہر سے جوتے کھاتی رہے ۔ اور ساتھ ساتھ ماں باپ (اپنے شوہر کے ماں باپ کی خدمت بھی جی جان سے کرے ۔ بچے بھی پیدا کرے ۔ انکی دیکھ بھال بھی کرے ساتھ شوہر کی بھی ۔ اور خرچے کی بات تک نا کرے ۔ :grin: نا کپڑوں کی فرمائش ، نا ہی کبھی بھولے سے اسکو فیشن کی یاد ستائے ۔
مگر یہی شوہر ۔ ۔۔ اپنی بیوی کو دیکھ دیکھ دیکھ اتنے فیڈاپ ہوئے ہوتے ہیں کہ انکو اس سادگی کے بعد جب تلاش ہوتی ہے تو وہ کسی فیشن ایبل ، اور تیزطرار سی کی تلاش میں ہوتے ہیں ، یہ میں آپکو لکھکر دینے کو تیار ہوں ۔ :music: ، گھر کی مرغی دال برابر ۔
آج میری خیر نہیں :) خالہ پانچوں انگلیوں کی طرح سب انسان برابر نہیں ہوتے ۔۔ اب میرے ارادے سن لیں ۔۔۔ میرا پروگرام ہے کہ شادی کے بعد دو چار سال تک ہم میاں بیوی میں کسی تیسرے کا اضافہ نہ ہو اور جب بھی ہو دونوں کی رضا مندی سے ہو تاکہ اگر نبھ نہ سکے تو بجائے بچوں کی وجہ سے ساری زندگی گھٹ گھٹ کے جینے کے عزت کے ساتھ علیحدہ ہو جایا جائے ۔۔۔ ماں باپ کی خدمت بیٹے کی ذمہ داری ہے اس سے بہو کا کوئی تعلق نہیں ۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں جوتے مارنے والا بندہ ہوں :) ؟ خرچے کے معاملے میں میری طرف سے اپنی حیثیت کے مطابق ضرور بہ ضرور ملے گا کیونکہ بیوی کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی اس میں حق دار ہیں اور فیشن وہ کس لیئے کرے گی ؟ میرے لیئے نہ ؟ تو مجھے پسند نہیں فیشن تو جگھڑا کاہے کا ؟ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ "اوڈنی" بن کے رہے ۔۔۔ اب تو آپ خوش ہیں نا ؟ :)
بنیادی طور پر میں انسانی آزادی کا داعی ہوں ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جیئے تاہم یہ معاملہ ایسا ہے کچھ نہ کچھ کمپرومائز کرنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے یہ دونوں طرف سے ہونا چاہیے ۔۔۔
اور کوئی سوال ؟ بھانجہ حاضر ہے :hatoff:
وسلام
 

تیشہ

محفلین
بوچھی اپیا کی کئی باتیں انتہائی تلخ پر اتنی ہی سچی ہیں۔ میں ان کے قوت اظہار کو سلام کرتا ہوں۔ ورنہ مجھ میں اس کا حوصلہ نہیں ہوتا گر چہ ان معاشرتی مسائل کو اچھی طرح سمجھتا ہوں پر جانے کیوں اظہار سے ڈرتا ہوں۔ کبھی کبھی ہمت جٹا پاتا ہوں تو والدہ، بڑے بھائی اور قریبی دوستوں تک کسی نہ کسی انداز میں انھیں رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں پر مجھے لگتا ہے کہ یہ ہر سطح پر اپنی جڑیں جما چکے ہیں۔ اور ان کو کھرچ پھینکنے میں ہمارے معاشرے کو وقت لگے گا۔




ہمت ہونی چاہئیے ابن ِ بھیا ، یہی تو المیہ ہے جو سچ بات ہوتی ہے اسکو بندہ سوچنے سے ڈرتا ہے اور زباں پے لاتے ہوئے ڈرتا ہے کہ ہم بولیں گے تو لوگ کیا کہیں گے :confused: لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے ۔؟
مگر میرے خیال میں اپنی زندگی کو اہمیت دیتے ہوئے اس تلخ سچ کو سبکے سامنے ماننا کا حوصلہ بھی ہونا چاہئیے اور ہمت بھی ، کیونکہ کونسا ہم کوئی غلط بات کر رہے ہوتے ہیں جو ایسی باتوں کو کسی کے سامنے بھلے وہ اپنے گھر کے ہی کیوں نا ہو :confused:
میرا مشاہدہ ہے ۔ ہمارے آجکل کی نسل جتنی تیزی کے ساتھ برائیوں کی طرف دوڑ رہی ہے ، جتنی شادیاں ٹوٹ رہی ہیں ، ناکام ہوتیں ہیں ، اور وجہ یہی ہےکہ شادی سے پہلے نا ایک دوسرے کو دیکھا ہوتا ہے نا ملا ہوتا ہے نا بات چیت کی ہوتی ہے ۔ کہ اب ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے بڑے بزرگوں کا خیال ، پاس بھی تو رکھنا ہوتا ہے کہ نہیں آلاوڈ ایک دوسرے سے ملنا جلنا ، :confused:
مگر جب شادی ہوجاتی ہے تو آدھی زندگی ایک دوسرے کو سمجھتے بوجھتے ہی گزر جاتآ ہے ۔ اور تب کیا فائدہ کہ میاں بیوی میں صرف اور صرف سمھوتہ ہی باقی رہ جاتا ہے اور کچھ نہیں :music:
تو اس سے بہتر ہے لائف پارٹنر ، میاں بیوی کم ، ایک دوسرے کے دوست زیادہ ہوں ، یونہی تو لائف گزرتی ہے ۔ ورنہ کمپرومائز کرنے پے مجبور باقی کی زندگی گزار دی جاتی ہے ۔ تو شادی کا کوئی ایسا فائدہ تو نا ہوا نا کہ زندگی خوشیوں کی بجائے جہنم بن جائے ۔
 

تیشہ

محفلین
آج میری خیر نہیں :) خالہ پانچوں انگلیوں کی طرح سب انسان برابر نہیں ہوتے ۔۔ اب میرے ارادے سن لیں ۔۔۔ میرا پروگرام ہے کہ شادی کے بعد دو چار سال تک ہم میاں بیوی میں کسی تیسرے کا اضافہ نہ ہو اور جب بھی ہو دونوں کی رضا مندی سے ہو تاکہ اگر نبھ نہ سکے تو بجائے بچوں کی وجہ سے ساری زندگی گھٹ گھٹ کے جینے کے عزت کے ساتھ علیحدہ ہو جایا جائے ۔۔۔ ماں باپ کی خدمت بیٹے کی ذمہ داری ہے اس سے بہو کا کوئی تعلق نہیں ۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں جوتے مارنے والا بندہ ہوں :) ؟ خرچے کے معاملے میں میری طرف سے اپنی حیثیت کے مطابق ضرور بہ ضرور ملے گا کیونکہ بیوی کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی اس میں حق دار ہیں اور فیشن وہ کس لیئے کرے گی ؟ میرے لیئے نہ ؟ تو مجھے پسند نہیں فیشن تو جگھڑا کاہے کا ؟ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ "اوڈنی" بن کے رہے ۔۔۔ اب تو آپ خوش ہیں نا ؟ :)
بنیادی طور پر میں انسانی آزادی کا داعی ہوں ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جیئے تاہم یہ معاملہ ایسا ہے کچھ نہ کچھ کمپرومائز کرنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے یہ دونوں طرف سے ہونا چاہیے ۔۔۔
اور کوئی سوال ؟ بھانجہ حاضر ہے :hatoff:
وسلام




بس بیوی کو ماں باپ کے ہاں نا چھوڑ آئیے گا کہ افورڈ نہیں کرسکتا بیوی ، تو بیوی رہے ماں باپ کے ہاں ، اور آپ رہو سعودیہ :music: ، شادی کرنی ہی اسوقت چاہئیے جب بندہ بیوی کو اور بچے کو افورڈ کرنے کے قابل ہوجائے ۔ ورنہ ہمارے پاکستانی والدین بیٹے کی محبت میں اسقدر ندھے ہوتے ہیں کہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کماتا ہے کہ نہیں ، یا وہ شادی افورڈ کرے گا یا نہین ،۔ بس لے آتے ہیں بہو ،۔۔ بچاری بہو :music: ، نا ادھر کی رہتی ہے نا اُدھر کی ،۔۔ میں نے یہاں تک سنا اور دیکھا ہوا ہے کہ میاں بیوی اپنے کمرے میں بھی ہوتے ہوئے ذرا سے اونچی ہنسی نہیں ہنس سکتے ۔ کھل کے بات نہیں کرسکتے کہ گھر والے سنیں گے تو کیا خیال کریں گے ۔:confused:
اور اوپر سے ستم ایسے شوہر ، جو خود تو بیرون ممالک جو جا نکلتے ہیں ، بیویاں بچاریاں ماں باپ کے ہاں ،
تو مجھے بہت غصہ آتا ہے ایسے تمام شوہروں پے بھانجے ۔ :confused: کیا شادی اسی کو کہتے ہیں کہ شادی کی اور دو مہنے گزارے اور خود چلدئیے اور بیوی میکے یا اپنے سسرال میں یونہی بیٹھی بیٹھی شوہر کے انتظار میں زندگی گزار دے :confused: ، شادی اسکو تو نہیں کہتے ۔؟ شادی میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنا ہوتا ہے ۔
اور جب ایک ساتھ ہی نا رہا جائے تو فائدہ کیا ۔ :music:
اوپر سے ہمارے بزرگ لوگ :music: ، برداشت ہی نہیں کرپاتے کہ ہائے ہائے شوہر کیونکر اپنی بیوی کے پاس گیا ہے ۔ :blush:
اُفففف یہ ہمار ا معاشرہ :confused: ۔
 

عندلیب

محفلین
بوچھی آپ کی باتوں میں وزن ہے ۔۔۔
میں بھی لکھونگی اس تعلق سے فرصت ملنے پر، ابھی تو آپ کو پڑھ رہی ہوں ۔
 
Top